ریاض میں FII Institute اور Arthur D. Little (ADL) نے “E-Mobility Transition: Global EV Financing” کے عنوان سے ایک رپورٹ جاری کی ہے، جس میں اس بات کا جائزہ لیا گیا ہے کہ بہتر فنانسنگ میکانزم کس طرح الیکٹرک گاڑیوں (EV) کو اپنانے کے اگلے مرحلے میں مددگار ثابت ہو سکتے ہیں۔
جیسا کہ سعودی خبر رساں ادارے ایس پی اے نے 7 اکتوبر 2026 کو بیان کیا، اس رپورٹ میں پانچ ایسے باہمی جڑے ہوئے خلاؤں کی نشاندہی کی گئی ہے جو دستیاب سرمائے کو مطلوبہ رفتار سے الیکٹرک گاڑیوں کی تعیناتی میں تبدیل ہونے سے روک رہے ہیں۔ ان خلاؤں میں کنزیومر فنانس، چارجنگ انفراسٹرکچر، رسک شیئرنگ، سپلائی چین کنسنٹریشن اور سوورین کیپیٹل کی تعیناتی شامل ہیں۔ کیا یہ ممکن ہے کہ صرف مالیاتی ڈھانچے میں تبدیلی سے عالمی سطح پر نقل و حمل کا نظام بدل جائے؟
یہ رپورٹ FII Institute کے اس وسیع تر کام کا حصہ ہے جو پائیدار ترقی، ابھرتی ہوئی مارکیٹوں کی ترقی اور سرمایہ کاری کے نظام کے مستقبل پر تحقیق کر رہا ہے۔ اس کا بنیادی مرکز یہ ہے کہ عالمی چیلنجوں سے نمٹنے اور اقتصادی تبدیلی کو تیز کرنے کے لیے سرمائے کو زیادہ مؤثر طریقے سے کیسے متحرک کیا جا سکتا ہے۔ کیا سرمایہ کاری کے موجودہ طریقے مستقبل کی ضروریات کو پورا کرنے کے لیے کافی ہیں؟
FII Institute کی سی ای او پرنسس ڈاکٹر مہا بنت مشاری بن عبدالعزیز نے کہا کہ عالمی سطح پر الیکٹرک گاڑیوں کی منتقلی ایک ایسے مقام پر پہنچ گئی ہے جہاں مناسب فنانسنگ تک رسائی اتنی ہی اہم ہو گئی ہے جتنی کہ ٹیکنالوجی تک رسائی۔ انہوں نے مزید کہا کہ اب موقع یہ ہے کہ سرمائے کا زیادہ مؤثر استعمال کیا جائے، جس کے لیے سوورین سرمایہ کاروں، ترقیاتی اداروں اور نجی سرمائے کو ایک ساتھ لایا جائے تاکہ ایسے ڈھانچے بنائے جا سکیں جو بڑے پیمانے پر سرمایہ کاری کی حمایت کر سکیں، خاص طور پر ابھرتی ہوئی مارکیٹوں میں۔ کیا نجی اور سرکاری سرمایہ کاری کا ملاپ ہی اس تبدیلی کی کلید ہے؟
ADL Middle East میں پارٹنر اور ٹریول، ٹرانسپورٹیشن اور ہاسپیٹالٹی پریکٹس لیڈ جوزف سالم نے تجزیہ کرتے ہوئے بتایا کہ الیکٹرک گاڑیوں کی منتقلی کے لیے بنیادی طور پر سرمائے کے نئے ذخائر کی ضرورت نہیں ہے، بلکہ اس سرمائے کو استعمال کرنے کے بہتر میکانزم کی ضرورت ہے جو پہلے سے موجود ہے۔ انہوں نے نشاندہی کی کہ خلیجی ممالک کے پاس اس خلا کو پُر کرنے کے لیے کئی ضروری اجزاء موجود ہیں، جن میں صابر سرمایہ (patient capital)، صنعتی سرمایہ کاری اور لاجسٹکس کی صلاحیتیں شامل ہیں۔ کیا خلیجی ممالک کی یہ صلاحیتیں عالمی مارکیٹ کے لیے ایک ماڈل بن سکتی ہیں؟
جوزف سالم کے مطابق، ان صلاحیتوں کو مناسب رسک شیئرنگ اور فنانسنگ ڈھانچوں کے ساتھ جوڑنے سے ابھرتی ہوئی مارکیٹوں میں الیکٹرک گاڑیوں کی سرمایہ کاری کو زیادہ قابل پیمانہ اور تجارتی طور پر قابل سرمایہ کاری بنایا جا سکتا ہے۔ کیا رسک شیئرنگ کے نئے طریقے سرمایہ کاروں کے خوف کو کم کر سکتے ہیں؟
رپورٹ کے اعداد و شمار کے مطابق، 2025 میں عالمی سطح پر 20 ملین سے زیادہ الیکٹرک کاریں فروخت کی گئیں، جو کہ ہر چار نئی کاروں میں سے ایک کے برابر ہے۔ کیا یہ اعداد و شمار اس بات کی دلیل ہیں کہ دنیا تیزی سے سبز توانائی کی طرف بڑھ رہی ہے؟
رپورٹ میں اس بات پر زور دیا گیا ہے کہ ٹیکنالوجی کی دستیابی کے باوجود مالیاتی رکاوٹیں اب بھی ایک بڑا چیلنج ہیں۔ رپورٹ میں مزید تفصیلات جیسے کہ مخصوص ممالک کے اعداد و شمار یا مستقبل کے اہداف کا ذکر نہیں کیا گیا۔
رپورٹ میں کن پانچ مالیاتی خلاؤں کی نشاندہی کی گئی ہے؟ رپورٹ میں پانچ باہمی جڑے ہوئے خلاؤں کی نشاندہی کی گئی ہے جن میں کنزیومر فنانس، چارجنگ انفراسٹرکچر، رسک شیئرنگ، سپلائی چین کنسنٹریشن اور سوورین کیپیٹل کی تعیناتی شامل ہیں۔ یہ عوامل دستیاب سرمائے کو الیکٹرک گاڑیوں کی تیز رفتار تعیناتی میں تبدیل ہونے سے روک رہے ہیں۔
الیکٹرک گاڑیوں کی منتقلی کے لیے کیا ضروری ہے؟ جوزف سالم کے مطابق، اس منتقلی کے لیے سرمائے کے نئے ذخائر کے بجائے موجودہ سرمائے کو استعمال کرنے کے بہتر میکانزم کی ضرورت ہے۔ خلیجی ممالک کے پاس صابر سرمایہ، صنعتی سرمایہ کاری اور لاجسٹکس کی صلاحیتیں موجود ہیں جو اس خلا کو پُر کرنے میں مدد دے سکتی ہیں۔
2025 میں الیکٹرک گاڑیوں کی فروخت کی کیا صورتحال تھی؟ رپورٹ کے مطابق 2025 میں عالمی سطح پر 20 ملین سے زیادہ الیکٹرک کاریں فروخت کی گئیں، جس کا مطلب ہے کہ دنیا بھر میں فروخت ہونے والی ہر چار نئی کاروں میں سے ایک الیکٹرک کار تھی۔