Wednesday, October 21, 2026
سعودی خبریں

داخلہ وزیر نے فیسلیٹیز سیکیورٹی فورسز کے دو کمانڈ اور سائبر سیکیورٹی مراکز کا افتتاح کیا

داخلہ وزیر نے فیسلیٹیز سیکیورٹی فورسز کے دو کمانڈ اور سائبر سیکیورٹی مراکز کا افتتاح کیا

ریاض میں منگل کے روز فیسلیٹیز سیکیورٹی فورسز کمانڈ کے آپریشنز کا جائزہ لیتے ہوئے داخلہ کے وزیر شہزادہ عبدالعزیز بن سعود بن نایف بن عبدالعزیز نے کمانڈ اینڈ کنٹرول اور سائبر سیکیورٹی کے دو مراکز کا افتتاح کیا اور اہلکاروں کے لیے ڈیجیٹل خدمات کا آغاز کیا۔

جیسا کہ سعودی خبر رساں ادارے ایس پی اے نے 20 اکتوبر 2026 کو بیان کیا، وزیر نے کمانڈ اینڈ کنٹرول اور سیکیورٹی یو اے وی سسٹمز کے مرکز کا افتتاح کیا، جو سات خصوصی یونٹوں پر مشتمل ہے اور ملک بھر میں فورسز کی شاخوں کے 13 کمانڈ اینڈ کنٹرول مراکز سے منسلک ہے۔

یہ مرکز رپورٹس وصول کرنے، فیلڈ آپریشنز کے انتظام اور نگرانی، اور سیکیورٹی معلومات کے تبادلے کے لیے جدید الیکٹرانک نظاموں اور پلیٹ فارمز کے مربوط نظام کا استعمال کرتا ہے، جس سے نیشنل سینٹر فار سیکیورٹی آپریشنز کے تعاون سے ردعمل کے اوقات اور سیکیورٹی رابطہ کاری بہتر ہوتی ہے۔

مرکز مصنوعی ذہانت کی ٹیکنالوجیز سے لیس یو اے وی بھی استعمال کرتا ہے تاکہ فیلڈ نگرانی میں معاونت ہو اور فورسز کے ذمہ داری کے علاقوں میں سیکیورٹی آپریشنز کی کارکردگی بہتر ہو۔

کیا آپ اندازہ لگا سکتے ہیں کہ 13 کمانڈ اینڈ کنٹرول مراکز سے منسلک ایک واحد مرکز فیلڈ آپریشنز کی نگرانی کے انداز کو کیسے بدل سکتا ہے؟

دورے کے دوران وزیر نے سائبر سیکیورٹی مرکز کا بھی افتتاح کیا، جو ڈیٹا اور معلومات کے تحفظ، نیٹ ورکس اور آلات کی حفاظت، کمزوریوں کی نشاندہی اور ان کے ازالے کے لیے نظاموں کی نگرانی، اور سائبر خطرات کی نشاندہی اور ان کا مقابلہ کرنے کا ذمہ دار ہے۔ ان افعال کا مقصد تکنیکی بنیادی ڈھانچے کا تحفظ اور کاروباری تسلسل کی معاونت ہے۔

شہزادہ عبدالعزیز بن سعود نے فیسلیٹیز سیکیورٹی فورسز کے اہلکاروں کے لیے ابشر انٹیریئر ایپلیکیشن کے ذریعے خدمات بھی شروع کیں۔ داخلہ کی وزارت کے ٹیکنالوجی امور کے شعبے کے تحت اس کے یونیفائیڈ ڈیولپمنٹ سینٹر کے تعاون سے تیار کردہ یہ خدمات طریقہ کار کو آسان بنانے اور اہلکاروں کو الیکٹرانک طور پر خدمات تک رسائی کے قابل بنانے کے لیے ہیں۔

وزیر نے فورسز کی اپ گریڈ شدہ ڈیجیٹل خدمات اور الیکٹرانک نظاموں کا جائزہ لیا، جن میں موارد نظام کا ابشر پلیٹ فارم اور نیشنل یونیفائیڈ ایکسیس پلیٹ فارم (نفاذ) کے ساتھ انضمام کے ساتھ ساتھ محفوظ تکنیکی انٹرفیس کا انضمام شامل ہے۔

کیا یہ حیرت کی بات نہیں کہ ایک ہی دورے میں کمانڈ، ڈرون نگرانی، سائبر دفاع اور اہلکاروں کی ڈیجیٹل خدمات، چاروں محاذوں پر پیش رفت کا اعلان کیا گیا؟

کمانڈ اینڈ کنٹرول اور سیکیورٹی یو اے وی سسٹمز کا مرکز سات خصوصی یونٹوں پر مشتمل ہے، اور یہ ملک بھر میں فورسز کی شاخوں کے 13 کمانڈ اینڈ کنٹرول مراکز سے جڑا ہوا ہے۔ یہ تفصیل بتاتی ہے کہ مرکز کا دائرہ کار کسی ایک شہر یا ایک علاقے تک محدود نہیں، بلکہ فورسز کے پورے نیٹ ورک کو ایک مربوط نظام میں سموتا ہے۔

مرکز کا بنیادی کام رپورٹس وصول کرنا، فیلڈ آپریشنز کا انتظام اور نگرانی کرنا، اور سیکیورٹی معلومات کا تبادلہ کرنا ہے۔ یہ کام جدید الیکٹرانک نظاموں اور پلیٹ فارمز کے مربوط نظام کے ذریعے کیے جاتے ہیں۔ اس نظام کا نتیجہ یہ بتایا گیا ہے کہ ردعمل کے اوقات بہتر ہوتے ہیں اور سیکیورٹی رابطہ کاری مضبوط ہوتی ہے، اور یہ سب نیشنل سینٹر فار سیکیورٹی آپریشنز کے تعاون سے ہوتا ہے۔

کیا آپ سوچ سکتے ہیں کہ جب رپورٹس، فیلڈ آپریشنز اور سیکیورٹی معلومات ایک ہی نظام میں جمع ہو جائیں تو فیصلہ سازی کی رفتار پر کیا اثر پڑتا ہے؟

مرکز میں مصنوعی ذہانت کی ٹیکنالوجیز سے لیس یو اے وی شامل ہیں، جو فیلڈ نگرانی میں معاونت کرتے ہیں اور فورسز کے ذمہ داری کے علاقوں میں سیکیورٹی آپریشنز کی کارکردگی بہتر بناتے ہیں۔ یہاں یہ بات قابل غور ہے کہ ڈرون اور مصنوعی ذہانت کا ذکر فیلڈ نگرانی کے تناظر میں کیا گیا ہے، یعنی فضائی نگرانی کو زمینی آپریشنز کی معاونت کے لیے استعمال کیا جائے گا۔

سائبر سیکیورٹی مرکز کی ذمہ داریوں کی فہرست کافی واضح ہے: ڈیٹا اور معلومات کا تحفظ، نیٹ ورکس اور آلات کی حفاظت، کمزوریوں کی نشاندہی اور ازالے کے لیے نظاموں کی نگرانی، اور سائبر خطرات کی نشاندہی اور ان کا مقابلہ۔ ان تمام افعال کا مقصد تکنیکی بنیادی ڈھانچے کا تحفظ اور کاروباری تسلسل کی معاونت بتایا گیا ہے۔

کیا آپ کے خیال میں ڈیٹا اور نیٹ ورکس کا تحفظ آج کسی بھی سیکیورٹی ادارے کے لیے فیلڈ آپریشنز سے کم اہم ہے؟

اہلکاروں کے لیے خدمات کا آغاز ابشر انٹیریئر ایپلیکیشن کے ذریعے کیا گیا۔ یہ خدمات داخلہ کی وزارت کے یونیفائیڈ ڈیولپمنٹ سینٹر کے تعاون سے تیار کی گئی ہیں، جو ٹیکنالوجی امور کے شعبے کے تحت کام کرتا ہے۔ ان خدمات کا مقصد طریقہ کار کو آسان بنانا اور اہلکاروں کو الیکٹرانک طور پر خدمات تک رسائی دینا ہے۔

وزیر نے فورسز کی اپ گریڈ شدہ ڈیجیٹل خدمات اور الیکٹرانک نظاموں کا جائزہ بھی لیا۔ اس جائزے میں موارد نظام کا ابشر پلیٹ فارم کے ساتھ انضمام، نیشنل یونیفائیڈ ایکسیس پلیٹ فارم (نفاذ) کے ساتھ انضمام، اور محفوظ تکنیکی انٹرفیس کا انضمام شامل تھا۔

کیا آپ نے غور کیا کہ موارد، ابشر اور نفاذ جیسے پلیٹ فارمز کا آپس میں جڑنا اہلکاروں کے روزمرہ کام کے کتنے مراحل ختم کر سکتا ہے؟

یہ دورہ ریاض میں فیسلیٹیز سیکیورٹی فورسز کمانڈ میں منگل کے روز ہوا، جہاں وزیر نے آپریشنز کا جائزہ لیا۔ اسی موقع پر دو مراکز کا افتتاح اور اہلکاروں کے لیے ڈیجیٹل خدمات کا آغاز کیا گیا۔

کمانڈ اینڈ کنٹرول مرکز کی سات خصوصی یونٹوں اور 13 منسلک مراکز کی ساخت بتاتی ہے کہ فورسز کا نیٹ ورک کئی مقامات پر پھیلا ہوا ہے، اور مرکز ان سب کو ایک نقطے سے جوڑنے کا کام کرتا ہے۔ رپورٹس کی وصولی، فیلڈ آپریشنز کی نگرانی اور سیکیورٹی معلومات کے تبادلے کے لیے مربوط الیکٹرانک نظام کا استعمال اسی مرکزیت کی عکاسی کرتا ہے۔

نیشنل سینٹر فار سیکیورٹی آپریشنز کے ساتھ تعاون کا ذکر بھی اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ یہ نظام تنہا نہیں، بلکہ دیگر سیکیورٹی اداروں کے ساتھ مل کر کام کرتا ہے۔ ردعمل کے اوقات میں بہتری اور سیکیورٹی رابطہ کاری میں اضافہ اسی تعاون کا بتایا گیا نتیجہ ہے۔

کیا آپ کے خیال میں سیکیورٹی اداروں کے درمیان معلومات کا تبادلہ ردعمل کے اوقات کو کم کرنے کا سب سے بڑا ذریعہ ہے؟

یو اے وی کے استعمال میں مصنوعی ذہانت کی ٹیکنالوجیز کا ذکر اس بات پر روشنی ڈالتا ہے کہ نگرانی کے کام میں خودکار تجزیے کا عنصر شامل کیا جا رہا ہے۔ فیلڈ نگرانی میں معاونت اور فورسز کے ذمہ داری کے علاقوں میں کارکردگی کی بہتری، دونوں مقاصد ایک ہی ٹیکنالوجی سے جوڑے گئے ہیں۔

سائبر سیکیورٹی مرکز کے افعال میں صرف دفاع ہی نہیں، بلکہ کمزوریوں کی نشاندہی کے لیے نظاموں کی مسلسل نگرانی بھی شامل ہے۔ یہ نقطہ بتاتا ہے کہ خطرات سے نمٹنے کے ساتھ ساتھ ان کے ممکنہ مقامات کی پیشگی شناخت پر بھی توجہ دی جا رہی ہے۔ تکنیکی بنیادی ڈھانچے کا تحفظ اور کاروباری تسلسل کی معاونت ان افعال کے مقاصد میں شامل ہیں۔

کیا آپ مانتے ہیں کہ کمزوریوں کی پیشگی نشاندہی سائبر حملوں سے نمٹنے کا سب سے مؤثر طریقہ ہے؟

ابشر انٹیریئر ایپلیکیشن کے ذریعے اہلکاروں کی خدمات کا آغاز اس بات کی طرف اشارہ کرتا ہے کہ داخلی طریقہ کار کو ڈیجیٹل بنانے پر توجہ دی جا رہی ہے۔ یہ خدمات داخلہ کی وزارت کے یونیفائیڈ ڈیولپمنٹ سینٹر نے ٹیکنالوجی امور کے شعبے کے تحت تیار کی ہیں، اور ان کا مقصد طریقہ کار کو آسان بنانا اور الیکٹرانک رسائی فراہم کرنا ہے۔

موارد نظام کا ابشر پلیٹ فارم کے ساتھ انضمام، نفاذ کے ساتھ انضمام، اور محفوظ تکنیکی انٹرفیس کا انضمام، یہ سب فورسز کی اپ گریڈ شدہ ڈیجیٹل خدمات اور الیکٹرانک نظاموں کے جائزے کا حصہ تھے۔ انضمام کا بار بار ذکر ظاہر کرتا ہے کہ الگ الگ نظاموں کو آپس میں جوڑنا اس پیش رفت کا مرکزی نکتہ ہے۔

کیا آپ سوچ سکتے ہیں کہ جب نظام آپس میں جڑ جائیں تو اہلکار کو ایک ہی جگہ سے کتنی مختلف خدمات مل سکتی ہیں؟

ایس پی اے کی رپورٹ میں مراکز کے قیام کی لاگت، عملے کی تعداد، تربیت کے شیڈول، یا ان نظاموں کے مکمل نفاذ کی تاریخ کے بارے میں کوئی تفصیل نہیں دی گئی۔ اسی طرح یو اے وی کی تعداد، ان کے آپریشن کے علاقوں کی تفصیل، یا سائبر سیکیورٹی مرکز کے تحت آنے والے نظاموں کی فہرست بھی بیان نہیں کی گئی۔

رپورٹ میں یہ بھی واضح نہیں کہ نئے مراکز پرانے ڈھانچے کی جگہ لیں گے یا اس کے ساتھ مل کر کام کریں گے، اور نہ ہی ابشر انٹیریئر کے ذریعے شروع کی گئی خدمات کی مکمل فہرست دی گئی ہے۔ ان تفصیلات کے بغیر، پیش رفت کی مکمل تصویر بنانا ممکن نہیں۔

کیا آپ کے خیال میں ایسی پیش رفتوں کی مکمل افادیت کا اندازہ لگانے کے لیے اخراجات اور نفاذ کی ٹائم لائن جاننا ضروری ہے؟

کمانڈ اینڈ کنٹرول اور سیکیورٹی یو اے وی سسٹمز کے مرکز کی ساخت کیا ہے؟ مرکز سات خصوصی یونٹوں پر مشتمل ہے اور ملک بھر میں فورسز کی شاخوں کے 13 کمانڈ اینڈ کنٹرول مراکز سے منسلک ہے۔ یہ رپورٹس وصول کرنے، فیلڈ آپریشنز کے انتظام اور نگرانی، اور سیکیورٹی معلومات کے تبادلے کے لیے جدید الیکٹرانک نظاموں اور پلیٹ فارمز کے مربوط نظام کا استعمال کرتا ہے۔ ایس پی اے نے یونٹوں کی تفصیل یا مراکز کے مقامات نہیں بتائے۔

یو اے وی اور مصنوعی ذہانت کا استعمال کس مقصد کے لیے بتایا گیا؟ مرکز مصنوعی ذہانت کی ٹیکنالوجیز سے لیس یو اے وی استعمال کرتا ہے تاکہ فیلڈ نگرانی میں معاونت ہو اور فورسز کے ذمہ داری کے علاقوں میں سیکیورٹی آپریشنز کی کارکردگی بہتر ہو۔ رپورٹ کے مطابق یہ ڈرون فیلڈ نگرانی کے دائرے میں کام کریں گے۔ ایس پی اے نے یو اے وی کی تعداد، ان کے آپریشن کے علاقوں یا نگرانی کے اوقات کی تفصیل نہیں دی۔

سائبر سیکیورٹی مرکز کی ذمہ داریاں کیا ہیں؟ مرکز ڈیٹا اور معلومات کے تحفظ، نیٹ ورکس اور آلات کی حفاظت، کمزوریوں کی نشاندہی اور ازالے کے لیے نظاموں کی نگرانی، اور سائبر خطرات کی نشاندہی اور ان کا مقابلہ کرنے کا ذمہ دار ہے۔ ان افعال کا مقصد تکنیکی بنیادی ڈھانچے کا تحفظ اور کاروباری تسلسل کی معاونت ہے۔ ایس پی اے نے مرکز کے تحت آنے والے مخصوص نظاموں کی فہرست نہیں دی۔

اہلکاروں کے لیے ڈیجیٹل خدمات کس ایپلیکیشن کے ذریعے شروع کی گئیں؟ وزیر نے فیسلیٹیز سیکیورٹی فورسز کے اہلکاروں کے لیے ابشر انٹیریئر ایپلیکیشن کے ذریعے خدمات شروع کیں۔ یہ خدمات داخلہ کی وزارت کے یونیفائیڈ ڈیولپمنٹ سینٹر کے تعاون سے تیار کی گئی ہیں، جو ٹیکنالوجی امور کے شعبے کے تحت کام کرتا ہے۔ ان کا مقصد طریقہ کار کو آسان بنانا اور اہلکاروں کو الیکٹرانک رسائی دینا ہے۔

وزیر نے کون سے اپ گریڈ شدہ نظاموں کا جائزہ لیا؟ وزیر نے فورسز کی اپ گریڈ شدہ ڈیجیٹل خدمات اور الیکٹرانک نظاموں کا جائزہ لیا، جن میں موارد نظام کا ابشر پلیٹ فارم کے ساتھ انضمام، نیشنل یونیفائیڈ ایکسیس پلیٹ فارم (نفاذ) کے ساتھ انضمام، اور محفوظ تکنیکی انٹرفیس کا انضمام شامل تھا۔ رپورٹ میں ان انضمامات کے نفاذ کی مکمل تاریخ یا تفصیل نہیں دی گئی۔

نیشنل سینٹر فار سیکیورٹی آپریشنز کا کیا کردار بتایا گیا؟ مرکز رپورٹس وصول کرنے، فیلڈ آپریشنز کے انتظام اور نگرانی، اور سیکیورٹی معلومات کے تبادلے کے لیے ایک مربوط نظام استعمال کرتا ہے، جس سے ردعمل کے اوقات اور سیکیورٹی رابطہ کاری بہتر ہوتی ہے، اور یہ سب نیشنل سینٹر فار سیکیورٹی آپریشنز کے تعاون سے ہوتا ہے۔ ایس پی اے نے اس تعاون کی تفصیلی نوعیت یا اس کے فریم ورک کی وضاحت نہیں کی۔