انسانی حقوق کمیشن نے پروجیکٹ مینجمنٹ میں پورٹ فولیو، پروگرام اور پروجیکٹ مینجمنٹ میچورٹی ماڈل (P3M3) کا سرٹیفیکیشن حاصل کر لیا ہے اور اس نے ماڈل کی سب سے بلند سطح، یعنی لیول 5 حاصل کی ہے۔ یہ سرٹیفیکیشن ریاض میں کمیشن کے صدر دفتر میں منعقدہ ایک تقریب کے دوران پیش کیا گیا۔
جیسا کہ سعودی خبر رساں ادارے ایس پی اے نے بیان کیا، یہ تقریب ریاض میں کمیشن کے ہیڈ کوارٹر میں ہوئی، جہاں کمیشن کو P3M3 سرٹیفیکیشن کی لیول 5 کی سند دی گئی۔ ایس پی اے کے مطابق یہ ماڈل پورٹ فولیو، پروگرام اور پروجیکٹ مینجمنٹ میں میچورٹی کی پیمائش کرتا ہے۔
لیول 5 حاصل کرنا اس بات کا عکاس ہے کہ کمیشن کی پروجیکٹ مینجمنٹ میں میچورٹی اعلیٰ درجے پر پہنچ چکی ہے اور اس میدان میں اس کی ترقی ہوئی ہے۔ ایس پی اے کے مطابق یہ کامیابی کمیشن کی اپنے مستقبل کے اہداف حاصل کرنے کی صلاحیت کو مضبوط بنانے میں معاون ہے۔
کیا یہ سند محض ایک اعزاز ہے یا اس کے پیچھے روزمرہ کام کا ایک طویل سفر ہے؟ ایس پی اے کی رپورٹ کے مطابق سرٹیفیکیشن تقریب میں پیش کیا گیا، اور یہ P3M3 ماڈل کے تحت دیا گیا، جو پورٹ فولیو، پروگرام اور پروجیکٹ مینجمنٹ کی پختگی کو ناپنے کا ایک فریم ورک ہے۔ رپورٹ میں یہ نہیں بتایا گیا کہ تشخیص کس ادارے نے کی، نہ ہی اس میں لگنے والے وقت کا ذکر ہے۔
انسانی حقوق کمیشن کا یہ اقدام ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب سرکاری اداروں میں منصوبہ بندی اور عمل درآمد کے معیار کو جانچنے کے لیے بین الاقوامی فریم ورکس کا استعمال بڑھ رہا ہے۔ P3M3 ایک ایسا ماڈل ہے جو یہ دیکھتا ہے کہ کوئی ادارہ اپنے منصوبوں، پروگراموں اور پورٹ فولیو کو کس سطح کی پختگی کے ساتھ چلا رہا ہے۔ لیول 5 اس ماڈل کی آخری اور بلند ترین سطح ہے، اور ایس پی اے کے مطابق کمیشن نے یہی سطح حاصل کی ہے۔
کیا کوئی ادارہ صرف ایک سرٹیفیکیشن سے اپنے تمام منصوبوں کا معیار بدل سکتا ہے؟ ایس پی اے کی رپورٹ کے مطابق یہ سند کمیشن کی پروجیکٹ مینجمنٹ میں اعلیٰ پختگی اور اس شعبے میں ترقی کو ظاہر کرتی ہے۔ رپورٹ کے مطابق یہ ترقی کمیشن کی آئندہ اہداف کے حصول کی صلاحیت کو مضبوط کرنے میں مدد دیتی ہے۔ یہاں یہ بات قابلِ توجہ ہے کہ رپورٹ میں کسی مخصوص منصوبے، بجٹ، یا ٹائم لائن کا ذکر نہیں ہے۔
انسانی حقوق کمیشن کا کام بنیادی طور پر حقوق کے تحفظ اور ان کے فروغ سے جڑا ہوا ہے۔ ایسے ادارے میں پروجیکٹ مینجمنٹ کی پختگی کا مطلب یہ ہے کہ اس کے پروگرام اور اقدامات منظم انداز میں آگے بڑھائے جائیں۔ ایس پی اے کے مطابق P3M3 ماڈل پورٹ فولیو، پروگرام اور پروجیکٹ مینجمنٹ کی پیمائش کرتا ہے، اور لیول 5 اس پیمائش میں سب سے بلند مقام ہے۔
کیا بین الاقوامی سند کسی ادارے کی کارکردگی کو عوام کے سامنے ثابت کرنے کے لیے کافی ہے؟ رپورٹ میں یہ نہیں بتایا گیا کہ اس سند کے بعد کمیشن کے کام کرنے کے طریقے میں کیا تبدیلی آئے گی، نہ ہی اس کے اثرات کا کوئی جائزہ دیا گیا ہے۔ ایس پی اے کے مطابق تقریب کمیشن کے ریاض میں واقع صدر دفتر میں ہوئی، اور اسی موقع پر یہ سرٹیفیکیشن پیش کیا گیا۔
یہ سند ایک ایسے ماڈل پر مبنی ہے جس کا نام پورٹ فولیو، پروگرام اور پروجیکٹ مینجمنٹ میچورٹی ماڈل ہے۔ ایس پی اے کی رپورٹ کے مطابق کمیشن نے اس ماڈل میں لیول 5 حاصل کیا، جو کہ سب سے زیادہ پختگی کی سطح ہے۔ رپورٹ کے مطابق یہ کامیابی کمیشن کی پروجیکٹ مینجمنٹ میں اعلیٰ پختگی اور اس میدان میں ترقی کو ظاہر کرتی ہے۔
کیا اس قسم کے سرٹیفیکیشن کا تعلق صرف اندرونی نظام سے ہوتا ہے یا اس کا اثر کمیشن کی خدمات تک بھی پہنچتا ہے؟ ایس پی اے کی رپورٹ کے مطابق یہ سند کمیشن کی اپنے مستقبل کے اہداف حاصل کرنے کی صلاحیت کو مضبوط بنانے میں معاون ہے۔ رپورٹ میں اس بات کی وضاحت نہیں کی گئی کہ مستقبل کے اہداف کون سے ہیں، نہ ہی ان کی کوئی فہرست دی گئی ہے۔
انسانی حقوق کمیشن نے یہ سند ریاض میں منعقدہ ایک تقریب میں حاصل کی۔ ایس پی اے کے مطابق تقریب کمیشن کے صدر دفتر میں ہوئی۔ رپورٹ میں تقریب میں شریک افراد کے نام، عہدے یا دیگر تفصیلات شامل نہیں ہیں۔ یہ بھی واضح نہیں کہ سند کس نے پیش کی یا کس ادارے نے جاری کی۔
کیا سرٹیفیکیشن کی خبر ادارے کی روزمرہ کارکردگی کے بارے میں کچھ بتاتی ہے؟ ایس پی اے کی رپورٹ کے مطابق لیول 5 حاصل کرنا کمیشن کی پروجیکٹ مینجمنٹ میں اعلیٰ پختگی اور اس شعبے میں ترقی کو ظاہر کرتا ہے۔ رپورٹ کے مطابق یہ ترقی کمیشن کی آئندہ اہداف کے حصول کی صلاحیت کو مضبوط کرنے میں معاون ہے۔ رپورٹ میں اس سے آگے کوئی تفصیل موجود نہیں۔
P3M3 ماڈل کا استعمال عام طور پر یہ جاننے کے لیے کیا جاتا ہے کہ کوئی ادارہ اپنے منصوبوں اور پروگراموں کو کس سطح کی پختگی سے سنبھال رہا ہے۔ ایس پی اے کے مطابق یہ ماڈل پورٹ فولیو، پروگرام اور پروجیکٹ مینجمنٹ کی پیمائش کرتا ہے۔ لیول 5 اس ماڈل کی بلند ترین سطح ہے، اور کمیشن نے یہی سطح حاصل کی ہے۔
کیا اس طرح کی سند حاصل کرنے کے بعد اداروں کو اپنی کارکردگی برقرار رکھنے کے لیے مسلسل محنت کرنی پڑتی ہے؟ رپورٹ میں اس پہلو پر کوئی روشنی نہیں ڈالی گئی۔ ایس پی اے کے مطابق کمیشن کو یہ سند ریاض میں اس کے صدر دفتر میں منعقدہ تقریب کے دوران پیش کیا گیا۔ رپورٹ میں اس بات کا ذکر نہیں کہ سند کی مدت کتنی ہے یا اس کی تجدید کیسے ہوگی۔
انسانی حقوق کمیشن کے لیے یہ کامیابی اس لیے بھی اہم قرار دی جا سکتی ہے کہ یہ ادارہ اپنے کام کی نوعیت کے اعتبار سے مختلف پروگرام چلاتا ہے۔ ایس پی اے کے مطابق لیول 5 کی سند کمیشن کی پروجیکٹ مینجمنٹ میں پختگی اور ترقی کو ظاہر کرتی ہے۔ رپورٹ کے مطابق یہ پختگی کمیشن کی مستقبل کے اہداف حاصل کرنے کی صلاحیت کو مضبوط بنانے میں معاون ہے۔
کیا بین الاقوامی ماڈلز پر عمل درآمد سے اداروں کے فیصلہ سازی کے انداز میں بھی تبدیلی آتی ہے؟ ایس پی اے کی رپورٹ میں اس سوال کا کوئی جواب موجود نہیں۔ رپورٹ صرف یہ بتاتی ہے کہ کمیشن نے P3M3 سرٹیفیکیشن کی لیول 5 حاصل کی، اور یہ سند ریاض میں اس کے صدر دفتر میں ہونے والی تقریب میں پیش کی گئی۔
یہ خبر سعودی خبر رساں ادارے ایس پی اے نے جاری کی، جس میں بتایا گیا کہ انسانی حقوق کمیشن نے پروجیکٹ مینجمنٹ میں P3M3 سرٹیفیکیشن حاصل کیا اور لیول 5 تک پہنچا۔ ایس پی اے کے مطابق یہ ماڈل پورٹ فولیو، پروگرام اور پروجیکٹ مینجمنٹ میں پختگی کی پیمائش کرتا ہے۔ رپورٹ کے مطابق لیول 5 حاصل کرنا کمیشن کی اعلیٰ پختگی اور اس میدان میں ترقی کو ظاہر کرتا ہے۔
کیا اس سند کے حصول کے بعد کمیشن کے منصوبوں کی تعداد یا نوعیت میں کوئی اضافہ ہوگا؟ ایس پی اے کی رپورٹ میں اس بارے میں کوئی معلومات نہیں دی گئیں۔ رپورٹ میں نہ کسی منصوبے کا نام ہے، نہ بجٹ کا ذکر، نہ ہی کسی ٹائم فریم کی نشاندہی۔ صرف یہ بتایا گیا ہے کہ سند ریاض میں کمیشن کے صدر دفتر میں منعقدہ تقریب میں پیش کی گئی۔
انسانی حقوق کمیشن کی یہ کامیابی ایک ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب اداروں میں بہتر منصوبہ بندی اور عمل درآمد کو ترجیح دی جا رہی ہے۔ ایس پی اے کے مطابق لیول 5 حاصل کرنا کمیشن کی پروجیکٹ مینجمنٹ میں اعلیٰ پختگی اور اس شعبے میں ترقی کو ظاہر کرتا ہے۔ رپورٹ کے مطابق یہ ترقی کمیشن کی آئندہ اہداف کے حصول کی صلاحیت کو مضبوط کرنے میں معاون ہے۔
کیا اس طرح کے سرٹیفیکیشن کا کوئی عوامی پہلو بھی ہوتا ہے؟ رپورٹ میں اس کا کوئی ذکر نہیں۔ ایس پی اے کے مطابق تقریب کمیشن کے ریاض میں واقع صدر دفتر میں ہوئی، اور اسی موقع پر P3M3 سرٹیفیکیشن کی لیول 5 پیش کی گئی۔ رپورٹ میں اس سے مزید کوئی تفصیل فراہم نہیں کی گئی۔
ایس پی اے کی رپورٹ کے مطابق انسانی حقوق کمیشن نے پروجیکٹ مینجمنٹ میں پورٹ فولیو، پروگرام اور پروجیکٹ مینجمنٹ میچورٹی ماڈل کا سرٹیفیکیشن حاصل کیا اور لیول 5 تک پہنچا، جو اس ماڈل کی بلند ترین سطح ہے۔ رپورٹ کے مطابق یہ سند ریاض میں کمیشن کے صدر دفتر میں منعقدہ تقریب کے دوران پیش کی گئی۔ رپورٹ میں اس کے علاوہ کوئی اضافی تفصیل موجود نہیں۔
انسانی حقوق کمیشن نے کون سی سند حاصل کی؟ ایس پی اے کے مطابق انسانی حقوق کمیشن نے پورٹ فولیو، پروگرام اور پروجیکٹ مینجمنٹ میچورٹی ماڈل یعنی P3M3 کا سرٹیفیکیشن حاصل کیا۔ رپورٹ کے مطابق کمیشن نے اس ماڈل کی لیول 5 حاصل کی، جو سب سے بلند پختگی کی سطح ہے۔ یہ سند ریاض میں کمیشن کے صدر دفتر میں منعقدہ تقریب کے دوران پیش کی گئی۔ رپورٹ میں اس سے آگے کوئی تفصیل نہیں دی گئی۔
P3M3 ماڈل کیا پیمائش کرتا ہے؟ ایس پی اے کی رپورٹ کے مطابق P3M3 ماڈل پورٹ فولیو، پروگرام اور پروجیکٹ مینجمنٹ میں پختگی کی پیمائش کرتا ہے۔ رپورٹ کے مطابق اس ماڈل میں لیول 5 سب سے زیادہ پختگی کی سطح ہے۔ کمیشن نے اسی سطح کو حاصل کیا۔ رپورٹ میں ماڈل کے اجزاء یا تشخیص کے طریقہ کار کی مزید وضاحت موجود نہیں۔
لیول 5 حاصل کرنے کا کیا مطلب ہے؟ ایس پی اے کے مطابق لیول 5 حاصل کرنا کمیشن کی پروجیکٹ مینجمنٹ میں اعلیٰ پختگی اور اس شعبے میں ترقی کو ظاہر کرتا ہے۔ رپورٹ کے مطابق یہ کامیابی کمیشن کی اپنے مستقبل کے اہداف حاصل کرنے کی صلاحیت کو مضبوط بنانے میں معاون ہے۔ رپورٹ میں یہ نہیں بتایا گیا کہ مستقبل کے اہداف کون سے ہیں یا ان کا دائرہ کیا ہے۔
سرٹیفیکیشن کہاں اور کیسے پیش کیا گیا؟ ایس پی اے کے مطابق یہ سرٹیفیکیشن ایک تقریب کے دوران پیش کیا گیا جو کمیشن کے صدر دفتر میں منعقد ہوئی۔ رپورٹ کے مطابق یہ تقریب ریاض میں ہوئی۔ رپورٹ میں تقریب میں شریک افراد کے نام یا عہدے شامل نہیں ہیں، اور یہ بھی واضح نہیں کہ سند کس ادارے نے جاری کی یا کس نے پیش کی۔
کیا رپورٹ میں سند کی مدت یا تجدید کا ذکر ہے؟ ایس پی اے کی رپورٹ میں سند کی مدت، تجدید یا اس کے تسلسل کے بارے میں کوئی معلومات موجود نہیں ہیں۔ رپورٹ کے مطابق کمیشن نے P3M3 سرٹیفیکیشن کی لیول 5 حاصل کی اور یہ سند ریاض میں اس کے صدر دفتر میں منعقدہ تقریب میں پیش کی گئی۔ رپورٹ میں اس کے علاوہ کوئی اضافی تفصیل فراہم نہیں کی گئی۔
کیا رپورٹ میں کسی مخصوص منصوبے کا ذکر ہے؟ ایس پی اے کی رپورٹ میں کسی مخصوص منصوبے، پروگرام یا پورٹ فولیو کا نام نہیں دیا گیا۔ رپورٹ کے مطابق کمیشن نے پروجیکٹ مینجمنٹ میں P3M3 سرٹیفیکیشن کی لیول 5 حاصل کی، جو اس ماڈل کی بلند ترین سطح ہے۔ رپورٹ کے مطابق یہ سند ریاض میں کمیشن کے صدر دفتر میں منعقدہ تقریب کے دوران پیش کی گئی۔





