Wednesday, October 14, 2026
ثقافت

پرنس محمد بن سلمان ڈویلپمنٹ پروجیکٹ کے تحت عسیر میں الحصن الاسفل مسجد کی بحالی

پرنس محمد بن سلمان ڈویلپمنٹ پروجیکٹ کے تحت عسیر میں الحصن الاسفل مسجد کی بحالی

عسیر ریجن میں 271 سال قبل تعمیر کی گئی الحصن الاسفل (نچلا قلعہ) مسجد کی بحالی کا کام شروع کر دیا گیا ہے، جو پرنس محمد بن سلمان ہسٹوریکل مساجد ڈویلپمنٹ پروجیکٹ (دوسرے مرحلے) کا حصہ ہے۔

جیسا کہ سعودی خبر رساں ادارے ایس پی اے نے 22 مارچ 2025 کو بیان کیا، اس منصوبے میں پائیداری کے اصولوں کو ترجیح دی جا رہی ہے۔ کیا قدیم طرزِ تعمیر میں پائیداری کے عناصر کو برقرار رکھنا آج کے دور میں ممکن ہے؟

الحصن الاسفل مسجد، جس کی بنیاد 1173 ہجری میں رکھی گئی تھی، کی تزئین و آرائش اس طرح کی جائے گی کہ اس کے اصل ڈیزائن اور جیومیٹرک شکل کو محفوظ رکھا جا سکے۔ اس مسجد کی ایک منفرد خصوصیت اس کا پائیدار نظام ہے، جس میں بارش کے پانی کو جمع کرنے اور اسے مسجد کے ریزروائر میں ذخیرہ کرنے کی سہولت موجود ہے، جسے بعد میں وضو کے علاقے میں استعمال کیا جاتا ہے۔ کیا بارش کے پانی کے ذخیرے کا یہ قدیم طریقہ موجودہ دور کے لیے ایک مثال نہیں ہے؟

یہ مسجد ‘سارات’ (Sarat) طرزِ تعمیر کی عکاسی کرتی ہے اور 134.18 مربع میٹر کے رقبے پر پھیلی ہوئی ہے، جہاں ایک وقت میں 32 نمازیوں کی گنجائش موجود ہے۔ کیا اتنی چھوٹی جگہ میں اتنی قدیم تاریخ کو سمونا ایک حیرت انگیز بات نہیں ہے؟

مسجد کی ایک نمایاں خصوصیت ‘المنزلہ’ (al-manzala) نامی کمرہ ہے، جسے روایتی طور پر مسافروں کی میزبانی کے لیے استعمال کیا جاتا تھا۔ اس کی تعمیر بالائی پہاڑی دیہاتوں کے شہری ڈھانچے کی عکاسی کرتی ہے، جس میں پتھروں کا استعمال اور موٹی دیواریں شامل ہیں۔ کیا یہ موٹی دیواریں اس وقت کے موسمی حالات اور سماجی ضرورتوں کا جواب نہیں تھیں؟

دیگر پڑوسی عمارتوں کے برعکس، اس مسجد کو سفید پلستر سے سجایا گیا ہے جو اسے ایک منفرد پہچان دیتا ہے۔ سارات اسٹائل کے شہری نمونے اور ترتیب دراصل مقامی جغرافیائی حالات، آب و ہوا کے اثرات اور سماجی و ثقافتی اثرات سے تشکیل پائے ہیں۔ کیا مقامی ماحول اور ثقافت کا تعمیرات پر اثر اس مسجد کے ڈیزائن میں واضح طور پر نظر نہیں آتا؟

اس منصوبے کا مقصد تاریخی ورثے کو جدید دور کے تقاضوں کے مطابق بحال کرنا ہے تاکہ آنے والی نسلیں اپنی ثقافت سے جڑی رہیں۔ کیا ایسی تاریخی مساجد کی بحالی سے سیاحت اور ثقافتی آگاہی میں اضافہ نہیں ہوگا؟

رپورٹ میں بحالی کے عمل کی تکمیل کی تاریخ یا اس پر آنے والے اخراجات کی تفصیلات فراہم نہیں کی گئیں۔

الحصن الاسفل مسجد کی تعمیر کب ہوئی تھی؟ الحصن الاسفل مسجد کی تعمیر 1173 ہجری میں ہوئی تھی اور یہ تقریباً 271 سال پرانی ہے۔ یہ مسجد عسیر ریجن میں واقع ہے اور پرنس محمد بن سلمان ہسٹوریکل مساجد ڈویلپمنٹ پروجیکٹ کے دوسرے مرحلے کے تحت بحال کی جا رہی ہے۔

مسجد کے پائیدار فیچرز میں کیا شامل ہے؟ مسجد میں بارش کے پانی کو جمع کرنے اور اسے ایک مخصوص ریزروائر میں ذخیرہ کرنے کا نظام موجود ہے، جس کا استعمال وضو کے لیے کیا جاتا ہے۔ اس بحالی منصوبے میں ان منفرد پائیدار خصوصیات کو برقرار رکھنے پر زور دیا گیا ہے۔

مسجد کا رقبہ اور گنجائش کتنی ہے؟ الحصن الاسفل مسجد کا کل رقبہ 134.18 مربع میٹر ہے اور اس میں ایک وقت میں 32 نمازیوں کے بیٹھنے کی گنجائش موجود ہے۔ یہ مسجد سارات (Sarat) طرزِ تعمیر کی ایک مثال ہے۔