ریاض میں وزارت ماحولیات، پانی اور زراعت کے صدر دفتر میں پائیدار زرعی پارکوں کے پہلے مرحلے کا آغاز کیا گیا، جہاں سات سرمایہ کاری معاہدوں پر دستخط بھی ہوئے جن کا مجموعی تعاون 15 سال میں 6 بلین ریال جی ڈی پی ہے۔
جیسا کہ سعودی خبر رساں ادارے ایس پی اے نے بیان کیا، وزارت ماحولیات، پانی اور زراعت کے وزیر اور نیشنل سینٹر فار ویجیٹیشن کور ڈیولپمنٹ اینڈ کمبیٹنگ ڈیزرٹیفیکیشن کے بورڈ چیئرمین عبدالرحمٰن الفدلی نے آج ریاض میں وزارت کے صدر دفتر میں پائیدار زرعی پارکوں کے پہلے مرحلے کا آغاز کیا۔
یہ آغاز مرکز کی ان کوششوں کا حصہ ہے جن کا مقصد قومی پارکوں کی ایسی زمین کو استعمال کرنا ہے جہاں پودوں کی افزائش کمزور اور تخریب شدہ ہے اور جو دوبارہ قابل استعمال پانی کے ذرائع کے قریب واقع ہے، تاکہ مقامی پھل دار پودے اگائے جا سکیں جو ٹھوس معاشی منافع پیدا کریں۔
وزیر نے پائیدار زرعی پارکوں کے لیے سات سرمایہ کاری معاہدوں پر دستخط کی سرپرستی بھی کی۔ ان معاہدوں کا مجموعی تعاون 15 سال کے دوران 6 بلین ریال جی ڈی پی ہے، جو سعودی وژن 2030 کے اہداف کے مطابق ماحولیاتی پائیداری کو فروغ دینے میں مدد دے گا۔
مرکز کے مطابق یہ معاہدے مدینہ، تبوک اور مکہ کے علاقوں پر محیط ہیں، ان کی سرمایہ کاری کی مدت 15 سال تک ہے اور توقع ہے کہ یہ 700 سے زیادہ براہ راست ملازمتیں پیدا کریں گے۔
یہ منصوبہ کس طرح بنجر زمین کو پیداواری اثاثے میں بدل سکتا ہے؟ قومی پارکوں کی وہ زمینیں جو کمزور پودوں اور تخریب شدہ ماحول کی وجہ سے غیر استعمال شدہ پڑی تھیں، اب مقامی پھل دار پودوں کی افزائش کے لیے استعمال ہوں گی۔ دوبارہ قابل استعمال پانی کے ذرائع کے قریب ہونے کی وجہ سے یہ زمینیں آبپاشی کے لیے موزوں سمجھی جا رہی ہیں، اور مقامی پودوں کے انتخاب سے ایسی فصلیں ممکن ہوں گی جو اس خطے کی آب و ہوا کے مطابق ہوں۔
کیا یہ ماڈل پانی کے محدود وسائل والے دیگر علاقوں کے لیے بھی قابل نقل ہو سکتا ہے؟ مرکز کی جانب سے دی گئی تفصیل کے مطابق زمین کا انتخاب اس شرط پر کیا گیا ہے کہ وہاں پہلے سے موجود پودوں کی حالت کمزور یا تخریب شدہ ہو اور پانی کا ذریعہ دوبارہ استعمال کے قابل ہو۔ یہ دونوں شرطیں مل کر ایسے علاقوں کی نشاندہی کرتی ہیں جہاں روایتی زراعت ممکن نہ تھی مگر نئی حکمت عملی کے تحت پیداوار ممکن ہو سکتی ہے۔
معاہدوں کی مالی اہمیت کو سمجھنے کے لیے ایک اعداد و شمار کافی ہے: 15 سال میں 6 بلین ریال کا مجموعی تعاون جی ڈی پی میں۔ یہ رقم سات الگ الگ معاہدوں پر مشتمل ہے، اور ہر معاہدے کی سرمایہ کاری کی مدت 15 سال تک بتائی گئی ہے۔ یعنی یہ قلیل مدتی منصوبے نہیں بلکہ طویل مدتی سرمایہ کاری کے فریم ورک کا حصہ ہیں۔
کیا 700 براہ راست ملازمتیں اس پیمانے کی سرمایہ کاری کے لیے مناسب ہیں؟ مرکز کے مطابق ان معاہدوں سے 700 سے زیادہ براہ راست ملازمتیں پیدا ہونے کی توقع ہے۔ براہ راست ملازمتوں کا ذکر اس بات کی طرف اشارہ کرتا ہے کہ یہ تعداد صرف منصوبوں کے اندر بننے والی آسامیوں کی ہے، تاہم ایس پی اے کی رپورٹ میں بالواسطہ ملازمتوں یا سپلائی چین سے جڑی آسامیوں کا کوئی ذکر نہیں۔
یہ معاہدے کن علاقوں کو محیط ہیں؟ مرکز کے مطابق یہ مدینہ، تبوک اور مکہ کے علاقوں پر محیط ہیں۔ تینوں علاقے جغرافیائی طور پر مختلف خصوصیات رکھتے ہیں، اور یہی تنوع اس بات کا تعین کرے گا کہ کون سے مقامی پھل دار پودے کہاں اگائے جائیں گے۔ رپورٹ میں یہ تفصیل نہیں دی گئی کہ کس علاقے میں کتنے معاہدے ہوئے یا کون سی مخصوص فصلیں منتخب کی گئی ہیں۔
پائیدار زرعی پارکوں کا تصور ماحولیاتی بحالی اور معاشی پیداوار کو ایک ہی فریم ورک میں جوڑتا ہے۔ مرکز کی کوششوں کا مقصد قومی پارک کی زمین کو استعمال کرنا ہے، یعنی وہ زمین جو پہلے سے محفوظ یا مخصوص درجے میں آتی ہے، اور اس پر ایسی زراعت کرنا جو نہ صرف ماحول کو نقصان نہ پہنچائے بلکہ ٹھوس معاشی منافع بھی دے۔
کیا ماحولیاتی بحالی اور منافع ایک ساتھ ممکن ہیں؟ مرکز کے بیان کے مطابق مقامی پھل دار پودے اگائے جائیں گے جو ٹھوس معاشی منافع پیدا کریں۔ یہاں لفظ ‘ٹھوس’ اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ منصوبے کا مقصد صرف ماحولیاتی فائدہ نہیں بلکہ قابل پیمائش معاشی نتیجہ بھی ہے۔ تاہم رپورٹ میں یہ نہیں بتایا گیا کہ منافع کا تخمینہ کس بنیاد پر لگایا گیا یا اس کی وصولی کی مدت کیا ہوگی۔
سعودی وژن 2030 کے اہداف کے ساتھ اس اقدام کی مطابقت پر بھی زور دیا گیا ہے۔ مرکز کے مطابق معاہدے ماحولیاتی پائیداری کو فروغ دینے میں مدد دیں گے، جو وژن 2030 کے اہداف کے مطابق ہے۔ وژن 2030 میں اقتصادی تنوع، غیر تیل شعبوں کی توسیع اور ماحولیاتی تحفظ جیسے پہلو شامل ہیں، اور یہ منصوبہ ان تینوں پہلوؤں کو ایک ساتھ چھوتا نظر آتا ہے۔
کیا یہ منصوبہ زرعی خود کفالت میں حصہ ڈال سکتا ہے؟ رپورٹ میں اس سوال کا براہ راست جواب موجود نہیں، البتہ مقامی پھل دار پودوں کی افزائش اور دوبارہ قابل استعمال پانی کے ذرائع کا ذکر اس بات کی طرف اشارہ کرتا ہے کہ پیداوار کا مقصد مقامی سطح پر پھلوں کی دستیابی بڑھانا ہو سکتا ہے۔ تاہم رپورٹ میں پیداوار کی مقدار، اقسام یا مارکیٹ کے بارے میں کوئی اعداد و شمار نہیں دیے گئے۔
سرمایہ کاری کے معاہدوں کی مدت 15 سال تک ہونا اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ منصوبہ بندی طویل المدتی بنیادوں پر کی گئی ہے۔ درختوں اور پھل دار پودوں کی افزائش میں وقت لگتا ہے، اور اس لیے سرمایہ کاروں کے لیے طویل مدت کی ضمانت اہم ہوتی ہے۔ مرکز کے مطابق یہ معاہدے اسی طویل المدتی فریم ورک کا حصہ ہیں۔
کیا 6 بلین ریال کا تعاون جی ڈی پی میں سالانہ بنیادوں پر تقسیم ہوگا؟ رپورٹ میں یہ تفصیل نہیں دی گئی کہ یہ رقم 15 سال کے دوران کس رفتار سے جی ڈی پی میں شامل ہوگی۔ صرف یہ بتایا گیا ہے کہ مجموعی تعاون 15 سال میں 6 بلین ریال ہے۔ اس ابہام کی وجہ سے سالانہ اوسط کا تخمینہ لگانا ممکن نہیں، اور رپورٹ میں اس حوالے سے کوئی اضافی وضاحت موجود نہیں۔
وزیر عبدالرحمٰن الفدلی کی سرپرستی میں ہونے والی اس تقریب میں پہلے مرحلے کا آغاز اور سات معاہدوں پر دستخط دونوں شامل تھے۔ وزارت کے صدر دفتر میں منعقدہ اس تقریب کا مقام ریاض بتایا گیا ہے۔ مرکز کے بورڈ چیئرمین کی حیثیت سے وزیر کی موجودگی اس بات کی عکاسی کرتی ہے کہ یہ اقدام مرکز کی حکمت عملی کا مرکزی حصہ ہے۔
کیا دیگر علاقوں میں بھی اگلے مراحل متوقع ہیں؟ رپورٹ میں صرف پہلے مرحلے کا ذکر ہے اور یہ نہیں بتایا گیا کہ کتنے مراحل متوقع ہیں یا اگلے مرحلے میں کون سے علاقے شامل ہوں گے۔ ‘پہلا مرحلہ’ کے الفاظ سے یہ اشارہ ضرور ملتا ہے کہ آگے مزید مراحل کا امکان ہے، مگر اس کی کوئی تفصیل یا شیڈول رپورٹ میں موجود نہیں۔
مقامی پھل دار پودوں کا انتخاب ماحولیاتی لحاظ سے اہم ہے کیونکہ مقامی انواع عام طور پر کم پانی میں زندہ رہ سکتی ہیں اور مقامی مٹی و آب و ہوا کے مطابق ہوتی ہیں۔ مرکز کے بیان میں اسی پہلو پر زور دیا گیا ہے کہ قومی پارک کی ایسی زمین استعمال کی جائے گی جہاں پودوں کی افزائش کمزور اور تخریب شدہ ہے۔ یہ زمین پہلے زرعی پیداوار کے لیے موزوں نہیں سمجھی جاتی تھی۔
کیا تخریب شدہ زمین کی بحالی سے مٹی کا معیار بہتر ہو سکتا ہے؟ رپورٹ میں مٹی کے معیار یا بحالی کے طریقوں کے بارے میں کوئی تفصیل نہیں دی گئی۔ صرف یہ بتایا گیا ہے کہ ایسی زمین استعمال ہوگی جہاں پودوں کی افزائش کمزور اور تخریب شدہ ہے، اور وہاں مقامی پھل دار پودے اگائے جائیں گے۔ اس عمل کے ماحولیاتی اثرات کی پیمائش کے حوالے سے رپورٹ خاموش ہے۔
دوبارہ قابل استعمال پانی کے ذرائع کا ذکر اس منصوبے کا ایک اہم تکنیکی پہلو ہے۔ ایسے ذرائع عام طور پر صاف پانی کے مقابلے میں کم لاگت اور زیادہ پائیدار سمجھے جاتے ہیں، خاص طور پر ان علاقوں میں جہاں پانی کی کمی ہو۔ مرکز کے مطابق زمین کا انتخاب انہی ذرائع کے قریب کیا گیا ہے، جو آبپاشی کے لیے رسائی کو آسان بناتا ہے۔
کیا اس سے پانی کے غیر روایتی ذرائع کے استعمال میں اضافہ ہوگا؟ رپورٹ میں پانی کی مقدار، معیار یا اس کے علاج کے عمل کے بارے میں کوئی اعداد و شمار موجود نہیں۔ صرف یہ بتایا گیا ہے کہ زمین دوبارہ قابل استعمال پانی کے ذرائع کے قریب ہے۔ اس تفصیل کی کمی کی وجہ سے پانی کے استعمال کے پیمانے کا اندازہ لگانا ممکن نہیں۔
معاہدوں کی تعداد سات ہے، اور یہ تین علاقوں میں پھیلے ہوئے ہیں۔ اس تقسیم سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ منصوبہ کسی ایک جگہ تک محدود نہیں بلکہ مختلف جغرافیائی حالات میں آزمایا جا رہا ہے۔ مدینہ، تبوک اور مکہ کے علاقوں کا انتخاب اس بات کی طرف اشارہ کرتا ہے کہ مرکز مختلف ماحولیاتی زونز میں اس ماڈل کی افادیت جانچنا چاہتا ہے۔
کیا ہر معاہدے کی سرمایہ کاری کی رقم الگ ہے؟ رپورٹ میں صرف مجموعی تعاون یعنی 15 سال میں 6 بلین ریال جی ڈی پی کا ذکر ہے۔ انفرادی معاہدوں کی رقم، سرمایہ کاروں کے نام یا شراکت داری کی ساخت کے بارے میں کوئی تفصیل نہیں دی گئی۔ اسی طرح یہ بھی واضح نہیں کہ 700 براہ راست ملازمتیں کس معاہدے سے کتنی پیدا ہوں گی۔
ملازمتوں کے حوالے سے ‘براہ راست’ کی اصطلاح اہم ہے۔ اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ منصوبوں کے اندر بننے والی آسامیوں کی تعداد 700 سے زیادہ متوقع ہے، جبکہ بالواسطہ ملازمتیں اس تعداد سے باہر ہیں۔ مرکز کے مطابق یہ توقع ظاہر کی گئی ہے، یعنی حتمی تعداد اس سے مختلف ہو سکتی ہے۔ رپورٹ میں ملازمتوں کی اقسام یا مہارتوں کے بارے میں کوئی تفصیل نہیں۔
کیا مقامی آبادی کو ترجیح دی جائے گی؟ رپورٹ میں اس حوالے سے کوئی بیان موجود نہیں کہ ملازمتیں کس علاقے یا کس گروہ کے لیے مختص ہوں گی۔ صرف یہ بتایا گیا ہے کہ 700 سے زیادہ براہ راست ملازمتیں پیدا ہونے کی توقع ہے۔ اس ابہام کی وجہ سے روزگار کے سماجی اثرات کا جائزہ لینا فی الحال ممکن نہیں۔
سعودی وژن 2030 کے تحت ماحولیاتی پائیداری اور اقتصادی تنوع دونوں پر زور دیا جاتا ہے۔ پائیدار زرعی پارکوں کا یہ اقدام ان دونوں پہلوؤں کو یکجا کرنے کی کوشش معلوم ہوتا ہے، کیونکہ اس میں ماحولیاتی بحالی کے ساتھ جی ڈی پی میں تعاون اور ملازمتوں کی پیداوار بھی شامل ہے۔ مرکز کے مطابق معاہدے اسی وژن کے اہداف کے مطابق ہیں۔
کیا اس منصوبے سے زرعی شعبے میں نجی سرمایہ کاری بڑھے گی؟ رپورٹ میں سات معاہدوں کا ذکر ہے جو سرمایہ کاری معاہدے کہلاتے ہیں، مگر سرمایہ کاروں کی شناخت یا نجی شعبے کی شرکت کی نوعیت واضح نہیں۔ اس لیے یہ نتیجہ اخذ کرنا قبل از وقت ہوگا کہ اس سے نجی سرمایہ کاری میں کس حد تک اضافہ ہوگا۔
رپورٹ کے مطابق یہ آغاز مرکز کی ان کوششوں کا حصہ ہے جن کا مقصد قومی پارک کی زمین کو استعمال کرنا ہے۔ یہاں ‘قومی پارک’ کی اصطلاح اس بات کی طرف اشارہ کرتی ہے کہ زمین پہلے سے کسی تحفظاتی یا مخصوص درجے میں شامل ہے، اور اس کا زرعی استعمال ایک نئی حکمت عملی ہے۔ رپورٹ میں اس بات کی وضاحت نہیں کہ زمین کے استعمال کے لیے کسی اضافی منظوری کی ضرورت ہے یا نہیں۔
کیا پہلے مرحلے کی کوئی مکمل تاریخ یا ہدف مقرر ہے؟ رپورٹ میں پہلے مرحلے کے آغاز کا ذکر ہے مگر اس کی تکمیل کی کوئی تاریخ، ہدف یا پیمائش کا معیار نہیں دیا گیا۔ اسی طرح یہ بھی واضح نہیں کہ پہلے مرحلے میں کتنے پارک یا کتنی زمین شامل ہوگی۔ یہ وہ تفصیلات ہیں جو رپورٹ میں موجود نہیں۔
مجموعی طور پر یہ اقدام تین عناصر کو جوڑتا ہے: تخریب شدہ زمین کی بحالی، دوبارہ قابل استعمال پانی کا استعمال، اور مقامی پھل دار پودوں سے معاشی پیداوار۔ مرکز کے مطابق ان عناصر کا مقصد ٹھوس معاشی منافع کے ساتھ ماحولیاتی پائیداری کو فروغ دینا ہے۔ سات معاہدے، 15 سال کی مدت، 6 بلین ریال کا جی ڈی پی تعاون اور 700 سے زیادہ براہ راست ملازمتیں اس فریم ورک کے قابل پیمائش پہلو ہیں۔
تاہم رپورٹ میں کئی اہم تفصیلات شامل نہیں: انفرادی معاہدوں کی رقم، سرمایہ کاروں کے نام، مخصوص فصلیں، پیداوار کی مقدار، پانی کے استعمال کا پیمانہ، اگلے مراحل کا شیڈول، اور پہلے مرحلے کی تکمیل کی تاریخ۔ یہ وہ معلومات ہیں جو سعودی خبر رساں ادارے ایس پی اے کی رپورٹ میں موجود نہیں تھیں۔
پائیدار زرعی پارکوں کے پہلے مرحلے کا آغاز کہاں اور کس نے کیا؟ وزارت ماحولیات، پانی اور زراعت کے وزیر اور نیشنل سینٹر فار ویجیٹیشن کور ڈیولپمنٹ اینڈ کمبیٹنگ ڈیزرٹیفیکیشن کے بورڈ چیئرمین عبدالرحمٰن الفدلی نے ریاض میں وزارت کے صدر دفتر میں پائیدار زرعی پارکوں کے پہلے مرحلے کا آغاز کیا۔ جیسا کہ سعودی خبر رساں ادارے ایس پی اے نے بیان کیا، اس موقع پر وزیر نے سات سرمایہ کاری معاہدوں پر دستخط کی سرپرستی بھی کی۔
ان معاہدوں کا جی ڈی پی میں کتنا تعاون بتایا گیا ہے؟ مرکز کے مطابق سات سرمایہ کاری معاہدوں کا مجموعی تعاون 15 سال کے دوران 6 بلین ریال جی ڈی پی ہے۔ یہ معاہدے سعودی وژن 2030 کے اہداف کے مطابق ماحولیاتی پائیداری کو فروغ دینے میں مدد دیں گے۔ رپورٹ میں یہ تفصیل نہیں دی گئی کہ یہ رقم 15 سال کے دوران کس رفتار سے جی ڈی پی میں شامل ہوگی۔
یہ معاہدے کن علاقوں میں ہوں گے اور کتنی ملازمتیں پیدا ہوں گی؟ مرکز کے مطابق یہ معاہدے مدینہ، تبوک اور مکہ کے علاقوں پر محیط ہیں، اور ان کی سرمایہ کاری کی مدت 15 سال تک ہے۔ توقع ہے کہ ان سے 700 سے زیادہ براہ راست ملازمتیں پیدا ہوں گی۔ رپورٹ میں یہ واضح نہیں کیا گیا کہ کس علاقے میں کتنے معاہدے ہوئے یا کس معاہدے سے کتنی ملازمتیں بنیں گی۔
اس منصوبے میں زمین اور پانی کا انتخاب کس بنیاد پر کیا گیا؟ مرکز کے مطابق یہ کوشش قومی پارک کی ایسی زمین کو استعمال کرنے کے لیے ہے جہاں پودوں کی افزائش کمزور اور تخریب شدہ ہے اور جو دوبارہ قابل استعمال پانی کے ذرائع کے قریب واقع ہے۔ ایسی زمین پر مقامی پھل دار پودے اگائے جائیں گے جو ٹھوس معاشی منافع پیدا کریں۔ رپورٹ میں پانی کی مقدار یا علاج کے عمل کی تفصیل نہیں دی گئی۔
کیا رپورٹ میں اگلے مراحل یا تکمیل کی تاریخ دی گئی ہے؟ رپورٹ میں صرف پہلے مرحلے کے آغاز کا ذکر ہے۔ یہ نہیں بتایا گیا کہ کتنے مراحل متوقع ہیں، اگلے مرحلے میں کون سے علاقے شامل ہوں گے، یا پہلے مرحلے کی تکمیل کی تاریخ کیا ہوگی۔ اسی طرح انفرادی معاہدوں کی رقم، سرمایہ کاروں کے نام اور مخصوص فصلوں کی تفصیل بھی رپورٹ میں موجود نہیں۔