Sunday, November 1, 2026
سعودی خبریں

گلوبل سائبر سیکیورٹی فورم نے ویمن اِن سائبر ایوارڈز کے فاتحین کا اعلان کیا

گلوبل سائبر سیکیورٹی فورم نے ویمن اِن سائبر ایوارڈز کے فاتحین کا اعلان کیا

نیویارک میں اقوام متحدہ کے صدر دفتر میں ایک تقریب منعقد ہوئی جس میں گلوبل سائبر سیکیورٹی فورم (جی سی ایف) نے پہلے بین الاقوامی ویمن اِن سائبر ایوارڈز کے فاتحین کا اعلان کیا۔ یہ تقریب اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے 81ویں اجلاس کے ہائی لیول ہفتے کے موقع پر منعقد ہوئی، اور اس کا انعقاد نیویارک میں اقوام متحدہ کے لیے سعودی عرب کے مستقل مشن کے تعاون سے کیا گیا۔

جیسا کہ سعودی خبر رساں ادارے ایس پی اے نے بیان کیا، تقریب میں سعودی عرب کے اقوام متحدہ میں مستقل نمائندے ڈاکٹر عبدالعزیز الوسیل، انٹرنیشنل ٹیلی کمیونیکیشن یونین (آئی ٹی یو) کے سیکرٹری جنرل ڈورین بوگدان مارٹن، اقوام متحدہ کی انڈر سیکرٹری جنرل اور یو این ویمن کی ایگزیکٹو ڈائریکٹر سیما باحوث، اور جی سی ایف کے سی ای او عبدالرحمٰن الحسن نے شرکت کی۔ اس کے علاوہ اقوام متحدہ میں سفارتی مشنوں کے متعدد نمائندے، بین الاقوامی تنظیمیں، رہنما اور ماہرین بھی موجود تھے۔

پہلے ایوارڈ میں چار زمرے شامل تھے، اور حکومتی، نجی شعبے اور غیر منافع بخش تنظیموں نے ایوارڈز حاصل کیے، جن میں سعودی عرب، امریکہ، سوئٹزرلینڈ اور سری لنکا شامل ہیں۔ یہ زمرے ابھرتی ہوئی صلاحیتوں کی تعمیر اور معاونت، آگاہی بڑھانے اور خواتین کی شراکتوں کو اجاگر کرنے، مہارتوں کی ترقی اور کیریئر کی پیش رفت، اور خواتین کی قیادت کے عہدوں اور کاروباری صلاحیت تک رسائی کی معاونت پر محیط تھے۔

کیا یہ چار زمرے سائبر سیکیورٹی کے شعبے میں خواتین کے مکمل کیریئر کے سفر کی عکاسی کرتے ہیں؟ بظاہر یہ زمرے ایک جامع نقطہ نظر پیش کرتے ہیں جو تعلیم، آگاہی اور ابتدائی تربیت کو لیبر مارکیٹ کی ضروریات سے جوڑتا ہے۔ اس نقطہ نظر کا مقصد خواتین کی صلاحیتوں کو راغب کرنے، ان کے شعبے میں داخلے کو آسان بنانے، ان کی صلاحیتوں کو فروغ دینے اور برقرار رکھنے، اور ان کے کیریئر کو آگے بڑھانے کی کوششوں کی معاونت کرنا ہے، جس سے بالآخر خواتین سائبر سیکیورٹی رہنما اور فیصلہ ساز تیار کرنے میں مدد ملتی ہے۔

مارچ میں، عالمی یومِ خواتین کے موقع پر، جی سی ایف نے آئی ٹی یو اور یو این ویمن کے تعاون سے ویمن اِن سائبر ایوارڈز کے آغاز کا اعلان کیا تھا۔ یہ ایوارڈ اس وسیع تر کوشش کا حصہ ہے جس کا مقصد دنیا بھر میں سائبر سیکیورٹی کے میدان میں خواتین کی موجودگی کو بڑھانا اور ان کی قیادت کو تسلیم کرنا ہے۔

کیا اقوام متحدہ کے صدر دفتر میں اس تقریب کا انعقاد اس بات کا اشارہ ہے کہ سائبر سیکیورٹی اب عالمی سفارت کاری کا مرکزی موضوع بن چکا ہے؟ جنرل اسمبلی کے 81ویں اجلاس کے ہائی لیول ہفتے کے دوران اس ایوارڈ کی تقریب کا انعقاد اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ ڈیجیٹل تحفظ اور خواتین کی شمولیت دونوں بین الاقوامی ایجنڈے میں نمایاں مقام رکھتے ہیں۔

تقریب میں جی سی ایف کے سی ای او عبدالرحمٰن الحسن کی موجودگی اس بات کی عکاسی کرتی ہے کہ فورم اس ایوارڈ کو کس سطح کی اہمیت دیتا ہے۔ آئی ٹی یو کی سیکرٹری جنرل ڈورین بوگدان مارٹن اور یو این ویمن کی ایگزیکٹو ڈائریکٹر سیما باحوث کی شرکت اس ایوارڈ کو ٹیکنالوجی اور صنفی مساوات دونوں میدانوں سے جوڑتی ہے۔

کیا سعودی عرب، امریکہ، سوئٹزرلینڈ اور سری لنکا جیسے ممالک کی تنظیموں کا ایوارڈ جیتنا اس بات کو ظاہر کرتا ہے کہ سائبر سیکیورٹی میں خواتین کی شرکت ایک عالمی رجحان بن چکی ہے؟ مختلف براعظموں اور مختلف نظاموں سے تعلق رکھنے والی حکومتی، نجی اور غیر منافع بخش تنظیموں کی شمولیت اس بات کی تصدیق کرتی ہے کہ یہ کوشش کسی ایک خطے تک محدود نہیں۔

ایوارڈ کے زمروں میں سے پہلا زمرہ ابھرتی ہوئی صلاحیتوں کی تعمیر اور معاونت سے متعلق تھا۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ نئی نسل کی خواتین کو سائبر سیکیورٹی کے میدان میں قدم رکھنے کے لیے درکار مدد فراہم کی جائے۔ دوسرا زمرہ آگاہی بڑھانے اور خواتین کی شراکتوں کو اجاگر کرنے سے متعلق تھا، جو اس بات کو یقینی بناتا ہے کہ خواتین کی کامیابیوں کو نظر انداز نہ کیا جائے۔

کیا آگاہی بڑھانا اور شراکتوں کو اجاگر کرنا واقعی کیریئر کی ترقی کے لیے بنیادی شرط ہے؟ تیسرا زمرہ مہارتوں کی ترقی اور کیریئر کی پیش رفت سے متعلق تھا، جبکہ چوتھا زمرہ خواتین کی قیادت کے عہدوں اور کاروباری صلاحیت تک رسائی کی معاونت پر مرکوز تھا۔ یہ چاروں زمرے مل کر ایک تسلسل قائم کرتے ہیں جو ابتدائی تربیت سے لے کر اعلیٰ قیادت تک پھیلا ہوا ہے۔

جی سی ایف نے مارچ میں یہ ایوارڈ آئی ٹی یو اور یو این ویمن کے ساتھ مل کر شروع کیا تھا۔ یہ شراکت داری اس بات کی عکاسی کرتی ہے کہ سائبر سیکیورٹی میں خواتین کی شمولیت کو ٹیکنالوجی کے شعبے کی ذمہ داری کے ساتھ ساتھ سماجی ترقی کا حصہ بھی سمجھا جا رہا ہے۔

کیا بین الاقوامی تنظیموں کے ساتھ اس طرح کی شراکت داریاں ایوارڈ کی تاثیر کو بڑھاتی ہیں؟ آئی ٹی یو ٹیلی کمیونیکیشن کے عالمی معیارات کی ذمہ دار ہے، جبکہ یو این ویمن صنفی مساوات کے لیے اقوام متحدہ کی مرکزی ایجنسی ہے۔ دونوں کا ایک ہی پلیٹ فارم پر آنا اس ایوارڈ کو دوہری جائزہ فراہم کرتا ہے۔

تقریب میں سفارتی مشنوں کے نمائندوں، بین الاقوامی تنظیموں، رہنماؤں اور ماہرین کی موجودگی اس بات کو ظاہر کرتی ہے کہ یہ معاملہ صرف ٹیکنالوجی کے ماہرین تک محدود نہیں۔ سائبر سیکیورٹی اب سفارت کاری، ترقی اور تعلیم کے میدانوں سے جڑا ہوا موضوع ہے۔

کیا سائبر سیکیورٹی میں خواتین کی شرکت کو بڑھانے کے لیے ایوارڈز کافی ہیں، یا اس کے ساتھ پالیسیوں اور سرمایہ کاری کی بھی ضرورت ہے؟ ایس پی اے کی رپورٹ کے مطابق، ایوارڈ کا نقطہ نظر تعلیم، آگاہی اور ابتدائی تربیت کو لیبر مارکیٹ کی ضروریات سے جوڑتا ہے، جو اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ محض اعزاز سے آگے بڑھ کر عملی اقدامات کی ضرورت ہے۔

رپورٹ میں یہ واضح نہیں کیا گیا کہ ایوارڈ کے لیے کتنے امیدواروں نے درخواست دی، جیتنے والوں کے انتخاب کا معیار کیا تھا، یا ایوارڈ کے ساتھ کوئی مالی یا تربیتی پیکج منسلک ہے یا نہیں۔ یہ تفصیلات ایس پی اے کی رپورٹ میں شامل نہیں تھیں۔

نیویارک میں اقوام متحدہ کے صدر دفتر میں یہ تقریب جنرل اسمبلی کے 81ویں اجلاس کے ہائی لیول ہفتے کے دوران ہوئی، جس میں دنیا بھر کے رہنما جمع ہوتے ہیں۔ اس موقع کا انتخاب اس بات کو ظاہر کرتا ہے کہ ایوارڈ کو عالمی سطح پر تسلیم کروانے کی کوشش کی گئی ہے۔

کیا اقوام متحدہ کے پلیٹ فارم سے اس ایوارڈ کا اعلان اسے دیگر صنفی مساوات کے ایوارڈز سے ممتاز کرتا ہے؟ سعودی عرب کے مستقل مشن کے تعاون سے اس تقریب کا انعقاد اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ مملکت اس عالمی بحث میں فعال کردار ادا کر رہی ہے۔

ایس پی اے کی رپورٹ کے مطابق، ایوارڈ کے چار زمروں کا مجموعی مقصد خواتین کی سائبر سیکیورٹی کے شعبے میں شرکت کو ان کے پورے کیریئر کے دوران آگے بڑھانا ہے۔ یہ نقطہ نظر خواتین کی صلاحیتوں کو راغب کرنے، ان کے داخلے کو آسان بنانے، صلاحیتوں کو فروغ دینے اور برقرار رکھنے، اور کیریئر کو آگے بڑھانے پر زور دیتا ہے۔

کیا یہ نقطہ نظر ترقی پذیر ممالک میں بھی یکساں طور پر لاگو ہو سکتا ہے جہاں ڈیجیٹل انفراسٹرکچر اور تعلیمی مواقع محدود ہیں؟ رپورٹ میں اس بارے میں کوئی تفصیل نہیں دی گئی کہ ایوارڈ کے فاتحین کا تعلق کن خاص اداروں سے ہے یا انہوں نے کون سے منصوبے مکمل کیے۔

گلوبل سائبر سیکیورٹی فورم کا یہ اقدام مارچ میں عالمی یومِ خواتین کے موقع پر شروع کیا گیا تھا، اور اکتوبر میں اقوام متحدہ کے صدر دفتر میں اس کے پہلے فاتحین کا اعلان کیا گیا۔ یہ چھ ماہ کا عرصہ اس بات کو ظاہر کرتا ہے کہ ایوارڈ کے اجرا سے لے کر پہلے فاتحین کے اعلان تک کا عمل کس رفتار سے مکمل ہوا۔

کیا ایوارڈ کا سالانہ انعقاد اس بات کو یقینی بنائے گا کہ سائبر سیکیورٹی میں خواتین کی شرکت کا معاملہ مسلسل زیر بحث رہے؟ رپورٹ میں اس بارے میں کوئی اشارہ نہیں دیا گیا کہ ایوارڈ آئندہ بھی جاری رہے گا یا یہ صرف ایک بار کا اقدام تھا۔

تقریب میں ڈاکٹر عبدالعزیز الوسیل کی شرکت سعودی عرب کی جانب سے اس معاملے پر توجہ کو ظاہر کرتی ہے۔ آئی ٹی یو اور یو این ویمن کی سربراہان کی موجودگی اس بات کو یقینی بناتی ہے کہ ایوارڈ کو ٹیکنالوجی اور صنفی مساوات دونوں حلقوں میں تسلیم کیا جائے۔

ایس پی اے کی رپورٹ میں ایوارڈ کے فاتحین کے نام، ان کے اداروں کے نام، یا ان کی کامیابیوں کی تفصیلات شامل نہیں تھیں۔ رپورٹ میں یہ بھی نہیں بتایا گیا کہ ہر زمرے میں کتنے ایوارڈ دیے گئے یا فیصلہ کرنے والے جج کون تھے۔

کیا سائبر سیکیورٹی کے میدان میں خواتین کی شرکت کی پیمائش کے لیے ایسے ایوارڈز کا ہونا ضروری ہے؟ ایوارڈ کے چار زمروں کا ڈھانچہ اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ کیریئر کے مختلف مراحل کے لیے الگ الگ توجہ کی ضرورت ہے، جو ایک طویل المدتی حکمت عملی کی عکاسی کرتا ہے۔

رپورٹ کے مطابق، ایوارڈ کا مقصد خواتین سائبر سیکیورٹی رہنما اور فیصلہ ساز تیار کرنے میں مدد کرنا ہے۔ یہ مقصد صرف تربیت تک محدود نہیں بلکہ قیادت کے عہدوں تک رسائی اور کاروباری صلاحیت کو بھی شامل کرتا ہے۔

کیا قیادت کے عہدوں تک رسائی کے بغیر سائبر سیکیورٹی میں خواتین کی مکمل شمولیت ممکن ہے؟ چوتھے زمرے کا اس پہلو پر مرکوز ہونا اس بات کو ظاہر کرتا ہے کہ محض شمولیت کافی نہیں بلکہ فیصلہ سازی میں شرکت بھی ضروری ہے۔

ایس پی اے کی رپورٹ میں یہ نہیں بتایا گیا کہ ایوارڈ کے فاتحین کا انتخاب کس عمل کے تحت ہوا، یا اس کے لیے کوئی عوامی درخواست کا مرحلہ تھا یا نہیں۔ رپورٹ میں ایوارڈ کی مالی تفصیلات یا انعامات کی نوعیت کے بارے میں بھی کوئی معلومات فراہم نہیں کی گئیں۔

نیویارک میں یہ تقریب اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے 81ویں اجلاس کے ہائی لیول ہفتے کے دوران منعقد ہوئی، جس میں عالمی رہنما شرکت کرتے ہیں۔ اس موقع پر ایوارڈ کا اعلان اس بات کو یقینی بناتا ہے کہ اس پیغام کو وسیع تر سامعین تک پہنچایا جائے۔

کیا اس طرح کی تقریبات میں اعلان کردہ ایوارڈز کے عملی اثرات کی پیمائش کی جا سکتی ہے؟ رپورٹ میں ایوارڈ کے بعد کے مراحل، جیسے فاتحین کی مدد یا نیٹ ورکنگ کے مواقع، کے بارے میں کوئی تفصیل شامل نہیں تھی۔

گلوبل سائبر سیکیورٹی فورم نے مارچ میں آئی ٹی یو اور یو این ویمن کے تعاون سے اس ایوارڈ کا آغاز کیا تھا۔ یہ تعاون اس بات کو ظاہر کرتا ہے کہ سائبر سیکیورٹی میں خواتین کی شرکت کو عالمی ترقیاتی ایجنڈے کا حصہ سمجھا جا رہا ہے۔

ایس پی اے کی رپورٹ کے مطابق، ایوارڈ کے زمرے تعلیم، آگاہی اور ابتدائی تربیت کو لیبر مارکیٹ کی ضروریات سے جوڑتے ہیں۔ یہ ربط اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ تربیت اور روزگار کے درمیان فاصلہ کم کرنا اس حکمت عملی کا مرکزی عنصر ہے۔

کیا لیبر مارکیٹ کی ضروریات کے مطابق تربیت فراہم کیے بغیر سائبر سیکیورٹی میں خواتین کی شرکت بڑھائی جا سکتی ہے؟ رپورٹ میں اس بارے میں کوئی اعداد و شمار نہیں دیے گئے کہ کتنے ممالک یا ادارے اس ایوارڈ کے عمل میں شامل تھے۔

تقریب میں حکومتی، نجی شعبے اور غیر منافع بخش تنظیموں کے نمائندے موجود تھے، جو اس بات کو ظاہر کرتا ہے کہ یہ کوشش کسی ایک شعبے تک محدود نہیں۔ سعودی عرب، امریکہ، سوئٹزرلینڈ اور سری لنکا کی تنظیموں کا ایوارڈ جیتنا اس بات کی تصدیق کرتا ہے کہ یہ ایک عالمی کوشش ہے۔

ایس پی اے کی رپورٹ میں یہ واضح نہیں کیا گیا کہ ایوارڈ کے فاتحین کو کب اور کہاں اعزاز دیا جائے گا، یا ان کے ساتھ کوئی خصوصی پروگرام منسلک ہے یا نہیں۔ رپورٹ میں ایوارڈ کے طویل مدتی اثرات کے بارے میں بھی کوئی پیش گوئی نہیں کی گئی۔

ویمن اِن سائبر ایوارڈز کے فاتحین کا اعلان کہاں کیا گیا؟ یہ اعلان نیویارک میں اقوام متحدہ کے صدر دفتر میں ایک تقریب کے دوران کیا گیا، جو اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے 81ویں اجلاس کے ہائی لیول ہفتے کے موقع پر منعقد ہوئی۔ تقریب کا انعقاد گلوبل سائبر سیکیورٹی فورم نے نیویارک میں اقوام متحدہ کے لیے سعودی عرب کے مستقل مشن کے تعاون سے کیا۔ ایس پی اے کے مطابق، یہ پہلا بین الاقوامی ویمن اِن سائبر ایوارڈ تھا۔

ایوارڈ کے کتنے زمرے تھے اور ان کا مقصد کیا تھا؟ پہلے ایوارڈ میں چار زمرے شامل تھے: ابھرتی ہوئی صلاحیتوں کی تعمیر اور معاونت، آگاہی بڑھانا اور خواتین کی شراکتوں کو اجاگر کرنا، مہارتوں کی ترقی اور کیریئر کی پیش رفت، اور خواتین کی قیادت کے عہدوں اور کاروباری صلاحیت تک رسائی کی معاونت۔ ایس پی اے کے مطابق، یہ زمرے مل کر ایک جامع نقطہ نظر پیش کرتے ہیں جو تعلیم، آگاہی اور ابتدائی تربیت کو لیبر مارکیٹ کی ضروریات سے جوڑتا ہے۔

تقریب میں کون کون موجود تھا؟ تقریب میں سعودی عرب کے اقوام متحدہ میں مستقل نمائندے ڈاکٹر عبدالعزیز الوسیل، آئی ٹی یو کے سیکرٹری جنرل ڈورین بوگدان مارٹن، یو این ویمن کی ایگزیکٹو ڈائریکٹر سیما باحوث، اور جی سی ایف کے سی ای او عبدالرحمٰن الحسن نے شرکت کی۔ ایس پی اے کے مطابق، اقوام متحدہ میں سفارتی مشنوں کے نمائندے، بین الاقوامی تنظیمیں، رہنما اور ماہرین بھی موجود تھے۔

ایوارڈ کا آغاز کب ہوا اور کس کے تعاون سے؟ مارچ میں عالمی یومِ خواتین کے موقع پر، جی سی ایف نے آئی ٹی یو اور یو این ویمن کے تعاون سے ویمن اِن سائبر ایوارڈز کے آغاز کا اعلان کیا تھا۔ ایس پی اے کے مطابق، یہ ایوارڈ اس وسیع تر کوشش کا حصہ ہے جس کا مقصد سائبر سیکیورٹی میں خواتین کی شرکت کو بڑھانا ہے۔ پہلے فاتحین کا اعلان اکتوبر میں نیویارک میں کیا گیا۔

کن ممالک کی تنظیموں نے ایوارڈ جیتا؟ ایس پی اے کے مطابق، حکومتی، نجی شعبے اور غیر منافع بخش تنظیموں نے ایوارڈز حاصل کیے، جن میں سعودی عرب، امریکہ، سوئٹزرلینڈ اور سری لنکا شامل ہیں۔ رپورٹ میں فاتحین کے نام، ان کے اداروں کے نام، یا ہر زمرے میں دیے گئے ایوارڈز کی تعداد کے بارے میں کوئی تفصیل فراہم نہیں کی گئی۔

ایوارڈ کے نقطہ نظر کا بنیادی مقصد کیا ہے؟ ایس پی اے کے مطابق، ایوارڈ کا نقطہ نظر خواتین کی صلاحیتوں کو راغب کرنے، ان کے شعبے میں داخلے کو آسان بنانے، ان کی صلاحیتوں کو فروغ دینے اور برقرار رکھنے، اور ان کے کیریئر کو آگے بڑھانے کی کوششوں کی معاونت کرنا ہے۔ اس کا حتمی مقصد خواتین سائبر سیکیورٹی رہنما اور فیصلہ ساز تیار کرنے میں مدد کرنا ہے۔