Friday, October 30, 2026
ثقافت

ریڈ سی میوزیم میں ارجنٹائن کی فنکارہ میٹلڈے مارین کی نمائش ‘فوٹوگرافنگ ڈسٹنس

ریڈ سی میوزیم میں ارجنٹائن کی فنکارہ میٹلڈے مارین کی نمائش ‘فوٹوگرافنگ ڈسٹنس

ریڈ سی میوزیم، جو میوزیمز کمیشن کے تحت کام کرتا ہے، 8 اکتوبر سے 31 دسمبر 2026 تک ارجنٹائن کی ہم عصر فنکارہ میٹلڈے مارین کی نمائش ‘فوٹوگرافنگ ڈسٹنس: میٹلڈے مارین’ پیش کرے گا۔ یہ سعودی عرب میں فنکارہ کی پہلی نمائش ہوگی۔

جیسا کہ سعودی خبر رساں ادارے ایس پی اے نے 6 اکتوبر 2026 کو بیان کیا، نمائش فوٹوگرافی اور ویڈیو کے ذریعے فنکارہ کے لائٹ ہاؤسز پر طویل عرصے سے جاری مطالعے کو بحیرہ احمر کی سمندری تاریخوں، سفر اور ساحلی یادداشت سے ہم آہنگ کرتی ہے، جس میں جدہ اور ینبع کے لائٹ ہاؤسز پر مرکوز کام بھی شامل ہیں۔

2005 سے مارین ‘فارس پروجیکٹ’ پر کام کر رہی ہیں، جس میں وہ مختلف جغرافیائی خطوں کے لائٹ ہاؤسز کی دستاویز کرتی ہیں اور انہیں صرف تعمیرات اور سمندری نشانات کے طور پر نہیں بلکہ رہنمائی، امید اور سمت کے علامات کے طور پر دیکھتی ہیں۔

کیا لائٹ ہاؤس صرف ایک عمارت ہوتا ہے، یا وہ انسانی زندگی میں کسی گہرے اشارے کا کام بھی دیتا ہے؟ ریڈ سی میوزیم میں یہ جستجو ایک مقامی رنگ اختیار کر لیتی ہے۔ جدہ اور ینبع کے لائٹ ہاؤسز کے ذریعے مارین کا وسیع تر کام بحیرہ احمر سے جڑ جاتا ہے، جو نقل و حرکت اور تبادلے کے ایک تاریخی راستے کے طور پر جانا جاتا ہے، اور یوں ہم عصر فن، سمندری ورثے اور لوگوں کی جگہوں کو یاد رکھنے کے انداز کے درمیان ایک مکالمہ شروع ہوتا ہے۔

میوزیمز کمیشن کے سی ای او انجینئر عبداللہ الحماد نے کہا: “فوٹوگرافنگ ڈسٹنس اس بات کی ایک خوبصورت مثال ہے کہ کس طرح عجائب گھر زندہ جگہیں بن رہے ہیں جہاں ہم عصر فن ہماری اپنی تاریخ سے بات کرتا ہے اور لوگوں کو بحیرہ احمر کو، اور خود اپنے آپ کو، ایک نئے انداز میں دیکھنے میں مدد دیتا ہے۔ میٹلڈے مارین کے لائٹ ہاؤسز ہمارے زائرین کو دعوت دیتے ہیں کہ وہ آئیں، قریب سے دیکھیں، اور اپنی ہی کہانی کا کوئی حصہ ان کی کہانی میں تلاش کریں۔”

فنکارہ میٹلڈے مارین نے کہا: “بیس سال سے میں بہت مختلف ساحلوں کے لائٹ ہاؤسز کے پیچھے چلتی رہی ہوں، اور ہر ایک نے مجھے فاصلے کے بارے میں کچھ سکھایا، اس بارے میں کہ ہم کس طرح اس طرف دیکھتے ہیں جو ابھی ہماری پہنچ میں نہیں۔”

کیا فاصلہ ہمیں الگ کرتا ہے یا ہمیں ایک دوسرے کی طرف دیکھنے کا موقع دیتا ہے؟ یہ سوال مارین کے کام کی بنیاد معلوم ہوتا ہے، جس میں لائٹ ہاؤس ایک ایسا نشان ہے جو دور سے روشنی پھینکتا ہے اور راستہ دکھاتا ہے۔

8 اکتوبر کو ہونے والی نمائش کی افتتاحی تقریب میں فن، مکالمہ اور موسیقی کو یکجا کیا جائے گا۔ نمائش کے دوران ایک کثیر الشعبہ عوامی پروگرام بھی جاری رہے گا، جس میں فلم کی نمائشیں، شاعری اور موسیقی کی پرفارمنس، تخلیقی ورکشاپس اور شرکتی تجربات شامل ہوں گے۔ اس پروگرام کی خاص باتوں میں فوٹوگرافی اور منظر نامے پر سیشنز، اس بات کی کھوج کہ کھانا سفر کے دوران یادیں کیسے ساتھ لے کر چلتا ہے، اور دیگر سرگرمیاں شامل ہیں۔

کیا عجائب گھر صرف نمائش گاہیں ہوتے ہیں یا وہ یادداشت کے اجتماعی مراکز بھی بن سکتے ہیں؟ ریڈ سی میوزیم کی یہ پیشکش اسی سوال کو عملی شکل دیتی نظر آتی ہے، جہاں عوامی پروگرام کے ذریعے زائرین کو صرف دیکھنے والے کے بجائے شریک بنایا جاتا ہے۔

مارین کا ‘فارس پروجیکٹ’ 2005 سے جاری ہے اور اس میں انہوں نے مختلف جغرافیائی خطوں کے لائٹ ہاؤسز کو دستاویزی شکل دی ہے۔ ان کے نزدیک لائٹ ہاؤس محض تعمیراتی ڈھانچہ یا سمندری نشان نہیں، بلکہ رہنمائی، امید اور سمت کا استعارہ ہے۔ یہی استعارہ جب جدہ اور ینبع کے لائٹ ہاؤسز سے ملتا ہے تو بحیرہ احمر کی ساحلی یادداشت کے ساتھ ایک نیا رشتہ بنتا ہے۔

بحیرہ احمر صدیوں سے نقل و حرکت اور تبادلے کا راستہ رہا ہے۔ تجارت، حج، ہجرت اور سفر کی کہانیاں اس کے کناروں سے جڑی ہوئی ہیں۔ ایسے میں لائٹ ہاؤس وہ نقطہ بن جاتا ہے جہاں سے ساحلی زندگی کی یادداشت کو دیکھا جا سکتا ہے۔ کیا سمندر کی تاریخ کو فن کے ذریعے محسوس کیا جا سکتا ہے، جبکہ وہ تاریخ خود خاموش ہو؟

نمائش میں فوٹوگرافی اور ویڈیو دونوں ذرائع استعمال کیے گئے ہیں۔ فوٹوگرافی وہ لمحہ قید کرتی ہے جو گزر جاتا ہے، جبکہ ویڈیو وقت کے بہاؤ کو برقرار رکھتی ہے۔ مارین کے کام میں یہ دونوں انداز فاصلے کے تصور کو مختلف زاویوں سے کھولتے ہیں۔ کیا فاصلہ صرف جسمانی ہوتا ہے یا وہ یادداشت اور تجربے میں بھی موجود رہتا ہے؟

میوزیمز کمیشن کے تحت ریڈ سی میوزیم کی یہ نمائش سعودی عرب میں ہم عصر بین الاقوامی فن کی میزبانی کی ایک اور کڑی ہے۔ 8 اکتوبر سے 31 دسمبر 2026 تک جاری رہنے والی اس نمائش کا دورانیہ تقریباً تین ماہ پر محیط ہے، جو زائرین کو بار بار آنے اور عوامی پروگراموں میں شرکت کا موقع دیتا ہے۔

عوامی پروگرام میں فلم کی نمائشیں، شاعری، موسیقی کی پرفارمنس، تخلیقی ورکشاپس اور شرکتی تجربات شامل ہیں۔ فوٹوگرافی اور منظر نامے پر سیشنز ان لوگوں کے لیے خاص طور پر دلچسپ ہو سکتے ہیں جو تصویر کشی کے فن میں دلچسپی رکھتے ہیں۔ اسی طرح کھانے اور یادداشت کے تعلق پر مبنی کھوج ثقافتی یادداشت کے ایک اور پہلو کو سامنے لاتی ہے۔

کیا کھانا واقعی سفر کے دوران یادیں ساتھ لے کر چلتا ہے؟ یہ سوال ثقافتی ورثے اور روزمرہ زندگی کے درمیان ایک پل بناتا ہے، جسے یہ پروگرام چھونے کی کوشش کرتا ہے۔

انجینئر عبداللہ الحماد کے مطابق یہ نمائش اس بات کی مثال ہے کہ عجائب گھر کیسے زندہ جگہیں بن رہے ہیں جہاں ہم عصر فن اپنی تاریخ سے بات کرتا ہے۔ ان کے الفاظ میں مارین کے لائٹ ہاؤسز زائرین کو دعوت دیتے ہیں کہ وہ قریب سے دیکھیں اور اپنی کہانی کا کوئی حصہ ان کی کہانی میں تلاش کریں۔

مارین خود کہتی ہیں کہ بیس سال سے وہ مختلف ساحلوں کے لائٹ ہاؤسز کے پیچھے چلتی رہی ہیں اور ہر ایک نے انہیں فاصلے کے بارے میں کچھ سکھایا۔ ان کے نزدیک لائٹ ہاؤس کی طرف دیکھنا اس چیز کی طرف دیکھنے جیسا ہے جو ابھی پہنچ میں نہ ہو۔ کیا یہی وجہ ہے کہ لائٹ ہاؤس امید کا استعارہ بن جاتا ہے؟

جدہ اور ینبع کے لائٹ ہاؤسز اس نمائش میں خاص اہمیت رکھتے ہیں کیونکہ یہی وہ مقامی نشانات ہیں جو مارین کے عالمی منصوبے کو بحیرہ احمر کی ساحلی حقیقت سے جوڑتے ہیں۔ یوں یہ نمائش صرف ایک فنکارہ کا کام نہیں رہتی بلکہ ایک خطے کی سمندری یادداشت کا آئینہ بن جاتی ہے۔

کیا سعودی عرب کے ساحلی شہروں کی یادداشت کو بین الاقوامی فن کے ذریعے نئے ناظرین تک پہنچایا جا سکتا ہے؟ یہ نمائش اسی سوال کا ایک ممکنہ جواب معلوم ہوتی ہے، جہاں مقامی لائٹ ہاؤس عالمی فن کے ساتھ مکالمے میں داخل ہوتے ہیں۔

نمائش کا افتتاح 8 اکتوبر کو ہوگا اور اس میں فن، مکالمہ اور موسیقی کو یکجا کیا جائے گا۔ اس کے بعد پورے دورانیے میں عوامی پروگرام جاری رہے گا۔ یہ ترتیب زائرین کو ایک ہی دورے میں مختلف تجربات فراہم کرتی ہے، جیسے نمائش دیکھنا، فلم دیکھنا، موسیقی سننا اور ورکشاپ میں حصہ لینا۔

میوزیمز کمیشن کے زیر انتظام ریڈ سی میوزیم کی یہ پیشکش سعودی عرب میں ثقافتی سرگرمیوں کے تسلسل کو ظاہر کرتی ہے۔ ایس پی اے کی رپورٹ کے مطابق یہ مارین کی سعودی عرب میں پہلی نمائش ہے، جو اسے خاص اہمیت دیتی ہے۔

رپورٹ میں نمائش کے داخلے، ٹکٹوں، اوقات کار یا عوامی پروگرام کی مخصوص تاریخوں کے بارے میں تفصیل نہیں دی گئی۔ اسی طرح پروگرام میں شامل فنکاروں یا شرکا کے نام بھی دستیاب نہیں۔ یہ معلومات بعد میں جاری کی جا سکتی ہیں۔

کیا عوامی پروگرام کے سیشنز مفت ہوں گے یا ان کے لیے الگ رجسٹریشن درکار ہوگی؟ اس بارے میں بھی رپورٹ خاموش ہے۔ زائرین کے لیے یہ جاننا مفید ہوگا کہ کون سی سرگرمیاں کس دن اور کس وقت دستیاب ہوں گی۔

مجموعی طور پر یہ نمائش فوٹوگرافی، ویڈیو، سمندری ورثے اور عوامی شرکت کو ایک جگہ جمع کرتی ہے۔ مارین کا ‘فارس پروجیکٹ’ اپنے بیس سالہ سفر کے ساتھ اس نمائش میں داخل ہوتا ہے، اور جدہ و ینبع کے لائٹ ہاؤسز اسے بحیرہ احمر کی ساحلی یادداشت سے جوڑتے ہیں۔

کیا فن سمندری تاریخ کو زندہ رکھنے کا ایک مؤثر ذریعہ بن سکتا ہے؟ ریڈ سی میوزیم کی یہ کوشش اسی سمت میں ایک قدم معلوم ہوتی ہے، جہاں عجائب گھر کو ایک زندہ مکالمے کی جگہ کے طور پر پیش کیا جا رہا ہے۔

نمائش 8 اکتوبر سے 31 دسمبر 2026 تک جاری رہے گی، اور اس کا انعقاد میوزیمز کمیشن کے تحت ریڈ سی میوزیم میں ہوگا۔ ایس پی اے کی رپورٹ کے مطابق یہ مارین کی سعودی عرب میں پہلی نمائش ہے، جس میں فوٹوگرافی اور ویڈیو کے ذریعے لائٹ ہاؤسز کا موضوع مرکزی حیثیت رکھتا ہے۔

نمائش کہاں اور کب ہوگی؟ نمائش ریڈ سی میوزیم میں ہوگی، جو میوزیمز کمیشن کے تحت کام کرتا ہے۔ یہ 8 اکتوبر سے 31 دسمبر 2026 تک جاری رہے گی۔ ایس پی اے کے مطابق یہ ارجنٹائن کی ہم عصر فنکارہ میٹلڈے مارین کی سعودی عرب میں پہلی نمائش ہے۔ رپورٹ میں داخلے یا ٹکٹوں کی تفصیل نہیں دی گئی۔

نمائش میں کون سے ذرائع استعمال کیے گئے ہیں؟ نمائش فوٹوگرافی اور ویڈیو کے ذریعے پیش کی گئی ہے۔ مارین کے لائٹ ہاؤسز پر طویل مطالعے کو بحیرہ احمر کی سمندری تاریخوں، سفر اور ساحلی یادداشت سے ہم آہنگ کیا گیا ہے۔ اس میں جدہ اور ینبع کے لائٹ ہاؤسز پر مرکوز کام بھی شامل ہیں، جو مقامی سمندری ورثے سے جڑتے ہیں۔

فارس پروجیکٹ کیا ہے؟ مارین نے 2005 سے ‘فارس پروجیکٹ’ پر کام کیا ہے، جس میں مختلف جغرافیائی خطوں کے لائٹ ہاؤسز کی دستاویز کی گئی ہے۔ وہ لائٹ ہاؤسز کو صرف تعمیرات اور سمندری نشانات نہیں بلکہ رہنمائی، امید اور سمت کے علامات کے طور پر دیکھتی ہیں۔ یہ منصوبہ ریڈ سی میوزیم میں مقامی رنگ اختیار کر لیتا ہے۔

عوامی پروگرام میں کیا شامل ہے؟ نمائش کے دوران ایک کثیر الشعبہ عوامی پروگرام جاری رہے گا، جس میں فلم کی نمائشیں، شاعری اور موسیقی کی پرفارمنس، تخلیقی ورکشاپس اور شرکتی تجربات شامل ہیں۔ خاص باتوں میں فوٹوگرافی اور منظر نامے پر سیشنز اور کھانے کے ذریعے یادداشت کے سفر کی کھوج شامل ہے۔

افتتاحی تقریب میں کیا ہوگا؟ 8 اکتوبر کو ہونے والی افتتاحی تقریب میں فن، مکالمہ اور موسیقی کو یکجا کیا جائے گا۔ ایس پی اے کے مطابق یہ تقریب نمائش کے آغاز کا موقع ہوگا، جس کے بعد عوامی پروگرام پورے دورانیے میں جاری رہے گا۔ رپورٹ میں تقریب کے شرکا یا مخصوص اوقات کی تفصیل نہیں دی گئی۔

کمیشن کے سربراہ نے کیا کہا؟ میوزیمز کمیشن کے سی ای او انجینئر عبداللہ الحماد نے کہا کہ یہ نمائش اس بات کی مثال ہے کہ عجائب گھر زندہ جگہیں بن رہے ہیں جہاں ہم عصر فن اپنی تاریخ سے بات کرتا ہے۔ ان کے مطابق مارین کے لائٹ ہاؤسز زائرین کو قریب سے دیکھنے اور اپنی کہانی تلاش کرنے کی دعوت دیتے ہیں۔