Monday, October 19, 2026
سعودی خبریں

البودعیوی: جی سی سی رہنماؤں کی ہدایات پر خلیجی انضمام کے منصوبے جاری

البودعیوی: جی سی سی رہنماؤں کی ہدایات پر خلیجی انضمام کے منصوبے جاری

منامہ میں 18 اکتوبر 2026 کو خلیج تعاون کونسل (جی سی سی) کی وزارتی کونسل کا 168واں اجلاس منعقد ہوا، جس کی صدارت بحرین کے وزیر خارجہ ڈاکٹر عبداللطیف بن راشد الزیانی نے کی، جو وزارتی کونسل کے موجودہ اجلاس کے چیئرمین بھی ہیں۔ اجلاس میں جی سی سی کے وزرائے خارجہ موجود تھے۔

جیسا کہ سعودی خبر رساں ادارے ایس پی اے نے بیان کیا، جی سی سی کے سیکرٹری جنرل جاسم البودعیوی نے اس موقع پر زور دیا کہ جی سی سی جنرل سیکرٹریٹ رکن ممالک کے ساتھ کوآرڈینیشن میں رکن ممالک کے رہنماؤں کی ہدایات پر عمل درآمد کے لیے مسلسل کوششیں جاری رکھے ہوئے ہے تاکہ خلیجی انضمام کے منصوبوں کو مضبوط بنایا جائے اور رکن ممالک کی صلاحیتوں کو چیلنجز سے نمٹنے اور ترقی و خوشحالی کے حصول کے لیے مستحکم کیا جائے۔

البودعیوی نے اپنے خطاب میں کہا کہ دہشت گرد حوثی ملیشیا کی جانب سے مملکت سعودی عرب کے خلاف کیے جانے والے سنگین حملے ہمیں دانستہ مجرمانہ رویے کا سامنا کراتے ہیں جو انسانی زندگی کی حرمت، شہری تنصیبات کی حفاظت اور علاقائی سلامتی و استحکام پر بڑھتی ہوئی کشیدگی کے نتائج کو نظر انداز کرتا ہے۔ انہوں نے ان واضح حملوں کی جی سی سی کی جانب سے واضح مذمت کا اعادہ کیا اور ہوائی اڈوں، شہری تنصیبات اور توانائی کے بنیادی ڈھانچے کو مسلسل نشانہ بنانے کے ساتھ ساتھ رہائشیوں کو خوفزدہ کرنے اور مسافروں و کارکنوں کو خطرے میں ڈالنے کو مسترد کیا۔

انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ اس ملیشیا کا اپنے جرائم کو بار بار دہرانے کا سلسلہ بین الاقوامی سطح پر مؤثر کارروائی کا تقاضا کرتا ہے تاکہ اس کے حملوں کو روکا جا سکے، ذمہ داروں کو جوابدہ بنایا جا سکے اور سلامتی و استحکام کے لیے اس کے خطرات کو روکا جا سکے۔ انہوں نے ان حملوں کے شہداء اور متاثرین کے اہل خانہ سے گہرے تعزیت اور ہمدردی کا اظہار کیا اور اللہ تعالیٰ سے دعا کی کہ وہ شہداء اور مرحومین پر اپنی وسیع رحمت نازل فرمائے اور زخمیوں کو جلد صحت یابی عطا فرمائے۔

البودعیوی نے کہا کہ جی سی سی رکن ممالک پر کیے جانے والے بار بار ایرانی حملوں کو نظر انداز نہیں کیا جا سکتا، کیونکہ یہ ان کی خودمختاری اور علاقائی سالمیت کی کھلی خلاف ورزی ہیں۔

کیا خلیجی انضمام کے منصوبے رکن ممالک کے عوام کی روزمرہ زندگی میں مزید واضح تبدیلی لا سکیں گے؟ یہ سوال اس وقت اہم ہو جاتا ہے جب وزارتی کونسل کا اجلاس منامہ میں رکن ممالک کے وزرائے خارجہ کی موجودگی میں ہو رہا ہے اور سیکرٹری جنرل رہنماؤں کی ہدایات پر عمل درآمد کی مسلسل کوششوں کا ذکر کر رہے ہیں۔

اجلاس کی صدارت بحرین کے وزیر خارجہ ڈاکٹر عبداللطیف بن راشد الزیانی کر رہے ہیں، جو وزارتی کونسل کے موجودہ اجلاس کے چیئرمین بھی ہیں۔ یہ تفصیل اس بات کی نشاندہی کرتی ہے کہ خلیجی تعاون کونسل کے اندر اجلاسوں کی صدارت رکن ممالک کے درمیان گردش کرتی ہے اور ہر اجلاس کی قیادت میزبان یا موجودہ چیئرمین کے پاس ہوتی ہے۔

سیکرٹری جنرل کا یہ بیان کہ جنرل سیکرٹریٹ رکن ممالک کے ساتھ کوآرڈینیشن میں کام کر رہی ہے، اس بات کو اجاگر کرتا ہے کہ خلیجی انضمام کے منصوبے کسی ایک ملک کے فیصلے سے نہیں بلکہ اجتماعی مشاورت اور رکن ممالک کے تعاون سے آگے بڑھتے ہیں۔ کیا یہ کوآرڈینیشن آنے والے برسوں میں مزید ٹھوس نتائج پیدا کرے گی؟

البودعیوی کے مطابق رہنماؤں کی ہدایات کا مقصد خلیجی انضمام کے منصوبوں کو مضبوط بنانا اور رکن ممالک کی صلاحیتوں کو مستحکم کرنا ہے تاکہ وہ چیلنجز کا سامنا کر سکیں اور ترقی و خوشحالی حاصل کر سکیں۔ یہ بیان اجلاس کے ایجنڈے کی بنیادی سمت کو واضح کرتا ہے، جس میں انضمام، صلاحیت سازی اور مشترکہ چیلنجز سے نمٹنے کے پہلو شامل ہیں۔

خطاب کا ایک بڑا حصہ علاقائی سلامتی کے مسائل پر مرکوز رہا۔ سیکرٹری جنرل نے دہشت گرد حوثی ملیشیا کی جانب سے مملکت سعودی عرب کے خلاف کیے جانے والے حملوں کو دانستہ مجرمانہ رویہ قرار دیا جو انسانی زندگی کی حرمت اور شہری تنصیبات کی حفاظت کو نظر انداز کرتا ہے۔ کیا بین الاقوامی برادری اس رویے کے نتائج کو سنجیدگی سے لے گی؟

انہوں نے جی سی سی کی جانب سے ان حملوں کی واضح مذمت کا اعادہ کیا اور ہوائی اڈوں، شہری تنصیبات اور توانائی کے بنیادی ڈھانچے کو مسلسل نشانہ بنانے کو مسترد کیا۔ انہوں نے رہائشیوں کو خوفزدہ کرنے اور مسافروں و کارکنوں کو خطرے میں ڈالنے کے پہلو کو بھی اجاگر کیا، جو اس بات کو ظاہر کرتا ہے کہ حملوں کے اثرات صرف تنصیبات تک محدود نہیں بلکہ عام شہریوں کی زندگیوں اور نقل و حرکت پر بھی پڑتے ہیں۔

سیکرٹری جنرل نے کہا کہ اس ملیشیا کا اپنے جرائم کو بار بار دہرانا بین الاقوامی سطح پر مؤثر کارروائی کا تقاضا کرتا ہے تاکہ حملوں کو روکا جا سکے، ذمہ داروں کو جوابدہ بنایا جا سکے اور سلامتی و استحکام کے لیے خطرات کو روکا جا سکے۔ یہ مطالبہ اس بات کی طرف اشارہ کرتا ہے کہ جی سی سی علاقائی سلامتی کے معاملے میں بین الاقوامی تعاون کو ضروری سمجھتی ہے۔

انہوں نے ان حملوں کے شہداء اور متاثرین کے اہل خانہ سے گہرے تعزیت اور ہمدردی کا اظہار کیا اور اللہ تعالیٰ سے دعا کی کہ وہ شہداء اور مرحومین پر اپنی وسیع رحمت نازل فرمائے اور زخمیوں کو جلد صحت یابی عطا فرمائے۔ اس تعزیتی پیغام سے یہ واضح ہوتا ہے کہ اجلاس میں علاقائی سلامتی کے ساتھ ساتھ انسانی ہمدردی کے پہلو کو بھی اہمیت دی گئی۔

البودعیوی نے مزید کہا کہ جی سی سی رکن ممالک پر کیے جانے والے بار بار ایرانی حملوں کو نظر انداز نہیں کیا جا سکتا، کیونکہ یہ ان کی خودمختاری اور علاقائی سالمیت کی کھلی خلاف ورزی ہیں۔ یہ بیان اجلاس کے دوران علاقائی تناؤ کے حوالے سے جی سی سی کے مؤقف کو نمایاں کرتا ہے۔ کیا خودمختاری اور علاقائی سالمیت کے تحفظ کے لیے مزید مشترکہ اقدامات کی ضرورت محسوس کی جائے گی؟

اجلاس منامہ میں ہوا، جہاں بحرین کے وزیر خارجہ ڈاکٹر عبداللطیف بن راشد الزیانی کی صدارت میں وزرائے خارجہ نے شرکت کی۔ اس اجلاس کا شمار جی سی سی کی وزارتی کونسل کے 168ویں اجلاس کے طور پر ہوتا ہے، جو اس بات کا ثبوت ہے کہ خلیجی تعاون کونسل اپنے ادارہ جاتی عمل کو باقاعدگی سے جاری رکھے ہوئے ہے۔

سیکرٹری جنرل کے بیان کا مرکزی نکتہ یہ ہے کہ جنرل سیکرٹریٹ رکن ممالک کے ساتھ کوآرڈینیشن میں رہنماؤں کی ہدایات پر عمل درآمد کے لیے مسلسل کوششیں کر رہی ہے۔ ان ہدایات کا مقصد خلیجی انضمام کے منصوبوں کو مضبوط بنانا اور رکن ممالک کی صلاحیتوں کو چیلنجز سے نمٹنے کے قابل بنانا ہے۔ کیا ان کوششوں کا اثر رکن ممالک کے شہریوں تک براہ راست پہنچے گا؟

خطاب میں ترقی اور خوشحالی کے حصول کا ذکر بھی شامل تھا، جو اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ خلیجی انضمام کا مقصد صرف سلامتی تک محدود نہیں بلکہ اقتصادی اور سماجی ترقی بھی ہے۔ رکن ممالک کی صلاحیتوں کو مستحکم کرنے کا تذکرہ اس بات کی طرف اشارہ کرتا ہے کہ مشترکہ چیلنجز سے نمٹنے کے لیے صلاحیت سازی کو اہمیت دی جا رہی ہے۔

علاقائی سلامتی کے حوالے سے سیکرٹری جنرل کا مؤقف واضح تھا: حوثی ملیشیا کے حملے دانستہ مجرمانہ رویہ ہیں، اور جی سی سی ان کی واضح مذمت کرتی ہے۔ ہوائی اڈوں، شہری تنصیبات اور توانائی کے بنیادی ڈھانچے کو نشانہ بنانے کے ساتھ ساتھ رہائشیوں کو خوفزدہ کرنے اور مسافروں و کارکنوں کو خطرے میں ڈالنے کو مسترد کیا گیا۔ کیا اس مذمت کے بعد عملی بین الاقوامی اقدامات دیکھنے کو ملیں گے؟

سیکرٹری جنرل نے بین الاقوامی سطح پر مؤثر کارروائی کی ضرورت پر زور دیا تاکہ حملوں کو روکا جا سکے، ذمہ داروں کو جوابدہ بنایا جا سکے اور سلامتی و استحکام کے لیے خطرات کو روکا جا سکے۔ یہ مطالبہ اس بات کو ظاہر کرتا ہے کہ جی سی سی اس معاملے کو صرف علاقائی نہیں بلکہ بین الاقوامی ذمہ داری کے طور پر دیکھتی ہے۔

ایران کے حوالے سے سیکرٹری جنرل کا بیان یہ تھا کہ رکن ممالک پر بار بار کیے جانے والے حملوں کو نظر انداز نہیں کیا جا سکتا، کیونکہ یہ خودمختاری اور علاقائی سالمیت کی کھلی خلاف ورزی ہیں۔ یہ مؤقف اجلاس کے دوران علاقائی تناؤ کے حوالے سے جی سی سی کی پوزیشن کو واضح کرتا ہے۔ کیا اس مؤقف کے بعد رکن ممالک کے درمیان مزید مشترکہ سلامتی تعاون کی راہ ہموار ہوگی؟

اجلاس میں وزرائے خارجہ کی موجودگی اس بات کی نشاندہی کرتی ہے کہ یہ معاملات اعلیٰ سطحی سفارتی مشاورت کا حصہ ہیں۔ منامہ میں ہونے والا یہ اجلاس جی سی سی کے ادارہ جاتی عمل کا حصہ ہے، جس میں رکن ممالک کے نمائندے مشترکہ مفادات اور چیلنجز پر بات چیت کرتے ہیں۔

سیکرٹری جنرل کے بیان میں رہنماؤں کی ہدایات کی پیروی اور رکن ممالک کی صلاحیتوں کو مستحکم کرنے کا ذکر مسلسل کوششوں کی طرف اشارہ کرتا ہے۔ یہ اس بات کو ظاہر کرتا ہے کہ خلیجی انضمام کے منصوبے طویل المدتی عمل ہیں جن پر مسلسل توجہ درکار ہے۔

خلاصہ یہ کہ منامہ میں جی سی سی وزارتی کونسل کے 168ویں اجلاس میں سیکرٹری جنرل جاسم البودعیوی نے رکن ممالک کے رہنماؤں کی ہدایات پر عمل درآمد کے لیے مسلسل کوششوں، خلیجی انضمام کے منصوبوں کی مضبوطی، اور علاقائی سلامتی کے حوالے سے جی سی سی کے مؤقف کو اجاگر کیا۔ اجلاس کی صدارت بحرین کے وزیر خارجہ ڈاکٹر عبداللطیف بن راشد الزیانی نے کی اور اس میں جی سی سی کے وزرائے خارجہ موجود تھے۔ رپورٹ میں اجلاس کے دیگر ایجنڈا آئٹمز، فیصلوں یا تفصیلات کا ذکر نہیں کیا گیا۔

جی سی سی وزارتی کونسل کا 168واں اجلاس کہاں اور کب ہوا؟ اجلاس منامہ میں 18 اکتوبر 2026 کو ہوا اور اس کی صدارت بحرین کے وزیر خارجہ ڈاکٹر عبداللطیف بن راشد الزیانی نے کی، جو وزارتی کونسل کے موجودہ اجلاس کے چیئرمین بھی ہیں۔ اجلاس میں جی سی سی کے وزرائے خارجہ موجود تھے۔ ایس پی اے کے مطابق یہ وزارتی کونسل کا 168واں اجلاس تھا۔

سیکرٹری جنرل نے رہنماؤں کی ہدایات کے بارے میں کیا کہا؟ جی سی سی کے سیکرٹری جنرل جاسم البودعیوی نے کہا کہ جنرل سیکرٹریٹ رکن ممالک کے ساتھ کوآرڈینیشن میں رکن ممالک کے رہنماؤں کی ہدایات پر عمل درآمد کے لیے مسلسل کوششیں جاری رکھے ہوئے ہے۔ ان ہدایات کا مقصد خلیجی انضمام کے منصوبوں کو مضبوط بنانا اور رکن ممالک کی صلاحیتوں کو چیلنجز سے نمٹنے اور ترقی و خوشحالی کے حصول کے لیے مستحکم کرنا ہے۔

حوثی حملوں کے حوالے سے جی سی سی کا مؤقف کیا تھا؟ سیکرٹری جنرل نے دہشت گرد حوثی ملیشیا کی جانب سے مملکت سعودی عرب کے خلاف حملوں کو دانستہ مجرمانہ رویہ قرار دیا جو انسانی زندگی کی حرمت اور شہری تنصیبات کی حفاظت کو نظر انداز کرتا ہے۔ انہوں نے جی سی سی کی واضح مذمت کا اعادہ کیا اور ہوائی اڈوں، شہری تنصیبات اور توانائی کے بنیادی ڈھانچے کو نشانہ بنانے کے ساتھ رہائشیوں کو خوفزدہ کرنے کو مسترد کیا۔

سیکرٹری جنرل نے بین الاقوامی کارروائی کے بارے میں کیا مطالبہ کیا؟ البودعیوی نے کہا کہ اس ملیشیا کا اپنے جرائم کو بار بار دہرانا بین الاقوامی سطح پر مؤثر کارروائی کا تقاضا کرتا ہے تاکہ اس کے حملوں کو روکا جا سکے، ذمہ داروں کو جوابدہ بنایا جا سکے اور سلامتی و استحکام کے لیے اس کے خطرات کو روکا جا سکے۔ انہوں نے شہداء اور متاثرین کے اہل خانہ سے تعزیت کا اظہار بھی کیا۔

ایران کے حوالے سے اجلاس میں کیا کہا گیا؟ سیکرٹری جنرل نے کہا کہ جی سی سی رکن ممالک پر کیے جانے والے بار بار ایرانی حملوں کو نظر انداز نہیں کیا جا سکتا، کیونکہ یہ ان کی خودمختاری اور علاقائی سالمیت کی کھلی خلاف ورزی ہیں۔ یہ بیان اجلاس کے دوران علاقائی تناؤ کے حوالے سے جی سی سی کے مؤقف کو نمایاں کرتا ہے۔ رپورٹ میں اس حوالے سے مزید تفصیلات نہیں دی گئیں۔

اجلاس میں شہداء اور زخمیوں کے بارے میں کیا کہا گیا؟ سیکرٹری جنرل نے ان حملوں کے شہداء اور متاثرین کے اہل خانہ سے گہرے تعزیت اور ہمدردی کا اظہار کیا اور اللہ تعالیٰ سے دعا کی کہ وہ شہداء اور مرحومین پر اپنی وسیع رحمت نازل فرمائے اور زخمیوں کو جلد صحت یابی عطا فرمائے۔ یہ تعزیتی پیغام اجلاس کے دوران انسانی ہمدردی کے پہلو کو بھی اجاگر کرتا ہے۔