Monday, November 2, 2026
سعودی خبریں

قطر میں سیکورٹی شعبوں میں مصنوعی ذہانت کے استعمال پر بین الاقوامی فورم کا آغاز

قطر میں سیکورٹی شعبوں میں مصنوعی ذہانت کے استعمال پر بین الاقوامی فورم کا آغاز

دوحہ میں منگل کے روز سیکورٹی شعبوں میں مصنوعی ذہانت کے استعمال سے متعلق بین الاقوامی سائنسی فورم کا آغاز ہوا، جس کا افتتاح قطر کے وزیر مملکت برائے داخلہ امور شیخ عبدالعزیز بن فیصل بن محمد الثانی نے کیا۔ یہ فورم نائف عرب یونیورسٹی فار سیکیورٹی سائنسز (NAUSS) نے قطر پولیس اکیڈمی کے تعاون سے منعقد کیا ہے۔

جیسا کہ سعودی خبر رساں ادارے ایس پی اے نے بیان کیا، یہ تین روزہ فورم عرب ممالک کے ماہرین اور ماہرین کی ایک منتخب جماعت اور متعلقہ بین الاقوامی اداروں کے نمائندوں کو اکٹھا کرتا ہے۔

فورم کے افتتاح کے موقع پر اپنے خطاب میں نائف عرب یونیورسٹی فار سیکیورٹی سائنسز کے نائب صدر برائے خارجہ تعلقات خالد بن عبدالعزیز الحرفش نے اس بات کا اعادہ کیا کہ مصنوعی ذہانت سیکورٹی کے لیے ایک نیا میدان اور تیز رفتار ڈیجیٹل تبدیلیوں کے درمیان اسے مضبوط بنانے کا ایک اسٹریٹجک موقع بن گئی ہے۔

انہوں نے نوٹ کیا کہ وہ ممالک اور ادارے جو اس ٹیکنالوجی کو جرائم کی روک تھام اور جرائم سے نمٹنے کے لیے بروئے کار لانے میں کامیاب ہوتے ہیں، نیز ہوشیار اور فعال سیکورٹی صلاحیتیں بناتے ہیں، وہ مستقبل کے خطرات سے نمٹنے اور سیکورٹی، استحکام اور پائیدار ترقی کو فروغ دینے کے لیے بہتر پوزیشن میں ہوں گے۔

فورم کا مقصد سیکورٹی کو بڑھانے اور مستقبل کے خطرات سے نمٹنے میں مصنوعی ذہانت کے کردار کی کھوج لگانا ہے، اور منشیات سے متعلق، مالیاتی اور سائبر جرائم کی جلد شناخت اور ان سے نمٹنے کے لیے ہوشیار ٹیکنالوجیز کو بروئے کار لانا ہے۔ یہ مالی فراڈ اور بین الاقوامی سطح پر منظم جرائم سے نمٹنے کی کوششوں کی تاثیر کو بڑھانے کی بھی کوشش کرتا ہے، ساتھ ہی پیش گوئی کرنے والے تجزیوں اور ذہین ماڈلز کے ذریعے سیکورٹی فیصلہ سازی کی حمایت کرتا ہے۔

کیا مصنوعی ذہانت واقعی سیکورٹی اداروں کے لیے ایک نیا میدان بن چکی ہے؟ الحرفش کے مطابق، تیز رفتار ڈیجیٹل تبدیلیوں کے دوران یہ ٹیکنالوجی سیکورٹی کو مضبوط بنانے کا ایک اسٹریٹجک موقع ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ جو ممالک اور ادارے اسے جرائم کی روک تھام اور جرائم سے نمٹنے کے لیے استعمال کرنے میں کامیاب ہوں گے، وہ مستقبل کے خطرات کا بہتر انداز میں مقابلہ کر سکیں گے۔

فورم تین روز تک جاری رہے گا اور اس میں عرب ممالک کے ماہرین اور ماہرین کے ساتھ متعلقہ بین الاقوامی اداروں کے نمائندے بھی شریک ہیں۔ کیا یہ شراکت داری عرب خطے میں سیکورٹی تعاون کی نئی راہیں کھول سکتی ہے؟ ایس پی اے کے مطابق، شرکاء میں عرب ممالک کے ماہرین اور ماہرین کی ایک منتخب جماعت شامل ہے، جبکہ متعلقہ بین الاقوامی اداروں کے نمائندے بھی فورم میں موجود ہیں۔

فورم کے ایجنڈے میں مصنوعی ذہانت کے ذریعے سیکورٹی کو بڑھانا اور مستقبل کے خطرات سے نمٹنا شامل ہے۔ اس کا ایک اہم مقصد منشیات سے متعلق جرائم کی جلد شناخت اور ان سے نمٹنے کے لیے ہوشیار ٹیکنالوجیز کا استعمال ہے۔ کیا یہ ٹیکنالوجیز منشیات کی اسمگلنگ کے نیٹ ورکس کو روکنے میں مؤثر ثابت ہو سکتی ہیں؟

اسی طرح مالیاتی جرائم اور سائبر جرائم بھی فورم کے مرکزی موضوعات میں شامل ہیں۔ فورم مالی فراڈ سے نمٹنے کی کوششوں کی تاثیر کو بڑھانے کی کوشش کرتا ہے، اور بین الاقوامی سطح پر منظم جرائم کے خلاف اقدامات کو مضبوط بنانے پر بھی توجہ دیتا ہے۔ کیا پیش گوئی کرنے والے تجزیے مالی فراڈ کو روکنے میں فیصلہ سازوں کی مدد کر سکتے ہیں؟

فورم سیکورٹی فیصلہ سازی کی حمایت کے لیے پیش گوئی کرنے والے تجزیوں اور ذہین ماڈلز کے استعمال پر بھی غور کرتا ہے۔ یہ نقطہ نظر اداروں کو مستقبل کے خطرات کا اندازہ لگانے اور ان سے پہلے ہی نمٹنے کی صلاحیت فراہم کرتا ہے۔ کیا ذہین ماڈلز روایتی سیکورٹی طریقوں سے زیادہ مؤثر ثابت ہوں گے؟

الحرفش نے اپنے خطاب میں اس بات پر زور دیا کہ ہوشیار اور فعال سیکورٹی صلاحیتیں بنانا مستقبل کے خطرات سے نمٹنے کی کلید ہے۔ ان کے مطابق، ایسی صلاحیتیں سیکورٹی، استحکام اور پائیدار ترقی کو فروغ دینے میں معاون ہوں گی۔ کیا فعال سیکورٹی ماڈل روایتی ردِ عمل پر مبنی طریقوں کی جگہ لے سکتے ہیں؟

یہ فورم نائف عرب یونیورسٹی فار سیکیورٹی سائنسز اور قطر پولیس اکیڈمی کے تعاون سے منعقد ہو رہا ہے، جو عرب خطے میں سیکورٹی تعلیم اور تربیت کے دو اہم ادارے ہیں۔ اس تعاون سے فورم کو علمی اور عملی دونوں پہلوؤں میں تقویت ملتی ہے۔ کیا ایسی مشترکہ کوششیں خطے میں سیکورٹی تحقیق کے لیے ایک نیا معیار قائم کریں گی؟

فورم کا انعقاد دوحہ میں ہو رہا ہے، جہاں قطر کے وزیر مملکت برائے داخلہ امور نے اس کا باقاعدہ افتتاح کیا۔ افتتاحی تقریب میں عرب ممالک اور بین الاقوامی اداروں کی نمائندگی موجود تھی۔ کیا دوحہ آنے والے برسوں میں سیکورٹی ٹیکنالوجی پر بحث کا مرکز بن سکتا ہے؟

ایس پی اے کی رپورٹ کے مطابق، فورم تین روز تک جاری رہے گا، تاہم اس میں شرکت کرنے والے ماہرین کی تعداد، اٹھائے گئے مخصوص فیصلوں یا کسی نتیجے کی تفصیل نہیں دی گئی۔ رپورٹ میں فورم کے ایجنڈے کے علاوہ کسی اضافی معلومات کا ذکر نہیں کیا گیا۔

فورم کا افتتاح کس نے کیا اور کہاں منعقد ہو رہا ہے؟ قطر کے وزیر مملکت برائے داخلہ امور شیخ عبدالعزیز بن فیصل بن محمد الثانی نے منگل کے روز دوحہ میں اس فورم کا افتتاح کیا۔ یہ فورم نائف عرب یونیورسٹی فار سیکیورٹی سائنسز نے قطر پولیس اکیڈمی کے تعاون سے منعقد کیا ہے۔ ایس پی اے کے مطابق یہ تین روزہ فورم ہے جس میں عرب ممالک کے ماہرین اور بین الاقوامی اداروں کے نمائندے شریک ہیں۔

فورم کا بنیادی مقصد کیا ہے؟ فورم کا مقصد سیکورٹی کو بڑھانے اور مستقبل کے خطرات سے نمٹنے میں مصنوعی ذہانت کے کردار کی کھوج لگانا ہے۔ اس میں منشیات سے متعلق، مالیاتی اور سائبر جرائم کی جلد شناخت اور ان سے نمٹنے کے لیے ہوشیار ٹیکنالوجیز کو بروئے کار لانے پر بھی توجہ دی جاتی ہے۔ ایس پی اے کے مطابق فورم مالی فراڈ اور بین الاقوامی سطح پر منظم جرائم سے نمٹنے کی کوششوں کی تاثیر بڑھانے کی بھی کوشش کرتا ہے۔

نائف عرب یونیورسٹی فار سیکیورٹی سائنسز کے نائب صدر نے کیا کہا؟ نائب صدر برائے خارجہ تعلقات خالد بن عبدالعزیز الحرفش نے کہا کہ مصنوعی ذہانت سیکورٹی کے لیے ایک نیا میدان اور تیز رفتار ڈیجیٹل تبدیلیوں کے درمیان اسے مضبوط بنانے کا اسٹریٹجک موقع بن گئی ہے۔ انہوں نے نوٹ کیا کہ جو ممالک اور ادارے اس ٹیکنالوجی کو جرائم کی روک تھام اور جرائم سے نمٹنے کے لیے استعمال کرنے میں کامیاب ہوں گے، وہ مستقبل کے خطرات سے نمٹنے میں بہتر پوزیشن میں ہوں گے۔

فورم میں کون کون شریک ہو رہا ہے؟ ایس پی اے کے مطابق فورم عرب ممالک کے ماہرین اور ماہرین کی ایک منتخب جماعت کو اکٹھا کرتا ہے۔ اس میں متعلقہ بین الاقوامی اداروں کے نمائندے بھی شریک ہیں۔ رپورٹ میں شرکاء کی کل تعداد یا ان کے ناموں کی تفصیل نہیں دی گئی۔

فورم کتنے دن جاری رہے گا اور اس کے نتائج کا کیا ذکر ہے؟ ایس پی اے کے مطابق یہ فورم تین روز تک جاری رہے گا۔ رپورٹ میں فورم کے ایجنڈے اور مقاصد کا ذکر کیا گیا ہے، تاہم کسی حتمی نتیجے، سفارشات یا اٹھائے گئے فیصلوں کی تفصیل نہیں دی گئی۔ فورم کے اختتام پر کیا نتائج سامنے آئیں گے، اس بارے میں رپورٹ خاموش ہے۔