Friday, October 30, 2026
سعودی خبریں

جی سی سی سربراہ نے جازان اور نجران ہوائی اڈوں پر حوثی حملوں کی مذمت کی

جی سی سی سربراہ نے جازان اور نجران ہوائی اڈوں پر حوثی حملوں کی مذمت کی

جازان کے شاہ عبداللہ بن عبدالعزیز انٹرنیشنل ایئرپورٹ اور نجران انٹرنیشنل ایئرپورٹ کی تنصیبات کو نشانہ بنانے والے دو حملوں کی خلیج تعاون کونسل کے سیکرٹری جنرل جاسم محمد البدیوی نے شدید ترین الفاظ میں مذمت کی ہے۔

جیسا کہ سعودی خبر رساں ادارے ایس پی اے نے بیان کیا، یہ بیان ریاض سے 6 اکتوبر 2026 کو جاری ہوا، جس میں کونسل کے سربراہ نے دونوں حملوں کو حوثی ملیشیا کا اقدام قرار دیا۔

البدیوی نے کہا کہ ہوائی اڈوں اور شہری ڈھانچے کو نشانہ بنانا ایک خطرناک اضافہ ہے، جو تمام بین الاقوامی قوانین اور اصولوں کی کھلی خلاف ورزی اور شہریوں کی حفاظت اور شہری ہوابازی کے لیے براہ راست خطرہ ہے۔

انہوں نے زور دیا کہ حوثی ملیشیا کا مملکت بھر میں شہری اور اہم تنصیبات کو مسلسل نشانہ بنانا ایک ناقابل قبول جارحانہ رویہ اور بین الاقوامی قانون اور بین الاقوامی انسانی قانون کے قواعد کی کھلی خلاف ورزی ہے۔

کیا ہوائی اڈوں جیسے شہری مراکز کو نشانہ بنانا عام مسافروں کی روزمرہ زندگی کو سب سے زیادہ متاثر نہیں کرتا؟

سیکرٹری جنرل نے اس بات پر زور دیا کہ بین الاقوامی برادری کو اپنی ذمہ داریاں ادا کرنی چاہئیں اور ان حملوں کے خلاف فیصلہ کن موقف اختیار کرنا چاہیے، ذمہ داروں کو جوابدہ بنانا چاہیے اور ان منظم دہشت گردانہ طریقوں کو روکنا چاہیے جو علاقائی سلامتی، استحکام اور بین الاقوامی فضائی نیویگیشن کو خطرے میں ڈالتے ہیں۔

انہوں نے دہرایا کہ خلیج تعاون کونسل کے رکن ممالک سعودی عرب کے ساتھ متحد ہیں اور مملکت اپنی سلامتی، استحکام، خودمختاری اور اپنے شہریوں اور رہائشیوں کی حفاظت کے لیے جو بھی اقدامات اور طریقہ کار اختیار کرتی ہے، اس کی مکمل حمایت کرتے ہیں۔

اگر بین الاقوامی برادری فیصلہ کن موقف اختیار نہ کرے تو کیا ایسے حملے روکے جا سکتے ہیں؟

یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب مملکت کے جنوبی علاقوں میں واقع دونوں ہوائی اڈے شہری ہوابازی کے اہم مراکز کی حیثیت رکھتے ہیں اور ان پر حملہ شہریوں کی حفاظت کے ساتھ ساتھ فضائی نیویگیشن کے لیے بھی خطرہ ہے۔

البدیوی کا موقف یہ ہے کہ شہری اور اہم تنصیبات کو مسلسل نشانہ بنانا بین الاقوامی قانون اور بین الاقوامی انسانی قانون کی کھلی خلاف ورزی ہے، اور یہ کہ ایسے اقدامات علاقائی سلامتی اور استحکام کو خطرے میں ڈالتے ہیں۔

کیا شہری ہوابازی کی حفاظت کو بین الاقوامی قانون کے تحت تحفظ حاصل نہیں ہونا چاہیے؟

انہوں نے بین الاقوامی برادری پر زور دیا کہ وہ اپنی ذمہ داریاں ادا کرے، ان حملوں کے خلاف فیصلہ کن موقف اختیار کرے، ذمہ داروں کو جوابدہ بنائے اور ان منظم دہشت گردانہ طریقوں کو روکے جو علاقائی سلامتی، استحکام اور بین الاقوامی فضائی نیویگیشن کو خطرے میں ڈالتے ہیں۔

خلیج تعاون کونسل کے سربراہ نے یہ بھی واضح کیا کہ رکن ممالک سعودی عرب کے ساتھ متحد ہیں اور مملکت کی سلامتی، استحکام، خودمختاری اور شہریوں اور رہائشیوں کی حفاظت کے لیے کیے جانے والے تمام اقدامات اور طریقہ کار کی مکمل حمایت کرتے ہیں۔

کیا علاقائی تنظیموں کا متحد موقف ذمہ داروں کو جوابدہ بنانے کے لیے کافی ہے؟

ایس پی اے کے مطابق یہ بیان ریاض سے 6 اکتوبر 2026 کو جاری کیا گیا، اور اس میں دونوں حملوں کو حوثی ملیشیا سے منسوب کیا گیا۔

بیان میں یہ نہیں بتایا گیا کہ حملوں میں کسی قسم کا جانی یا مالی نقصان ہوا، نہ ہی یہ کہ حملے کس وقت یا کس ذریعے سے کیے گئے، اور نہ ہی ہوائی اڈوں کی کارروائیوں پر کسی قسم کے اثرات کا ذکر کیا گیا۔

کیا شہری تنصیبات پر حملوں کے بعد عام مسافروں کے تحفظ کے لیے اضافی اقدامات کی ضرورت نہیں؟

البدیوی نے اپنے بیان میں ہوائی اڈوں اور شہری ڈھانچے کو نشانہ بنانے کو خطرناک اضافہ قرار دیا اور کہا کہ یہ تمام بین الاقوامی قوانین اور اصولوں کی کھلی خلاف ورزی اور شہریوں کی حفاظت اور شہری ہوابازی کے لیے براہ راست خطرہ ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ حوثی ملیشیا کا مملکت بھر میں شہری اور اہم تنصیبات کو مسلسل نشانہ بنانا ایک ناقابل قبول جارحانہ رویہ ہے اور بین الاقوامی قانون اور بین الاقوامی انسانی قانون کے قواعد کی کھلی خلاف ورزی ہے۔

کیا بین الاقوامی انسانی قانون کی خلاف ورزیوں پر خاموشی اختیار کرنا خود ایک خطرہ نہیں؟

سیکرٹری جنرل نے بین الاقوامی برادری سے مطالبہ کیا کہ وہ ان حملوں کے خلاف فیصلہ کن موقف اختیار کرے، ذمہ داروں کو جوابدہ بنائے اور ان منظم دہشت گردانہ طریقوں کو روکے جو علاقائی سلامتی، استحکام اور بین الاقوامی فضائی نیویگیشن کو خطرے میں ڈالتے ہیں۔

انہوں نے دہرایا کہ خلیج تعاون کونسل کے رکن ممالک سعودی عرب کے ساتھ متحد ہیں اور مملکت کی سلامتی، استحکام، خودمختاری اور شہریوں اور رہائشیوں کی حفاظت کے لیے کیے جانے والے تمام اقدامات اور طریقہ کار کی مکمل حمایت کرتے ہیں۔

کیا رکن ممالک کا اتحاد شہری ہوابازی کے تحفظ کے لیے مشترکہ اقدامات کا باعث بن سکتا ہے؟

واضح رہے کہ بیان میں جازان کے شاہ عبداللہ بن عبدالعزیز انٹرنیشنل ایئرپورٹ اور نجران انٹرنیشنل ایئرپورٹ کا ذکر کیا گیا، اور دونوں کو شہری اور اہم تنصیبات قرار دیا گیا۔

بیان میں یہ نہیں بتایا گیا کہ حملوں کے نتیجے میں کوئی جانی نقصان ہوا یا نہیں، نہ ہی یہ کہ ہوائی اڈوں کی پروازیں متاثر ہوئیں، اور نہ ہی کسی قسم کی تفتیش یا کارروائی کا ذکر کیا گیا۔

ایس پی اے کی رپورٹ کے مطابق یہ بیان 13:20 مقامی وقت اور 10:20 جی ایم ٹی پر جاری کیا گیا۔

رپورٹ میں یہ نہیں بتایا گیا کہ حملے کب ہوئے، کس قسم کے ہتھیار استعمال ہوئے، یا ان کے نتیجے میں کیا نقصان ہوا۔

جاسم محمد البدیوی نے کس واقعے کی مذمت کی؟ خلیج تعاون کونسل کے سیکرٹری جنرل جاسم محمد البدیوی نے جازان کے شاہ عبداللہ بن عبدالعزیز انٹرنیشنل ایئرپورٹ اور نجران انٹرنیشنل ایئرپورٹ کی تنصیبات کو نشانہ بنانے والے دو حملوں کی شدید مذمت کی۔ ایس پی اے کے مطابق یہ بیان ریاض سے 6 اکتوبر 2026 کو جاری ہوا اور حملوں کو حوثی ملیشیا سے منسوب کیا گیا۔

البدیوی نے حملوں کو کس نوعیت کا اقدام قرار دیا؟ انہوں نے کہا کہ ہوائی اڈوں اور شہری ڈھانچے کو نشانہ بنانا ایک خطرناک اضافہ ہے، جو تمام بین الاقوامی قوانین اور اصولوں کی کھلی خلاف ورزی اور شہریوں کی حفاظت اور شہری ہوابازی کے لیے براہ راست خطرہ ہے۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ شہری اور اہم تنصیبات کو مسلسل نشانہ بنانا بین الاقوامی قانون اور بین الاقوامی انسانی قانون کے قواعد کی کھلی خلاف ورزی ہے۔

سیکرٹری جنرل نے بین الاقوامی برادری سے کیا مطالبہ کیا؟ انہوں نے بین الاقوامی برادری پر زور دیا کہ وہ اپنی ذمہ داریاں ادا کرے، ان حملوں کے خلاف فیصلہ کن موقف اختیار کرے، ذمہ داروں کو جوابدہ بنائے اور ان منظم دہشت گردانہ طریقوں کو روکے جو علاقائی سلامتی، استحکام اور بین الاقوامی فضائی نیویگیشن کو خطرے میں ڈالتے ہیں۔

خلیج تعاون کونسل کے رکن ممالک کا موقف کیا ہے؟ البدیوی نے دہرایا کہ خلیج تعاون کونسل کے رکن ممالک سعودی عرب کے ساتھ متحد ہیں اور مملکت کی سلامتی، استحکام، خودمختاری اور شہریوں اور رہائشیوں کی حفاظت کے لیے کیے جانے والے تمام اقدامات اور طریقہ کار کی مکمل حمایت کرتے ہیں۔

بیان میں کن تفصیلات کا ذکر نہیں کیا گیا؟ بیان میں یہ نہیں بتایا گیا کہ حملوں میں کسی قسم کا جانی یا مالی نقصان ہوا، نہ ہی یہ کہ حملے کس وقت یا کس ذریعے سے کیے گئے، اور نہ ہی ہوائی اڈوں کی کارروائیوں پر کسی قسم کے اثرات کا ذکر کیا گیا۔ ایس پی اے کے مطابق بیان 13:20 مقامی وقت اور 10:20 جی ایم ٹی پر جاری کیا گیا۔