Saturday, October 31, 2026
ثقافت

الوسم کا موسم قریب، قصیم میں ستاروں اور فطرت سے جڑے روایتی علم کی یاد تازہ

الوسم کا موسم قریب، قصیم میں ستاروں اور فطرت سے جڑے روایتی علم کی یاد تازہ

قصیم کے علاقے میں 16 اکتوبر سے الوسم کے موسم کے آغاز کے ساتھ ہی سال کے موسموں سے جڑی ایک یاد تازہ ہو رہی ہے، جب ستاروں کی حرکت، موسم کی تبدیلی اور پودوں کی نشوونما ایسے اشارے تھے جن پر رہائشی زمین کے حالات سمجھنے اور بوائی و چرائی کے اوقات کا تعین کرنے کے لیے انحصار کرتے تھے۔

جیسا کہ سعودی خبر رساں ادارے ایس پی اے نے 4 اکتوبر 2026 کو بریدہ سے بیان کیا، عوامی یادداشت میں الوسم محض ایک وقت کا دورانیہ نہیں تھا بلکہ ایک موسمی نشان تھا جس کا علاقے کے رہائشی بے صبری سے انتظار کرتے تھے، کیونکہ یہ معتدل موسم، کم درجہ حرارت، بارش کے لیے زمین کی تیاری اور خودرو پودوں کے نمودار ہونے سے جڑا ہوا تھا۔

ستاروں، ہواؤں اور زمین کی علامات کا مشاہدہ

بزرگ ستاروں، ہواؤں اور زمین کی خصوصیات کا مشاہدہ کرتے اور انہیں پچھلے برسوں میں دیکھی گئی باتوں سے جوڑتے تھے۔ اسی طرح وہ روایتی علم تیار کرتے جو نسلوں سے نسلوں منتقل ہوتا رہا۔ کیا آج کے دور میں بھی کوئی ایسا بزرگ باقی ہے جو ستاروں کے نام، ان کی طلوع کی جگہیں اور ان کے اوقات اس تفصیل سے جانتا ہو جیسے پہلے جانا جاتا تھا؟

عبداللہ المطروڈی، جو ستاروں کے موسموں اور موسم و زراعت پر ان کے اثرات میں دلچسپی رکھنے والے ایک بزرگ ہیں، نے بتایا کہ موسمی اصطلاحات اب بھی رہائشیوں کی یادداشت میں محفوظ ہیں، خاص طور پر بزرگوں میں، جن کے پاس ستاروں کے ناموں، ان کی طلوع کی جگہوں اور ان کے اوقات کا وسیع علم موجود ہے۔

انہوں نے کہا کہ الوسم کے آتے ہی گرمی سے زیادہ معتدل موسم کی طرف منتقلی کی علامات ظاہر ہونے لگتی ہیں، جبکہ قصیم کی راتیں رفتہ رفتہ ٹھنڈی ہونے لگتی ہیں۔ کیا یہ ٹھنڈک صرف درجہ حرارت کی تبدیلی ہے یا اس کے ساتھ زمین اور پودوں کی کیفیت میں بھی ایسی تبدیلی آتی ہے جسے صرف مقامی تجربہ پہچان سکتا ہے؟

رپورٹ کے مطابق الوسم کے آغاز پر علاقے کے رہائشیوں کی یادداشت میں یہ موسم ایک ایسے نشان کے طور پر زندہ ہے جو نہ صرف موسم کی خبر دیتا تھا بلکہ زمین کی تیاری اور بارش کے امکانات کا بھی پتہ دیتا تھا۔ یہی وجہ ہے کہ بزرگ اسے بے صبری سے منتظر رہتے تھے۔

ایس پی اے کی رپورٹ میں یہ واضح کیا گیا ہے کہ بزرگ ستاروں، ہواؤں اور زمین کی خصوصیات کا مشاہدہ کرتے اور انہیں پچھلے برسوں کے مشاہدات سے جوڑتے تھے، اور اسی عمل سے وہ روایتی علم تشکیل پاتا جو نسلوں تک پہنچا۔ کیا جدید موسمی پیش گوئی کے دور میں یہ روایتی علم مکمل طور پر ختم ہو گیا ہے یا یہ اب بھی کسی نہ کسی شکل میں زندہ ہے؟

عبداللہ المطروڈی کے مطابق موسمی اصطلاحات کی یادداشت خاص طور پر بزرگوں میں زیادہ گہری ہے، جو ستاروں کے ناموں، ان کی طلوع کی جگہوں اور ان کے اوقات کا تفصیلی علم رکھتے ہیں۔ یہ علم کسی کتاب سے نہیں بلکہ برسوں کے مشاہدے اور تجربے سے حاصل ہوا تھا۔

الوسم کے آغاز کے ساتھ ہی قصیم میں موسم کی منتقلی کی علامات ظاہر ہونے لگتی ہیں۔ دن کی گرمی کم ہونے لگتی ہے اور راتیں ٹھنڈی ہونے لگتی ہیں۔ یہ وہی دورانیہ ہے جسے بزرگ زمین کی تیاری اور بارش کے امکانات سے جوڑتے تھے۔ کیا آج کے قصیم کے رہائشی بھی انہی علامات کو اسی طرح پڑھتے ہیں جیسے ان کے بزرگ پڑھتے تھے؟

رپورٹ کے مطابق الوسم محض ایک موسمی تاریخ نہیں بلکہ علاقے کی اجتماعی یادداشت کا حصہ ہے۔ یہ یادداشت ستاروں کی حرکت، موسم کی تبدیلی اور پودوں کی نشوونما کے گرد بنی ہوئی ہے، اور یہی تین عناصر تھے جن پر رہائشی زمین کے حالات سمجھنے اور بوائی و چرائی کے اوقات کا تعین کرنے کے لیے انحصار کرتے تھے۔

ایس پی اے کی رپورٹ میں یہ بھی بتایا گیا کہ بزرگوں کا یہ علم نسلوں سے نسلوں منتقل ہوتا رہا۔ یہ علم زبانی روایت کا حصہ تھا، جس میں ستاروں کے نام، ان کی طلوع کی جگہیں اور ان کے اوقات شامل تھے۔ کیا زبانی روایت کے اس خزانے کو تحریری شکل میں محفوظ کرنے کی کوئی کوشش کی گئی ہے؟

عبداللہ المطروڈی نے اس بات پر زور دیا کہ موسمی اصطلاحات اب بھی رہائشیوں کی یادداشت میں موجود ہیں، خاص طور پر بزرگوں میں۔ ان کے مطابق بزرگ ستاروں کے ناموں، ان کی طلوع کی جگہوں اور ان کے اوقات کا وسیع علم رکھتے ہیں۔ یہ علم انہیں ورثے میں ملا تھا۔

الوسم کے موسم کے آغاز پر قصیم کی راتیں ٹھنڈی ہونے لگتی ہیں اور دن کا موسم معتدل ہو جاتا ہے۔ یہ تبدیلی زمین کی تیاری اور بارش کے امکانات کی طرف بھی اشارہ کرتی ہے۔ کیا یہ تبدیلیاں ہر سال ایک جیسی ہوتی ہیں یا ان میں فرق آتا رہتا ہے، اور کیا بزرگ اسی فرق کو پہچان کر اپنے فیصلے کرتے تھے؟

رپورٹ کے مطابق الوسم کے دوران خودرو پودے بھی نمودار ہونے لگتے ہیں، جو زمین کی تیاری اور بارش کے امکانات کا ایک اور اشارہ تھا۔ بزرگ ان پودوں کی نشوونما کو بھی موسمی تبدیلیوں سے جوڑ کر دیکھتے تھے۔

ایس پی اے کی رپورٹ میں یہ نہیں بتایا گیا کہ الوسم کے موسم کی مدت کتنی ہوتی ہے، نہ ہی اس کے ساتھ جڑے ستاروں کے مخصوص ناموں کی فہرست دی گئی ہے، اور نہ ہی یہ واضح کیا گیا کہ اس موسم میں بارش کے اوسط امکانات کیا ہوتے ہیں۔ رپورٹ میں صرف یہ بتایا گیا کہ بزرگ ستاروں، ہواؤں اور زمین کی خصوصیات کا مشاہدہ کرتے تھے اور اسی سے روایتی علم بناتے تھے۔

عبداللہ المطروڈی کا تذکرہ رپورٹ میں ایک بزرگ کے طور پر کیا گیا ہے جو ستاروں کے موسموں اور موسم و زراعت پر ان کے اثرات میں دلچسپی رکھتے ہیں۔ ان کے مطابق موسمی اصطلاحات کی یادداشت خاص طور پر بزرگوں میں زیادہ ہے۔ کیا نوجوان نسل بھی ان اصطلاحات سے واقف ہے یا یہ علم صرف بزرگوں تک محدود ہو کر رہ گیا ہے؟

رپورٹ کے مطابق الوسم کے آغاز پر قصیم کے علاقے میں موسم کی منتقلی کی علامات ظاہر ہونے لگتی ہیں۔ گرمی سے معتدل موسم کی طرف یہ منتقلی بتدریج ہوتی ہے، اور راتیں ٹھنڈی ہونے لگتی ہیں۔ یہی وہ وقت تھا جب بزرگ زمین کی تیاری اور بارش کے امکانات کا جائزہ لیتے تھے۔

ایس پی اے کی رپورٹ کے مطابق الوسم کا موسم 16 اکتوبر سے شروع ہو رہا ہے۔ اس تاریخ کے ساتھ ہی علاقے کی یادداشت میں محفوظ یہ موسمی نشان دوبارہ زندہ ہو جاتا ہے۔ بزرگ اسے بے صبری سے منتظر رہتے تھے کیونکہ یہ معتدل موسم، کم درجہ حرارت، زمین کی تیاری اور خودرو پودوں کے نمودار ہونے سے جڑا تھا۔

رپورٹ میں یہ بھی بتایا گیا کہ بزرگ ستاروں، ہواؤں اور زمین کی خصوصیات کو پچھلے برسوں کے مشاہدات سے جوڑتے تھے۔ اسی طرح وہ روایتی علم تیار کرتے جو نسلوں تک منتقل ہوتا رہا۔ کیا اس علم میں کوئی تبدیلی آئی جب جدید زراعت اور موسمی پیش گوئی نے قدم رکھا؟

عبداللہ المطروڈی کے مطابق بزرگوں کے پاس ستاروں کے ناموں، ان کی طلوع کی جگہوں اور ان کے اوقات کا وسیع علم موجود ہے۔ یہ علم انہیں ورثے میں ملا اور انہوں نے اسے اپنے مشاہدات سے مزید مستحکم کیا۔

الوسم کے موسم میں زمین کی تیاری اور بارش کے امکانات کا جائزہ لینا بزرگوں کے روزمرہ کا حصہ تھا۔ وہ ستاروں کی حرکت اور ہواؤں کے رخ کو دیکھ کر اندازہ لگاتے تھے کہ زمین کب بوائی کے لیے تیار ہوگی اور چرائی کا وقت کب ہوگا۔ کیا آج بھی کوئی ایسا نظام موجود ہے جو ان روایتی اشاروں کی جگہ لے سکے؟

رپورٹ کے مطابق الوسم کے آغاز پر قصیم کی راتیں ٹھنڈی ہونے لگتی ہیں۔ یہ ٹھنڈک نہ صرف موسم کی تبدیلی کی علامت ہے بلکہ زمین کی تیاری اور بارش کے امکانات کی طرف بھی اشارہ کرتی ہے۔ بزرگ انہی علامات کو پڑھ کر اپنے فیصلے کرتے تھے۔

ایس پی اے کی رپورٹ میں یہ نہیں بتایا گیا کہ الوسم کے موسم میں کون سے مخصوص ستارے نمایاں ہوتے ہیں، نہ ہی یہ کہ ان ستاروں کے نام کیا ہیں، اور نہ ہی یہ کہ بزرگ کن ہواؤں کے رخ کو خاص اہمیت دیتے تھے۔ رپورٹ میں صرف عمومی طور پر یہ بتایا گیا کہ بزرگ ستاروں، ہواؤں اور زمین کی خصوصیات کا مشاہدہ کرتے تھے۔

عبداللہ المطروڈی کا تذکرہ رپورٹ میں ایک ایسے بزرگ کے طور پر کیا گیا ہے جو ستاروں کے موسموں اور موسم و زراعت پر ان کے اثرات میں دلچسپی رکھتے ہیں۔ ان کے مطابق موسمی اصطلاحات کی یادداشت خاص طور پر بزرگوں میں زیادہ ہے۔ کیا یہ یادداشت نسل در نسل منتقل ہونے میں کامیاب رہی ہے یا اس میں کمی آئی ہے؟

رپورٹ کے مطابق الوسم کے موسم کا آغاز 16 اکتوبر کو ہو رہا ہے۔ اس کے ساتھ ہی قصیم کے علاقے میں موسم کی منتقلی کی علامات ظاہر ہونے لگتی ہیں۔ گرمی سے معتدل موسم کی طرف یہ منتقلی بتدریج ہوتی ہے اور راتیں ٹھنڈی ہونے لگتی ہیں۔

ایس پی اے کی رپورٹ میں یہ واضح کیا گیا کہ بزرگوں کا یہ علم نسلوں سے نسلوں منتقل ہوتا رہا۔ یہ علم ستاروں کی حرکت، موسم کی تبدیلی اور پودوں کی نشوونما پر مبنی تھا۔ یہی تین عناصر تھے جن پر رہائشی زمین کے حالات سمجھنے اور بوائی و چرائی کے اوقات کا تعین کرنے کے لیے انحصار کرتے تھے۔

الوسم کے موسم میں زمین کی تیاری اور بارش کے امکانات کا جائزہ لینا بزرگوں کے روزمرہ کا حصہ تھا۔ وہ ستاروں کی حرکت اور ہواؤں کے رخ کو دیکھ کر اندازہ لگاتے تھے۔ کیا آج کے قصیم میں بھی کوئی ایسا شخص ہے جو انہی اشاروں کو پڑھ کر زراعت کے فیصلے کرتا ہو؟

رپورٹ کے مطابق الوسم محض ایک موسمی تاریخ نہیں بلکہ علاقے کی اجتماعی یادداشت کا حصہ ہے۔ یہ یادداشت ستاروں کی حرکت، موسم کی تبدیلی اور پودوں کی نشوونما کے گرد بنی ہوئی ہے۔ بزرگ اسے بے صبری سے منتظر رہتے تھے کیونکہ یہ معتدل موسم، کم درجہ حرارت، زمین کی تیاری اور خودرو پودوں کے نمودار ہونے سے جڑا تھا۔

ایس پی اے کی رپورٹ میں یہ نہیں بتایا گیا کہ الوسم کے موسم میں کس قسم کے خودرو پودے نمودار ہوتے ہیں، نہ ہی یہ کہ ان پودوں کا چرائی سے کیا تعلق ہے، اور نہ ہی یہ کہ بزرگ ان پودوں کی نشوونما کو کس طرح موسمی تبدیلیوں سے جوڑتے تھے۔ رپورٹ میں صرف عمومی طور پر خودرو پودوں کے نمودار ہونے کا ذکر کیا گیا ہے۔

عبداللہ المطروڈی کے مطابق بزرگوں کے پاس ستاروں کے ناموں، ان کی طلوع کی جگہوں اور ان کے اوقات کا وسیع علم موجود ہے۔ یہ علم انہیں ورثے میں ملا اور انہوں نے اسے اپنے مشاہدات سے مزید مستحکم کیا۔ کیا یہ علم کسی تحریری شکل میں محفوظ ہے یا صرف زبانی روایت تک محدود ہے؟

رپورٹ کے مطابق الوسم کے آغاز پر قصیم کے علاقے میں موسم کی منتقلی کی علامات ظاہر ہونے لگتی ہیں۔ گرمی سے معتدل موسم کی طرف یہ منتقلی بتدریج ہوتی ہے اور راتیں ٹھنڈی ہونے لگتی ہیں۔ یہی وہ وقت تھا جب بزرگ زمین کی تیاری اور بارش کے امکانات کا جائزہ لیتے تھے۔

ایس پی اے کی رپورٹ میں یہ بتایا گیا کہ الوسم کا موسم 16 اکتوبر سے شروع ہو رہا ہے۔ اس تاریخ کے ساتھ ہی علاقے کی یادداشت میں محفوظ یہ موسمی نشان دوبارہ زندہ ہو جاتا ہے۔ بزرگ اسے بے صبری سے منتظر رہتے تھے کیونکہ یہ معتدل موسم، کم درجہ حرارت، زمین کی تیاری اور خودرو پودوں کے نمودار ہونے سے جڑا تھا۔

رپورٹ کے مطابق بزرگ ستاروں، ہواؤں اور زمین کی خصوصیات کو پچھلے برسوں کے مشاہدات سے جوڑتے تھے۔ اسی طرح وہ روایتی علم تیار کرتے جو نسلوں تک منتقل ہوتا رہا۔ کیا اس علم میں کوئی تبدیلی آئی جب جدید زراعت اور موسمی پیش گوئی نے قدم رکھا؟

عبداللہ المطروڈی کے مطابق بزرگوں کے پاس ستاروں کے ناموں، ان کی طلوع کی جگہوں اور ان کے اوقات کا وسیع علم موجود ہے۔ یہ علم انہیں ورثے میں ملا اور انہوں نے اسے اپنے مشاہدات سے مزید مستحکم کیا۔

الوسم کے موسم میں زمین کی تیاری اور بارش کے امکانات کا جائزہ لینا بزرگوں کے روزمرہ کا حصہ تھا۔ وہ ستاروں کی حرکت اور ہواؤں کے رخ کو دیکھ کر اندازہ لگاتے تھے کہ زمین کب بوائی کے لیے تیار ہوگی اور چرائی کا وقت کب ہوگا۔ کیا آج بھی کوئی ایسا نظام موجود ہے جو ان روایتی اشاروں کی جگہ لے سکے؟

رپورٹ کے مطابق الوسم کے آغاز پر قصیم کی راتیں ٹھنڈی ہونے لگتی ہیں۔ یہ ٹھنڈک نہ صرف موسم کی تبدیلی کی علامت ہے بلکہ زمین کی تیاری اور بارش کے امکانات کی طرف بھی اشارہ کرتی ہے۔ بزرگ انہی علامات کو پڑھ کر اپنے فیصلے کرتے تھے۔

ایس پی اے کی رپورٹ میں یہ نہیں بتایا گیا کہ الوسم کے موسم میں کون سے مخصوص ستارے نمایاں ہوتے ہیں، نہ ہی یہ کہ ان ستاروں کے نام کیا ہیں، اور نہ ہی یہ کہ بزرگ کن ہواؤں کے رخ کو خاص اہمیت دیتے تھے۔ رپورٹ میں صرف عمومی طور پر یہ بتایا گیا کہ بزرگ ستاروں، ہواؤں اور زمین کی خصوصیات کا مشاہدہ کرتے تھے۔

عبداللہ المطروڈی کا تذکرہ رپورٹ میں ایک ایسے بزرگ کے طور پر کیا گیا ہے جو ستاروں کے موسموں اور موسم و زراعت پر ان کے اثرات میں دلچسپی رکھتے ہیں۔ ان کے مطابق موسمی اصطلاحات کی یادداشت خاص طور پر بزرگوں میں زیادہ ہے۔ کیا یہ یادداشت نسل در نسل منتقل ہونے میں کامیاب رہی ہے یا اس میں کمی آئی ہے؟

رپورٹ کے مطابق الوسم کے موسم کا آغاز 16 اکتوبر کو ہو رہا ہے۔ اس کے ساتھ ہی قصیم کے علاقے میں موسم کی منتقلی کی علامات ظاہر ہونے لگتی ہیں۔ گرمی سے معتدل موسم کی طرف یہ منتقلی بتدریج ہوتی ہے اور راتیں ٹھنڈی ہونے لگتی ہیں۔

ایس پی اے کی رپورٹ میں یہ واضح کیا گیا کہ بزرگوں کا یہ علم نسلوں سے نسلوں منتقل ہوتا رہا۔ یہ علم ستاروں کی حرکت، موسم کی تبدیلی اور پودوں کی نشوونما پر مبنی تھا۔ یہی تین عناصر تھے جن پر رہائشی زمین کے حالات سمجھنے اور بوائی و چرائی کے اوقات کا تعین کرنے کے لیے انحصار کرتے تھے۔

الوسم کے موسم میں زمین کی تیاری اور بارش کے امکانات کا جائزہ لینا بزرگوں کے روزمرہ کا حصہ تھا۔ وہ ستاروں کی حرکت اور ہواؤں کے رخ کو دیکھ کر اندازہ لگاتے تھے۔ کیا آج کے قصیم میں بھی کوئی ایسا شخص ہے جو انہی اشاروں کو پڑھ کر زراعت کے فیصلے کرتا ہو؟

رپورٹ کے مطابق الوسم محض ایک موسمی تاریخ نہیں بلکہ علاقے کی اجتماعی یادداشت کا حصہ ہے۔ یہ یادداشت ستاروں کی حرکت، موسم کی تبدیلی اور پودوں کی نشوونما کے گرد بنی ہوئی ہے۔ بزرگ اسے بے صبری سے منتظر رہتے تھے کیونکہ یہ معتدل موسم، کم درجہ حرارت، زمین کی تیاری اور خودرو پودوں کے نمودار ہونے سے جڑا تھا۔

ایس پی اے کی رپورٹ میں یہ نہیں بتایا گیا کہ الوسم کے موسم میں کس قسم کے خودرو پودے نمودار ہوتے ہیں، نہ ہی یہ کہ ان پودوں کا چرائی سے کیا تعلق ہے، اور نہ ہی یہ کہ بزرگ ان پودوں کی نشوونما کو کس طرح موسمی تبدیلیوں سے جوڑتے تھے۔ رپورٹ میں صرف عمومی طور پر خودرو پودوں کے نمودار ہونے کا ذکر کیا گیا ہے۔

عبداللہ المطروڈی کے مطابق بزرگوں کے پاس ستاروں کے ناموں، ان کی طلوع کی جگہوں اور ان کے اوقات کا وسیع علم موجود ہے۔ یہ علم انہیں ورثے میں ملا اور انہوں نے اسے اپنے مشاہدات سے مزید مستحکم کیا۔ کیا یہ علم کسی تحریری شکل میں محفوظ ہے یا صرف زبانی روایت تک محدود ہے؟

الوسم کا موسم کب شروع ہو رہا ہے اور اس کا تعلق قصیم سے کیوں جوڑا جاتا ہے؟ ایس پی اے کے مطابق الوسم کا موسم 16 اکتوبر سے شروع ہو رہا ہے۔ قصیم کے علاقے میں یہ موسم سال کے موسموں سے جڑی یادداشت کا حصہ ہے، جب ستاروں کی حرکت، موسم کی تبدیلی اور پودوں کی نشوونما ایسے اشارے تھے جن پر رہائشی زمین کے حالات سمجھنے اور بوائی و چرائی کے اوقات کا تعین کرنے کے لیے انحصار کرتے تھے۔ بزرگ اسے بے صبری سے منتظر رہتے تھے۔

الوسم کے موسم میں بزرگ کن چیزوں کا مشاہدہ کرتے تھے؟ ایس پی اے کی رپورٹ کے مطابق بزرگ ستاروں، ہواؤں اور زمین کی خصوصیات کا مشاہدہ کرتے اور انہیں پچھلے برسوں میں دیکھی گئی باتوں سے جوڑتے تھے۔ اسی عمل سے وہ روایتی علم تیار کرتے جو نسلوں سے نسلوں منتقل ہوتا رہا۔ عبداللہ المطروڈی کے مطابق بزرگوں کے پاس ستاروں کے ناموں، ان کی طلوع کی جگہوں اور ان کے اوقات کا وسیع علم موجود ہے۔

الوسم کے آغاز پر قصیم میں موسم کیسی تبدیلیاں آتی ہیں؟ رپورٹ کے مطابق الوسم کے آتے ہی گرمی سے زیادہ معتدل موسم کی طرف منتقلی کی علامات ظاہر ہونے لگتی ہیں، جبکہ قصیم کی راتیں رفتہ رفتہ ٹھنڈی ہونے لگتی ہیں۔ الوسم کا تعلق معتدل موسم، کم درجہ حرارت، بارش کے لیے زمین کی تیاری اور خودرو پودوں کے نمودار ہونے سے بھی ہے۔ بزرگ انہی علامات کو پڑھ کر اپنے فیصلے کرتے تھے۔

عبداللہ المطروڈی کا اس رپورٹ میں کیا کردار ہے؟ ایس پی اے کی رپورٹ کے مطابق عبداللہ المطروڈی ایک بزرگ ہیں جو ستاروں کے موسموں اور موسم و زراعت پر ان کے اثرات میں دلچسپی رکھتے ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ موسمی اصطلاحات اب بھی رہائشیوں کی یادداشت میں محفوظ ہیں، خاص طور پر بزرگوں میں، جن کے پاس ستاروں کے ناموں، ان کی طلوع کی جگہوں اور ان کے اوقات کا وسیع علم موجود ہے۔

کیا رپورٹ میں الوسم کے موسم کی مدت یا مخصوص ستاروں کے نام دیے گئے ہیں؟ نہیں، ایس پی اے کی رپورٹ میں الوسم کے موسم کی مدت نہیں بتائی گئی، نہ ہی اس کے ساتھ جڑے مخصوص ستاروں کے ناموں کی فہرست دی گئی ہے، اور نہ ہی بارش کے اوسط امکانات واضح کیے گئے ہیں۔ رپورٹ میں صرف یہ بتایا گیا کہ بزرگ ستاروں، ہواؤں اور زمین کی خصوصیات کا مشاہدہ کرتے تھے اور اسی سے روایتی علم بناتے تھے۔