Sunday, October 18, 2026
سعودی خبریں

مدینہ میں جمعہ کا خطبہ: یومِ قیامت پر ایمان اور مقدس مقامات پر حملوں کی مذمت

مدینہ میں جمعہ کا خطبہ: یومِ قیامت پر ایمان اور مقدس مقامات پر حملوں کی مذمت

مدینہ منورہ میں مسجد نبوی کے امام شیخ احمد الحدیدی نے جمعہ کے خطبے میں مسلمانوں کو تقویٰ کی تلقین کی اور یومِ قیامت پر پختہ ایمان سے مومن کی زندگی میں پیدا ہونے والے گہرے سکون اور راست روی کو اجاگر کیا۔

جیسا کہ سعودی خبر رساں ادارے ایس پی اے نے 16 اکتوبر 2026 کو بیان کیا، خطبے میں مکہ مکرمہ اور مدینہ منورہ کی دو مقدس مساجد کی حرمت اور بلند مقام پر زور دیا گیا، جنہیں امن، عبادت اور تحفظ کی دائمی پناہ گاہیں قرار دیا گیا۔

شیخ احمد الحدیدی نے مکہ مکرمہ، مدینہ منورہ اور ریاض کے شاہ خالد بین الاقوامی ہوائی اڈے کو نشانہ بنانے والی دہشت گرد حوثی ملیشیا اور اس کے مجرمانہ ساتھیوں کے اقدامات کی مذمت کی۔ انہوں نے واضح کیا کہ بے گناہوں کا خون بہانا، پرامن شہریوں کو خوفزدہ کرنا اور حاجیوں اور زائرین کو خطرے میں ڈالنا سنگین جرائم اور شدید زیادتیاں ہیں، جنہیں اسلامی شریعت، صحیح عقل، انسانی ضمیر اور بین الاقوامی اصول قطعی طور پر مسترد کرتے ہیں۔

امام نے خطبے کے اختتام پر اللہ تعالیٰ سے دعا کی کہ وہ مملکتِ سعودی عرب کی حفاظت فرمائے، جو ایمان کا گڑھ، وحی الٰہی کا گہوارہ اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی آرام گاہ کا میزبان ملک ہے۔ انہوں نے خادم الحرمین الشریفین اور ولی عہد شہزادے کی حفاظت اور کامیابی کے لیے بھی دعا کی اور اللہ سے استدعا کی کہ وہ مملکت کی سرحدوں کی حفاظت فرمائے اور سرحدوں پر تعینات اس کی مسلح افواج کو ثابت قدمی کے ساتھ فتح عطا فرمائے۔

یہ خطبہ ایسے وقت میں دیا گیا جب مسجد نبوی میں جمع ہونے والے نمازیوں نے دو مقدس مساجد کے تقدس اور ان کی حرمت کے پیغام کو سنا، جو اسلامی دنیا کے لیے مرکزی اہمیت رکھتی ہیں۔ کیا دو مقدس مساجد کی حرمت کا تحفظ صرف ایک مذہبی فریضہ ہے یا یہ بین الاقوامی ذمہ داری بھی ہے؟

خطبے میں یومِ قیامت پر ایمان کو مرکزی موضوع بنایا گیا۔ امام نے بتایا کہ اس عقیدے کی مضبوطی مومن کے دل میں سکون اور اس کے عمل میں راست روی پیدا کرتی ہے۔ یہ تذکرہ اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ عقیدہ اور روزمرہ زندگی کے درمیان تعلق کس طرح اسلامی تعلیمات کا بنیادی حصہ ہے۔ کیا آج کے دور میں یومِ قیامت کا تصور انسان کے اخلاقی رویے کو بدل سکتا ہے؟

امام نے دو مقدس مساجد کو امن، عبادت اور تحفظ کی دائمی پناہ گاہیں قرار دیا۔ مکہ مکرمہ اور مدینہ منورہ کی یہ حیثیت دنیا بھر کے مسلمانوں کے لیے روحانی مرکز کی حیثیت رکھتی ہے، جہاں ہر سال لاکھوں زائرین عبادت کے لیے پہنچتے ہیں۔ ان مقامات کی حرمت کا تحفظ نہ صرف مذہبی بلکہ انسانی اور بین الاقوامی سطح پر بھی اہم ہے۔ کیا زائرین کی حفاظت کو یقینی بنانا تمام متعلقہ فریقوں کی مشترکہ ذمہ داری نہیں؟

خطبے کا ایک اہم حصہ ان حملوں کی مذمت پر مشتمل تھا جن میں مکہ مکرمہ، مدینہ منورہ اور ریاض کے شاہ خالد بین الاقوامی ہوائی اڈے کو نشانہ بنایا گیا۔ امام نے ان حملوں کو دہشت گرد حوثی ملیشیا اور اس کے مجرمانہ ساتھیوں سے منسوب کیا۔ انہوں نے کہا کہ بے گناہوں کا خون بہانا، پرامن شہریوں کو خوفزدہ کرنا اور حاجیوں اور زائرین کو خطرے میں ڈالنا ایسے سنگین جرائم ہیں جنہیں اسلامی شریعت، صحیح عقل، انسانی ضمیر اور بین الاقوامی اصول مسترد کرتے ہیں۔

یہ مذمت چار مختلف حوالوں سے کی گئی: اسلامی شریعت، صحیح عقل، انسانی ضمیر اور بین الاقوامی اصول۔ یہ چاروں پہلو اس بات کی نشاندہی کرتے ہیں کہ اس طرح کے اقدامات کو کسی بھی زاویے سے جائز قرار نہیں دیا جا سکتا۔ کیا بین الاقوامی برادری ان حملوں کے خلاف ایک متحد آواز میں کھڑی ہو سکتی ہے؟

خطبے میں حاجیوں اور زائرین کے تحفظ پر خاص توجہ دی گئی۔ یہ وہ افراد ہیں جو عبادت کے مقصد سے مقدس مقامات کا رخ کرتے ہیں اور ان کی حفاظت کو یقینی بنانا میزبان ملک کی بنیادی ذمہ داری ہے۔ ان پر حملہ کرنا نہ صرف ان کی جان کو خطرے میں ڈالتا ہے بلکہ مقدس مقامات کے تقدس کو بھی مجروح کرتا ہے۔ کیا عبادت کے لیے آنے والوں کو تحفظ فراہم کرنا کسی بھی ریاست کا بنیادی فرض نہیں؟

امام نے خطبے کے اختتام پر مملکتِ سعودی عرب کے لیے دعا کی اور اسے ایمان کا گڑھ، وحی الٰہی کا گہوارہ اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی آرام گاہ کا میزبان ملک قرار دیا۔ یہ الفاظ مملکت کی مذہبی اور تاریخی حیثیت کی عکاسی کرتے ہیں، جو اسلامی دنیا میں اس کے منفرد مقام کی نشاندہی کرتے ہیں۔ کیا اس حیثیت کی حفاظت کے لیے مزید اجتماعی کوششوں کی ضرورت ہے؟

انہوں نے خادم الحرمین الشریفین اور ولی عہد شہزادے کی حفاظت اور کامیابی کے لیے بھی دعا کی۔ یہ دعا مملکت کی قیادت کے لیے نیک تمناؤں کا اظہار ہے، جو خطبے کے اختتامی حصے کا اہم جزو تھی۔ اس سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ مذہبی رہنما قیادت کی بھلائی اور ملک کی سلامتی کے لیے کس طرح دعا کرتے ہیں۔ کیا قیادت کی کامیابی کے لیے دعا کرنا معاشرتی یکجہتی کی علامت نہیں؟

امام نے اللہ سے استدعا کی کہ وہ مملکت کی سرحدوں کی حفاظت فرمائے اور سرحدوں پر تعینات اس کی مسلح افواج کو ثابت قدمی کے ساتھ فتح عطا فرمائے۔ سرحدوں کی حفاظت اور افواج کی ثابت قدمی کا تذکرہ اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ ملک کی سلامتی اور دفاع کو کس قدر اہمیت دی جاتی ہے۔ یہ دعا ان افواج کے لیے بھی حوصلے کا باعث ہے جو سرحدوں پر ڈیوٹی سرانجام دے رہی ہیں۔ کیا سرحدوں کی حفاظت کو یقینی بنانا قومی سلامتی کا بنیادی ستون نہیں؟

یہ خطبہ مدینہ منورہ میں مسجد نبوی میں دیا گیا، جو اسلامی دنیا کے مقدس ترین مقامات میں سے ایک ہے۔ اس مقام سے دیا گیا پیغام نہ صرف مقامی نمازیوں بلکہ دنیا بھر کے مسلمانوں تک پہنچتا ہے، کیونکہ مسجد نبوی کی اہمیت عالمی سطح پر تسلیم شدہ ہے۔ یہی وجہ ہے کہ یہاں سے دیے جانے والے خطبات کو خاص توجہ حاصل ہوتی ہے۔ کیا مقدس مقامات سے دیے جانے والے پیغامات کی ذمہ داری زیادہ نہیں ہوتی؟

خطبے میں تقویٰ کی تلقین بھی کی گئی، جو اسلامی تعلیمات کا مرکزی تصور ہے۔ تقویٰ کا مطلب ہے اللہ کا خوف اور برائی سے پرہیز، جو مومن کی زندگی کو سنوارتا ہے۔ امام نے یومِ قیامت پر ایمان کے ساتھ تقویٰ کو جوڑا، جس سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ عقیدہ اور عمل کا آپس میں گہرا تعلق ہے۔ کیا تقویٰ کے بغیر عقیدہ مکمل ہو سکتا ہے؟

یومِ قیامت پر ایمان سے پیدا ہونے والے سکون اور راست روی کا تذکرہ اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ آخرت کا تصور انسان کے رویے پر گہرا اثر ڈالتا ہے۔ جو شخص آخرت پر یقین رکھتا ہے، وہ اپنے اعمال کا جوابدہ ہونے کے احساس سے بہتر طریقے سے زندگی گزارتا ہے۔ یہ تصور معاشرتی امن اور اخلاقی استحکام میں بھی معاون ثابت ہوتا ہے۔ کیا آخرت کا تصور معاشرے میں اخلاقی بیداری کا ذریعہ بن سکتا ہے؟

خطبے میں دو مقدس مساجد کی حرمت اور بلند مقام پر زور دینے سے یہ پیغام جاتا ہے کہ ان مقامات کی بے حرمتی کسی صورت برداشت نہیں کی جائے گی۔ یہ موقف اسلامی دنیا کے عام جذبات کی ترجمانی کرتا ہے، کیونکہ مکہ مکرمہ اور مدینہ منورہ تمام مسلمانوں کے لیے یکساں اہمیت رکھتے ہیں۔ ان مقامات پر کسی بھی قسم کا حملہ پوری امت کے جذبات کو مجروح کرتا ہے۔ کیا ان مقامات کی حرمت کا تحفظ امت مسلمہ کا مشترکہ فریضہ نہیں؟

امام نے حملوں کو اسلامی شریعت، صحیح عقل، انسانی ضمیر اور بین الاقوامی اصولوں کے منافی قرار دیا۔ یہ چار حوالے اس بات کو واضح کرتے ہیں کہ اس طرح کے اقدامات کو کسی بھی بنیاد پر جائز نہیں ٹھہرایا جا سکتا۔ شریعت کی رو سے بے گناہوں کا قتل حرام ہے، عقل اسے بے معنی سمجھتی ہے، انسانی ضمیر اسے مسترد کرتا ہے اور بین الاقوامی اصول اس کی مذمت کرتے ہیں۔ کیا ان چاروں حوالوں کا متفق ہونا اس معاملے کی سنگینی کو ظاہر نہیں کرتا؟

حاجیوں اور زائرین کو خطرے میں ڈالنے کا تذکرہ اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ ان حملوں کا نشانہ عام شہری اور عبادت گزار افراد تھے۔ یہ وہ لوگ ہیں جو مقدس مقامات پر عبادت کے لیے آتے ہیں اور ان کا تحفظ میزبان ملک کی اولین ذمہ داری ہے۔ ان پر حملہ کرنا نہ صرف انسانی جانوں کو خطرے میں ڈالتا ہے بلکہ مقدس مقامات کے تقدس کو بھی نقصان پہنچاتا ہے۔ کیا عبادت گزاروں کی حفاظت کو ہر حال میں یقینی بنایا جانا چاہیے؟

خطبے کے اختتامی دعائیہ حصے میں مملکت کی سرحدوں کی حفاظت اور مسلح افواج کی ثابت قدمی کے لیے دعا کی گئی۔ یہ دعا اس بات کی عکاسی کرتی ہے کہ قومی سلامتی اور دفاع کو مذہبی حلقوں میں بھی اہمیت دی جاتی ہے۔ سرحدوں پر تعینات افواج کی ثابت قدمی کے لیے دعا کرنا ان کے حوصلے اور عزم کو تقویت دیتا ہے۔ یہ ایک ایسا پیغام ہے جو قومی یکجہتی اور دفاعی تیاری کی اہمیت کو اجاگر کرتا ہے۔ کیا قومی سلامتی کے لیے دعا اور عملی کوششیں دونوں ضروری نہیں؟

رپورٹ میں ان حملوں کے وقت، مقام یا تفصیلات کے بارے میں مزید معلومات نہیں دی گئیں، نہ ہی کسی جانی یا مالی نقصان کا ذکر کیا گیا۔ ایس پی اے کی اس رپورٹ میں صرف خطبے کے مندرجات اور امام کی دعاؤں کا ذکر ہے۔ اس طرح یہ رپورٹ خطبے کے پیغام پر مرکوز ہے، نہ کہ حملوں کی تفصیلات پر۔ کیا اس طرح کے واقعات کی مکمل تفصیلات عوام تک پہنچانا بھی ضروری نہیں؟

مجموعی طور پر یہ خطبہ عقیدے، حرمت اور سلامتی کے موضوعات کو یکجا کرتا ہے۔ یومِ قیامت پر ایمان، دو مقدس مساجد کی حرمت، حملوں کی مذمت اور قیادت و افواج کے لیے دعا، یہ سب ایک ہی پیغام کے مختلف پہلو ہیں۔ یہ پیغام اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ مذہبی رہنمائی اور قومی سلامتی کے مسائل آپس میں جڑے ہوئے ہیں۔ کیا مذہبی خطبات کو قومی یکجہتی کا ذریعہ سمجھا جا سکتا ہے؟

مدینہ منورہ سے دیا جانے والا یہ خطبہ دنیا بھر کے مسلمانوں کے لیے ایک واضح پیغام ہے کہ مقدس مقامات کی حرمت اور زائرین کی حفاظت ہر حال میں مقدم ہے۔ اس پیغام کی اہمیت اس وقت مزید بڑھ جاتی ہے جب مقدس مقامات کو نشانہ بنانے کی کوششیں سامنے آئیں۔ ایسے موقع پر مذہبی رہنماؤں کا متحد موقف معاشرے میں استحکام اور تحفظ کا احساس پیدا کرتا ہے۔ کیا متحد مذہبی موقف معاشرتی تحفظ میں اہم کردار ادا کر سکتا ہے؟

جمعہ کے خطبے میں یومِ قیامت پر ایمان کے بارے میں کیا کہا گیا؟ مسجد نبوی کے امام شیخ احمد الحدیدی نے مسلمانوں کو تقویٰ کی تلقین کی اور یومِ قیامت پر پختہ ایمان سے مومن کی زندگی میں پیدا ہونے والے گہرے سکون اور راست روی کو اجاگر کیا۔ ایس پی اے کے مطابق خطبے میں بتایا گیا کہ اس عقیدے کی مضبوطی مومن کے دل میں سکون اور اس کے عمل میں راست روی پیدا کرتی ہے۔ یہ تذکرہ عقیدہ اور روزمرہ زندگی کے تعلق کو ظاہر کرتا ہے۔

دو مقدس مساجد کی حرمت کے بارے میں خطبے میں کیا پیغام دیا گیا؟ امام نے مکہ مکرمہ اور مدینہ منورہ کی دو مقدس مساجد کی حرمت اور بلند مقام پر زور دیا اور انہیں امن، عبادت اور تحفظ کی دائمی پناہ گاہیں قرار دیا۔ ایس پی اے کے مطابق یہ خطبہ مسجد نبوی میں دیا گیا، جو اسلامی دنیا کے مقدس ترین مقامات میں سے ایک ہے۔ ان مقامات کی حرمت کا تحفظ نہ صرف مذہبی بلکہ انسانی اور بین الاقوامی سطح پر بھی اہم ہے۔

کن حملوں کی مذمت کی گئی اور انہیں کس سے منسوب کیا گیا؟ امام نے مکہ مکرمہ، مدینہ منورہ اور ریاض کے شاہ خالد بین الاقوامی ہوائی اڈے کو نشانہ بنانے والی دہشت گرد حوثی ملیشیا اور اس کے مجرمانہ ساتھیوں کے اقدامات کی مذمت کی۔ ایس پی اے کے مطابق انہوں نے کہا کہ بے گناہوں کا خون بہانا، پرامن شہریوں کو خوفزدہ کرنا اور حاجیوں اور زائرین کو خطرے میں ڈالنا سنگین جرائم اور شدید زیادتیاں ہیں، جنہیں اسلامی شریعت، صحیح عقل، انسانی ضمیر اور بین الاقوامی اصول مسترد کرتے ہیں۔

خطبے کے اختتام پر کون سی دعائیں کی گئیں؟ امام نے اللہ تعالیٰ سے دعا کی کہ وہ مملکتِ سعودی عرب کی حفاظت فرمائے، جسے ایمان کا گڑھ، وحی الٰہی کا گہوارہ اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی آرام گاہ کا میزبان ملک قرار دیا گیا۔ ایس پی اے کے مطابق انہوں نے خادم الحرمین الشریفین اور ولی عہد شہزادے کی حفاظت اور کامیابی کے لیے بھی دعا کی اور اللہ سے استدعا کی کہ وہ مملکت کی سرحدوں کی حفاظت فرمائے اور سرحدوں پر تعینات اس کی مسلح افواج کو ثابت قدمی کے ساتھ فتح عطا فرمائے۔

اس خطبے کی اہمیت کیا ہے اور یہ کہاں دیا گیا؟ یہ خطبہ مدینہ منورہ میں مسجد نبوی میں مسجد نبوی کے امام شیخ احمد الحدیدی نے جمعہ کے موقع پر دیا۔ ایس پی اے کے مطابق اس مقام سے دیا گیا پیغام نہ صرف مقامی نمازیوں بلکہ دنیا بھر کے مسلمانوں تک پہنچتا ہے، کیونکہ مسجد نبوی کی اہمیت عالمی سطح پر تسلیم شدہ ہے۔ خطبے میں عقیدے، حرمت اور سلامتی کے موضوعات کو یکجا کیا گیا، جو مذہبی رہنمائی اور قومی سلامتی کے تعلق کو ظاہر کرتا ہے۔

رپورٹ میں کن تفصیلات کا ذکر نہیں کیا گیا؟ ایس پی اے کی رپورٹ میں ان حملوں کے وقت، مقام یا تفصیلات کے بارے میں مزید معلومات نہیں دی گئیں، نہ ہی کسی جانی یا مالی نقصان کا ذکر کیا گیا۔ رپورٹ میں صرف خطبے کے مندرجات اور امام کی دعاؤں کا ذکر ہے۔ اس طرح یہ رپورٹ خطبے کے پیغام پر مرکوز ہے، نہ کہ حملوں کی تفصیلات پر، جس سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ دستیاب معلومات محدود ہیں۔