Monday, November 2, 2026
سعودی خبریں

ماحولیات کی وزارت نے پانی کی پائیداری کے لیے جدت کے کردار پر زور دیا

ماحولیات کی وزارت نے پانی کی پائیداری کے لیے جدت کے کردار پر زور دیا

ریاض میں وزارت ماحولیات، پانی اور زراعت نے کہا ہے کہ مملکت کا پانی کا شعبہ ایک نمایاں تبدیلی سے گزر رہا ہے، جس سے پانی کی سلامتی میں قابلِ ذکر پیش رفت ہو رہی ہے۔ وزارت کے مطابق 2016 میں تقریباً 9 ملین مکعب میٹر یومیہ سے 2025 میں 16 ملین مکعب میٹر یومیہ سے زیادہ صلاحیت تک پہنچنا اس تبدیلی کا ایک واضح پہلو ہے۔

جیسا کہ سعودی خبر رساں ادارے ایس پی اے نے 30 ستمبر 2026 کو بیان کیا، وزارت نے یہ بات ساتویں اجلاس برائے واٹر ریسرچ کمیونٹی کے موقع پر کہی، جس میں سائنسی ماہرین اور پانی کے شعبے کی ترقی سے وابستہ اسٹیک ہولڈرز شریک ہوئے۔ اجلاس میں تحقیق، جدت اور پائیدار پانی کے انتظام پر توجہ مرکوز کی گئی۔

وزارت کے مطابق اسی مدت میں غیر قابلِ تجدید زیرِ زمین پانی پر انحصار تقریباً 21 بلین مکعب میٹر سے کم ہو کر تقریباً 11 بلین مکعب میٹر رہ گیا، جس سے پائیدار آبی وسائل کے انتظام میں شعبے کا تعاون مضبوط ہوا۔ یہ کمی اور ڈی سیلینیشن صلاحیت میں اضافہ دونوں مل کر پانی کے تحفظ کے لیے کام کر رہے ہیں۔

نائب وزیر برائے تحقیق و جدت ڈاکٹر عبدالعزیز المالک نے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ پانی کے شعبے کو درپیش عالمی چیلنجز وسائل کے زیادہ موثر استعمال، طلب کے مؤثر انتظام، نقصانات میں کمی اور دوبارہ استعمال میں توسیع کی ضرورت کو اجاگر کرتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ مملکت کا طریقہ کار شعبے کی بدلتی ضروریات کو پورا کرنے میں کلیدی کردار ادا کر رہا ہے اور اسی نے تحقیق، جدت اور پائیدار پانی کے انتظام کے قومی ترجیحات کی تشکیل کی ہے۔

ڈاکٹر المالک نے “واٹر انوویشن زون” اقدام کو ایک اہم پلیٹ فارم قرار دیا جو مہارت اور صلاحیتوں کو یکجا کرتا ہے تاکہ شعبے کی ضروریات اور چیلنجز سے نمٹا جا سکے۔ ان کے مطابق یہ پلیٹ فارم جدید حل کی جانچ اور توثیق میں سہولت فراہم کرتا ہے تاکہ پانی کے شعبے میں ان کے اپنانے اور تعیناتی کو تیز کیا جا سکے۔

کیا پانی کی سلامتی کے لیے صرف پیداواری صلاحیت بڑھانا کافی ہے، یا طلب کے انتظام اور نقصانات میں کمی بھی اتنی ہی اہم ہے؟ وزارت کے بیان کے مطابق دونوں پہلوؤں پر کام ہو رہا ہے۔ ڈی سیلینیشن صلاحیت میں اضافہ اور زیرِ زمین پانی پر انحصار میں کمی ایک ساتھ بتاتے ہیں کہ حکمت عملی صرف فراہمی بڑھانے تک محدود نہیں۔

غیر قابلِ تجدید زیرِ زمین پانی پر انحصار 21 بلین مکعب میٹر سے 11 بلین مکعب میٹر تک لانا ایک بڑی تبدیلی ہے۔ یہ وسائل محدود ہیں اور ان کا دوبارہ بننا صدیوں میں ہوتا ہے۔ ایسے میں کیا یہ کمی پانی کے تحفظ کے لیے ایک حقیقی پیش رفت ہے؟ وزارت کے اعداد و شمار کے مطابق یہ کمی 2016 سے 2025 کے درمیان ریکارڈ کی گئی۔

ڈی سیلینیشن صلاحیت کا 9 ملین مکعب میٹر یومیہ سے 16 ملین سے زیادہ تک پہنچنا بھی ایک اہم پیش رفت ہے۔ لیکن کیا سمندری پانی کو میٹھا کرنے پر بڑھتا انحصار توانائی اور لاگت کے نئے چیلنجز پیدا کرتا ہے؟ وزارت نے اپنے بیان میں اس پہلو پر تفصیل نہیں دی۔ تاہم یہ واضح ہے کہ پانی کی سلامتی کے لیے متوازن نقطہ نظر ضروری ہے۔

واٹر ریسرچ کمیونٹی کا ساتواں اجلاس اس بات کا اشارہ ہے کہ مملکت پانی کے شعبے میں سائنسی تحقیق اور جدت کو ادارہ جاتی شکل دے رہی ہے۔ سائنسی ماہرین اور اسٹیک ہولڈرز کی شرکت سے یہ بات سامنے آتی ہے کہ پالیسی سازی میں تحقیق کو شامل کیا جا رہا ہے۔ کیا یہ ماڈل دوسرے شعبوں کے لیے بھی قابلِ تقلید ہے؟ وزارت کے بیان میں اس کا براہ راست جواب موجود نہیں۔

ڈاکٹر عبدالعزیز المالک کا کردار تحقیق و جدت کے نائب وزیر کے طور پر اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ وزارت پانی کے مسائل کو محض انفراسٹرکچر کے بجائے علم اور ٹیکنالوجی کے ذریعے حل کرنے پر زور دے رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ عالمی چیلنجز زیادہ موثر وسائل کے استعمال کی ضرورت کو اجاگر کرتے ہیں۔ کیا وسائل کا موثر استعمال صرف نئی ٹیکنالوجی سے ممکن ہے، یا رویوں اور پالیسیوں میں تبدیلی بھی لازم ہے؟

“واٹر انوویشن زون” کا ذکر وزارت کے بیان کا ایک اہم حصہ ہے۔ یہ اقدام مہارت اور صلاحیتوں کو یکجا کرنے کا پلیٹ فارم ہے۔ اس کا مقصد شعبے کی ضروریات اور چیلنجز سے نمٹنا ہے۔ اس کے ذریعے جدید حل کی جانچ اور توثیق کی جاتی ہے تاکہ انہیں تیزی سے اپنایا جا سکے۔ کیا ایسے پلیٹ فارمز سے اختراعی حل کی تجارتی تعیناتی تیز ہو سکتی ہے؟ وزارت کے مطابق یہی مقصد ہے۔

پانی کے شعبے میں مملکت کی کوششیں صرف پیداوار تک محدود نہیں۔ نقصانات میں کمی اور دوبارہ استعمال میں توسیع بھی ترجیحات میں شامل ہیں۔ ڈاکٹر المالک نے ان نکات کا ذکر کیا۔ کیا شہری اور صنعتی صارفین بھی اس عمل میں شامل ہیں؟ وزارت کے بیان میں صارفین کے کردار کی تفصیل نہیں دی گئی، البتہ طلب کے انتظام کا ذکر موجود ہے۔

2016 سے 2025 کے درمیان ڈی سیلینیشن صلاحیت میں تقریباً دوگنا اضافہ ہوا۔ یہ مدت مملکت کے وژن 2030 کے سفر کا حصہ ہے۔ پانی کی سلامتی وژن کے اہم ستونوں میں شمار ہوتی ہے۔ کیا یہ اعداد و شمار ظاہر کرتے ہیں کہ وژن کے اہداف پانی کے شعبے میں عملی شکل اختیار کر رہے ہیں؟ وزارت نے اپنے بیان میں وژن کا براہ راست ذکر نہیں کیا، مگر پیش رفت اس سمت اشارہ کرتی ہے۔

زیرِ زمین پانی پر انحصار میں کمی کا مطلب یہ ہے کہ متبادل ذرائع کو فروغ دیا جا رہا ہے۔ ڈی سیلینیشن ان متبادل ذرائع میں سرفہرست ہے۔ لیکن کیا یہ متبادل طویل مدت میں پائیدار ہیں؟ وزارت کے بیان میں اس سوال کا جواب نہیں، تاہم تحقیق و جدت پر زور اس بات کا عندیہ دیتا ہے کہ جواب تلاش کیا جا رہا ہے۔

واٹر ریسرچ کمیونٹی کے اجلاس کا ساتواں ایڈیشن یہ ظاہر کرتا ہے کہ یہ عمل جاری اور باقاعدہ ہے۔ ہر اجلاس میں ماہرین اور اسٹیک ہولڈرز اکٹھے ہوتے ہیں۔ کیا اس تسلسل سے پالیسی اور تحقیق کے درمیان خلا کم ہو رہا ہے؟ وزارت کے بیان کے مطابق اجلاس کا مقصد شعبے کی ترقی ہے۔

ڈاکٹر المالک نے کہا کہ مملکت کا طریقہ کار شعبے کی بدلتی ضروریات کو پورا کرنے میں کلیدی کردار ادا کر رہا ہے۔ انہوں نے اسے قومی ترجیحات کی تشکیل سے جوڑا۔ یعنی تحقیق اور جدت صرف تکنیکی معاملہ نہیں بلکہ پالیسی کی سطح پر ترجیح ہے۔ کیا اس سے پانی کے شعبے میں فیصلہ سازی زیادہ شواہد پر مبنی ہو گی؟ وزارت کے بیان میں اس کی وضاحت نہیں۔

عالمی چیلنجز کا ذکر کرتے ہوئے ڈاکٹر المالک نے موثر استعمال، طلب کے انتظام، نقصانات میں کمی اور دوبارہ استعمال کو نمایاں کیا۔ یہ چاروں پہلو ایک دوسرے سے جڑے ہوئے ہیں۔ اگر پیداوار بڑھے مگر نقصانات کم نہ ہوں تو فائدہ محدود رہے گا۔ کیا وزارت نقصانات کی پیمائش کے لیے کوئی ہدف مقرر کر رہی ہے؟ بیان میں ایسا کوئی ہدف نہیں دیا گیا۔

پانی کی سلامتی میں پیش رفت کا اندازہ صرف اعداد و شمار سے نہیں لگایا جا سکتا۔ ادارہ جاتی صلاحیت، تحقیق اور جدت بھی اہم ہیں۔ واٹر انوویشن زون اور واٹر ریسرچ کمیونٹی دونوں اسی سمت کے اقدامات ہیں۔ کیا یہ اقدامات بین الاقوامی تعاون کو بھی راغب کریں گے؟ وزارت کے بیان میں بین الاقوامی شراکت کا ذکر نہیں، البتہ عالمی چیلنجز کا حوالہ موجود ہے۔

مملکت کے پانی کے شعبے کی تبدیلی کا دائرہ وسیع ہے۔ ڈی سیلینیشن صلاحیت میں اضافہ اور زیرِ زمین پانی پر انحصار میں کمی اس کے دو نمایاں پہلو ہیں۔ وزارت کے مطابق یہ پائیدار آبی وسائل کے انتظام میں شعبے کا تعاون مضبوط کرتے ہیں۔ کیا یہ رجحان آئندہ برسوں میں جاری رہے گا؟ وزارت نے مستقبل کے اہداف یا اعداد و شمار کا اعلان نہیں کیا۔

اجلاس میں سائنسی ماہرین کی شرکت اس بات کی عکاسی کرتی ہے کہ پانی کے مسائل کو بین الضابطہ انداز میں دیکھا جا رہا ہے۔ تحقیق و جدت کے نائب وزیر کی موجودگی بھی اس اہمیت کو ظاہر کرتی ہے۔ کیا اس سے تحقیق کے نتائج کو پالیسی میں ڈھالنے کا عمل تیز ہو گا؟ وزارت کے بیان میں اس کا واضح جواب موجود نہیں۔

واٹر انوویشن زون کی جانچ اور توثیق کی سہولت اس بات کو یقینی بناتی ہے کہ نئے حل آزمائے جائیں اور پھر اپنائے جائیں۔ یہ مرحلہ اختراع سے تعیناتی تک کا پل ہے۔ کیا اس پل کے بغیر نئی ٹیکنالوجی شعبے تک پہنچ سکتی ہے؟ وزارت کے مطابق یہ پلیٹ فارم اسی مقصد کے لیے ہے۔

پانی کے شعبے میں طلب کا انتظام ایک ایسا پہلو ہے جس کا تعلق رویوں اور پالیسیوں دونوں سے ہے۔ ڈاکٹر المالک نے اسے عالمی چیلنجز کے تناظر میں ذکر کیا۔ کیا طلب میں کمی کے لیے ٹیرف یا شعوری مہمات جیسے اقدامات زیرِ غور ہیں؟ وزارت کے بیان میں اس کی تفصیل نہیں دی گئی۔

دوبارہ استعمال میں توسیع کا مطلب ہے کہ پانی کو ایک بار استعمال کے بعد ضائع نہ کیا جائے۔ یہ پائیداری کا اہم ستون ہے۔ وزارت نے اسے ترجیحات میں شامل کیا۔ کیا زراعت اور صنعت میں دوبارہ استعمال کے لیے کوئی مخصوص پروگرام ہے؟ بیان میں اس کا ذکر نہیں، البتہ ضرورت کا اعتراف موجود ہے۔

مملکت کے پانی کے شعبے کی کہانی صرف انفراسٹرکچر کی کہانی نہیں۔ یہ تحقیق، جدت اور ادارہ جاتی تعاون کی کہانی بھی ہے۔ واٹر ریسرچ کمیونٹی کا ساتواں اجلاس اور واٹر انوویشن زون اس کے دو ستون ہیں۔ کیا یہ ماڈل پانی کے بحران سے نمٹنے کے لیے کافی ہے؟ وزارت کے بیان میں یہ دعویٰ نہیں کیا گیا، صرف پیش رفت کا ذکر ہے۔

ایس پی اے کی رپورٹ میں ڈی سیلینیشن صلاحیت اور زیرِ زمین پانی کے اعداد و شمار دیے گئے ہیں، مگر ان کی لاگت، توانائی کی کھپت یا علاقائی تقسیم کا ذکر نہیں۔ نہ ہی واٹر انوویشن زون کے بجٹ یا شرکاء کی تفصیل دی گئی ہے۔ وزارت کے بیان میں مستقبل کے اہداف بھی شامل نہیں۔ یہ پہلو رپورٹ سے غائب ہیں۔

پانی کے شعبے میں کون سی پیش رفت بتائی گئی ہے؟ وزارت کے مطابق ڈی سیلینیشن صلاحیت 2016 میں تقریباً 9 ملین مکعب میٹر یومیہ سے بڑھ کر 2025 میں 16 ملین مکعب میٹر یومیہ سے زیادہ ہو گئی۔ اسی مدت میں غیر قابلِ تجدید زیرِ زمین پانی پر انحصار تقریباً 21 بلین مکعب میٹر سے کم ہو کر تقریباً 11 بلین مکعب میٹر رہ گیا۔ وزارت نے کہا کہ اس سے پائیدار آبی وسائل کے انتظام میں شعبے کا تعاون مضبوط ہوا۔

واٹر ریسرچ کمیونٹی کا اجلاس کیا ہے؟ یہ واٹر ریسرچ کمیونٹی کا ساتواں اجلاس تھا، جس میں سائنسی ماہرین اور پانی کے شعبے کی ترقی سے وابستہ اسٹیک ہولڈرز شریک ہوئے۔ اجلاس میں نائب وزیر برائے تحقیق و جدت ڈاکٹر عبدالعزیز المالک نے خطاب کیا۔ انہوں نے تحقیق، جدت اور پائیدار پانی کے انتظام پر زور دیا۔ وزارت کے مطابق اجلاس کا مقصد شعبے کی بدلتی ضروریات سے نمٹنا ہے۔

واٹر انوویشن زون کا کیا کردار ہے؟ ڈاکٹر عبدالعزیز المالک کے مطابق واٹر انوویشن زون ایک اہم پلیٹ فارم ہے جو مہارت اور صلاحیتوں کو یکجا کرتا ہے تاکہ شعبے کی ضروریات اور چیلنجز سے نمٹا جا سکے۔ یہ جدید حل کی جانچ اور توثیق میں سہولت فراہم کرتا ہے۔ اس کا مقصد پانی کے شعبے میں ان حل کے اپنانے اور تعیناتی کو تیز کرنا ہے۔ وزارت نے اس کے بجٹ یا شرکاء کی تفصیل نہیں دی۔

عالمی چیلنجز کا ذکر کیوں کیا گیا؟ ڈاکٹر المالک نے کہا کہ پانی کے شعبے کو درپیش عالمی چیلنجز وسائل کے زیادہ موثر استعمال، طلب کے مؤثر انتظام، نقصانات میں کمی اور دوبارہ استعمال میں توسیع کی ضرورت کو اجاگر کرتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ مملکت کا طریقہ کار شعبے کی بدلتی ضروریات کو پورا کرنے میں کلیدی کردار ادا کر رہا ہے۔ اسی نے تحقیق، جدت اور پائیدار پانی کے انتظام کی قومی ترجیحات کی تشکیل کی۔

کیا رپورٹ میں لاگت یا اہداف دیے گئے ہیں؟ نہیں، ایس پی اے کی رپورٹ میں ڈی سیلینیشن صلاحیت اور زیرِ زمین پانی کے اعداد و شمار تو دیے گئے ہیں، مگر ان کی لاگت، توانائی کی کھپت یا علاقائی تقسیم کا ذکر نہیں۔ واٹر انوویشن زون کے بجٹ یا شرکاء کی تفصیل بھی شامل نہیں۔ وزارت کے بیان میں مستقبل کے اہداف یا تکمیل کی تاریخیں بھی نہیں دی گئیں۔