سعودی وزیر خزانہ محمد الجدعان نے ایشین انفراسٹرکچر انویسٹمنٹ بینک (اے آئی آئی بی) کے 11ویں سالانہ اجلاس میں شرکت کی، جو 28 سے 29 ستمبر 2026 کو دوحہ میں منعقد ہوا۔ اجلاس کا موضوع “Tomorrow’s Infrastructure: Impact and Innovation” تھا۔
جیسا کہ سعودی خبر رساں ادارے ایس پی اے نے بیان کیا، وزیر خزانہ نے اپنے خطاب میں کہا کہ اے آئی آئی بی نے ایک مضبوط بنیاد قائم کی ہے، جس میں رابطہ کاری، علاقائی تعاون اور نجی شعبے کی شرکت میں پیش رفت شامل ہے، جو اراکین کی انفراسٹرکچر ضروریات کا جواب دینے کی اس کی بڑھتی ہوئی صلاحیت کو ظاہر کرتی ہے۔
ترقیاتی اثرات پر زور
وزیر خزانہ نے کہا، “جیسے جیسے اے آئی آئی بی اپنی سرگرمیاں بڑھا رہا ہے، پیش رفت کا اندازہ صرف مالیاتی حجم یا منصوبوں کی منظوری سے نہیں بلکہ ترقیاتی اثرات سے بھی لگایا جانا چاہیے۔” انہوں نے زور دیا کہ بینک کی کامیابی “بہتر انفراسٹرکچر خدمات، مضبوط اداروں، زیادہ معاشی لچک اور نجی شعبے کی بڑھتی ہوئی شرکت میں ترجمہ ہونی چاہیے۔”
کیا ترقیاتی بینکوں کی کامیابی کا پیمانہ صرف رقم اور منصوبوں کی تعداد ہونا چاہیے؟ وزیر خزانہ کے مطابق نہیں۔ ان کا موقف تھا کہ بینک کے بڑھتے ہوئے حجم کے ساتھ ساتھ یہ دیکھنا بھی ضروری ہے کہ اس سے اراکین کے شہریوں کی زندگیوں پر کیا اثر پڑ رہا ہے۔
اراکین ممالک کے ساتھ رابطے کی مضبوطی
محمد الجدعان نے اراکین ممالک کے ساتھ رابطے کو مضبوط بنانے کی ضرورت پر زور دیا۔ انہوں نے نشاندہی کی کہ ابتدائی مکالمہ اے آئی آئی بی کو ہر ملک کے حالات، انفراسٹرکچر کی کمی اور ترجیحات کو سمجھنے میں مدد دے گا۔ انہوں نے قومی حکمت عملیوں کے مطابق کثیر سالہ پروگراموں کی حمایت کی اہمیت پر بھی زور دیا۔
کیا بینک ہر رکن ملک کی انفرادی ضروریات کو سمجھنے کے لیے کافی وقت اور وسائل مختص کر رہا ہے؟ وزیر خزانہ کا خیال تھا کہ جلد مکالمہ اس عمل کو بہتر بنا سکتا ہے۔ ان کے مطابق ہر ملک کی ادارہ جاتی صلاحیت، مالی گنجائش اور انفراسٹرکچر کی ترقی میں فرق کو تسلیم کرنا ضروری ہے۔
شراکت داریوں کا زیادہ استعمال
وزیر خزانہ نے اپنے خطاب کے اختتام پر شراکت داریوں کے زیادہ استعمال پر زور دیا۔ انہوں نے بینک کی حوصلہ افزائی کی کہ وہ دیگر کثیر الجہتی ترقیاتی بینکوں اور بین الاقوامی تنظیموں کے ساتھ تعاون مضبوط کرے تاکہ مہارت کا تبادلہ ہو، نقل سے بچا جائے اور اضافی سرکاری و نجی وسائل کو متحرک کیا جائے۔
کیا کثیر الجہتی ترقیاتی بینکوں کے درمیان تعاون کا موجودہ ڈھانچہ نقل سے بچنے کے لیے کافی ہے؟ الجدعان کا موقف تھا کہ مشترکہ کوششوں سے وسائل کو زیادہ مؤثر طریقے سے استعمال کیا جا سکتا ہے۔ انہوں نے نوٹ کیا کہ اے آئی آئی بی کا نقطہ نظر ملک پر مبنی رہنا چاہیے۔
سعودی عرب کا کردار
سعودی عرب اے آئی آئی بی کا بانی رکن ہے۔ یہ بینک 2016 میں چین کے دارالحکومت بیجنگ میں ایک کثیر الجہتی ترقیاتی مالیاتی ادارے کے طور پر قائم کیا گیا تھا۔
کیا بانی رکن ہونے کے ناطے سعودی عرب کی آواز بینک کی پالیسیوں میں کافی مؤثر ہے؟ ایس پی اے کی رپورٹ کے مطابق وزیر خزانہ نے بینک کے ملک پر مبنی نقطہ نظر کی اہمیت پر زور دیا، جو اراکین کی مختلف صلاحیتوں کو تسلیم کرتا ہے۔
اجلاس دوحہ میں 28 سے 29 ستمبر 2026 تک جاری رہا۔ ایس پی اے کی رپورٹ میں اجلاس کے شرکاء کی مکمل فہرست، دیگر ممالک کے نمائندوں کے بیانات یا اجلاس کے دوران کیے گئے کسی مخصوص فیصلے کا ذکر نہیں کیا گیا۔
اے آئی آئی بی کا 11واں سالانہ اجلاس کب اور کہاں منعقد ہوا؟ اجلاس 28 سے 29 ستمبر 2026 کو دوحہ میں منعقد ہوا۔ اس کا موضوع “Tomorrow’s Infrastructure: Impact and Innovation” تھا۔ سعودی وزیر خزانہ محمد الجدعان نے اس میں شرکت کی۔ ایس پی اے کے مطابق یہ بینک کا 11واں سالانہ اجلاس تھا۔
وزیر خزانہ نے ترقیاتی اثرات کے بارے میں کیا کہا؟ محمد الجدعان نے کہا کہ اے آئی آئی بی کی پیش رفت کا اندازہ صرف مالیاتی حجم یا منصوبوں کی منظوری سے نہیں بلکہ ترقیاتی اثرات سے بھی لگایا جانا چاہیے۔ ان کے مطابق کامیابی بہتر انفراسٹرکچر خدمات، مضبوط اداروں، زیادہ معاشی لچک اور نجی شعبے کی بڑھتی ہوئی شرکت میں ترجمہ ہونی چاہیے۔
وزیر خزانہ نے اراکین ممالک کے ساتھ رابطے پر کیوں زور دیا؟ انہوں نے کہا کہ ابتدائی مکالمہ اے آئی آئی بی کو ہر ملک کے حالات، انفراسٹرکچر کی کمی اور ترجیحات کو سمجھنے میں مدد دے گا۔ انہوں نے قومی حکمت عملیوں کے مطابق کثیر سالہ پروگراموں کی حمایت کی اہمیت پر بھی زور دیا اور کہا کہ ادارہ جاتی صلاحیت، مالی گنجائش اور ترقی میں فرق کو تسلیم کرنا ضروری ہے۔
سعودی عرب کا اے آئی آئی بی سے کیا تعلق ہے؟ سعودی عرب اے آئی آئی بی کا بانی رکن ہے۔ یہ بینک 2016 میں چین کے دارالحکومت بیجنگ میں ایک کثیر الجہتی ترقیاتی مالیاتی ادارے کے طور پر قائم کیا گیا تھا۔ ایس پی اے کے مطابق وزیر خزانہ نے بینک کے ملک پر مبنی نقطہ نظر کی اہمیت پر زور دیا۔





