Monday, October 19, 2026
سعودی خبریں

الخریجی: حوثی ملیشیا کے حملے مکمل جنگی جرائم ہیں، ریاض عرب سفیروں سے ایک پیغام

الخریجی: حوثی ملیشیا کے حملے مکمل جنگی جرائم ہیں، ریاض عرب سفیروں سے ایک پیغام

ریاض میں وزارت خارجہ کے صدر دفتر میں اتوار 18 اکتوبر 2026 کو عرب ممالک کے سفیروں کا اجتماع ہوا، جس میں نائب وزیر خارجہ ولید الخریجی نے حوثی ملیشیا کے حملوں کو مکمل جنگی جرائم قرار دیا۔ یہ ملاقات ایسے وقت میں ہوئی جب مملکت کے شہری اور اقتصادی مراکز، ہوائی اڈوں اور مقدس مقامات کو نشانہ بنایا جا رہا ہے۔

جیسا کہ سعودی خبر رساں ادارے ایس پی اے نے بیان کیا، ملاقات کے آغاز میں نائب وزیر خارجہ نے کہا کہ حوثی دہشت گرد ملیشیا کی جانب سے بیلسٹک میزائل، کروز میزائل اور بغیر پائلٹ طیاروں کے ذریعے مملکت کے شہری اور اقتصادی مراکز اور ہوائی اڈوں پر حملے مکمل جنگی جرائم ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ملیشیا نے اخلاقی اور مذہبی تمام حدود کو عبور کر لیا ہے، کیونکہ اس نے مکہ مکرمہ، مدینہ منورہ، عمرہ ادا کرنے والوں اور زائرین کو دانستہ نشانہ بنایا۔

الخریجی نے اس بات پر زور دیا کہ دہشت گرد ملیشیا سے مقابلہ ایک مشترکہ بین الاقوامی ذمہ داری ہے۔ یہاں یہ سوال اٹھتا ہے کہ جب حملے سرحدوں سے آگے مقدس مقامات اور عام شہریوں تک پہنچ جائیں، تو کیا کوئی بھی ملک خود کو اس ذمہ داری سے باہر سمجھ سکتا ہے؟

انہوں نے واضح کیا کہ مملکت کی ترجیح اپنے شہریوں کی حفاظت ہے اور اس مقصد کے لیے تمام ضروری احتیاطی تدابیر اختیار کی جا رہی ہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ مملکت اپنے شہریوں، رہائشیوں یا زائرین کی سلامتی کے لیے کسی بھی خطرے کو برداشت نہیں کرے گی اور اپنی سرزمین کے دفاع، جارحیت کو پسپا کرنے اور جارحین کو روکنے کے لیے تمام جائز اقدامات کرے گی۔

نائب وزیر خارجہ نے یمنی عوام اور ان کی قانونی حکومت کی حمایت کے عزم کا اعادہ کیا۔ انہوں نے کہا کہ حوثی ملیشیا یمنی عوام کے خلاف جو جرائم کر رہی ہے، اس کی مکمل ذمہ داری اسی پر عائد ہوتی ہے۔ کیا یمنی عوام کی حمایت اور ان کی قانونی حکومت کے ساتھ کھڑے ہونے کا یہ پیغام عرب دنیا کے لیے ایک مشترکہ پالیسی کی بنیاد بن سکتا ہے؟

ملاقات میں عرب ممالک کے سفیروں نے اپنے اپنے ملکوں کی جانب سے مملکت، اس کے شہری اہداف اور اہم تنصیبات پر حملوں کی مذمت کا اعادہ کیا۔ انہوں نے ان حملوں کے مقابلے میں سعودی عرب کے ساتھ یکجہتی کا اظہار کیا، اور کہا کہ ان کے ملک مملکت کی سلامتی اور استحکام کو برقرار رکھنے اور اس کے شہریوں اور رہائشیوں کے تحفظ کے لیے اٹھائے جانے والے اقدامات کی حمایت کرتے ہیں۔

یہ ملاقات وزارت خارجہ کے صدر دفتر میں ہوئی، اور اس میں عرب ممالک کے سفیروں کی موجودگی نے اس پیغام کو دو طرفہ سطح سے آگے عرب سطح تک پہنچا دیا۔ سوال یہ ہے کہ کیا عرب سفیروں کی یہ یکجہتی آنے والے دنوں میں مشترکہ سفارتی اور دفاعی اقدامات کی شکل اختیار کرے گی؟

ایس پی اے کی رپورٹ کے مطابق نائب وزیر خارجہ نے حملوں کی نوعیت بیان کرتے ہوئے تین اقسام کا ذکر کیا: بیلسٹک میزائل، کروز میزائل اور بغیر پائلٹ طیارے۔ انہوں نے کہا کہ یہ حملے شہری اور اقتصادی مراکز اور ہوائی اڈوں کے خلاف کیے گئے۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ ملیشیا نے مکہ مکرمہ، مدینہ منورہ، عمرہ ادا کرنے والوں اور زائرین کو دانستہ نشانہ بنایا، جس سے وہ اخلاقی اور مذہبی تمام حدود سے گزر گئی۔

ان بیانات میں ایک اہم نکتہ یہ ہے کہ مملکت کی ترجیح شہریوں کی حفاظت ہے اور اس کے لیے احتیاطی تدابیر اختیار کی جا رہی ہیں۔ نائب وزیر خارجہ نے یہ بھی کہا کہ مملکت اپنے شہریوں، رہائشیوں یا زائرین کی سلامتی کے لیے کسی خطرے کو برداشت نہیں کرے گی۔ کیا زائرین اور عمرہ ادا کرنے والوں کی حفاظت کو بین الاقوامی سطح پر ایک الگ ذمہ داری کے طور پر تسلیم کیا جانا چاہیے؟

الخریجی نے دہشت گرد ملیشیا سے مقابلے کو مشترکہ بین الاقوامی ذمہ داری قرار دیا۔ یہ اعلان اس وقت سامنے آیا جب مملکت کے خلاف حملے جاری ہیں اور ان کے اثرات شہری اور اقتصادی شعبوں تک پھیل رہے ہیں۔ انہوں نے مملکت کے دفاع، جارحیت کو پسپا کرنے اور جارحین کو روکنے کے لیے تمام جائز اقدامات کے حق کا اعادہ کیا۔

یمن کے حوالے سے نائب وزیر خارجہ نے مملکت کی یمنی عوام اور ان کی قانونی حکومت کی مسلسل حمایت کا اعادہ کیا۔ انہوں نے کہا کہ حوثی ملیشیا یمنی عوام کے خلاف جرائم کی مکمل ذمہ دار ہے۔ یہ بیان یمن کے بحران میں مملکت کے موقف کی وضاحت کرتا ہے، جہاں وہ یمنی عوام اور ان کی قانونی حکومت کے ساتھ کھڑی ہے۔ کیا یمنی عوام کے خلاف جرائم کی ذمہ داری کا تعین بین الاقوامی سطح پر جوابدہی کے عمل کو آگے بڑھا سکتا ہے؟

عرب سفیروں کی جانب سے مذمت اور یکجہتی کا اظہار اس ملاقات کا دوسرا اہم پہلو ہے۔ انہوں نے مملکت، اس کے شہری اہداف اور اہم تنصیبات پر حملوں کی مذمت کی، اور مملکت کی سلامتی اور استحکام کو برقرار رکھنے اور اس کے شہریوں اور رہائشیوں کے تحفظ کے لیے اٹھائے جانے والے اقدامات کے ساتھ یکجہتی کا اظہار کیا۔

یہ ملاقات ریاض میں وزارت خارجہ کے صدر دفتر میں ہوئی، اور اس کا وقت 18 اکتوبر 2026 تھا۔ ایس پی اے کے مطابق ملاقات مقامی وقت کے مطابق 19:05 اور جی ایم ٹی کے مطابق 16:05 پر رپورٹ ہوئی۔

عرب سفیروں کی موجودگی اور ان کی جانب سے یکجہتی کا اظہار اس بات کا اشارہ ہے کہ مملکت کے خلاف حملوں کو عرب دنیا میں صرف ایک سعودی مسئلہ نہیں بلکہ ایک مشترکہ مسئلہ سمجھا جا رہا ہے۔ سوال یہ ہے کہ کیا عرب ممالک کی یہ یکجہتی آنے والے دنوں میں مزید ٹھوس تعاون کی شکل اختیار کرے گی؟

نائب وزیر خارجہ کے بیان میں ایک اور نکتہ یہ تھا کہ ملیشیا کے حملوں نے اخلاقی اور مذہبی تمام حدود کو عبور کیا، کیونکہ ان کا نشانہ مکہ مکرمہ، مدینہ منورہ، عمرہ ادا کرنے والے اور زائرین تھے۔ یہ بات اس لیے بھی اہم ہے کہ ان مقامات کی حرمت کا تعلق پوری اسلامی دنیا سے ہے، اور ان پر حملے کو صرف مملکت کے خلاف کارروائی نہیں سمجھا جا سکتا۔ کیا مقدس مقامات اور زائرین کو نشانہ بنانا بین الاقوامی برادری کے لیے ایک الگ اور واضح ردعمل کا تقاضا کرتا ہے؟

مملکت کی ترجیح کے طور پر شہریوں کی حفاظت اور احتیاطی تدابیر کا ذکر اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ حکام کی توجہ انسانی تحفظ پر مرکوز ہے۔ نائب وزیر خارجہ نے کہا کہ مملکت اپنے شہریوں، رہائشیوں یا زائرین کی سلامتی کے لیے کسی خطرے کو برداشت نہیں کرے گی۔

دہشت گرد ملیشیا سے مقابلے کو مشترکہ بین الاقوامی ذمہ داری قرار دینے کا مطلب یہ ہے کہ مملکت اس معاملے کو صرف اپنی سرحدوں تک محدود نہیں سمجھتی۔ یہ موقف اس بات کی طرف اشارہ کرتا ہے کہ حملوں کے خلاف کارروائی کے لیے بین الاقوامی تعاون ضروری ہے۔ سوال یہ ہے کہ کیا بین الاقوامی برادری اس ذمہ داری کو تسلیم کرتے ہوئے عملی اقدامات کرے گی؟

یمن کے حوالے سے مملکت کے موقف میں یمنی عوام اور ان کی قانونی حکومت کی حمایت شامل ہے۔ نائب وزیر خارجہ نے کہا کہ حوثی ملیشیا یمنی عوام کے خلاف جرائم کی مکمل ذمہ دار ہے۔ یہ بیان یمن کے اندر جاری بحران میں مملکت کے کردار اور موقف کی وضاحت کرتا ہے۔

عرب سفیروں نے اپنے ملکوں کی جانب سے مذمت کا اعادہ کیا اور مملکت کے ساتھ یکجہتی کا اظہار کیا۔ انہوں نے کہا کہ ان کے ملک مملکت کی سلامتی اور استحکام کو برقرار رکھنے اور اس کے شہریوں اور رہائشیوں کے تحفظ کے لیے اٹھائے جانے والے اقدامات کی حمایت کرتے ہیں۔

اس ملاقات کی رپورٹ میں یہ نہیں بتایا گیا کہ کون کون سے عرب ممالک کے سفیر موجود تھے، نہ ہی ملاقات کے دورانیے یا اس کے بعد کسی مشترکہ بیان کا ذکر ہے۔ رپورٹ میں حملوں کی تاریخوں، مقامات یا ان کے نتیجے میں ہونے والے نقصان کی تفصیل بھی نہیں دی گئی۔

ایس پی اے کی رپورٹ کے مطابق نائب وزیر خارجہ نے مملکت کے دفاع، جارحیت کو پسپا کرنے اور جارحین کو روکنے کے لیے تمام جائز اقدامات کے حق کا اعادہ کیا۔ یہ موقف اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ مملکت اپنی خودمختاری اور سلامتی کے تحفظ کے لیے ہر جائز راستہ استعمال کرنے کا حق محفوظ رکھتی ہے۔

ملاقات کا انعقاد وزارت خارجہ کے صدر دفتر میں ہوا، جو ریاض میں واقع ہے۔ یہ مقام اس بات کی علامت ہے کہ یہ معاملہ مملکت کی خارجہ پالیسی کی اعلیٰ سطح پر زیر بحث آیا۔ کیا اس سطح کی ملاقات آنے والے دنوں میں مزید سفارتی اقدامات کا پیش خیمہ ثابت ہوگی؟

عرب سفیروں کی جانب سے یکجہتی کے اظہار میں یہ نکتہ شامل تھا کہ ان کے ملک مملکت کے شہریوں اور رہائشیوں کے تحفظ کے لیے اٹھائے جانے والے اقدامات کی حمایت کرتے ہیں۔ یہ حمایت اس بات کی عکاسی کرتی ہے کہ مملکت کے خلاف حملوں کو عرب دنیا میں ایک مشترکہ تشویش کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔

نائب وزیر خارجہ کے بیان کا ایک اور پہلو یہ تھا کہ دہشت گرد ملیشیا سے مقابلہ مشترکہ بین الاقوامی ذمہ داری ہے۔ یہ بات اس بات کی طرف اشارہ کرتی ہے کہ مملکت اس معاملے میں بین الاقوامی تعاون کی اہمیت پر زور دے رہی ہے۔ سوال یہ ہے کہ کیا اس موقف کو بین الاقوامی سطح پر وہ پذیرائی ملے گی جس کی مملکت توقع کر رہی ہے؟

یمنی عوام اور ان کی قانونی حکومت کی حمایت کے اعادے کے ساتھ نائب وزیر خارجہ نے یہ بھی کہا کہ حوثی ملیشیا یمنی عوام کے خلاف جرائم کی مکمل ذمہ دار ہے۔ یہ بیان یمن کے بحران میں مملکت کے موقف کو واضح کرتا ہے اور یمنی عوام کے ساتھ یکجہتی کا پیغام دیتا ہے۔

رپورٹ کے مطابق ملاقات کے آغاز میں ہی نائب وزیر خارجہ نے حملوں کو مکمل جنگی جرائم قرار دیا۔ یہ بیان ملاقات کے ایجنڈے کی شدت کو ظاہر کرتا ہے اور اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ مملکت اس معاملے کو کس سطح کی اہمیت دے رہی ہے۔

عرب سفیروں کی جانب سے مذمت اور یکجہتی کے اظہار کے بعد یہ سوال اہم ہے کہ کیا اس ملاقات کے نتائج آنے والے دنوں میں مشترکہ عرب اقدامات کی صورت میں سامنے آئیں گے؟ رپورٹ میں اس بارے میں کوئی تفصیل نہیں دی گئی۔

ایس پی اے کی رپورٹ میں یہ بھی نہیں بتایا گیا کہ ملاقات میں کسی اور موضوع پر بات ہوئی یا نہیں۔ رپورٹ کا دائرہ نائب وزیر خارجہ کے بیان اور عرب سفیروں کے ردعمل تک محدود ہے۔

مملکت کی ترجیح کے طور پر شہریوں کی حفاظت کا ذکر اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ حکام انسانی جانوں کے تحفظ کو سب سے اوپر رکھتے ہیں۔ نائب وزیر خارجہ نے کہا کہ اس مقصد کے لیے تمام ضروری احتیاطی تدابیر اختیار کی جا رہی ہیں۔

دہشت گرد ملیشیا کے حملوں میں بیلسٹک میزائل، کروز میزائل اور بغیر پائلٹ طیارے شامل تھے، جن کا نشانہ شہری اور اقتصادی مراکز اور ہوائی اڈے تھے۔ یہ تفصیل اس بات کی نشاندہی کرتی ہے کہ حملوں کی نوعیت کثیر جہتی تھی۔

مکہ مکرمہ، مدینہ منورہ، عمرہ ادا کرنے والوں اور زائرین کو نشانہ بنانے کا ذکر اس بات کی طرف اشارہ کرتا ہے کہ حملوں نے مذہبی حرمتوں کو بھی نہیں چھوڑا۔ نائب وزیر خارجہ نے کہا کہ اس طرح ملیشیا نے اخلاقی اور مذہبی تمام حدود کو عبور کیا۔

عرب سفیروں نے اپنے ملکوں کی جانب سے مملکت، اس کے شہری اہداف اور اہم تنصیبات پر حملوں کی مذمت کی۔ انہوں نے مملکت کی سلامتی اور استحکام کو برقرار رکھنے کے لیے اٹھائے جانے والے اقدامات کے ساتھ یکجہتی کا اظہار کیا۔

رپورٹ کے اختتام پر ایس پی اے نے ملاقات کا وقت مقامی وقت کے مطابق 19:05 اور جی ایم ٹی کے مطابق 16:05 بتایا۔ رپورٹ میں مزید کسی تفصیل کا اضافہ نہیں کیا گیا۔

اس ملاقات کا ایک اہم پہلو یہ ہے کہ یہ عرب سفیروں کے ساتھ تھی، نہ کہ کسی ایک ملک کے نمائندے کے ساتھ۔ اس سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ مملکت اس معاملے پر عرب دنیا کے ساتھ مشترکہ مؤقف کی اہمیت سمجھتی ہے۔ کیا یہ ملاقات عرب دنیا کے اندر ایک مشترکہ حکمت عملی کی طرف پہلا قدم ہے؟

نائب وزیر خارجہ کے بیان میں یہ نکتہ بھی شامل تھا کہ مملکت اپنی سرزمین کے دفاع، جارحیت کو پسپا کرنے اور جارحین کو روکنے کے لیے تمام جائز اقدامات کرے گی۔ یہ موقف اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ مملکت اپنی خودمختاری کے تحفظ کے معاملے میں کوئی سمجھوتہ نہیں کرے گی۔

یمنی عوام اور ان کی قانونی حکومت کی حمایت کا اعادہ اس بات کی طرف اشارہ کرتا ہے کہ مملکت یمن کے بحران میں اپنے موقف پر قائم ہے۔ نائب وزیر خارجہ نے کہا کہ حوثی ملیشیا یمنی عوام کے خلاف جرائم کی مکمل ذمہ دار ہے۔

عرب سفیروں کے ردعمل میں یہ بات شامل تھی کہ ان کے ملک مملکت کے شہریوں اور رہائشیوں کے تحفظ کے لیے اٹھائے جانے والے اقدامات کی حمایت کرتے ہیں۔ یہ حمایت اس بات کی عکاسی کرتی ہے کہ مملکت کے خلاف حملوں کو عرب دنیا میں ایک مشترکہ مسئلے کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔

رپورٹ میں یہ نہیں بتایا گیا کہ ملاقات میں کسی مشترکہ بیان یا قرارداد پر اتفاق ہوا۔ نہ ہی یہ بتایا گیا کہ آئندہ کوئی ملاقات یا اقدام متوقع ہے۔ رپورٹ صرف ملاقات کے دوران ہونے والے بیانات تک محدود ہے۔

ایس پی اے کی رپورٹ کے مطابق نائب وزیر خارجہ نے کہا کہ دہشت گرد ملیشیا سے مقابلہ مشترکہ بین الاقوامی ذمہ داری ہے۔ یہ بیان اس بات کی طرف اشارہ کرتا ہے کہ مملکت اس معاملے کو بین الاقوامی سطح پر اٹھانے کی اہمیت پر زور دے رہی ہے۔

ملاقات کے دوران نائب وزیر خارجہ نے مملکت کی ترجیح کے طور پر شہریوں کی حفاظت کا ذکر کیا اور کہا کہ اس مقصد کے لیے تمام ضروری احتیاطی تدابیر اختیار کی جا رہی ہیں۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ مملکت اپنے شہریوں، رہائشیوں یا زائرین کی سلامتی کے لیے کسی خطرے کو برداشت نہیں کرے گی۔

عرب سفیروں نے اپنے ملکوں کی جانب سے مذمت کا اعادہ کیا اور مملکت کے ساتھ یکجہتی کا اظہار کیا۔ انہوں نے کہا کہ ان کے ملک مملکت کی سلامتی اور استحکام کو برقرار رکھنے اور اس کے شہریوں اور رہائشیوں کے تحفظ کے لیے اٹھائے جانے والے اقدامات کی حمایت کرتے ہیں۔

رپورٹ کے مطابق یہ ملاقات ریاض میں وزارت خارجہ کے صدر دفتر میں ہوئی۔ رپورٹ میں ملاقات کے شرکاء کی مکمل فہرست، دورانیہ یا ایجنڈے کی تفصیل نہیں دی گئی۔

نائب وزیر خارجہ کے بیان میں یہ نکتہ بھی شامل تھا کہ ملیشیا کے حملوں نے اخلاقی اور مذہبی تمام حدود کو عبور کیا، کیونکہ ان کا نشانہ مکہ مکرمہ، مدینہ منورہ، عمرہ ادا کرنے والے اور زائرین تھے۔ یہ بات اس بات کی طرف اشارہ کرتی ہے کہ حملوں کو صرف ایک سیکیورٹی مسئلہ نہیں بلکہ ایک اخلاقی اور مذہبی معاملہ بھی سمجھا جا رہا ہے۔

مملکت کے دفاع، جارحیت کو پسپا کرنے اور جارحین کو روکنے کے لیے تمام جائز اقدامات کے حق کا اعادہ اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ مملکت اپنی سلامتی کے معاملے میں ہر جائز راستہ استعمال کرنے کا حق محفوظ رکھتی ہے۔

یمن کے حوالے سے مملکت کے موقف میں یمنی عوام اور ان کی قانونی حکومت کی حمایت شامل ہے۔ نائب وزیر خارجہ نے کہا کہ حوثی ملیشیا یمنی عوام کے خلاف جرائم کی مکمل ذمہ دار ہے۔ یہ بیان یمن کے بحران میں مملکت کے کردار کی وضاحت کرتا ہے۔

عرب سفیروں کی جانب سے یکجہتی کے اظہار میں یہ نکتہ شامل تھا کہ ان کے ملک مملکت کے شہریوں اور رہائشیوں کے تحفظ کے لیے اٹھائے جانے والے اقدامات کی حمایت کرتے ہیں۔ یہ حمایت اس بات کی عکاسی کرتی ہے کہ مملکت کے خلاف حملوں کو عرب دنیا میں ایک مشترکہ تشویش کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔

رپورٹ میں یہ نہیں بتایا گیا کہ ملاقات میں کسی مشترکہ بیان یا قرارداد پر اتفاق ہوا، نہ ہی آئندہ کے اقدامات کا کوئی ذکر ہے۔ رپورٹ صرف ملاقات کے دوران ہونے والے بیانات اور ردعمل تک محدود ہے۔

نائب وزیر خارجہ نے حوثی حملوں کو کیا قرار دیا؟ نائب وزیر خارجہ ولید الخریجی نے کہا کہ حوثی دہشت گرد ملیشیا کی جانب سے بیلسٹک میزائل، کروز میزائل اور بغیر پائلٹ طیاروں کے ذریعے مملکت کے شہری اور اقتصادی مراکز اور ہوائی اڈوں پر حملے مکمل جنگی جرائم ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ملیشیا نے اخلاقی اور مذہبی تمام حدود کو عبور کیا، کیونکہ اس نے مکہ مکرمہ، مدینہ منورہ، عمرہ ادا کرنے والوں اور زائرین کو دانستہ نشانہ بنایا۔

مملکت کی ترجیح کے بارے میں کیا کہا گیا؟ نائب وزیر خارجہ نے کہا کہ مملکت کی ترجیح اپنے شہریوں کی حفاظت ہے اور اس مقصد کے لیے تمام ضروری احتیاطی تدابیر اختیار کی جا رہی ہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ مملکت اپنے شہریوں، رہائشیوں یا زائرین کی سلامتی کے لیے کسی بھی خطرے کو برداشت نہیں کرے گی اور اپنی سرزمین کے دفاع، جارحیت کو پسپا کرنے اور جارحین کو روکنے کے لیے تمام جائز اقدامات کرے گی۔

یمن کے حوالے سے مملکت کا موقف کیا بیان ہوا؟ نائب وزیر خارجہ نے یمنی عوام اور ان کی قانونی حکومت کی حمایت کے عزم کا اعادہ کیا۔ انہوں نے کہا کہ حوثی ملیشیا یمنی عوام کے خلاف جو جرائم کر رہی ہے، اس کی مکمل ذمہ داری اسی پر عائد ہوتی ہے۔ انہوں نے دہشت گرد ملیشیا سے مقابلے کو مشترکہ بین الاقوامی ذمہ داری قرار دیا۔

عرب سفیروں نے کیا ردعمل دیا؟ عرب ممالک کے سفیروں نے اپنے اپنے ملکوں کی جانب سے مملکت، اس کے شہری اہداف اور اہم تنصیبات پر حملوں کی مذمت کا اعادہ کیا۔ انہوں نے ان حملوں کے مقابلے میں سعودی عرب کے ساتھ یکجہتی کا اظہار کیا اور کہا کہ ان کے ملک مملکت کی سلامتی اور استحکام کو برقرار رکھنے اور اس کے شہریوں اور رہائشیوں کے تحفظ کے لیے اٹھائے جانے والے اقدامات کی حمایت کرتے ہیں۔

ملاقات کہاں اور کب ہوئی؟ ملاقات ریاض میں وزارت خارجہ کے صدر دفتر میں ہوئی۔ ایس پی اے کے مطابق یہ 18 اکتوبر 2026 کو تھی، اور رپورٹ مقامی وقت کے مطابق 19:05 اور جی ایم ٹی کے مطابق 16:05 پر جاری ہوئی۔ رپورٹ میں ملاقات کے شرکاء کی مکمل فہرست یا دورانیہ نہیں دیا گیا۔

رپورٹ میں کون سی تفصیلات نہیں دی گئیں؟ رپورٹ میں یہ نہیں بتایا گیا کہ کون کون سے عرب ممالک کے سفیر موجود تھے، نہ ہی ملاقات کے دورانیے یا اس کے بعد کسی مشترکہ بیان کا ذکر ہے۔ حملوں کی تاریخوں، مقامات یا ان کے نتیجے میں ہونے والے نقصان کی تفصیل بھی نہیں دی گئی، اور نہ ہی آئندہ کے اقدامات کا کوئی ذکر ہے۔