Monday, October 19, 2026
معیشت

انٹرنیشنل ڈیٹس کونسل کے رکن ممالک 60 فیصد عالمی پیداوار کے ساتھ 6 ملین ٹن کھجوریں پیدا کرتے ہیں، وزیر ماحولیات

انٹرنیشنل ڈیٹس کونسل کے رکن ممالک 60 فیصد عالمی پیداوار کے ساتھ 6 ملین ٹن کھجوریں پیدا کرتے ہیں، وزیر ماحولیات

انٹرنیشنل ڈیٹس کونسل کے رکن ممالک سالانہ 6 ملین ٹن کھجوریں پیدا کرتے ہیں، جو عالمی پیداوار کا 60 فیصد ہے۔ یہ اعداد و شمار مسقط میں کونسل کے چھٹے اجلاس کے دوران پیش کیے گئے، جس کی میزبانی سلطنت عمان نے وزارت زراعت، ماہی گیری اور آبی وسائل کے ذریعے کی۔

جیسا کہ سعودی خبر رساں ادارے ایس پی اے نے 18 اکتوبر 2026 کو بیان کیا، اجلاس میں رکن ممالک کے نمائندوں نے شرکت کی۔ اجلاس میں اگلی مدت کے لیے ایگزیکٹو بورڈ کا انتخاب کیا گیا، رکن ممالک کے مالی تعاون کے حساب کتاب کا طریقہ کار منظور کیا گیا، اور خصوصی کمیٹیوں کے مینڈیٹ میں توسیع کی گئی۔ کونسل نے مراکش اور لیبیا کی رکنیت کا بھی خیر مقدم کیا۔

اجلاس کا آغاز ایگزیکٹو سیکرٹریٹ کی سالانہ رپورٹ کے جائزے سے ہوا، جس میں گزشتہ مدت کے دوران کیے گئے اہم کاموں، پروگراموں اور سرگرمیوں کو اجاگر کیا گیا۔ شرکاء نے مشترکہ اقدامات اور منصوبوں پر پیش رفت کا بھی جائزہ لیا اور علاقائی اور بین الاقوامی سطح پر کھجور اور کھجور کے شعبے کی ترقی کے لیے حکمت عملی کے رخ اور ترجیحات پر تبادلہ خیال کیا۔

کیا کھجور کے شعبے کو درپیش چیلنجز کے حل کے لیے رکن ممالک کی مشترکہ کوششیں کافی ہیں؟ اجلاس میں اگلی مدت کے لیے ایگزیکٹو بورڈ کا انتخاب کیا گیا، جس میں سعودی عرب نے صدارت برقرار رکھی۔ عمان کو خلیجی ریاستوں اور یمن کے خطے کی نمائندگی کے لیے منتخب کیا گیا، اردن کو مشرق قریب کے خطے کی نمائندگی کے لیے، اور لیبیا کو شمالی افریقہ کی نمائندگی کے لیے۔ کونسل نے سابقہ ایگزیکٹو بورڈ کے ارکان — سعودی عرب، عمان، تیونس اور فلسطین — کا شکریہ ادا کیا اور گزشتہ مدت کے دوران ان کی کوششوں کو سراہا۔

کونسل نے مراکش اور لیبیا کو نئے ارکان کے طور پر خوش آمدید کہا، جس سے رکن ممالک کی جغرافیائی نمائندگی میں اضافہ ہوا اور کھجور اور کھجور کے شعبے میں تعاون، علم کے تبادلے اور مشترکہ اقدامات کی ترقی کے مواقع کو فروغ ملا۔ کیا نئے ارکان کی شمولیت سے کونسل کے فیصلوں میں زیادہ توازن آئے گا؟

مالی اور تنظیمی معاملات پر، کونسل آف ممبرز نے کونسل کے بجٹ میں رکن ممالک کے مالی تعاون کے حساب کتاب کے طریقہ کار کی منظوری دی، جس سے اس کے مالی وسائل کو منظم کرنے اور اس کے پروگراموں اور منصوبوں کی پائیداری میں مدد ملے گی۔ اس نے خصوصی کمیٹیوں کے مینڈیٹ میں اضافی مدت کے لیے توسیع کی بھی منظوری دی۔

اجلاس کی میزبانی سلطنت عمان نے کی، جس کی نمائندگی وزارت زراعت، ماہی گیری اور آبی وسائل نے کی۔ اجلاس میں کونسل کے رکن ممالک کے نمائندوں نے شرکت کی۔ کیا اس طرح کے اجلاسوں سے کھجور کی پیداوار اور برآمدات میں اضافے کی راہ ہموار ہوگی؟

رپورٹ کے مطابق، شرکاء نے گزشتہ مدت کے دوران ایگزیکٹو سیکرٹریٹ کے کام کی سالانہ رپورٹ کا جائزہ لیا، جس میں اہم کامیابیوں، پروگراموں اور سرگرمیوں کو اجاگر کیا گیا۔ انہوں نے مشترکہ اقدامات اور منصوبوں پر پیش رفت کا بھی جائزہ لیا اور علاقائی اور بین الاقوامی سطح پر کھجور اور کھجور کے شعبے کی ترقی کے لیے حکمت عملی کے رخ اور ترجیحات پر تبادلہ خیال کیا۔

کونسل نے سابقہ ایگزیکٹو بورڈ کے ارکان کا شکریہ ادا کیا، جن میں سعودی عرب، عمان، تیونس اور فلسطین شامل ہیں، اور گزشتہ مدت کے دوران ان کی کوششوں کو تسلیم کیا۔ کیا رکن ممالک کے درمیان علم کے تبادلے سے کھجور کی کوالٹی میں بہتری آئے گی؟

اجلاس میں اگلی مدت کے لیے ایگزیکٹو بورڈ کا انتخاب کیا گیا، جس میں سعودی عرب نے صدارت برقرار رکھی۔ عمان کو خلیجی ریاستوں اور یمن کے خطے کی نمائندگی کے لیے منتخب کیا گیا، اردن کو مشرق قریب کے خطے کی نمائندگی کے لیے، اور لیبیا کو شمالی افریقہ کی نمائندگی کے لیے۔ یہ انتخاب کونسل کے اندر جغرافیائی توازن کو ظاہر کرتا ہے۔

کونسل نے مراکش اور لیبیا کو نئے ارکان کے طور پر خوش آمدید کہا، جس سے رکن ممالک کی جغرافیائی نمائندگی میں اضافہ ہوا اور کھجور اور کھجور کے شعبے میں تعاون، علم کے تبادلے اور مشترکہ اقدامات کی ترقی کے مواقع کو فروغ ملا۔ کیا اس سے کونسل کے فیصلوں میں زیادہ جامعیت آئے گی؟

مالی اور تنظیمی معاملات پر، کونسل آف ممبرز نے کونسل کے بجٹ میں رکن ممالک کے مالی تعاون کے حساب کتاب کے طریقہ کار کی منظوری دی، جس سے اس کے مالی وسائل کو منظم کرنے اور اس کے پروگراموں اور منصوبوں کی پائیداری میں مدد ملے گی۔ اس نے خصوصی کمیٹیوں کے مینڈیٹ میں اضافی مدت کے لیے توسیع کی بھی منظوری دی۔

رپورٹ میں یہ نہیں بتایا گیا کہ اجلاس میں کھجور کی پیداوار یا برآمدات کے حوالے سے کوئی مخصوص ہدف مقرر کیا گیا، نہ ہی مالی تعاون کے نئے طریقہ کار کے تحت رکن ممالک کے متوقع حصوں کا کوئی عددی ذکر ہے۔ یہ تفصیلات ایس پی اے کی رپورٹ میں شامل نہیں تھیں۔

انٹرنیشنل ڈیٹس کونسل کا چھٹا اجلاس کہاں منعقد ہوا؟ کونسل کا چھٹا اجلاس مسقط، سلطنت عمان میں منعقد ہوا، جس کی میزبانی سلطنت عمان نے وزارت زراعت، ماہی گیری اور آبی وسائل کے ذریعے کی۔ اجلاس میں کونسل کے رکن ممالک کے نمائندوں نے شرکت کی۔ اجلاس کی تاریخ 18 اکتوبر 2026 تھی، جیسا کہ سعودی خبر رساں ادارے ایس پی اے نے بیان کیا۔

اجلاس میں کون سے اہم فیصلے کیے گئے؟ اجلاس میں اگلی مدت کے لیے ایگزیکٹو بورڈ کا انتخاب کیا گیا، رکن ممالک کے مالی تعاون کے حساب کتاب کا طریقہ کار منظور کیا گیا، اور خصوصی کمیٹیوں کے مینڈیٹ میں توسیع کی گئی۔ کونسل نے مراکش اور لیبیا کی رکنیت کا بھی خیر مقدم کیا۔ یہ فیصلے ایس پی اے کی رپورٹ کے مطابق ہیں۔

ایگزیکٹو بورڈ میں کون سی تبدیلیاں ہوئیں؟ سعودی عرب نے صدارت برقرار رکھی۔ عمان کو خلیجی ریاستوں اور یمن کے خطے کی نمائندگی کے لیے منتخب کیا گیا، اردن کو مشرق قریب کے خطے کی نمائندگی کے لیے، اور لیبیا کو شمالی افریقہ کی نمائندگی کے لیے۔ کونسل نے سابقہ ایگزیکٹو بورڈ کے ارکان سعودی عرب، عمان، تیونس اور فلسطین کا شکریہ ادا کیا۔

نئے ارکان کی شمولیت کا کیا اثر ہوگا؟ کونسل نے مراکش اور لیبیا کو نئے ارکان کے طور پر خوش آمدید کہا، جس سے رکن ممالک کی جغرافیائی نمائندگی میں اضافہ ہوا۔ اس سے کھجور اور کھجور کے شعبے میں تعاون، علم کے تبادلے اور مشترکہ اقدامات کی ترقی کے مواقع کو فروغ ملے گا۔ یہ تفصیل ایس پی اے کی رپورٹ میں دی گئی ہے۔

رکن ممالک کی کھجور کی پیداوار کتنی ہے؟ رکن ممالک سالانہ 6 ملین ٹن کھجوریں پیدا کرتے ہیں، جو عالمی پیداوار کا 60 فیصد ہے۔ یہ اعداد و شمار اجلاس کے دوران پیش کیے گئے۔ رپورٹ میں یہ نہیں بتایا گیا کہ یہ اعداد و شمار کس سال کے ہیں یا ان میں کیا تبدیلی آئی ہے۔