Wednesday, October 28, 2026
سعودی خبریں

سعودی عرب نے مکہ، مدینہ، ریاض اور دیگر شہروں کو نشانہ بنانے کی شدید مذمت کی

سعودی عرب نے مکہ، مدینہ، ریاض اور دیگر شہروں کو نشانہ بنانے کی شدید مذمت کی

وزارت خارجہ نے حوثی ملیشیا کی جانب سے مملکت میں شہریوں اور شہری و اقتصادی سہولیات کو مسلسل نشانہ بنانے کی شدید ترین مذمت اور مذمت کا اظہار کیا ہے۔ یہ بیان سعودی خبر رساں ادارے ایس پی اے نے 5 اکتوبر 2026 کو ریاض سے جاری کیا۔

جیسا کہ سعودی خبر رساں ادارے ایس پی اے نے بیان کیا، وزارت خارجہ نے کہا کہ حوثی ملیشیا زمین پر موجود مقدس ترین مقامات مکہ مکرمہ اور مدینہ منورہ کے خلاف کھلے اور بار بار حملے کر رہی ہے۔ اس کے ساتھ ہی دارالحکومت ریاض اور شہروں ابھا، خمیس مشیط، جازان، نجران، طائف اور ینبع کو بھی نشانہ بنایا جا رہا ہے۔

بیان کے مطابق حوثی ملیشیا جنوبی بحیرہ احمر اور آبنائے باب المندب میں سعودی جہازوں کو بھی نشانہ بنا رہی ہے۔ وزارت خارجہ نے ان حملوں کو دہشت گردانہ قرار دیا اور کہا کہ یہ حملے جاری ہیں اور ان کا سلسلہ تھمنے کا نام نہیں لے رہا۔

کیا مقدس مقامات اور شہری آبادیوں کو نشانہ بنانا کسی سیاسی مقصد کے لیے جائز قرار دیا جا سکتا ہے؟ وزارت خارجہ کا بیان اس سوال کا واضح جواب دیتا ہے کہ مملکت ایسے حملوں کو دہشت گردی قرار دیتی ہے اور ان کی شدید مذمت کرتی ہے۔

یمن میں سیاسی حل کے لیے کوششیں اور حوثیوں کا انکار

وزارت خارجہ نے کہا کہ 2014 میں حوثی ملیشیا کی یمن کی قانونی حکومت کے خلاف بغاوت کے بعد سے مملکت نے یمن میں جامع اور پائیدار سیاسی حل کی حمایت کے لیے مسلسل اور انتھک کوششیں کی ہیں۔ تاہم حوثی ملیشیا نے امن کو مسترد کرتے ہوئے فوجی کشیدگی کا راستہ اختیار کیا۔

بیان کے مطابق اس کشیدگی نے یمن اور بھائی یمنی عوام کو مزید انسانی اور اقتصادی تکالیف میں دھکیل دیا ہے، اور یہ تکالیف بیرونی ایجنڈوں کی خدمت اور ان کے حصول میں ہیں۔ وزارت خارجہ نے یہ واضح کیا کہ حوثیوں کی جانب سے امن کی بجائے فوجی راستہ اختیار کرنا ان کے اپنے رویے کی عکاسی کرتا ہے۔

کیا یمن میں امن کے لیے کی گئی کوششوں کے باوجود فوجی کشیدگی کا جاری رہنا یمنی عوام کے مفاد میں ہے؟ بیان میں اس بات پر زور دیا گیا کہ مملکت نے ہمیشہ سیاسی حل کو ترجیح دی ہے، مگر حوثی ملیشیا نے اسے مسترد کر کے کشیدگی کو ترجیح دی۔

وزارت خارجہ نے کہا کہ حوثی ملیشیا کی یہ پالیسی یمن اور یمنی عوام کو مزید نقصان پہنچا رہی ہے، اور اس کا فائدہ کسی بھی صورت یمنی عوام کو نہیں ہو رہا۔ بیان میں یہ بھی کہا گیا کہ یہ کشیدگی بیرونی ایجنڈوں کی خدمت کر رہی ہے، جن کا تعلق یمن کے اندرونی مفادات سے نہیں۔

کیا بیرونی ایجنڈوں کی خدمت کرنے والی کشیدگی یمن کے عوام کے لیے کوئی حل لا سکتی ہے؟ وزارت خارجہ نے اس سوال کا جواب یہ دیا کہ حوثی ملیشیا کی فوجی کشیدگی یمنی عوام کی تکالیف میں اضافہ کر رہی ہے اور امن کے راستے کو مسدود کر رہی ہے۔

مملکت کا اپنے دفاع کا حق اور قانونی بنیاد

وزارت خارجہ نے کہا کہ مملکت اپنی سرزمین، وسائل، خودمختاری اور اپنے شہریوں اور رہائشیوں کی حفاظت کے دفاع کے اپنے موروثی حق کی تصدیق کرتی ہے۔ بیان کے مطابق مملکت بین الاقوامی قانون کے مطابق اپنی سلامتی کے تحفظ کے لیے تمام ضروری اقدامات کرنے کا حق رکھتی ہے۔

بیان میں یہ واضح کیا گیا کہ یہ حق بین الاقوامی قانون کے تحت ہے اور مملکت اپنے دفاع کے لیے ضروری اقدامات کرنے سے گریز نہیں کرے گی۔ وزارت خارجہ نے کہا کہ مملکت اپنی خودمختاری اور شہریوں کی حفاظت کو اولین ترجیح دیتی ہے۔

کیا بین الاقوامی قانون کے تحت کسی ریاست کو اپنی سرزمین اور شہریوں کے دفاع کا حق حاصل نہیں؟ وزارت خارجہ کا بیان اس اصول کی تصدیق کرتا ہے کہ مملکت اپنے دفاع کے لیے تمام ضروری اقدامات کر سکتی ہے، اور یہ اقدامات بین الاقوامی قانون کے مطابق ہوں گے۔

وزارت خارجہ نے کہا کہ مملکت نے یمن کی قانونی حکومت اور یمنی عوام کی حمایت جاری رکھی ہے۔ بیان کے مطابق مملکت صدارتی قیادت کونسل، یمنی حکومت اور بھائی یمنی عوام کے لیے اپنی مکمل سیاسی اور فوجی حمایت کی تجدید کرتی ہے تاکہ بغاوت کا خاتمہ ہو اور ریاست اور اس کے ادارے دہشت گرد حوثی ملیشیا کے کنٹرول سے بحال ہوں۔

کیا یمنی ریاست اور اس کے اداروں کی بحالی کے لیے سیاسی اور فوجی حمایت کے بغیر کوئی راستہ ممکن ہے؟ وزارت خارجہ نے کہا کہ مملکت یمنی حکومت اور عوام کے ساتھ کھڑی ہے اور بغاوت کے خاتمے کے لیے اپنی حمایت جاری رکھے گی۔

بین الاقوامی برادری سے مطالبہ

وزارت خارجہ نے بین الاقوامی برادری، خاص طور پر سلامتی کونسل کے مستقل ارکان سے مطالبہ کیا کہ وہ اپنی ذمہ داریاں پوری کریں۔ بیان کے مطابق ان سے کہا گیا کہ سلامتی کونسل کی متعلقہ قراردادوں کو نافذ کریں اور یمن کی قانونی حکومت کو دہشت گرد حوثی ملیشیا کا مقابلہ کرنے میں مکمل حمایت فراہم کریں۔

بیان میں کہا گیا کہ بین الاقوامی برادری کو یمن، خطے اور دنیا کے لیے حوثی ملیشیا سے پیدا ہونے والے خطرے کے خاتمے کے لیے کردار ادا کرنا ہوگا۔ وزارت خارجہ نے یہ مطالبہ دہرایا کہ سلامتی کونسل کی قراردادیں نافذ کی جائیں اور یمنی حکومت کو مکمل حمایت دی جائے۔

کیا سلامتی کونسل کی قراردادوں کے نفاذ کے بغیر خطے میں خطرہ کم ہو سکتا ہے؟ وزارت خارجہ نے کہا کہ بین الاقوامی برادری کو اپنی ذمہ داریاں پوری کرنی ہوں گی اور یمنی حکومت کی حمایت کرنی ہوگی تاکہ حوثی ملیشیا سے پیدا ہونے والا خطرہ ختم ہو۔

بیان کے مطابق مملکت نے یہ موقف واضح کیا کہ حوثی ملیشیا کے حملے نہ صرف مملکت بلکہ پورے خطے اور دنیا کے لیے خطرہ ہیں۔ وزارت خارجہ نے کہا کہ یہ خطرہ یمن، خطے اور دنیا تک پھیل سکتا ہے، اس لیے بین الاقوامی برادری کو فوری کردار ادا کرنا ہوگا۔

کیا خطے اور دنیا کے لیے خطرے کے خاتمے کے لیے صرف ایک ملک کی کوششیں کافی ہو سکتی ہیں؟ وزارت خارجہ نے کہا کہ بین الاقوامی برادری، خاص طور پر سلامتی کونسل کے مستقل ارکان، کو اپنی ذمہ داریاں پوری کرنی ہوں گی اور یمنی حکومت کو مکمل حمایت دینی ہوگی۔

بیان میں یہ بھی کہا گیا کہ مملکت نے 2014 سے یمن میں جامع اور پائیدار سیاسی حل کے لیے کوششیں جاری رکھی ہیں، مگر حوثی ملیشیا نے امن کو مسترد کیا۔ وزارت خارجہ نے کہا کہ مملکت اپنے موقف پر قائم ہے کہ یمن کا مسئلہ سیاسی حل سے ہی حل ہو سکتا ہے، اور اس کے لیے یمنی حکومت کی حمایت ضروری ہے۔

کیا یمن میں پائیدار امن کے لیے یمنی حکومت اور اداروں کی بحالی لازمی نہیں؟ وزارت خارجہ نے کہا کہ مملکت یمنی حکومت اور عوام کی حمایت جاری رکھے گی تاکہ بغاوت ختم ہو اور ریاست اور اس کے ادارے بحال ہوں۔

ایس پی اے کی رپورٹ میں حملوں کی تعداد، تاریخوں، جانی نقصان کے اعداد و شمار یا سلامتی کونسل کی مخصوص قراردادوں کے نام نہیں دیے گئے۔ بیان میں یہ بھی نہیں بتایا گیا کہ بین الاقوامی برادری نے کس طرح جواب دیا۔

وزارت خارجہ نے کن مقامات اور شہروں کو نشانہ بنانے کی مذمت کی؟ بیان کے مطابق حوثی ملیشیا زمین پر موجود مقدس ترین مقامات مکہ مکرمہ اور مدینہ منورہ کے خلاف کھلے اور بار بار حملے کر رہی ہے۔ اس کے ساتھ دارالحکومت ریاض اور شہروں ابھا، خمیس مشیط، جازان، نجران، طائف اور ینبع کو بھی نشانہ بنایا جا رہا ہے۔ بیان میں جنوبی بحیرہ احمر اور آبنائے باب المندب میں سعودی جہازوں کو نشانہ بنانے کا بھی ذکر ہے۔

یمن میں سیاسی حل کے بارے میں مملکت کا موقف کیا ہے؟ وزارت خارجہ نے کہا کہ 2014 میں حوثی ملیشیا کی یمن کی قانونی حکومت کے خلاف بغاوت کے بعد سے مملکت نے یمن میں جامع اور پائیدار سیاسی حل کی حمایت کے لیے مسلسل اور انتھک کوششیں کی ہیں۔ تاہم حوثی ملیشیا نے امن کو مسترد کرتے ہوئے فوجی کشیدگی کا راستہ اختیار کیا۔ بیان کے مطابق اس کشیدگی نے یمن اور یمنی عوام کو مزید انسانی اور اقتصادی تکالیف میں دھکیل دیا ہے۔

مملکت نے اپنے دفاع کے بارے میں کیا کہا؟ وزارت خارجہ نے کہا کہ مملکت اپنی سرزمین، وسائل، خودمختاری اور اپنے شہریوں اور رہائشیوں کی حفاظت کے دفاع کے اپنے موروثی حق کی تصدیق کرتی ہے۔ بیان کے مطابق مملکت بین الاقوامی قانون کے مطابق اپنی سلامتی کے تحفظ کے لیے تمام ضروری اقدامات کرنے کا حق رکھتی ہے۔ وزارت خارجہ نے کہا کہ مملکت اپنی خودمختاری اور شہریوں کی حفاظت کو اولین ترجیح دیتی ہے۔

یمن کی قانونی حکومت کے لیے مملکت کی حمایت کیا ہے؟ وزارت خارجہ نے کہا کہ مملکت صدارتی قیادت کونسل، یمنی حکومت اور بھائی یمنی عوام کے لیے اپنی مکمل سیاسی اور فوجی حمایت کی تجدید کرتی ہے۔ بیان کے مطابق یہ حمایت بغاوت کے خاتمے اور ریاست اور اس کے اداروں کو دہشت گرد حوثی ملیشیا کے کنٹرول سے بحال کرنے کے لیے ہے۔ وزارت خارجہ نے کہا کہ مملکت یمنی حکومت اور عوام کے ساتھ کھڑی ہے۔

بین الاقوامی برادری سے کیا مطالبہ کیا گیا؟ وزارت خارجہ نے بین الاقوامی برادری، خاص طور پر سلامتی کونسل کے مستقل ارکان سے مطالبہ کیا کہ وہ اپنی ذمہ داریاں پوری کریں۔ بیان کے مطابق ان سے کہا گیا کہ سلامتی کونسل کی متعلقہ قراردادوں کو نافذ کریں اور یمن کی قانونی حکومت کو دہشت گرد حوثی ملیشیا کا مقابلہ کرنے میں مکمل حمایت فراہم کریں۔ بیان میں کہا گیا کہ یہ خطرہ یمن، خطے اور دنیا تک پھیل سکتا ہے۔

بیان میں کون سی تفصیلات نہیں دی گئیں؟ ایس پی اے کی رپورٹ میں حملوں کی تعداد، تاریخوں، جانی نقصان کے اعداد و شمار یا سلامتی کونسل کی مخصوص قراردادوں کے نام نہیں دیے گئے۔ بیان میں یہ بھی نہیں بتایا گیا کہ بین الاقوامی برادری نے کس طرح جواب دیا۔ رپورٹ میں صرف وزارت خارجہ کا موقف اور مطالبے شامل ہیں، اور یہی وجہ ہے کہ مذکورہ تفصیلات کے بارے میں کوئی دعویٰ نہیں کیا جا سکتا۔