انٹرنیشنل ڈیٹس کونسل نے تیونس کے دارالحکومت میں دو روزہ بین الاقوامی ورکشاپ کا آغاز کیا ہے، جس کا عنوان «گلوبل مارکیٹنگ اینڈ پروموشن آف ڈیٹس: بیسٹ پریکٹسز اینڈ سکسیس ماڈلز» ہے۔ یہ ورکشاپ 30 ستمبر 2026 کو شروع ہوئی اور اس میں کھجور پیدا کرنے اور استعمال کرنے والے ممالک کے ماہرین اور پیشہ ور افراد شریک ہیں تاکہ کھجور کی عالمی مارکیٹنگ اور فروغ کو بہتر بنانے کے طریقے تلاش کیے جا سکیں اور نئی منڈیاں شناخت کی جا سکیں۔
جیسا کہ سعودی خبر رساں ادارے ایس پی اے نے بیان کیا، یہ ورکشاپ انٹرنیشنل ڈیٹس کونسل تیونس کی وزارت زراعت، آبی وسائل اور ماہی گیری کے ساتھ مل کر منعقد کر رہی ہے، اور اس میں تیونس کی ڈیٹس انٹر پروفیشنل گروپنگ بھی تعاون کر رہی ہے۔ دو روزہ ورکشاپ کا مقصد کھجور کی عالمی مارکیٹنگ اور فروغ کی حکمت عملیوں پر غور کرنا، پروڈیوسرز کی مسابقت کو بہتر بنانا اور غیر ملکی منڈیوں تک رسائی میں اضافہ کرنا ہے۔
انٹرنیشنل ڈیٹس کونسل کی ایگزیکٹو ڈائریکٹر شہزادی سارہ بنت بندر بن عبدالعزیز نے اس موقع پر تیونس کی میزبانی کی اہمیت پر زور دیا۔ انہوں نے کہا کہ تیونس کو کھجور کی پیداوار اور برآمدات میں وسیع تجربہ حاصل ہے اور یورپی منڈیوں میں اس کی مضبوط موجودگی ہے۔ انہوں نے نوٹ کیا کہ بین الاقوامی منڈیوں کی ضروریات تیزی سے بدل رہی ہیں، جس کی وجہ سے پروڈکٹ کی حفاظت، ٹریس ایبلٹی اور معیارات کی تعمیل صارفین تک پہنچنے اور اعلیٰ قیمت والی منڈیوں میں کھجور کی مسابقت بڑھانے کے لیے اہم عوامل بن گئے ہیں۔
کیا عالمی منڈیوں کی بدلتی ہوئی ضروریات کے پیش نظر کھجور پیدا کرنے والے ممالک کے لیے معیارات کی تعمیل کو یقینی بنانا سب سے بڑا چیلنج نہیں ہے؟ شہزادی سارہ بنت بندر بن عبدالعزیز نے وضاحت کی کہ یہ ورکشاپ سرکاری اور نجی شعبے کے نمائندوں کے ایک متنوع گروپ کو اکٹھا کرتی ہے تاکہ کامیاب تجربات کا تبادلہ کیا جا سکے، بہترین طریقے پیش کیے جا سکیں اور تجارتی تعاون اور نئی عالمی منڈیوں تک رسائی کے وسیع تر مواقع تلاش کیے جا سکیں۔
ورکشاپ میں پروڈکٹ کے لیے ویلیو پیدا کرنے کے مواقع پر بھی بات کی جا رہی ہے، جس کا آغاز منڈی اور صارفین کی ضروریات کو سمجھنے سے ہوتا ہے۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ مارکیٹنگ ایک مربوط نظام کا حصہ ہے جس میں معیار، برانڈ کی شناخت اور تقسیم کے ذرائع شامل ہیں۔ کیا مارکیٹنگ کو صرف اشتہارات تک محدود سمجھنا کھجور کی صنعت کی ترقی میں رکاوٹ نہیں بن رہا؟
انٹرنیشنل ڈیٹس کونسل کی مارکیٹنگ اینڈ پروموشن کمیٹی کے کام کے سلسلے میں، ورکشاپ کے پہلے دن کھجور کی مارکیٹنگ اور فروغ کی حکمت عملیوں کی ترقی، پروڈیوسرز کی مسابقت کی حمایت اور غیر ملکی منڈیوں تک رسائی کو بہتر بنانے سے متعلق متعدد موضوعات پر بات کی گئی۔ اس موقع پر شرکاء کو تجربات اور مہارتوں کے تبادلے کا موقع بھی فراہم کیا گیا۔
تیونس کی وزارت زراعت، آبی وسائل اور ماہی گیری اور ڈیٹس انٹر پروفیشنل گروپنگ کے ساتھ تعاون اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ کھجور کی صنعت میں بین الاقوامی تعاون کو کس حد تک مضبوط کیا جا رہا ہے۔ کیا کھجور پیدا کرنے والے ممالک کے درمیان مشترکہ حکمت عملیوں کی عدم موجودگی عالمی منڈیوں میں ان کی پوزیشن کو کمزور نہیں کرتی؟
شہزادی سارہ بنت بندر بن عبدالعزیز نے تیونس کے تجربے کو سراہتے ہوئے کہا کہ یہ ملک کھجور کی پیداوار اور برآمدات میں نمایاں مقام رکھتا ہے اور یورپی منڈیوں میں اس کی رسائی مضبوط ہے۔ انہوں نے کہا کہ بین الاقوامی منڈیوں کے تقاضے تیزی سے تبدیل ہو رہے ہیں، اس لیے پروڈکٹ کی حفاظت، ٹریس ایبلٹی اور معیارات کی پابندی صارفین تک پہنچنے کے لیے ناگزیر ہو گئی ہے۔
ورکشاپ کا دوسرا دن بھی کھجور کی عالمی مارکیٹنگ اور فروغ کے موضوع پر مزید مباحثوں پر مشتمل ہوگا۔ شرکاء مختلف ممالک کے کامیاب ماڈلز کا جائزہ لیں گے اور نئی منڈیوں تک رسائی کے لیے قابل عمل راستے تجویز کریں گے۔ کیا کھجور کی صنعت کو درپیش چیلنجز کا حل صرف مارکیٹنگ تک محدود ہے، یا پیداوار اور معیار کے شعبوں میں بھی بنیادی اصلاحات کی ضرورت ہے؟
انٹرنیشنل ڈیٹس کونسل کی یہ کوشش اس بات کی عکاسی کرتی ہے کہ کھجور کو ایک اعلیٰ قیمت والی پروڈکٹ کے طور پر عالمی منڈیوں میں متعارف کرانے کے لیے مربوط حکمت عملی کی ضرورت ہے۔ ورکشاپ میں سرکاری اور نجی شعبے کے نمائندوں کی شرکت اس بات کو یقینی بناتی ہے کہ مختلف نقطہ نظر سامنے آئیں اور بہترین طریقوں کو عملی جامہ پہنایا جا سکے۔
کھجور پیدا کرنے والے ممالک کے لیے یہ سوال اہم ہے کہ وہ عالمی منڈیوں میں اپنی مسابقت کیسے بڑھا سکتے ہیں۔ شہزادی سارہ بنت بندر بن عبدالعزیز کے مطابق، مارکیٹنگ ایک مربوط نظام کا حصہ ہے جس میں معیار، برانڈ کی شناخت اور تقسیم کے ذرائع شامل ہیں۔ اگر ان عوامل میں سے کسی ایک پر بھی توجہ نہ دی جائے تو عالمی منڈیوں میں کامیابی ممکن نہیں۔
ورکشاپ کے شرکاء نے کھجور کی مارکیٹنگ اور فروغ کی حکمت عملیوں پر تبادلہ خیال کیا اور پروڈیوسرز کی مسابقت کو بہتر بنانے کے طریقے تجویز کیے۔ اس کے علاوہ غیر ملکی منڈیوں تک رسائی میں درپیش رکاوٹوں کا جائزہ لیا گیا اور ان کے حل کے لیے تجاویز پر غور کیا گیا۔ کیا یہ ورکشاپ کھجور کی صنعت میں حقیقی تبدیلی لا سکتی ہے، یا یہ صرف ایک علمی مشق رہ جائے گی؟
تیونس کی میزبانی کو اس لیے بھی اہم قرار دیا گیا کہ اس ملک کو کھجور کی پیداوار اور برآمدات میں وسیع تجربہ حاصل ہے اور یورپی منڈیوں میں اس کی موجودگی مضبوط ہے۔ اس تجربے سے دیگر ممالک بھی مستفید ہو سکتے ہیں، خاص طور پر وہ ممالک جو اپنی کھجور کی صنعت کو عالمی سطح پر وسعت دینا چاہتے ہیں۔
انٹرنیشنل ڈیٹس کونسل کی مارکیٹنگ اینڈ پروموشن کمیٹی کے تحت ہونے والی اس ورکشاپ میں کھجور کی مارکیٹنگ اور فروغ کی حکمت عملیوں کی ترقی پر خصوصی توجہ دی جا رہی ہے۔ شرکاء نے پروڈیوسرز کی مسابقت کو بہتر بنانے اور غیر ملکی منڈیوں تک رسائی میں اضافے کے لیے اپنے تجربات شیئر کیے۔
کیا کھجور کی عالمی مارکیٹنگ میں کامیابی کے لیے صرف معیار اور ٹریس ایبلٹی کافی ہے، یا برانڈنگ اور صارفین کی ترجیحات کو سمجھنا بھی اتنا ہی ضروری ہے؟ شہزادی سارہ بنت بندر بن عبدالعزیز نے اس بات پر زور دیا کہ مارکیٹنگ ایک جامع نظام ہے جس میں معیار، برانڈ کی شناخت اور تقسیم کے ذرائع شامل ہیں، اور ان تمام پہلوؤں پر توجہ دیے بغیر عالمی منڈیوں میں کامیابی حاصل نہیں کی جا سکتی۔
ورکشاپ کا انعقاد تیونس کی وزارت زراعت، آبی وسائل اور ماہی گیری اور ڈیٹس انٹر پروفیشنل گروپنگ کے تعاون سے کیا جا رہا ہے، جو اس بات کا ثبوت ہے کہ کھجور کی صنعت میں بین الاقوامی تعاون کو فروغ دیا جا رہا ہے۔ اس طرح کے تعاون سے نہ صرف تجربات کا تبادلہ ہوتا ہے بلکہ نئی منڈیوں تک رسائی کے مواقع بھی پیدا ہوتے ہیں۔
رپورٹ میں ورکشاپ کے شرکاء کی تعداد، کسی مخصوص ملک کے وفد کے حجم، یا ورکشاپ کے اختتام پر کسی مشترکہ اعلامیے کے بارے میں تفصیلات نہیں دی گئیں۔ ایس پی اے کی رپورٹ میں یہ بھی نہیں بتایا گیا کہ ورکشاپ کے نتائج کو عملی شکل دینے کے لیے کوئی ٹائم لائن یا اقدامات طے کیے گئے ہیں یا نہیں۔
ورکشاپ کا بنیادی مقصد کیا ہے؟ ورکشاپ کا عنوان «گلوبل مارکیٹنگ اینڈ پروموشن آف ڈیٹس: بیسٹ پریکٹسز اینڈ سکسیس ماڈلز» ہے اور اس کا مقصد کھجور کی عالمی مارکیٹنگ اور فروغ کو بہتر بنانے کے طریقے تلاش کرنا اور نئی منڈیاں شناخت کرنا ہے۔ یہ ورکشاپ انٹرنیشنل ڈیٹس کونسل تیونس کی وزارت زراعت، آبی وسائل اور ماہی گیری اور ڈیٹس انٹر پروفیشنل گروپنگ کے تعاون سے منعقد کر رہی ہے۔
شہزادی سارہ بنت بندر بن عبدالعزیز نے کیا اہم نکات بیان کیے؟ انہوں نے تیونس کی میزبانی کی اہمیت پر زور دیا کیونکہ اسے کھجور کی پیداوار اور برآمدات میں وسیع تجربہ حاصل ہے اور یورپی منڈیوں میں اس کی مضبوط موجودگی ہے۔ انہوں نے کہا کہ بین الاقوامی منڈیوں کی ضروریات تیزی سے بدل رہی ہیں، اس لیے پروڈکٹ کی حفاظت، ٹریس ایبلٹی اور معیارات کی تعمیل صارفین تک پہنچنے اور اعلیٰ قیمت والی منڈیوں میں مسابقت بڑھانے کے لیے اہم ہیں۔
ورکشاپ کے پہلے دن کن موضوعات پر بات ہوئی؟ پہلے دن کھجور کی مارکیٹنگ اور فروغ کی حکمت عملیوں کی ترقی، پروڈیوسرز کی مسابقت کی حمایت اور غیر ملکی منڈیوں تک رسائی کو بہتر بنانے سے متعلق موضوعات پر بات کی گئی۔ یہ ورکشاپ انٹرنیشنل ڈیٹس کونسل کی مارکیٹنگ اینڈ پروموشن کمیٹی کے کام کے سلسلے میں منعقد کی جا رہی ہے اور شرکاء کو تجربات کے تبادلے کا موقع بھی فراہم کیا گیا۔
تیونس کو اس ورکشاپ کی میزبانی کے لیے کیوں منتخب کیا گیا؟ شہزادی سارہ بنت بندر بن عبدالعزیز کے مطابق تیونس کو کھجور کی پیداوار اور برآمدات میں وسیع تجربہ حاصل ہے اور یورپی منڈیوں میں اس کی مضبوط موجودگی ہے۔ اس تجربے کی وجہ سے تیونس اس ورکشاپ کی میزبانی کے لیے موزوں مقام ہے، جہاں مختلف ممالک کے ماہرین کھجور کی عالمی مارکیٹنگ اور فروغ کے بہترین طریقوں پر تبادلہ خیال کر رہے ہیں۔
مارکیٹنگ کو ایک مربوط نظام کیوں قرار دیا گیا؟ شہزادی سارہ بنت بندر بن عبدالعزیز نے وضاحت کی کہ مارکیٹنگ ایک مربوط نظام کا حصہ ہے جس میں معیار، برانڈ کی شناخت اور تقسیم کے ذرائع شامل ہیں۔ انہوں نے کہا کہ پروڈکٹ کے لیے ویلیو پیدا کرنے کا آغاز منڈی اور صارفین کی ضروریات کو سمجھنے سے ہوتا ہے، اور ان تمام پہلوؤں پر توجہ دیے بغیر عالمی منڈیوں میں کامیابی ممکن نہیں۔
رپورٹ میں کون سی معلومات شامل نہیں کی گئیں؟ رپورٹ میں ورکشاپ کے شرکاء کی تعداد، کسی مخصوص ملک کے وفد کے حجم، یا ورکشاپ کے اختتام پر کسی مشترکہ اعلامیے کے بارے میں تفصیلات نہیں دی گئیں۔ ایس پی اے کی رپورٹ میں یہ بھی نہیں بتایا گیا کہ ورکشاپ کے نتائج کو عملی شکل دینے کے لیے کوئی ٹائم لائن یا اقدامات طے کیے گئے ہیں یا نہیں۔





