Friday, October 30, 2026
سعودی خبریں

سعودی میڈیا اکیڈمی نے میڈیا لیڈرز پروگرام کے دوسرے ایڈیشن کا اختتام کیا

سعودی میڈیا اکیڈمی نے میڈیا لیڈرز پروگرام کے دوسرے ایڈیشن کا اختتام کیا

سعودی میڈیا اکیڈمی، جو وزارت میڈیا سے منسلک ہے، نے میڈیا لیڈرز پروگرام کے دوسرے ایڈیشن کا اختتام ریاض میں وزارت میڈیا کے ہیڈ کوارٹر میں منعقدہ ایک تقریب کے دوران کیا، جس میں نائب وزیر میڈیا اور اکیڈمی کے بورڈ آف ڈائریکٹرز کے چیئرمین ڈاکٹر عبداللہ بن احمد المغلوت اور متعدد حکام اور شریک لیڈرز نے شرکت کی۔

جیسا کہ سعودی خبر رساں ادارے ایس پی اے نے 6 اکتوبر 2026 کو بیان کیا، تقریب کے دوران نائب وزیر میڈیا نے شرکاء کو برطانیہ اور فرانس میں پروگرام کے دو تربیتی مراحل مکمل کرنے کے بعد اسنادِ تکمیل پیش کیں۔ انہوں نے ایلم کمپنی کی طرف سے امداد اور زنجبیل کریٹو کمپنی کو بھی اعزاز سے نوازا، جو تربیتی پروگراموں کے نفاذ میں معاونت اور پروگرام کے نتائج کے معیار کو بہتر بنانے میں ان کے کردار کے اعتراف میں تھا۔ شرکاء نے جامع تربیتی تجربے کی تعریف کی، جس نے مملکت کے مختلف شعبوں میں میڈیا لیڈرز کو بااختیار بنانے کی کوششوں میں معیاری اضافہ کیا۔

دو ہفتوں کے دوران، سرکاری اور نجی شعبوں سے تعلق رکھنے والے 40 مرد و خواتین لیڈرز نے دو شدید بین الاقوامی تربیتی پروگراموں میں حصہ لیا، جن میں مجموعی طور پر 48 تربیتی گھنٹے شامل تھے۔ ان پروگراموں میں لیکچرز اور انٹرایکٹو ورکشاپس کے ذریعے تعلیمی اور عملی پہلوؤں کو یکجا کیا گیا، جو نو بین الاقوامی ماہرین نے پیش کیں، اس کے ساتھ برطانوی اور فرانسیسی میڈیا اداروں کے چار فیلڈ دورے بھی شامل تھے۔

تربیتی پروگرام دو مراحل پر مشتمل تھا۔ پہلا مرحلہ برطانوی دارالحکومت لندن میں شروع ہوا، جہاں لندن بزنس اسکول (ایل بی ایس) کے تعاون سے میڈیا میں اسٹریٹجک لیڈرشپ اور ادارہ جاتی تبدیلی کا پروگرام منعقد ہوا، جو ایگزیکٹو ایجوکیشن پروگراموں میں عالمی سطح پر پہلے نمبر پر ہے۔ دوسرا اور آخری مرحلہ فرانسیسی شہر فونٹین بلیو میں ہوا، جہاں انسیڈ کے تعاون سے میڈیا میں اثر و رسوخ اور جدت کے لیے ایڈوانسڈ لیڈرشپ کا پروگرام منعقد ہوا، جو فنانشل ٹائمز کی یورپی بزنس اسکولز رینکنگ میں یورپ میں پہلے نمبر پر ہے۔

یہ پروگرام سعودی میڈیا اکیڈمی کی جانب سے میڈیا کے شعبے میں قائدانہ صلاحیتوں کو فروغ دینے اور مملکت کے میڈیا منظرنامے کو مضبوط بنانے کے لیے جاری کوششوں کا حصہ ہے۔ اکیڈمی وزارت میڈیا کے تحت کام کرتی ہے اور اس کا مقصد میڈیا پیشہ ور افراد کو جدید مہارتوں سے آراستہ کرنا ہے۔

کیا آپ جانتے ہیں کہ اس پروگرام میں نو بین الاقوامی ماہرین نے تربیت دی؟ یہ ماہرین مختلف شعبوں سے تعلق رکھتے تھے اور انہوں نے شرکاء کو عملی اور تعلیمی دونوں پہلوؤں سے روشناس کرایا۔

تقریب میں شرکاء نے تربیتی تجربے کو جامع قرار دیا اور کہا کہ اس نے میڈیا لیڈرز کو بااختیار بنانے کی کوششوں میں معیاری اضافہ کیا۔ کیا یہ تجربہ مملکت کے میڈیا شعبے میں حقیقی تبدیلی لا سکتا ہے؟

پروگرام کے دو مراحل میں سے پہلا مرحلہ لندن میں لندن بزنس اسکول کے ساتھ شراکت میں منعقد ہوا، جو ایگزیکٹو ایجوکیشن میں عالمی سطح پر پہلی پوزیشن رکھتا ہے۔ دوسرا مرحلہ فرانس کے شہر فونٹین بلیو میں انسیڈ کے ساتھ ہوا، جو یورپ میں پہلی پوزیشن رکھتا ہے۔ کیا بین الاقوامی تعاون اس طرح کے پروگراموں کو مزید مؤثر بناتا ہے؟

شرکاء کی تعداد 40 تھی، جن میں مرد و خواتین دونوں شامل تھے اور وہ سرکاری اور نجی دونوں شعبوں سے آئے تھے۔ انہوں نے مجموعی طور پر 48 تربیتی گھنٹے مکمل کیے، جو دو ہفتوں پر محیط تھے۔ کیا اس مدت میں اتنی شدید تربیت کافی ہے؟

پروگرام میں چار فیلڈ دورے بھی شامل تھے، جو برطانوی اور فرانسیسی میڈیا اداروں میں کیے گئے۔ ان دوروں کا مقصد شرکاء کو عملی ماحول سے روشناس کرانا تھا۔ کیا اس طرح کے دورے تربیتی پروگرام کا لازمی حصہ ہونے چاہئیں؟

تقریب میں ایلم کمپنی کی طرف سے امداد اور زنجبیل کریٹو کمپنی کو اعزاز سے نوازا گیا، جو تربیتی پروگراموں کے نفاذ میں معاونت اور نتائج کے معیار کو بہتر بنانے میں ان کے کردار کے اعتراف میں تھا۔ کیا نجی شعبے کی شراکت اس طرح کے پروگراموں کے لیے ضروری ہے؟

نائب وزیر میڈیا ڈاکٹر عبداللہ بن احمد المغلوت نے شرکاء کو اسنادِ تکمیل پیش کیں۔ تقریب میں متعدد حکام اور شریک لیڈرز بھی موجود تھے۔ کیا اس طرح کی تقریبات شرکاء کے حوصلے کو بلند کرتی ہیں؟

سعودی میڈیا اکیڈمی وزارت میڈیا کی زیر نگرانی کام کرتی ہے اور اس کا مقصد میڈیا کے شعبے میں قائدانہ صلاحیتوں کو فروغ دینا ہے۔ یہ پروگرام اپنے دوسرے ایڈیشن میں مزید وسعت اختیار کر چکا ہے۔ کیا آئندہ ایڈیشنز میں مزید شرکاء شامل کیے جائیں گے؟

رپورٹ میں یہ نہیں بتایا گیا کہ پروگرام کے شرکاء کے انتخاب کا معیار کیا تھا، نہ ہی یہ کہ آئندہ ایڈیشن کب شروع ہوگا۔ ایس پی اے کی رپورٹ میں تربیتی پروگراموں کے اخراجات یا اس کے طویل مدتی اثرات کے بارے میں بھی کوئی تفصیل نہیں دی گئی۔

میڈیا لیڈرز پروگرام کے دوسرے ایڈیشن میں کتنے شرکاء نے حصہ لیا؟ سرکاری اور نجی شعبوں سے تعلق رکھنے والے 40 مرد و خواتین لیڈرز نے اس پروگرام میں حصہ لیا۔ انہوں نے دو ہفتوں کے دوران مجموعی طور پر 48 تربیتی گھنٹے مکمل کیے۔ تربیت دو مراحل پر مشتمل تھی، جن میں سے پہلا لندن اور دوسرا فرانس کے شہر فونٹین بلیو میں منعقد ہوا۔ ایس پی اے کے مطابق شرکاء نے جامع تربیتی تجربے کی تعریف کی۔

تربیتی پروگرام کے دو مراحل کہاں منعقد ہوئے؟ پہلا مرحلہ برطانوی دارالحکومت لندن میں لندن بزنس اسکول کے تعاون سے منعقد ہوا، جس کا عنوان میڈیا میں اسٹریٹجک لیڈرشپ اور ادارہ جاتی تبدیلی تھا۔ دوسرا اور آخری مرحلہ فرانسیسی شہر فونٹین بلیو میں انسیڈ کے تعاون سے ہوا، جس کا عنوان میڈیا میں اثر و رسوخ اور جدت کے لیے ایڈوانسڈ لیڈرشپ تھا۔ ایل بی ایس ایگزیکٹو ایجوکیشن میں عالمی سطح پر پہلے نمبر پر ہے۔

تقریب میں کس کو اعزاز سے نوازا گیا؟ نائب وزیر میڈیا ڈاکٹر عبداللہ بن احمد المغلوت نے شرکاء کو اسنادِ تکمیل پیش کیں۔ انہوں نے ایلم کمپنی کی طرف سے امداد اور زنجبیل کریٹو کمپنی کو بھی اعزاز سے نوازا، جو تربیتی پروگراموں کے نفاذ میں معاونت اور نتائج کے معیار کو بہتر بنانے میں ان کے کردار کے اعتراف میں تھا۔ تقریب وزارت میڈیا کے ہیڈ کوارٹر میں منعقد ہوئی۔

پروگرام میں کتنے بین الاقوامی ماہرین نے تربیت دی؟ نو بین الاقوامی ماہرین نے لیکچرز اور انٹرایکٹو ورکشاپس کے ذریعے تربیت دی۔ ان پروگراموں میں تعلیمی اور عملی پہلوؤں کو یکجا کیا گیا۔ اس کے علاوہ برطانوی اور فرانسیسی میڈیا اداروں کے چار فیلڈ دورے بھی شامل تھے۔ ایس پی اے کے مطابق شرکاء نے اس تجربے کو جامع قرار دیا اور کہا کہ اس نے میڈیا لیڈرز کو بااختیار بنانے کی کوششوں میں معیاری اضافہ کیا۔

سعودی میڈیا اکیڈمی کس سے منسلک ہے؟ سعودی میڈیا اکیڈمی وزارت میڈیا سے منسلک ہے اور اس کے بورڈ آف ڈائریکٹرز کے چیئرمین نائب وزیر میڈیا ڈاکٹر عبداللہ بن احمد المغلوت ہیں۔ اکیڈمی کا مقصد میڈیا کے شعبے میں قائدانہ صلاحیتوں کو فروغ دینا اور مملکت کے میڈیا منظرنامے کو مضبوط بنانا ہے۔ یہ پروگرام اکیڈمی کی جانب سے جاری کوششوں کا حصہ ہے۔

رپورٹ میں کون سی معلومات شامل نہیں کی گئیں؟ رپورٹ میں یہ نہیں بتایا گیا کہ شرکاء کے انتخاب کا معیار کیا تھا، نہ ہی آئندہ ایڈیشن کی تاریخ کا ذکر ہے۔ تربیتی پروگراموں کے اخراجات یا ان کے طویل مدتی اثرات کے بارے میں بھی کوئی تفصیل نہیں دی گئی۔ ایس پی اے نے صرف تقریب، شرکاء کی تعداد، تربیتی مراحل اور اعزاز یافتہ اداروں کی معلومات فراہم کیں۔