Friday, October 16, 2026
سعودی خبریں

البودعیوی: غزہ سے فلسطینیوں کی بے دخلی اور بستیوں کی منظوری بین الاقوامی منشور کی کھلی خلاف ورزی

البودعیوی: غزہ سے فلسطینیوں کی بے دخلی اور بستیوں کی منظوری بین الاقوامی منشور کی کھلی خلاف ورزی

ریاض میں جمعرات 25 مارچ 2025 کو خلیج تعاون کونسل کے سیکرٹری جنرل جاسم محمد البودعیوی نے اسرائیلی قبضہ کار حکام کے اس اعلان کی شدید مذمت اور مذمت کا اظہار کیا جس میں غزہ کی پٹی سے فلسطینیوں کو بے دخل کرنے کے لیے ایک ایجنسی کے قیام کا ذکر ہے، اور مقبوضہ مغربی کنارے میں 13 غیر قانونی بستیوں کے محلوں کو الگ کرنے کی منظوری دی گئی ہے، جس کا مقصد انہیں نوآبادیاتی بستیوں کے طور پر قانونی حیثیت دینا ہے۔

جیسا کہ سعودی خبر رساں ادارے ایس پی اے نے بیان کیا، البودعیوی نے اس بات پر زور دیا کہ یہ اعلان بین الاقوامی برادری کی آنکھوں کے سامنے تمام بین الاقوامی منشور، معاہدوں اور معاہدوں کی کھلی خلاف ورزی ہے، اور خطے میں سلامتی اور استحکام کے لیے ایک سنگین خطرہ ہے۔

انہوں نے فلسطینی عوام کے ساتھ خلیج تعاون کونسل کی مکمل اور غیر متزلزل یکجہتی کا اعادہ کیا، جو اسرائیلی قبضہ کار افواج کے ان غیر انسانی اور غیر قانونی اقدامات کے سامنے ہے، اور فلسطینی مسئلے کے ایک منصفانہ اور جامع حل تک پہنچنے کی اہمیت پر زور دیا جو خطے میں سلامتی اور استحکام کو یقینی بنائے، نیز بین الاقوامی قانونی قراردادوں اور دو ریاستی حل کے اصول کی مکمل پاسداری جو 1967 کی سرحدوں پر مبنی ہے، اس طرح کہ مشرقی یروشلم کو دارالحکومت بنا کر ایک آزاد فلسطینی ریاست کا قیام یقینی بنایا جائے۔

یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب غزہ کی پٹی میں انسانی صورت حال پہلے ہی انتہائی نازک ہے، اور مقبوضہ مغربی کنارے میں بستیوں کی توسیع کا معاملہ بین الاقوامی سطح پر مسلسل زیر بحث رہا ہے۔ کیا عالمی برادری ان اعلانات کے سامنے خاموش تماشائی رہے گی؟

خلیج تعاون کونسل کے سیکرٹری جنرل کا یہ موقف اس تنظیم کے مستقل مؤقف کی عکاسی کرتا ہے، جس میں فلسطینی مسئلے کو عرب اور اسلامی دنیا کا مرکزی مسئلہ قرار دیا جاتا رہا ہے۔ کیا اس مؤقف کو عملی اقدامات میں بدلنے کا کوئی راستہ موجود ہے؟

البودعیوی نے واضح کیا کہ غزہ سے فلسطینیوں کی بے دخلی کے لیے ایجنسی کا قیام اور مغربی کنارے میں بستیوں کی قانونی حیثیت کو تسلیم کرنے کی کوشش بین الاقوامی قانون کی روح کے خلاف ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہ اقدامات نہ صرف فلسطینی عوام کے بنیادی حقوق کی خلاف ورزی ہیں بلکہ پورے خطے کے امن کے لیے بھی خطرہ ہیں۔ کیا بین الاقوامی ادارے ان اقدامات کو روکنے کے لیے مؤثر دباؤ ڈال سکیں گے؟

انہوں نے زور دیا کہ فلسطینی عوام کی حمایت میں خلیج تعاون کونسل کی یکجہتی غیر متزلزل ہے، اور یہ کہ انسانی اور قانونی اصولوں کی پاسداری کے بغیر کوئی بھی حل پائیدار نہیں ہو سکتا۔ کیا دو ریاستی حل کے اصول کو زندہ رکھا جا سکتا ہے جب زمینی حقائق مسلسل بدلتے جا رہے ہیں؟

سیکرٹری جنرل نے بین الاقوامی قانونی قراردادوں کی مکمل پاسداری کی اہمیت پر زور دیا، اور کہا کہ 1967 کی سرحدوں پر مبنی دو ریاستی حل ہی وہ راستہ ہے جو مشرقی یروشلم کو دارالحکومت بنا کر ایک آزاد فلسطینی ریاست کے قیام کو یقینی بنا سکتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس اصول سے انحراف خطے میں مزید عدم استحکام کا باعث بنے گا۔ کیا اقوام متحدہ کی قراردادیں اب بھی بین الاقوامی عمل کا بنیادی حوالہ رہیں گی؟

یہ بیان خلیج تعاون کونسل کے رکن ممالک کی مشترکہ پالیسی کی عکاسی کرتا ہے، جنہوں نے ہمیشہ فلسطینی مسئلے کے حل کے لیے بین الاقوامی قانونی فریم ورک کی حمایت کی ہے۔ کیا خلیجی ممالک کی متحد آواز بین الاقوامی فیصلہ سازی پر اثر انداز ہو سکتی ہے؟

البودعیوی نے اس بات پر بھی زور دیا کہ یہ اعلان بین الاقوامی برادری کی آنکھوں کے سامنے ہو رہا ہے، اور اسے نظر انداز کرنا بین الاقوامی نظام کی ساکھ پر سوالیہ نشان ہے۔ انہوں نے کہا کہ خطے میں سلامتی اور استحکام کو برقرار رکھنے کے لیے فوری اور مؤثر اقدامات کی ضرورت ہے۔ کیا بین الاقوامی برادری اپنی ذمہ داریاں پوری کر رہی ہے؟

انہوں نے فلسطینی عوام کے ساتھ یکجہتی کے پیغام کو دہرایا اور کہا کہ خلیج تعاون کونسل ان کے جائز حقوق کے لیے اپنی حمایت جاری رکھے گی۔ انہوں نے بین الاقوامی برادری پر زور دیا کہ وہ بین الاقوامی قانونی قراردادوں کے مطابق اپنی ذمہ داریاں ادا کرے اور فلسطینی مسئلے کے منصفانہ حل کے لیے کردار ادا کرے۔ کیا فلسطینی عوام کو انصاف ملنے میں مزید کتنا وقت لگے گا؟

یہ بیان ایسے وقت میں آیا ہے جب غزہ میں انسانی بحران کی شدت مسلسل بڑھ رہی ہے، اور مغربی کنارے میں بستیوں کی توسیع کے معاملے پر بین الاقوامی سطح پر تشویش کا اظہار کیا جا رہا ہے۔ خلیج تعاون کونسل کا یہ موقف اس بات کا مظاہرہ کرتا ہے کہ فلسطینی مسئلہ عرب اور اسلامی دنیا کے لیے کس قدر اہم ہے۔ کیا اس مسئلے کا کوئی ایسا حل ممکن ہے جو سب کے لیے قابل قبول ہو؟

سیکرٹری جنرل نے کہا کہ بین الاقوامی قانونی قراردادوں اور دو ریاستی حل کے اصول کی مکمل پاسداری ہی خطے میں پائیدار امن کی ضمانت ہے۔ انہوں نے کہا کہ مشرقی یروشلم کو دارالحکومت بنا کر ایک آزاد فلسطینی ریاست کا قیام فلسطینی عوام کا جائز حق ہے، اور اس حق سے انکار کسی بھی حل کو ناقابل عمل بنا دے گا۔ کیا بین الاقوامی برادری اس حق کے تحفظ کے لیے متحد ہو سکتی ہے؟

رپورٹ میں اس بات کا ذکر نہیں کیا گیا کہ اس اعلان کے بعد خلیج تعاون کونسل کی جانب سے کوئی عملی اقدام یا سفارتی پہل کی گئی ہے یا نہیں، اور نہ ہی اس بارے میں کوئی تفصیل دی گئی ہے کہ بین الاقوامی اداروں نے اس بیان پر کیا ردعمل ظاہر کیا۔ ایس پی اے کی رپورٹ میں مزید کسی ردعمل، اجلاس یا فیصلے کا ذکر نہیں ہے۔

خلیج تعاون کونسل کے سیکرٹری جنرل نے کس اعلان کی مذمت کی؟ خلیج تعاون کونسل کے سیکرٹری جنرل جاسم محمد البودعیوی نے اسرائیلی قبضہ کار حکام کے اس اعلان کی شدید مذمت کی جس میں غزہ کی پٹی سے فلسطینیوں کو بے دخل کرنے کے لیے ایک ایجنسی کے قیام کا ذکر ہے۔ انہوں نے مقبوضہ مغربی کنارے میں 13 غیر قانونی بستیوں کے محلوں کو الگ کرنے کی منظوری کو بھی مسترد کیا، جس کا مقصد انہیں نوآبادیاتی بستیوں کے طور پر قانونی حیثیت دینا ہے۔ ایس پی اے کے مطابق یہ بیان 25 مارچ 2025 کو ریاض سے جاری ہوا۔

البودعیوی نے اس اعلان کو کیا قرار دیا؟ البودعیوی نے اس اعلان کو بین الاقوامی برادری کی آنکھوں کے سامنے تمام بین الاقوامی منشور، معاہدوں اور معاہدوں کی کھلی خلاف ورزی قرار دیا۔ انہوں نے کہا کہ یہ خطے میں سلامتی اور استحکام کے لیے ایک سنگین خطرہ ہے۔ انہوں نے زور دیا کہ یہ اقدامات بین الاقوامی قانون کی روح کے خلاف ہیں اور فلسطینی عوام کے بنیادی حقوق کی خلاف ورزی کرتے ہیں۔ ایس پی اے کی رپورٹ میں انہوں نے اسے غیر انسانی اور غیر قانونی اقدامات قرار دیا۔

خلیج تعاون کونسل نے فلسطینی عوام کے ساتھ یکجہتی کا کیسے اظہار کیا؟ البودعیوی نے فلسطینی عوام کے ساتھ خلیج تعاون کونسل کی مکمل اور غیر متزلزل یکجہتی کا اعادہ کیا، جو اسرائیلی قبضہ کار افواج کے ان غیر انسانی اور غیر قانونی اقدامات کے سامنے ہے۔ انہوں نے کہا کہ خلیج تعاون کونسل فلسطینی عوام کے جائز حقوق کے لیے اپنی حمایت جاری رکھے گی۔ انہوں نے بین الاقوامی برادری پر زور دیا کہ وہ بین الاقوامی قانونی قراردادوں کے مطابق اپنی ذمہ داریاں ادا کرے۔

فلسطینی مسئلے کے حل کے لیے کون سا اصول بیان کیا گیا؟ البودعیوی نے فلسطینی مسئلے کے ایک منصفانہ اور جامع حل کی اہمیت پر زور دیا جو خطے میں سلامتی اور استحکام کو یقینی بنائے۔ انہوں نے بین الاقوامی قانونی قراردادوں اور دو ریاستی حل کے اصول کی مکمل پاسداری پر زور دیا، جو 1967 کی سرحدوں پر مبنی ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس حل میں مشرقی یروشلم کو دارالحکومت بنا کر ایک آزاد فلسطینی ریاست کا قیام یقینی بنایا جائے۔

یہ بیان کب اور کہاں سے جاری ہوا؟ ایس پی اے کے مطابق یہ بیان ریاض سے 25 مارچ 2025 کو جاری ہوا۔ رپورٹ میں مقامی وقت 01:02 اور جی ایم ٹی 22:02 کا ذکر ہے۔ یہ بیان خلیج تعاون کونسل کے سیکرٹری جنرل جاسم محمد البودعیوی کی جانب سے جاری کیا گیا، جس میں انہوں نے اسرائیلی قبضہ کار حکام کے اعلان پر شدید مذمت کا اظہار کیا۔

رپورٹ میں کون سی معلومات شامل نہیں ہیں؟ ایس پی اے کی رپورٹ میں اس بات کا ذکر نہیں کیا گیا کہ اس اعلان کے بعد خلیج تعاون کونسل کی جانب سے کوئی عملی اقدام یا سفارتی پہل کی گئی ہے یا نہیں۔ نہ ہی اس بارے میں کوئی تفصیل دی گئی ہے کہ بین الاقوامی اداروں نے اس بیان پر کیا ردعمل ظاہر کیا۔ رپورٹ میں مزید کسی ردعمل، اجلاس یا فیصلے کا ذکر نہیں ہے۔