قاہرہ میں عرب پارلیمنٹ کے صدر محمد الیماحی نے جازان اور نجران کے ہوائی اڈوں کو نشانہ بنانے والے حوثی ملیشیا کے مسلسل حملوں کی شدید ترین الفاظ میں مذمت کی ہے، جن کے نتیجے میں زخمی ہوئے اور مادی نقصان پہنچا۔
جیسا کہ سعودی خبر رساں ادارے ایس پی اے نے 6 اکتوبر 2026 کو بیان کیا، الیماحی نے کہا کہ شہروں اور شہری تنصیبات کو نشانہ بنانا بین الاقوامی قانون کی خلاف ورزی ہے اور یہ علاقائی سلامتی اور استحکام کے لیے خطرہ ہے۔
عرب پارلیمنٹ کے صدر نے ایک بیان میں سعودی عرب کے ساتھ عرب پارلیمنٹ کی مکمل یکجہتی کا اعادہ کیا اور اس کے امن اور شہریوں اور رہائشیوں کی حفاظت کے لیے اٹھائے گئے اقدامات کی حمایت کی۔ انہوں نے زور دیا کہ بین الاقوامی برادری کو ان حملوں کے حوالے سے اپنی ذمہ داریاں پوری کرنی چاہئیں، ذمہ داروں کو جوابدہ بنانا چاہیے اور خطے میں سلامتی اور استحکام کو مضبوط بنانے کی کوششوں کی حمایت کرنی چاہیے۔ انہوں نے دہرایا کہ مملکت کی سلامتی عرب قومی سلامتی کا اٹوٹ حصہ ہے۔
یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب جازان اور نجران کے ہوائی اڈوں کو نشانہ بنایا گیا، جس کے نتیجے میں زخمی ہوئے اور مادی نقصان ہوا۔ عرب پارلیمنٹ کے صدر نے ان حملوں کو شہری تنصیبات پر حملہ قرار دیا اور کہا کہ یہ بین الاقوامی قانون کی خلاف ورزی ہے۔ کیا شہری ہوائی اڈوں کو نشانہ بنانا کسی بھی صورت میں جائز قرار دیا جا سکتا ہے؟
الیماحی کا بیان عرب پارلیمنٹ کے اس موقف کا تسلسل ہے جس میں وہ مملکت کی سلامتی کو عرب قومی سلامتی کا حصہ قرار دیتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ سعودی عرب کے خلاف حملے صرف ایک ملک کے خلاف نہیں بلکہ پورے خطے کے امن کے خلاف ہیں۔ کیا بین الاقوامی برادری ان حملوں کے ذمہ داروں کو جوابدہ بنانے کے لیے اپنی ذمہ داریاں پوری کر رہی ہے؟
بیان میں عرب پارلیمنٹ کی مکمل یکجہتی کا اعادہ کیا گیا اور مملکت کے امن اور شہریوں اور رہائشیوں کی حفاظت کے لیے اٹھائے گئے اقدامات کی حمایت کی گئی۔ الیماحی نے کہا کہ یہ اقدامات مملکت کی خودمختاری اور عوام کی حفاظت کے لیے ضروری ہیں۔ کیا خطے میں سلامتی اور استحکام کو مضبوط بنانے کے لیے عرب ممالک کے مشترکہ اقدامات کی ضرورت نہیں؟
عرب پارلیمنٹ کے صدر نے بین الاقوامی برادری پر زور دیا کہ وہ ان حملوں کے حوالے سے اپنی ذمہ داریاں پوری کرے اور ذمہ داروں کو جوابدہ بنائے۔ انہوں نے کہا کہ خاموشی یا بے حسی ان حملوں کو مزید ہوا دے سکتی ہے۔ کیا بین الاقوامی ادارے شہری تنصیبات پر حملوں کے خلاف واضح اور مؤثر موقف اختیار کر رہے ہیں؟
انہوں نے دہرایا کہ مملکت کی سلامتی عرب قومی سلامتی کا اٹوٹ حصہ ہے اور اسے کسی بھی قسم کا نقصان پہنچانا پورے خطے کے لیے خطرہ ہے۔ یہ موقف عرب پارلیمنٹ کے اس عزم کا اظہار ہے کہ مملکت کے خلاف کسی بھی جارحیت کو برداشت نہیں کیا جائے گا۔ کیا عرب قومی سلامتی کے تصور کو تقویت دینے کے لیے مزید مشترکہ کوششوں کی ضرورت نہیں؟
جازان اور نجران کے ہوائی اڈوں پر حملوں کے نتیجے میں زخمی ہوئے اور مادی نقصان پہنچا، جس کی مذمت عرب پارلیمنٹ کے صدر نے شدید ترین الفاظ میں کی۔ انہوں نے کہا کہ شہریوں اور شہری تنصیبات کو نشانہ بنانا بین الاقوامی قانون کی صریح خلاف ورزی ہے۔ کیا شہریوں کو نشانہ بنانے والے حملوں کے خلاف عالمی سطح پر مؤثر قانونی کارروائی ہو رہی ہے؟
الیماحی نے کہا کہ ان حملوں سے علاقائی سلامتی اور استحکام کو خطرہ لاحق ہے اور اس سلسلے کو روکنا ضروری ہے۔ انہوں نے بین الاقوامی برادری سے مطالبہ کیا کہ وہ خطے میں سلامتی اور استحکام کو مضبوط بنانے کی کوششوں کی حمایت کرے۔ کیا علاقائی استحکام کے لیے بین الاقوامی تعاون کا فقدان ایک بڑا چیلنج نہیں؟
عرب پارلیمنٹ کے صدر کا بیان قاہرہ سے جاری ہوا، جہاں انہوں نے مملکت کے ساتھ یکجہتی کا اعادہ کیا اور ذمہ داروں کے خلاف جوابدہی کی ضرورت پر زور دیا۔ انہوں نے کہا کہ مملکت کے امن اور شہریوں کی حفاظت کے لیے اٹھائے گئے اقدامات کی مکمل حمایت کی جاتی ہے۔ کیا عرب پارلیمنٹ کے اس موقف سے خطے میں مزید یکجہتی کی راہ ہموار ہوگی؟
ایس پی اے کی رپورٹ کے مطابق، عرب پارلیمنٹ کے صدر نے ان حملوں کو بین الاقوامی قانون کی خلاف ورزی قرار دیا اور کہا کہ یہ علاقائی سلامتی اور استحکام کے لیے خطرہ ہیں۔ انہوں نے بین الاقوامی برادری پر زور دیا کہ وہ اپنی ذمہ داریاں پوری کرے اور ذمہ داروں کو جوابدہ بنائے۔ رپورٹ میں حملوں کی مزید تفصیلات، جیسے وقت، ہلاکتوں کی تعداد یا نقصان کی مقدار، نہیں دی گئیں۔
عرب پارلیمنٹ کے صدر نے کس واقعے کی مذمت کی؟ عرب پارلیمنٹ کے صدر محمد الیماحی نے حوثی ملیشیا کے ان حملوں کی شدید مذمت کی جن میں جازان اور نجران کے ہوائی اڈوں کو نشانہ بنایا گیا۔ ایس پی اے کے مطابق ان حملوں کے نتیجے میں زخمی ہوئے اور مادی نقصان پہنچا۔ انہوں نے کہا کہ شہروں اور شہری تنصیبات کو نشانہ بنانا بین الاقوامی قانون کی خلاف ورزی ہے۔
الیماحی نے بین الاقوامی برادری سے کیا مطالبہ کیا؟ الیماحی نے بین الاقوامی برادری پر زور دیا کہ وہ ان حملوں کے حوالے سے اپنی ذمہ داریاں پوری کرے، ذمہ داروں کو جوابدہ بنائے اور خطے میں سلامتی اور استحکام کو مضبوط بنانے کی کوششوں کی حمایت کرے۔ انہوں نے کہا کہ خاموشی ان حملوں کو مزید ہوا دے سکتی ہے۔ ایس پی اے نے مطالبے کی مزید تفصیل نہیں دی۔
عرب پارلیمنٹ نے سعودی عرب کے ساتھ کیا موقف اختیار کیا؟ عرب پارلیمنٹ کے صدر نے مملکت کے ساتھ عرب پارلیمنٹ کی مکمل یکجہتی کا اعادہ کیا اور مملکت کے امن اور شہریوں اور رہائشیوں کی حفاظت کے لیے اٹھائے گئے اقدامات کی حمایت کی۔ انہوں نے کہا کہ مملکت کی سلامتی عرب قومی سلامتی کا اٹوٹ حصہ ہے۔ یہ بیان قاہرہ سے جاری ہوا۔





