جدہ کے جدہ سپرڈوم میں سعودی فوڈ شو 2026 اور سعودی فوڈ مینوفیکچرنگ 2026 کی نمائشیں اختتام پذیر ہو گئیں، جن میں 95 سے زائد ممالک کی نمائندگی کرنے والے 1,000 سے زیادہ نمائش کنندگان نے شرکت کی اور 100,000 سے زیادہ فوڈ اینڈ بیوریج مصنوعات پیش کی گئیں۔
جیسا کہ سعودی خبر رساں ادارے ایس پی اے نے بیان کیا، یہ تین روزہ تقریب گزشتہ روز اختتام پذیر ہوئی، جس میں کمپنیاں، سپلائرز، خریدار اور فوڈ اینڈ بیوریج سیکٹر اور فوڈ مینوفیکچرنگ ٹیکنالوجیز کے ماہرین ایک پلیٹ فارم پر جمع ہوئے۔
اس تقریب میں 12,000 سے زیادہ کاروباری ملاقاتیں بھی منعقد ہوئیں، جن سے پروڈیوسرز، سپلائرز، خریداروں، سرمایہ کاروں اور ماہرین کو براہ راست ملاقات اور تعاون و شراکت داری کے مواقع تلاش کرنے کا موقع ملا۔ کیا یہ ملاقاتیں سعودی فوڈ سیکٹر میں نئی شراکت داریوں کی بنیاد بنیں گی؟
ایس پی اے کے مطابق، اس تقریب نے مملکت میں تعینات متعدد قونصلر اور سفارتی و قونصلر مشنوں کے نمائندوں کے ساتھ ساتھ کاروباری شخصیات، خریداروں اور ماہرین کو بھی اپنی طرف متوجہ کیا، جس سے انہیں نمائش میں پیش کردہ مصنوعات اور حل دیکھنے اور فوڈ اینڈ بیوریج سیکٹر میں تجارتی تعاون کے شعبوں پر بات چیت کا موقع ملا۔
یہ نمائشیں ایک ایسے پلیٹ فارم کے طور پر سامنے آئیں جس نے مملکت کے ایک اہم شعبے میں وسیع شرکت اور متنوع کاروباری مواقع کی عکاسی کی۔ کیا 95 ممالک کی شرکت سعودی فوڈ مارکیٹ کی عالمی کشش کو ظاہر کرتی ہے؟
ایس پی اے کے مطابق، مملکت کا فوڈ اینڈ بیوریج سیکٹر بڑھتی ہوئی سرمایہ کاری، فوڈ انڈسٹریز کی ترقی اور سپلائی چینز کے انضمام کی بدولت مسلسل ترقی اور توسیع کر رہا ہے، جس سے فوڈ ٹریڈ اور انڈسٹری کے لیے ایک فعال علاقائی مرکز کے طور پر مملکت کی پوزیشن مزید مضبوط ہو رہی ہے۔
تین دن تک جاری رہنے والی اس تقریب میں کمپنیوں، سپلائرز، خریداروں اور ماہرین کو ایک ہی جگہ جمع کر کے فوڈ اور بیوریج سیکٹر کے ساتھ ساتھ فوڈ مینوفیکچرنگ ٹیکنالوجیز کے شعبے میں بھی تبادلہ خیال کا موقع فراہم کیا گیا۔ کیا اس طرح کے اجتماعات سعودی مصنوعات کو عالمی منڈیوں تک پہنچانے میں مددگار ثابت ہوتے ہیں؟
نمائش میں 100,000 سے زیادہ فوڈ اینڈ بیوریج مصنوعات کی نمائش کی گئی، جو اس شعبے میں دستیاب مصنوعات کی وسیع رینج کو ظاہر کرتی ہے۔ 1,000 سے زیادہ نمائش کنندگان کی موجودگی نے اس بات کو اجاگر کیا کہ سعودی فوڈ مارکیٹ مقامی اور بین الاقوامی کھلاڑیوں دونوں کے لیے کشش رکھتی ہے۔
12,000 سے زیادہ کاروباری ملاقاتیں اس بات کا اشارہ ہیں کہ نمائش کا مقصد صرف مصنوعات کی نمائش تک محدود نہیں تھا، بلکہ اس نے پروڈیوسرز، سپلائرز، خریداروں، سرمایہ کاروں اور ماہرین کے درمیان براہ راست رابطے اور تعاون کے مواقع پیدا کرنے پر بھی زور دیا۔ کیا یہ ملاقاتیں حقیقی معاہدوں میں تبدیل ہوئیں؟
ایس پی اے کے مطابق، تقریب میں قونصلر اور سفارتی مشنوں کے نمائندوں کی موجودگی نے اسے ایک بین الاقوامی رنگ دیا، جہاں کاروباری شخصیات، خریداروں اور ماہرین نے نمائش میں پیش کردہ مصنوعات اور حل کا جائزہ لیا اور فوڈ اینڈ بیوریج سیکٹر میں تجارتی تعاون کے پہلوؤں پر تبادلہ خیال کیا۔
مملکت کے فوڈ اینڈ بیوریج سیکٹر کی مسلسل ترقی اور توسیع کی وجہ بڑھتی ہوئی سرمایہ کاری، فوڈ انڈسٹریز کی ترقی اور سپلائی چینز کا انضمام بتائی گئی ہے۔ یہ عوامل مل کر مملکت کو فوڈ ٹریڈ اور انڈسٹری کے لیے ایک فعال علاقائی مرکز کے طور پر مضبوط کر رہے ہیں۔ کیا یہ سیکٹر خطے میں مزید سرمایہ کاری کو راغب کرے گا؟
جدہ سپرڈوم میں منعقدہ یہ نمائشیں اس بات کی عکاس ہیں کہ سعودی عرب اپنے فوڈ سیکٹر کو نہ صرف مقامی ضروریات پوری کرنے بلکہ بین الاقوامی تجارت اور صنعت میں بھی فعال کردار ادا کرنے کے لیے تیار کر رہا ہے۔ 95 سے زائد ممالک کی شرکت اس بات کا ثبوت ہے کہ یہ پلیٹ فارم عالمی سطح پر توجہ حاصل کر رہا ہے۔
ایس پی اے کی رپورٹ میں اس بات کا ذکر نہیں کیا گیا کہ نمائش کے دوران کتنے معاہدے حتمی شکل اختیار کر گئے، نہ ہی شرکت کنندگان یا زائرین کی کل تعداد کے اعداد و شمار دیے گئے ہیں، اور نہ ہی اس بات کی تفصیل ہے کہ کون سی مخصوص کمپنیاں یا ممالک سب سے زیادہ نمایاں رہے۔
سعودی فوڈ نمائشوں میں کتنے نمائش کنندگان نے شرکت کی؟ ایس پی اے کے مطابق، سعودی فوڈ شو 2026 اور سعودی فوڈ مینوفیکچرنگ 2026 میں 1,000 سے زیادہ نمائش کنندگان نے شرکت کی، جو 95 سے زائد ممالک کی نمائندگی کرتے ہیں۔ تقریب میں 100,000 سے زیادہ فوڈ اینڈ بیوریج مصنوعات بھی پیش کی گئیں۔ یہ نمائشیں جدہ سپرڈوم میں تین دن تک جاری رہیں اور گزشتہ روز اختتام پذیر ہوئیں۔
نمائش میں کتنی کاروباری ملاقاتیں ہوئیں؟ ایس پی اے کے مطابق، تقریب میں 12,000 سے زیادہ کاروباری ملاقاتیں منعقد ہوئیں۔ ان ملاقاتوں کا مقصد پروڈیوسرز، سپلائرز، خریداروں، سرمایہ کاروں اور ماہرین کو براہ راست ملاقات اور تعاون و شراکت داری کے مواقع فراہم کرنا تھا۔ رپورٹ میں یہ نہیں بتایا گیا کہ ان ملاقاتوں میں سے کتنی حتمی معاہدوں میں تبدیل ہوئیں۔
نمائش میں کون کون شریک ہوا؟ ایس پی اے کے مطابق، تقریب میں کمپنیاں، سپلائرز، خریدار اور فوڈ اینڈ بیوریج سیکٹر اور فوڈ مینوفیکچرنگ ٹیکنالوجیز کے ماہرین شامل تھے۔ اس کے علاوہ مملکت میں تعینات قونصلر اور سفارتی و قونصلر مشنوں کے نمائندے، کاروباری شخصیات، خریدار اور ماہرین بھی موجود تھے، جنہوں نے نمائش میں پیش کردہ مصنوعات اور حل کا جائزہ لیا۔
سعودی فوڈ سیکٹر کی ترقی کی وجوہات کیا بتائی گئی ہیں؟ ایس پی اے کے مطابق، مملکت کا فوڈ اینڈ بیوریج سیکٹر بڑھتی ہوئی سرمایہ کاری، فوڈ انڈسٹریز کی ترقی اور سپلائی چینز کے انضمام کی بدولت مسلسل ترقی اور توسیع کر رہا ہے۔ رپورٹ کے مطابق یہ عوامل فوڈ ٹریڈ اور انڈسٹری کے لیے ایک فعال علاقائی مرکز کے طور پر مملکت کی پوزیشن کو مزید مضبوط کر رہے ہیں۔
نمائش کہاں اور کب منعقد ہوئی؟ ایس پی اے کے مطابق، سعودی فوڈ شو 2026 اور سعودی فوڈ مینوفیکچرنگ 2026 کی نمائشیں جدہ سپرڈوم میں منعقد ہوئیں اور تین دن تک جاری رہنے کے بعد گزشتہ روز اختتام پذیر ہوئیں۔ رپورٹ 30 ستمبر 2026 کی ہے۔ نمائش میں 95 سے زائد ممالک کے 1,000 سے زیادہ نمائش کنندگان نے شرکت کی۔
کیا رپورٹ میں معاہدوں کی تفصیل دی گئی ہے؟ ایس پی اے کی رپورٹ میں اس بات کا ذکر نہیں کیا گیا کہ نمائش کے دوران کتنے معاہدے حتمی شکل اختیار کر گئے۔ رپورٹ میں شرکت کنندگان یا زائرین کی کل تعداد کے اعداد و شمار بھی نہیں دیے گئے، اور نہ ہی اس بات کی تفصیل ہے کہ کون سی مخصوص کمپنیاں یا ممالک سب سے زیادہ نمایاں رہے۔ صرف 12,000 سے زیادہ کاروباری ملاقاتوں کا ذکر کیا گیا ہے۔





