Saturday, November 7, 2026
سعودی خبریں

جی اے ایس ٹی اے ٹی نے جدہ میں عرب شماریاتی ادارے کی بورڈ آف ٹرسٹیز کا 51واں اجلاس میزبانی کیا

جی اے ایس ٹی اے ٹی نے جدہ میں عرب شماریاتی ادارے کی بورڈ آف ٹرسٹیز کا 51واں اجلاس میزبانی کیا

جدہ میں عرب انسٹی ٹیوٹ فار ٹریننگ اینڈ ریسرچ ان شماریات کے بورڈ آف ٹرسٹیز کا 51واں اجلاس منعقد ہوا، جس کی میزبانی جنرل اتھارٹی فار سٹیٹسٹکس (جی اے ایس ٹی اے ٹی) نے کی۔ اجلاس میں عرب شماریاتی اداروں کے سربراہان اور نمائندوں نے شرکت کی۔ یہ اجلاس ایسے وقت میں ہوا جب سعودی عرب نومبر 2026 میں ریاض میں اقوام متحدہ کے چھٹے ورلڈ ڈیٹا فورم کی میزبانی کی تیاری کر رہا ہے۔

جیسا کہ سعودی خبر رساں ادارے ایس پی اے نے بیان کیا، اجلاس میں عرب ممالک میں شماریاتی صلاحیتوں کو مضبوط بنانے سے متعلق متعدد امور پر بات چیت کی گئی۔ شرکاء نے تربیت اور تحقیق کے کردار کو بڑھانے پر بھی غور کیا تاکہ تیز رفتار پیش رفت کے ساتھ ہم آہنگی برقرار رکھی جا سکے۔

تیز رفتار پیش رفت اور جدید ٹولز پر تبادلہ خیال

اجلاس میں ٹیکنالوجی کی پیش رفت اور جدید ٹولز کے استعمال پر خصوصی توجہ دی گئی، جن کا مقصد سرکاری اعداد و شمار کے معیار کو بہتر بنانا ہے۔ شرکاء نے اس بات پر زور دیا کہ شماریاتی نظام کو جدید تقاضوں کے مطابق ڈھالنا ضروری ہے۔ کیا عرب خطے کے شماریاتی ادارے ٹیکنالوجی کی تیز رفتار تبدیلیوں کے ساتھ قدم سے قدم ملا کر چل پائیں گے؟ یہ سوال اجلاس کے مرکزی موضوعات میں شامل رہا۔

عرب انسٹی ٹیوٹ فار ٹریننگ اینڈ ریسرچ ان شماریات کا کردار عرب ممالک میں شماریاتی عملے کی تربیت اور تحقیقی صلاحیتوں کو فروغ دینا ہے۔ بورڈ آف ٹرسٹیز کا اجلاس اس ادارے کی حکمت عملی اور مستقبل کے منصوبوں کا جائزہ لینے کا اہم موقع ہوتا ہے۔ 51واں اجلاس اس سلسلے کی تسلسل کو ظاہر کرتا ہے۔

جدہ میں ہونے والے اس اجلاس میں عرب شماریاتی اداروں کے سربراہان اور نمائندوں کی موجودگی اس بات کی عکاسی کرتی ہے کہ خطے میں شماریاتی تعاون کو کس سطح پر اہمیت دی جاتی ہے۔ کیا مشترکہ تربیتی پروگرام عرب ممالک کے اعداد و شمار کے معیار میں یکسانیت لا سکیں گے؟ شرکاء نے اس پہلو پر بھی غور کیا۔

اجلاس کا ایک اہم تناظر سعودی عرب کی جانب سے نومبر 2026 میں ریاض میں اقوام متحدہ کے چھٹے ورلڈ ڈیٹا فورم کی میزبانی ہے۔ یہ فورم عالمی ڈیٹا کمیونٹی کو ایک جگہ جمع کرے گا تاکہ ڈیٹا اور شماریات کے مستقبل پر بات چیت کی جا سکے۔ فورم کا مقصد بین الاقوامی شراکت داری اور تعاون کو مضبوط بنانا بھی ہے۔

کیا ریاض میں ہونے والا عالمی فورم عرب شماریاتی اداروں کے لیے نئے مواقع پیدا کرے گا؟ یہ سوال اس وقت مزید اہمیت اختیار کر جاتا ہے جب خطے کے ادارے اپنی صلاحیتوں کو بڑھانے کے لیے کوشاں ہیں۔ ورلڈ ڈیٹا فورم کا انعقاد سعودی عرب کی شماریاتی شعبے میں بڑھتی ہوئی مصروفیت کو ظاہر کرتا ہے۔

جی اے ایس ٹی اے ٹی کی میزبانی میں ہونے والا یہ اجلاس عرب ممالک کے درمیان شماریاتی تعاون کے تسلسل کا حصہ ہے۔ ادارے کی جانب سے تربیت اور تحقیق پر زور اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ اعداد و شمار کے شعبے میں انسانی وسائل کی ترقی کو بنیادی اہمیت حاصل ہے۔ کیا تربیتی پروگراموں کے نتائج عملی سطح پر نظر آئیں گے؟

اجلاس میں جدید ٹولز کے استعمال پر بات چیت اس بات کی عکاسی کرتی ہے کہ روایتی شماریاتی طریقوں کو جدید تقاضوں کے مطابق ڈھالنے کی ضرورت محسوس کی جا رہی ہے۔ ٹیکنالوجی کے بڑھتے استعمال کے ساتھ اعداد و شمار کی درستگی اور بروقت دستیابی اہم چیلنجز بن چکے ہیں۔ شرکاء نے ان پہلوؤں پر تبادلہ خیال کیا۔

عرب خطے میں شماریاتی اداروں کے درمیان مشترکہ کوششیں پہلے بھی جاری رہی ہیں، اور اس اجلاس نے ان کوششوں کو مزید تقویت دینے کا موقع فراہم کیا۔ سربراہان اور نمائندوں کی شرکت سے مختلف ممالک کے تجربات کے تبادلے کا موقع ملا۔ کیا اس طرح کے اجلاس خطے میں شماریاتی یکسانیت کے لیے راہ ہموار کریں گے؟

سعودی عرب کی جانب سے ورلڈ ڈیٹا فورم کی میزبانی اس بات کا اشارہ ہے کہ مملکت عالمی سطح پر ڈیٹا اور شماریات کے مباحث میں فعال کردار ادا کرنا چاہتی ہے۔ نومبر 2026 کی تاریخ اس عالمی اجتماع کے لیے مقرر ہے، جس میں دنیا بھر سے ماہرین شرکت کریں گے۔ فورم کے ایجنڈے میں ڈیٹا کے مستقبل اور بین الاقوامی تعاون شامل ہیں۔

کیا عالمی فورم کے انعقاد سے سعودی عرب کے شماریاتی نظام کو بین الاقوامی معیارات کے قریب لانے میں مدد ملے گی؟ یہ سوال اس تناظر میں اہم ہے کہ مملکت اپنے اعداد و شمار کے نظام کو مسلسل ترقی دے رہی ہے۔ جی اے ایس ٹی اے ٹی اس سلسلے میں مرکزی ادارے کی حیثیت رکھتی ہے۔

اجلاس میں عرب ممالک میں شماریاتی صلاحیتوں کو مضبوط بنانے کے موضوع پر تفصیلی غور کیا گیا۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ ادارہ جاتی صلاحیتوں کی تعمیر اور انسانی وسائل کی تربیت کو ترجیح دی جا رہی ہے۔ تربیت اور تحقیق کے کردار کو بڑھانے پر اتفاق اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ خطے کے ادارے مشترکہ چیلنجز کا سامنا کر رہے ہیں۔

جدہ کا انتخاب بھی قابل غور ہے، کیونکہ یہ شہر سعودی عرب کا اہم اقتصادی اور انتظامی مرکز ہے۔ یہاں ایسے بین الاقوامی اور علاقائی اجلاسوں کی میزبانی کے لیے سازگار ماحول موجود ہے۔ کیا جدہ آئندہ بھی اس نوعیت کے شماریاتی اجلاسوں کا مرکز رہے گا؟

عرب انسٹی ٹیوٹ فار ٹریننگ اینڈ ریسرچ ان شماریات کے بورڈ آف ٹرسٹیز کا یہ 51واں اجلاس اس ادارے کی طویل تاریخ اور تسلسل کو ظاہر کرتا ہے۔ ہر اجلاس میں رکن ممالک کے نمائندے شرکت کرتے ہیں اور ادارے کی کارکردگی کا جائزہ لیتے ہیں۔ اس بار بھی شرکاء نے ادارے کے کام کا جائزہ لیا اور آئندہ کے لیے تجاویز پر غور کیا۔

کیا عرب ممالک کے شماریاتی ادارے جدید ٹیکنالوجی کے استعمال میں ہم آہنگ ہو پائیں گے؟ یہ چیلنج مختلف ممالک کی مختلف صلاحیتوں کے پیش نظر مزید پیچیدہ ہو جاتا ہے۔ اجلاس میں اس بات پر زور دیا گیا کہ تربیت اور تحقیق کے ذریعے ان فرقوں کو کم کیا جا سکتا ہے۔

سعودی خبر رساں ادارے ایس پی اے کے مطابق اجلاس میں شماریاتی صلاحیتوں، تربیت اور تحقیق کے کردار، اور جدید ٹولز کے استعمال جیسے موضوعات شامل تھے۔ رپورٹ میں اجلاس کے شرکاء کی تفصیلی فہرست، قراردادوں کی نوعیت، یا آئندہ اجلاس کے شیڈول کے بارے میں مزید معلومات نہیں دی گئیں۔

ورلڈ ڈیٹا فورم کے حوالے سے بھی رپورٹ میں صرف یہ بتایا گیا کہ یہ نومبر 2026 میں ریاض میں ہوگا اور اس میں عالمی ڈیٹا کمیونٹی شرکت کرے گی۔ فورم کے ایجنڈے، شرکاء کی تعداد، یا مخصوص موضوعات کی تفصیلات فراہم نہیں کی گئیں۔

مجموعی طور پر، جدہ میں ہونے والا یہ اجلاس عرب خطے میں شماریاتی تعاون کے تسلسل اور سعودی عرب کی بڑھتی ہوئی بین الاقوامی مصروفیت دونوں کا عکاس ہے۔ نومبر 2026 میں ریاض میں ہونے والا عالمی فورم اس سلسلے کا اگلا اہم مرحلہ ہوگا، جہاں ڈیٹا اور شماریات کے مستقبل پر عالمی سطح پر بات چیت کی جائے گی۔

اجلاس کی میزبانی کس ادارے نے کی اور کہاں ہوا؟ جنرل اتھارٹی فار سٹیٹسٹکس (جی اے ایس ٹی اے ٹی) نے جدہ میں عرب انسٹی ٹیوٹ فار ٹریننگ اینڈ ریسرچ ان شماریات کے بورڈ آف ٹرسٹیز کا 51واں اجلاس منعقد کیا۔ اجلاس میں عرب شماریاتی اداروں کے سربراہان اور نمائندوں نے شرکت کی۔ ایس پی اے کے مطابق یہ اجلاس 28 ستمبر 2026 کو ہوا۔

اجلاس میں کون سے موضوعات زیر بحث آئے؟ اجلاس میں عرب ممالک میں شماریاتی صلاحیتوں کو مضبوط بنانے سے متعلق امور پر بات چیت کی گئی۔ تربیت اور تحقیق کے کردار کو بڑھانے پر بھی غور کیا گیا تاکہ تیز رفتار پیش رفت کے ساتھ ہم آہنگی رکھی جا سکے۔ ٹیکنالوجی کی پیش رفت اور جدید ٹولز کے استعمال پر بھی تبادلہ خیال ہوا تاکہ سرکاری اعداد و شمار کا معیار بہتر بنایا جا سکے۔

ورلڈ ڈیٹا فورم کا اجلاس کب اور کہاں ہوگا؟ سعودی عرب نومبر 2026 میں ریاض میں اقوام متحدہ کے چھٹے ورلڈ ڈیٹا فورم کی میزبانی کرے گا۔ یہ فورم عالمی ڈیٹا کمیونٹی کو ایک جگہ جمع کرے گا تاکہ ڈیٹا اور شماریات کے مستقبل پر بات چیت کی جا سکے۔ فورم کا مقصد بین الاقوامی شراکت داری اور تعاون کو مضبوط بنانا بھی ہے۔

عرب انسٹی ٹیوٹ فار ٹریننگ اینڈ ریسرچ ان شماریات کا کردار کیا ہے؟ یہ ادارہ عرب ممالک میں شماریاتی عملے کی تربیت اور تحقیقی صلاحیتوں کو فروغ دینے کے لیے کام کرتا ہے۔ اس کا بورڈ آف ٹرسٹیز باقاعدگی سے اجلاس منعقد کرتا ہے جس میں رکن ممالک کے نمائندے شرکت کرتے ہیں۔ 51واں اجلاس اس ادارے کی مسلسل سرگرمی اور خطے میں شماریاتی تعاون کی اہمیت کو ظاہر کرتا ہے۔

کیا رپورٹ میں اجلاس کے شرکاء کی تفصیلات دی گئی ہیں؟ ایس پی اے کی رپورٹ میں صرف یہ بتایا گیا کہ اجلاس میں عرب شماریاتی اداروں کے سربراہان اور نمائندوں نے شرکت کی۔ شرکاء کے نام، ممالک کی تفصیلی فہرست، یا اجلاس میں منظور شدہ قراردادوں کی نوعیت کے بارے میں مزید معلومات فراہم نہیں کی گئیں۔ اسی طرح آئندہ اجلاس کے شیڈول کا بھی ذکر نہیں کیا گیا۔