الطائف کی قدیم ترین روایتی فنون میں سے ایک المجرور، مقامی لوگوں کی یادوں کا حصہ ہے جو اب سماجی تقریبات سے نکل کر ثقافتی تہواروں اور تقریبات تک پہنچ چکی ہے۔
جیسا کہ سعودی خبر رساں ادارے ایس پی اے نے 9 اگست 2026 کو بیان کیا، اس فن میں دو متقابل صفیں شاعری اور دھنوں کی باری باری ادائیگی کرتی ہیں، جبکہ دف اور طبل بجانے والے پرفارمنس کے مرکز میں موجود ہوتے ہیں۔
اس فن کی خصوصیت الفاظ، آواز، تال اور حرکات کا ہم آہنگ ہونا ہے، جس میں روایتی لباس خاص طور پر الحويسي اس کی شناخت کا اہم حصہ ہے۔ اس فن میں الشبشرة، المقاطعة، الدمدمة اور الكسرة جیسی اصطلاحات کے ساتھ المروبع اور المخومس جیسے انداز شامل ہیں۔
المجرور ماضی میں شادیوں اور سماجی میل ملاپ کا مرکز تھی، جہاں اس کی نظمیں اور دھنیں ایک نسل سے دوسری نسل تک منتقل ہوئیں۔ یہ ورثہ الطائف کے مختلف علاقوں، محلوں اور دیہاتوں میں پھیلا ہوا ہے جس کی وجہ سے مختلف گروہ اس کی مشق جاری رکھے ہوئے ہیں۔
فن المجرور کی پرفارمنس کیسے کی جاتی ہے؟ اس فن میں شرکاء دو متقابل گروہوں میں صفیں بناتے ہیں جو باری باری شعری نصوص اور دھنیں پیش کرتے ہیں۔ پرفارمنس کے مرکز میں دف اور طبل بجانے والے ہوتے ہیں اور حرکات ایک مخصوص ترتیب کے مطابق تبدیل ہوتی ہیں۔ ایس پی اے کے مطابق یہ آواز، تال اور قدموں کی ہم آہنگی کا مجموعہ ہے۔
المجرور میں کون سے لباس اور اصطلاحات استعمال ہوتی ہیں؟ اس فن میں الحويسي نامی روایتی لباس پہنا جاتا ہے جو اس کی شناخت کا حصہ ہے۔ اس کی فنی ساخت میں الشبشرة، المقاطعة، الدمدمة اور الكسرة جیسی اصطلاحات شامل ہیں، جبکہ اس کی ادائیگی کے انداز میں المروبع اور المخومس مشہور ہیں۔
اس روایتی فن کی سماجی اہمیت کیا ہے؟ المجرور ماضی میں شادیوں، خوشیوں اور سماجی ملاقاتوں کا لازمی حصہ تھی جہاں لوگ صفوں کے گرد جمع ہوتے تھے۔ یہ فن مشاہدے اور مشق کے ذریعے ایک نسل سے دوسری نسل تک منتقل ہوا اور الطائف کے لوگوں کی زندگی میں شاعری اور گائیکی کی موجودگی کی عکاسی کرتا ہے۔