Wednesday, October 28, 2026
معیشت

البدوی: خلیجی تعاون کونسل میں بجلی اور پانی کا باہمی رابطہ ترجیحی شعبہ ہے

البدوی: خلیجی تعاون کونسل میں بجلی اور پانی کا باہمی رابطہ ترجیحی شعبہ ہے

خلیجی تعاون کونسل کے سیکرٹری جنرل جاسم البدیوی نے کہا ہے کہ بجلی اور پانی کے شعبے ترجیحی حیثیت رکھتے ہیں اور خلیجی مشترکہ عمل کی بنیادی ستون ہیں، کیونکہ ان کا کردار وسائل کی پائیداری، رکن ممالک کی ضروریات کی فراہمی اور آئندہ پیش رفت اور چیلنجوں کے لیے تیاری بڑھانے میں مرکزی ہے۔ یہ بات انہوں نے بحرین کے دارالحکومت منامہ میں منعقدہ خلیجی تعاون کونسل کی بجلی اور پانی کے تعاون کمیٹی کے 31ویں اجلاس میں کہی۔

جیسا کہ سعودی خبر رساں ادارے ایس پی اے نے بیان کیا، اجلاس منامہ میں آج منعقد ہوا اور اس کی صدارت بحرین کے وزیر برائے بجلی و پانی کے امور یاسر بن ابراہیم حمیدان نے کی، جو موجودہ اجلاس کے چیئرمین بھی ہیں، اور کمیٹی کے ارکان نے بھی اس میں شرکت کی۔

البدیوی نے اپنی تقریر کے آغاز میں کہا کہ 28 اپریل 2026 کو جدہ میں منعقدہ سپریم کونسل کے 19ویں مشاورتی اجلاس کے نتائج نے خلیجی ممالک کی بحرانوں اور چیلنجوں کا سامنا کرنے کی تیاری اور صلاحیت بڑھانے کی اہمیت کی تصدیق کی۔ ان ہدایات میں رکن ممالک کے درمیان پانی کے باہمی رابطے کے منصوبوں کے قیام کی فزیبلٹی کا مطالعہ اور خلیجی بجلی کے گرڈ کی توسیع اور مضبوطی کو جاری رکھنا شامل تھا۔ انہوں نے زور دیا کہ ان ہدایات کو عملی اقدامات میں تبدیل کرنا ضروری ہے جو خلیجی مشترکہ عمل کو وسیع تر افق کی طرف لے جائیں۔

کیا خلیجی ممالک اپنی بڑھتی ہوئی طلب کو پورا کرنے کے لیے مشترکہ بنیادی ڈھانچے پر انحصار بڑھا رہے ہیں؟ سیکرٹری جنرل نے واضح کیا کہ موجودہ مرحلے میں ترجیحی راستوں پر پیش رفت کو تیز کرنے کی ضرورت ہے، جن میں سب سے اہم بجلی اور پانی کی بڑھتی ہوئی طلب کے لیے تیاری ہے۔ انہوں نے بتایا کہ 2025 میں خلیجی ممالک میں کل بجلی کی پیداوار تقریباً 876,000 گیگا واٹ آور (GWh) تک پہنچ گئی، جو پچھلے سال کے مقابلے میں 9.6 فیصد زیادہ ہے، جبکہ ڈی سیلینیٹڈ پانی کی پیداوار تقریباً 8.5 بلین مکعب میٹر رہی، جو 10.8 فیصد کی شرح نمو ظاہر کرتی ہے۔

البدیوی نے بجلی اور پانی کے نظاموں کی کارکردگی کو بہتر بنانے کی اہمیت پر بھی روشنی ڈالی، جس میں پیداوار، ترسیل اور تقسیم کو آگے بڑھانا شامل ہے۔ کیا یہ اعداد و شمار بتاتے ہیں کہ خلیجی معیشتیں توانائی اور پانی کے بغیر اپنی ترقی جاری نہیں رکھ سکتیں؟

انہوں نے کہا کہ موجودہ مرحلہ خلیجی مشترکہ عمل میں ہم آہنگی اور ایک دوسرے پر انحصار کے نئے درجے کا تقاضا کرتا ہے، اور بجلی اور پانی کے شعبوں میں تعاون کو صرف منصوبہ بندی تک محدود نہیں رہنا چاہیے بلکہ عملی نفاذ تک پہنچنا چاہیے۔ کیا خلیجی تعاون کونسل کے رکن ممالک کے درمیان بجلی کے گرڈ کا موجودہ ڈھانچہ بڑھتی ہوئی طلب کے لیے کافی ہے؟

اجلاس میں کمیٹی کے ارکان نے بجلی اور پانی کے شعبوں میں مشترکہ تعاون کے موجودہ اقدامات اور آئندہ کے منصوبوں پر غور کیا۔ سیکرٹری جنرل نے کہا کہ سپریم کونسل کی ہدایات میں پانی کے باہمی رابطے کے منصوبوں کی فزیبلٹی کا مطالعہ شامل ہے، جو رکن ممالک کے درمیان پانی کے وسائل کے تبادلے اور مشترکہ بحران سے نمٹنے کی صلاحیت کو بڑھا سکتا ہے۔ کیا پانی کے باہمی رابطے کا منصوبہ خلیجی ممالک کو خشک سالی جیسے چیلنجوں کا بہتر سامنا کرنے کے قابل بنا سکتا ہے؟

البدیوی نے خلیجی بجلی کے گرڈ کی توسیع اور مضبوطی کو جاری رکھنے کی ضرورت پر زور دیا، جو رکن ممالک کے درمیان بجلی کے تبادلے اور نیٹ ورک کی قابل اعتمادی کو بہتر بنانے کا ذریعہ ہے۔ انہوں نے کہا کہ ان ہدایات کو عملی اقدامات میں تبدیل کرنا خلیجی مشترکہ عمل کو وسیع تر افق تک لے جائے گا۔ کیا مشترکہ بجلی گرڈ رکن ممالک کی توانائی کی حفاظت کو مضبوط کرنے میں کلیدی کردار ادا کر رہا ہے؟

اجلاس میں بجلی اور پانی کے شعبوں میں پیداوار، ترسیل اور تقسیم کی کارکردگی کو بہتر بنانے کے موضوعات بھی زیر بحث آئے۔ سیکرٹری جنرل نے کہا کہ بجلی کی کل پیداوار 2025 میں تقریباً 876,000 گیگا واٹ آور رہی، جو پچھلے سال کے مقابلے میں 9.6 فیصد زیادہ ہے، اور ڈی سیلینیٹڈ پانی کی پیداوار تقریباً 8.5 بلین مکعب میٹر رہی، جو 10.8 فیصد کی شرح نمو ظاہر کرتی ہے۔ یہ اعداد و شمار خلیجی ممالک کی بڑھتی ہوئی آبادی اور صنعتی ترقی کی عکاسی کرتے ہیں۔

کیا خلیجی تعاون کونسل کے رکن ممالک اپنے وسائل کی پائیداری کو یقینی بنانے کے لیے نئے ٹیکنالوجی اور کارکردگی کے اقدامات پر سرمایہ کاری کر رہے ہیں؟ البدیوی نے کہا کہ موجودہ مرحلہ ترجیحی راستوں پر پیش رفت کو تیز کرنے کا تقاضا کرتا ہے، جن میں بجلی اور پانی کی بڑھتی ہوئی طلب کے لیے تیاری سب سے اہم ہے۔

اجلاس کی صدارت بحرین کے وزیر برائے بجلی و پانی کے امور یاسر بن ابراہیم حمیدان نے کی، جو موجودہ اجلاس کے چیئرمین بھی ہیں۔ کمیٹی کے ارکان نے اجلاس میں شرکت کی اور بجلی اور پانی کے شعبوں میں تعاون کے موجودہ اقدامات پر غور کیا۔ کیا خلیجی تعاون کونسل کے اجلاسوں کا یہ سلسلہ رکن ممالک کے درمیان عملی تعاون کو مضبوط کر رہا ہے؟

البدیوی نے کہا کہ سپریم کونسل کے 19ویں مشاورتی اجلاس کی ہدایات میں خلیجی بجلی کے گرڈ کی توسیع اور مضبوطی کو جاری رکھنا شامل ہے، اور انہیں عملی اقدامات میں تبدیل کرنا ضروری ہے۔ انہوں نے کہا کہ بجلی اور پانی کے شعبے خلیجی مشترکہ عمل کی بنیادی ستون ہیں کیونکہ ان کا کردار وسائل کی پائیداری، رکن ممالک کی ضروریات کی فراہمی اور آئندہ پیش رفت اور چیلنجوں کے لیے تیاری بڑھانے میں مرکزی ہے۔

کیا خلیجی ممالک کے درمیان بجلی اور پانی کے شعبوں میں تعاون کا موجودہ ڈھانچہ آئندہ کی ضروریات کے لیے کافی ہے؟ سیکرٹری جنرل نے کہا کہ موجودہ مرحلہ خلیجی مشترکہ عمل میں ہم آہنگی اور ایک دوسرے پر انحصار کے نئے درجے کا تقاضا کرتا ہے۔

اجلاس میں بجلی اور پانی کے نظاموں کی کارکردگی کو بہتر بنانے، پیداوار، ترسیل اور تقسیم کو آگے بڑھانے کے موضوعات پر بھی تبادلہ خیال کیا گیا۔ البدیوی نے کہا کہ 2025 میں خلیجی ممالک میں بجلی کی کل پیداوار تقریباً 876,000 گیگا واٹ آور رہی، جو پچھلے سال کے مقابلے میں 9.6 فیصد زیادہ ہے، جبکہ ڈی سیلینیٹڈ پانی کی پیداوار تقریباً 8.5 بلین مکعب میٹر رہی، جو 10.8 فیصد کی شرح نمو ظاہر کرتی ہے۔

کیا یہ اعداد و شمار خلیجی ممالک کی معیشتوں کی تنوع اور بڑھتی ہوئی توانائی کی طلب کی عکاسی کرتے ہیں؟ سیکرٹری جنرل نے کہا کہ بجلی اور پانی کے شعبوں میں تعاون کو صرف منصوبہ بندی تک محدود نہیں رہنا چاہیے بلکہ عملی نفاذ تک پہنچنا چاہیے۔

البدیوی نے کہا کہ سپریم کونسل کے 19ویں مشاورتی اجلاس کی ہدایات میں پانی کے باہمی رابطے کے منصوبوں کی فزیبلٹی کا مطالعہ شامل ہے، جو رکن ممالک کے درمیان پانی کے وسائل کے تبادلے اور مشترکہ بحران سے نمٹنے کی صلاحیت کو بڑھا سکتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ خلیجی بجلی کے گرڈ کی توسیع اور مضبوطی کو جاری رکھنا بھی ان ہدایات کا حصہ ہے۔

اجلاس میں کمیٹی کے ارکان نے بجلی اور پانی کے شعبوں میں مشترکہ تعاون کے موجودہ اقدامات اور آئندہ کے منصوبوں پر غور کیا۔ کیا خلیجی تعاون کونسل کے رکن ممالک اپنے مشترکہ وسائل کے انتظام کے لیے نئے ادارہ جاتی فریم ورک پر غور کر رہے ہیں؟

رپورٹ میں اجلاس کے دوران پیش کیے گئے مخصوص منصوبوں، ان کی لاگت، تکمیل کی تاریخوں یا کمیٹی کے فیصلوں کی تفصیلات نہیں دی گئیں۔ ایس پی اے کی رپورٹ میں بجلی اور پانی کے شعبوں میں تعاون کے موجودہ اقدامات اور آئندہ کے منصوبوں کی مزید تفصیلات شامل نہیں ہیں۔

خلیجی تعاون کونسل کی بجلی اور پانی کے تعاون کمیٹی کا 31واں اجلاس کہاں اور کب منعقد ہوا؟ اجلاس بحرین کے دارالحکومت منامہ میں 5 اکتوبر 2026 کو منعقد ہوا۔ اس کی صدارت بحرین کے وزیر برائے بجلی و پانی کے امور یاسر بن ابراہیم حمیدان نے کی، جو موجودہ اجلاس کے چیئرمین بھی ہیں۔ کمیٹی کے ارکان نے بھی اجلاس میں شرکت کی۔ ایس پی اے کے مطابق اجلاس میں بجلی اور پانی کے شعبوں میں مشترکہ تعاون کے موجودہ اقدامات اور آئندہ کے منصوبوں پر غور کیا گیا۔

2025 میں خلیجی ممالک میں بجلی اور پانی کی پیداوار کتنی رہی؟ سیکرٹری جنرل جاسم البدیوی نے بتایا کہ 2025 میں خلیجی ممالک میں کل بجلی کی پیداوار تقریباً 876,000 گیگا واٹ آور (GWh) تک پہنچ گئی، جو پچھلے سال کے مقابلے میں 9.6 فیصد زیادہ ہے۔ ڈی سیلینیٹڈ پانی کی پیداوار تقریباً 8.5 بلین مکعب میٹر رہی، جو 10.8 فیصد کی شرح نمو ظاہر کرتی ہے۔ یہ اعداد و شمار ایس پی اے کی رپورٹ میں دیے گئے۔

سپریم کونسل کے 19ویں مشاورتی اجلاس کی کون سی ہدایات کا حوالہ دیا گیا؟ البدیوی نے کہا کہ 28 اپریل 2026 کو جدہ میں منعقدہ سپریم کونسل کے 19ویں مشاورتی اجلاس کے نتائج نے خلیجی ممالک کی بحرانوں اور چیلنجوں کا سامنا کرنے کی تیاری اور صلاحیت بڑھانے کی اہمیت کی تصدیق کی۔ ان ہدایات میں رکن ممالک کے درمیان پانی کے باہمی رابطے کے منصوبوں کے قیام کی فزیبلٹی کا مطالعہ اور خلیجی بجلی کے گرڈ کی توسیع اور مضبوطی کو جاری رکھنا شامل تھا۔

البدیوی نے موجودہ مرحلے میں کیا ضروری قرار دیا؟ البدیوی نے کہا کہ موجودہ مرحلہ ترجیحی راستوں پر پیش رفت کو تیز کرنے کا تقاضا کرتا ہے، جن میں سب سے اہم بجلی اور پانی کی بڑھتی ہوئی طلب کے لیے تیاری ہے۔ انہوں نے بجلی اور پانی کے نظاموں کی کارکردگی کو بہتر بنانے کی اہمیت پر بھی روشنی ڈالی، جس میں پیداوار، ترسیل اور تقسیم کو آگے بڑھانا شامل ہے۔ انہوں نے زور دیا کہ ہدایات کو عملی اقدامات میں تبدیل کرنا ضروری ہے۔

کیا رپورٹ میں منصوبوں کی لاگت یا تکمیل کی تاریخ دی گئی؟ نہیں، ایس پی اے کی رپورٹ میں اجلاس کے دوران پیش کیے گئے مخصوص منصوبوں، ان کی لاگت، تکمیل کی تاریخوں یا کمیٹی کے فیصلوں کی تفصیلات نہیں دی گئیں۔ رپورٹ میں بجلی اور پانی کے شعبوں میں تعاون کے موجودہ اقدامات اور آئندہ کے منصوبوں کی مزید تفصیلات بھی شامل نہیں ہیں۔ صرف یہ بتایا گیا کہ اجلاس منامہ میں ہوا اور اس کی صدارت بحرین کے وزیر نے کی۔