کنگ فیصل اسپیشلسٹ ہسپتال اینڈ ریسرچ سینٹر (کے ایف ایس ایچ) ریاض نے لیبیا کے محکمہ سپورٹ اینڈ ڈیولپمنٹ آف میڈیکل سروسز کے سربراہ ڈاکٹر احمد سالم اور ان کے ہمراہ وفد کی میزبانی کی، جو طبی تعاون، مہارت کے تبادلے اور انتہائی مخصوص طبی شعبوں میں تربیت کے مواقع کا جائزہ لینے کے لیے آیا تھا۔
جیسا کہ سعودی خبر رساں ادارے ایس پی اے نے 25 اکتوبر 2026 کو بیان کیا، دونوں فریقوں نے کے ایف ایس ایچ کی طبی اور تحقیقی مہارت سے فائدہ اٹھانے کے طریقوں پر بات کی تاکہ لیبیا کے طبی پیشہ ور افراد کی صلاحیتوں کو بہتر بنایا جا سکے اور علاج کی خدمات کو ترقی دی جا سکے۔ اس کا مقصد لیبیا میں ملکی سطح پر علاج کی صلاحیتوں کو مضبوط کرنے کی کوششوں کی حمایت کرنا ہے۔
بات چیت میں بیرون ملک علاج کرانے والے مریضوں کے انتظامات پر بھی تبادلہ خیال کیا گیا۔ یہ پہلو اس لیے اہم ہے کہ کئی ممالک اپنے شہریوں کو بیرون ملک بھیجنے کے بجائے مقامی سطح پر علاج کی سہولیات کو بہتر بنانے پر زور دے رہے ہیں۔ کیا لیبیا کے طبی شعبے کو درپیش چیلنجز کے پیش نظر یہ تعاون ایک طویل المدتی حل فراہم کر سکتا ہے؟
وفد نے ہسپتال کے کئی طبی شعبوں اور طبی و تحقیقی سہولیات کا دورہ کیا اور ہسپتال کی جدید ٹیکنالوجی، آلات اور مخصوص طبی نگہداشت فراہم کرنے کے طریقوں کا جائزہ لیا۔ اس دورے کا مقصد کے ایف ایس ایچ کے عملی تجربے سے سیکھنا تھا، جسے خطے میں ایک ممتاز ادارہ تسلیم کیا جاتا ہے۔
کنگ فیصل اسپیشلسٹ ہسپتال اینڈ ریسرچ سینٹر نے 2026 کے لیے دنیا کے 250 بہترین تعلیمی طبی مراکز میں مشرق وسطیٰ اور افریقہ میں پہلی اور عالمی سطح پر 12ویں پوزیشن حاصل کی۔ اس کے علاوہ اسے برانڈ فنانس کی جانب سے 2026 کے لیے سعودی عرب اور مشرق وسطیٰ کا سب سے قیمتی ہیلتھ کیئر برانڈ قرار دیا گیا۔ کے ایف ایس ایچ کو نیوز ویک کی 2026 کی فہرستوں میں بھی شامل کیا گیا، جن میں ورلڈز بیسٹ ہاسپٹلز، ورلڈز بیسٹ اسمارٹ ہاسپٹلز اور ورلڈز بیسٹ اسپیشلائزڈ ہاسپٹلز شامل ہیں۔
یہ اعزازات اس دورے کے سیاق و سباق کو واضح کرتے ہیں۔ جب کوئی بین الاقوامی وفد کسی ہسپتال کا دورہ کرتا ہے تو وہ صرف عمارتوں اور آلات کا معائنہ نہیں کرتا، بلکہ وہ نظام، طریقہ کار اور تربیتی ماڈل بھی سمجھنے کی کوشش کرتا ہے جنہوں نے اس ادارے کو عالمی سطح پر تسلیم شدہ مقام دلایا۔ کیا اس طرح کے دورے درآمدی مہارت کو مقامی صلاحیت میں تبدیل کرنے کا مؤثر ذریعہ بن سکتے ہیں؟
لیبیا کے محکمہ سپورٹ اینڈ ڈیولپمنٹ آف میڈیکل سروسز کا یہ دورہ طبی شعبے میں دوطرفہ تعاون کی ایک واضح کوشش ہے۔ ڈاکٹر احمد سالم کی قیادت میں وفد نے کے ایف ایس ایچ کے کلینیکل شعبوں اور تحقیقی مراکز کا معائنہ کیا۔ اس دوران انہیں ہسپتال کی جدید ٹیکنالوجی، آلات اور مخصوص طبی نگہداشت کی فراہمی کے طریقوں کا براہ راست مشاہدہ کرنے کا موقع ملا۔
دونوں فریقوں کے درمیان بات چیت کے اہم نکات میں لیبیا کے طبی پیشہ ور افراد کی صلاحیتوں کو بہتر بنانا، علاج کی خدمات کو ترقی دینا اور بیرون ملک علاج کے انتظامات شامل تھے۔ یہ موضوعات اس بات کی عکاسی کرتے ہیں کہ لیبیا اپنے صحت کے شعبے میں خود انحصاری بڑھانے کے لیے کوشاں ہے۔ کیا کے ایف ایس ایچ کا ماڈل لیبیا جیسے ممالک کے لیے قابل نقل ہے؟
کے ایف ایس ایچ کا عالمی سطح پر 12ویں نمبر پر آنا اور مشرق وسطیٰ و افریقہ میں پہلی پوزیشن حاصل کرنا اس بات کا ثبوت ہے کہ اس ادارے کی طبی اور تحقیقی مہارت بین الاقوامی سطح پر تسلیم شدہ ہے۔ برانڈ فنانس کی جانب سے 2026 کے لیے سعودی عرب اور مشرق وسطیٰ کا سب سے قیمتی ہیلتھ کیئر برانڈ قرار دیا جانا اس کی ساکھ اور اعتماد کو ظاہر کرتا ہے۔
نیوز ویک کی 2026 کی فہرستوں میں شامل ہونا، جن میں ورلڈز بیسٹ ہاسپٹلز، ورلڈز بیسٹ اسمارٹ ہاسپٹلز اور ورلڈز بیسٹ اسپیشلائزڈ ہاسپٹلز شامل ہیں، اس ہسپتال کی کثیر الجہتی مہارت کو اجاگر کرتا ہے۔ یہ اعزازات صرف ایک شعبے میں مہارت کا نہیں بلکہ مجموعی معیار اور جدید ٹیکنالوجی کے استعمال کا مظاہرہ کرتے ہیں۔
لیبیا کے وفد کا یہ دورہ اس وقت ہوا ہے جب کئی ترقی پذیر ممالک اپنے صحت کے نظام کو بہتر بنانے کے لیے بین الاقوامی شراکت داریوں کی طرف رجوع کر رہے ہیں۔ کے ایف ایس ایچ کا تجربہ، خاص طور پر مخصوص طبی شعبوں میں تربیت اور تحقیقی مہارت کے تبادلے کے حوالے سے، اس نوعیت کے تعاون کے لیے ایک نمونہ فراہم کرتا ہے۔ کیا اس طرح کے تعاون سے لیبیا میں علاج کے لیے بیرون ملک جانے والے مریضوں کی تعداد میں کمی آ سکتی ہے؟
دورے کے دوران وفد نے ہسپتال کے کئی طبی شعبوں کا معائنہ کیا اور جدید آلات اور ٹیکنالوجی کا جائزہ لیا۔ اس کا مقصد یہ سمجھنا تھا کہ کے ایف ایس ایچ کس طرح مخصوص طبی نگہداشت فراہم کرتا ہے اور اپنے تحقیقی وسائل کو کلینیکل عمل میں کیسے شامل کرتا ہے۔ یہ پہلو اس بات میں اہم ہے کہ کس طرح ایک ادارہ تحقیق اور علاج کو یکجا کر کے مریضوں کے بہتر نتائج حاصل کرتا ہے۔
دونوں فریقوں نے لیبیا کے طبی پیشہ ور افراد کی صلاحیتوں کو بہتر بنانے پر بھی تبادلہ خیال کیا۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ تعاون صرف مریضوں کے علاج تک محدود نہیں بلکہ انسانی وسائل کی ترقی اور تربیت تک بھی پھیلا ہوا ہے۔ کیا تربیت اور مہارت کے تبادلے کے بغیر علاج کی خدمات میں پائیدار بہتری ممکن ہے؟
بیرون ملک علاج کے انتظامات پر بات چیت اس بات کی نشاندہی کرتی ہے کہ لیبیا اپنے شہریوں کو معیاری علاج فراہم کرنے کے لیے موجودہ راستوں کا جائزہ لے رہا ہے۔ اس میں یہ بھی شامل ہو سکتا ہے کہ کس طرح مریضوں کو مؤثر طریقے سے بیرون ملک بھیجا جائے اور ان کے علاج کے بعد کی دیکھ بھال کو کیسے یقینی بنایا جائے۔
کے ایف ایس ایچ کی جانب سے یہ میزبانی اس بات کا عندیہ ہے کہ سعودی عرب اپنے طبی اداروں کے ذریعے بین الاقوامی سطح پر تعاون کو فروغ دے رہا ہے۔ اس طرح کے تبادلے نہ صرف سعودی عرب کی طبی مہارت کو اجاگر کرتے ہیں بلکہ خطے میں صحت کے شعبے میں تعاون کے نئے راستے بھی کھولتے ہیں۔
وفد کے دورے میں ہسپتال کے تحقیقی مراکز بھی شامل تھے، جہاں انہیں جدید تحقیق اور اس کے کلینیکل اطلاق کے بارے میں معلومات فراہم کی گئیں۔ یہ پہلو اس لیے اہم ہے کہ تحقیق اور علاج کا باہمی تعلق جدید طبی سہولیات کی بنیاد ہے۔ کیا تحقیق پر مبنی علاج کے ماڈل کو دیگر ممالک میں کامیابی سے نافذ کیا جا سکتا ہے؟
لیبیا کے وفد کی قیادت ڈاکٹر احمد سالم کر رہے تھے، جو محکمہ سپورٹ اینڈ ڈیولپمنٹ آف میڈیکل سروسز کے سربراہ ہیں۔ ان کے ہمراہ ایک وفد بھی موجود تھا جس نے ہسپتال کے مختلف شعبوں کا دورہ کیا۔ اس دورے کا بنیادی مقصد طبی تعاون کے مواقع تلاش کرنا، مہارت کا تبادلہ اور مخصوص طبی شعبوں میں تربیت تھی۔
کے ایف ایس ایچ کا شمار دنیا کے 250 بہترین تعلیمی طبی مراکز میں ہوتا ہے، جہاں اس نے 2026 میں مشرق وسطیٰ اور افریقہ میں پہلی پوزیشن حاصل کی اور عالمی سطح پر 12ویں نمبر پر رہا۔ یہ درجہ بندی اس بات کی عکاسی کرتی ہے کہ ادارہ طبی تعلیم، تحقیق اور مریضوں کی دیکھ بھال کے میدان میں کس سطح پر کام کر رہا ہے۔
برانڈ فنانس کی جانب سے 2026 کے لیے سعودی عرب اور مشرق وسطیٰ کا سب سے قیمتی ہیلتھ کیئر برانڈ قرار دیا جانا اس ادارے کی تجارتی اور پیشہ ورانہ ساکھ کو ظاہر کرتا ہے۔ یہ اعزاز اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ معیار اور اعتماد کس طرح ایک برانڈ کی قدر میں اضافہ کرتے ہیں۔
نیوز ویک کی فہرستوں میں شامل ہونا، جن میں ورلڈز بیسٹ ہاسپٹلز، ورلڈز بیسٹ اسمارٹ ہاسپٹلز اور ورلڈز بیسٹ اسپیشلائزڈ ہاسپٹلز شامل ہیں، اس ہسپتال کی ہمہ جہت مہارت کو ظاہر کرتا ہے۔ یہ تینوں فہرستیں مختلف پہلوؤں کا احاطہ کرتی ہیں، جن میں مجموعی معیار، ذہین نظاموں کا استعمال اور مخصوص شعبوں میں مہارت شامل ہے۔
اس دورے کے بعد دونوں فریقوں کے درمیان تعاون کے حوالے سے کوئی ٹھوس معاہدہ یا شیڈول سامنے نہیں آیا۔ ایس پی اے کی رپورٹ میں اس بات کا ذکر نہیں کہ آیا کوئی مفاہمت نامہ یا تربیتی پروگرام طے پایا۔ رپورٹ میں وفد کے دورے کی مدت، مزید ملاقاتوں کا شیڈول یا تعاون کے ممکنہ دائرہ کار کی تفصیل بھی نہیں دی گئی۔
کنگ فیصل اسپیشلسٹ ہسپتال کا دورہ کس نے کیا؟ لیبیا کے محکمہ سپورٹ اینڈ ڈیولپمنٹ آف میڈیکل سروسز کے سربراہ ڈاکٹر احمد سالم کی قیادت میں ایک وفد نے کنگ فیصل اسپیشلسٹ ہسپتال اینڈ ریسرچ سینٹر ریاض کا دورہ کیا۔ ایس پی اے کے مطابق وفد نے طبی تعاون، مہارت کے تبادلے اور انتہائی مخصوص طبی شعبوں میں تربیت کے مواقع کا جائزہ لیا۔ دورے میں ہسپتال کے کئی طبی شعبوں اور تحقیقی سہولیات کا معائنہ بھی شامل تھا۔
دورے کے دوران کن امور پر بات چیت ہوئی؟ دونوں فریقوں نے کے ایف ایس ایچ کی طبی اور تحقیقی مہارت سے فائدہ اٹھانے کے طریقوں پر تبادلہ خیال کیا تاکہ لیبیا کے طبی پیشہ ور افراد کی صلاحیتوں کو بہتر بنایا جا سکے اور علاج کی خدمات کو ترقی دی جا سکے۔ اس کا مقصد لیبیا میں ملکی سطح پر علاج کی صلاحیتوں کو مضبوط کرنا تھا۔ اس کے علاوہ بیرون ملک علاج کرانے والے مریضوں کے انتظامات پر بھی بات چیت ہوئی۔
کے ایف ایس ایچ کو کون سے اعزازات حاصل ہیں؟ کے ایف ایس ایچ نے 2026 کے لیے دنیا کے 250 بہترین تعلیمی طبی مراکز میں مشرق وسطیٰ اور افریقہ میں پہلی اور عالمی سطح پر 12ویں پوزیشن حاصل کی۔ برانڈ فنانس نے اسے 2026 کے لیے سعودی عرب اور مشرق وسطیٰ کا سب سے قیمتی ہیلتھ کیئر برانڈ قرار دیا۔ اسے نیوز ویک کی 2026 کی ورلڈز بیسٹ ہاسپٹلز، ورلڈز بیسٹ اسمارٹ ہاسپٹلز اور ورلڈز بیسٹ اسپیشلائزڈ ہاسپٹلز فہرستوں میں بھی شامل کیا گیا۔
وفد نے ہسپتال میں کیا دیکھا؟ وفد نے ہسپتال کے کئی طبی شعبوں اور طبی و تحقیقی سہولیات کا دورہ کیا۔ اس دوران انہیں ہسپتال کی جدید ٹیکنالوجی، آلات اور مخصوص طبی نگہداشت فراہم کرنے کے طریقوں کا جائزہ لینے کا موقع ملا۔ اس دورے کا مقصد کے ایف ایس ایچ کے عملی تجربے اور نظام کو سمجھنا تھا، جسے خطے میں ایک ممتاز ادارہ تسلیم کیا جاتا ہے۔
کیا اس دورے میں کوئی معاہدہ طے پایا؟ ایس پی اے کی رپورٹ کے مطابق اس دورے میں کوئی ٹھوس معاہدہ یا مفاہمت نامہ طے پانے کا ذکر نہیں۔ دونوں فریقوں نے تعاون کے امکانات پر بات چیت کی اور مہارت کے تبادلے کے طریقوں کا جائزہ لیا۔ رپورٹ میں تعاون کے ممکنہ دائرہ کار، شیڈول یا مزید ملاقاتوں کی تفصیل بھی نہیں دی گئی۔
اس تعاون کا لیبیا کے لیے کیا مطلب ہے؟ اس تعاون کا مقصد لیبیا کے طبی پیشہ ور افراد کی صلاحیتوں کو بہتر بنانا اور علاج کی خدمات کو ترقی دینا ہے، جس سے لیبیا میں ملکی سطح پر علاج کی صلاحیتوں کو مضبوط کرنے کی کوششوں کو حمایت ملے گی۔ اس میں بیرون ملک علاج کے انتظامات پر بھی تبادلہ خیال شامل ہے۔ اس طرح کے تعاون سے لیبیا اپنے صحت کے شعبے میں خود انحصاری بڑھانے کی کوشش کر رہا ہے۔