سعودی واٹر اتھارٹی (SWA) نے ملائیشیا کے شہر کوالالمپور میں منعقدہ چوتھے ایشین واٹر ایوارڈز اور ایشین پاور ایوارڈز 2026 میں اپنے اختراعی پانی اور توانائی کے منصوبوں کے لیے پانچ بین الاقوامی ایوارڈز حاصل کیے ہیں۔ یہ ایوارڈز اتھارٹی کے واٹر ٹیکنالوجیز انوویشن انسٹیٹیوٹ اینڈ ریسرچ ایڈوانسمنٹ (WTIIRA)، سعودی واٹر انوویشن سینٹر (SWIC) اور واٹر اویسس کے منصوبوں کو دیے گئے۔
جیسا کہ سعودی خبر رساں ادارے ایس پی اے نے 18 اکتوبر 2026 کو بیان کیا، ان منصوبوں کا محور پانی کی ٹیکنالوجیز کی ترقی، ڈی سیلینیشن کے فضلے سے وسائل کی بحالی، توانائی کی کارکردگی میں بہتری اور پورے شعبے میں جدت کو فروغ دینا ہے۔ ایوارڈز سعودی واٹر اتھارٹی کی ان کوششوں کا عکس ہیں جن کے تحت تحقیقی اختراعات کو عملی تکنیکی حل میں بدلا جاتا ہے۔ یہ ایوارڈز اس بات کا بین الاقوامی اعتراف بھی ہیں کہ تحقیق اور جدت میں سرمایہ کاری کا معیار زندگی کو بہتر بنانے اور پانی کے شعبے کی پائیداری کو بڑھانے پر کیا اثر پڑتا ہے۔
کیا آپ جانتے ہیں کہ پینے کے پانی کو میگنیشیم سے مالا مال کرنے والا منصوبہ کس پیمانے پر نافذ کیا جا رہا ہے؟ ایوارڈز میں “انوویشن آف دی ایئر” کا اعزاز ایسے منصوبے کو ملا جو سمندری پانی سے نکالے گئے میگنیشیم سے پینے کے پانی کو مالا مال کرتا ہے۔ یہ منصوبہ نینو ٹیکنالوجی پر مبنی نظام استعمال کرتا ہے جو دنیا بھر میں پہلی بار بڑے پیمانے پر الشعیبہ پروڈکشن سسٹم کے چوتھے مرحلے پر نافذ کیا جا رہا ہے۔ اس نظام کی روزانہ پیداواری صلاحیت 400,000 کیوبک میٹر ہے اور یہ 1.3 ملین سے زیادہ افراد کو پانی فراہم کرتا ہے۔
کیا آپ تصور کر سکتے ہیں کہ ایک ہی تکنیکی نظام سے پانی کی جراثیم کشی اور صاف ہائیڈروجن دونوں حاصل کیے جا سکیں؟ “واٹر ٹیکنالوجی ایکسیلینس ایوارڈ (ریسرچ اینڈ ڈیولپمنٹ)” ایسے منصوبے کو دیا گیا جو ڈی سیلینیشن برائن سے پانی کی جراثیم کشی کے لیے سوڈیم ہائپوکلورائٹ اور اعلیٰ خالص ہائیڈروجن ایک ہی تکنیکی نظام کے اندر پیدا کرتا ہے۔ یہ نظام روایتی نظاموں کے مقابلے میں توانائی کی کھپت میں 25 فیصد کمی کرتا ہے۔
اتھارٹی کو سرکلر اکانومی میں قیادت کا ایوارڈ بھی ملا، جو ڈی سیلینیشن کے فضلے سے روبیڈیم کلورائیڈ نکالنے کے ایک پائلٹ منصوبے کے لیے دیا گیا۔ یہ منصوبہ جدید علیحدگی اور فلٹریشن ٹیکنالوجیز استعمال کرتا ہے۔ منصوبہ 89.02 فیصد کی بحالی کی شرح اور 99.984 فیصد تک کی خالصیت کی سطح حاصل کرتا ہے۔
کیا آپ نے کبھی سوچا کہ ڈی سیلینیشن کے فضلے کو قیمتی وسائل میں کیسے بدلا جا سکتا ہے؟ یہی وہ سوال ہے جس کا جواب سعودی واٹر اتھارٹی کے منصوبے عملی طور پر دے رہے ہیں۔ ڈی سیلینیشن کے عمل میں پیدا ہونے والا برائن عام طور پر ایک فضلہ سمجھا جاتا ہے، لیکن سعودی واٹر اتھارٹی کی تحقیق اسے ایک قیمتی خام مال کے طور پر استعمال کرنے پر مرکوز ہے۔ روبیڈیم کلورائیڈ نکالنے کا پائلٹ منصوبہ اسی سوچ کا عملی مظہر ہے، جس میں جدید علیحدگی اور فلٹریشن ٹیکنالوجیز کے ذریعے فضلے سے اعلیٰ خالصت والا مواد حاصل کیا جاتا ہے۔
سعودی واٹر اتھارٹی کے واٹر ٹیکنالوجیز انوویشن انسٹیٹیوٹ اینڈ ریسرچ ایڈوانسمنٹ (WTIIRA) اور سعودی واٹر انوویشن سینٹر (SWIC) ان منصوبوں کی تکنیکی بنیاد فراہم کرتے ہیں۔ ان اداروں کا کام تحقیق کو ایسی ٹیکنالوجیز میں بدلنا ہے جو بڑے پیمانے پر نافذ کی جا سکیں اور جن کا براہ راست اثر عوام کے معیار زندگی پر پڑے۔ واٹر اویسس بھی ان منصوبوں کا حصہ ہے جنہیں بین الاقوامی سطح پر تسلیم کیا گیا۔
کیا یہ ایوارڈز صرف اعزاز ہیں یا ان کے پیچھے کوئی بڑا عملی مقصد بھی ہے؟ ایس پی اے کے مطابق یہ ایوارڈز اس بات کا بین الاقوامی اعتراف ہیں کہ تحقیق اور جدت میں سرمایہ کاری پانی کے شعبے کی پائیداری کو بڑھانے میں کس طرح کردار ادا کرتی ہے۔ سعودی واٹر اتھارٹی کی کوشش ہے کہ تحقیقی اختراعات کو عملی تکنیکی حل میں بدلا جائے، اور ان ایوارڈز کو اس سفر کی بین الاقوامی تصدیق کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔
الشعیبہ پروڈکشن سسٹم کے چوتھے مرحلے پر نافذ ہونے والا میگنیشیم افزودگی کا نظام اس بات کی مثال ہے کہ کس طرح سمندری پانی سے حاصل کردہ معدنیات کو پینے کے پانی کے معیار کو بہتر بنانے کے لیے استعمال کیا جا سکتا ہے۔ یہ نظام نینو ٹیکنالوجی پر مبنی ہے اور دنیا بھر میں پہلی بار اس پیمانے پر نافذ کیا جا رہا ہے۔ اس کی روزانہ 400,000 کیوبک میٹر پیداواری صلاحیت اور 1.3 ملین سے زائد افراد کی خدمت اس منصوبے کی عملی اہمیت کو ظاہر کرتی ہے۔
کیا آپ جانتے ہیں کہ توانائی کی کھپت میں 25 فیصد کمی کا مطلب کیا ہے؟ سوڈیم ہائپوکلورائٹ اور ہائیڈروجن پیدا کرنے والا نظام روایتی نظاموں کے مقابلے میں 25 فیصد کم توانائی استعمال کرتا ہے۔ یہ کمی نہ صرف لاگت کو کم کرتی ہے بلکہ پائیداری کے اہداف کے حصول میں بھی مدد دیتی ہے۔ ایک ہی تکنیکی نظام کے اندر پانی کی جراثیم کشی اور صاف ہائیڈروجن کی پیداوار اس بات کی نشاندہی کرتی ہے کہ کس طرح کثیر المقاصد ٹیکنالوجیز وسائل کے استعمال کو بہتر بنا سکتی ہیں۔
سعودی واٹر اتھارٹی کو سرکلر اکانومی میں قیادت کا ایوارڈ ملنا اس بات کا غماز ہے کہ فضلے کو وسائل میں بدلنے کی حکمت عملی کو بین الاقوامی سطح پر سراہا جا رہا ہے۔ روبیڈیم کلورائیڈ نکالنے کا پائلٹ منصوبہ 89.02 فیصد بحالی کی شرح اور 99.984 فیصد تک خالصیت حاصل کرتا ہے، جو اس عمل کی تکنیکی مہارت کو ظاہر کرتا ہے۔
کیا آپ نے کبھی سوچا کہ پانی کے شعبے میں تحقیق کو عملی حل میں بدلنے میں کتنا وقت اور محنت لگتی ہے؟ سعودی واٹر اتھارٹی کے ادارے WTIIRA اور SWIC اسی کام پر مرکوز ہیں۔ ان کا مقصد ایسی ٹیکنالوجیز تیار کرنا ہے جو نہ صرف تکنیکی طور پر مضبوط ہوں بلکہ بڑے پیمانے پر نافذ کرنے کے قابل بھی ہوں۔ ان ایوارڈز کو اس بات کی تصدیق کے طور پر دیکھا جا رہا ہے کہ ان اداروں کی تحقیق بین الاقوامی معیار پر پورا اترتی ہے۔
ایشین واٹر ایوارڈز اور ایشین پاور ایوارڈز 2026 کوالالمپور میں منعقد ہوئے، جہاں مختلف ممالک کے منصوبوں کو مختلف categories میں تسلیم کیا گیا۔ سعودی واٹر اتھارٹی کو پانچ ایوارڈز ملنا اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ اس کے منصوبے متعدد شعبوں میں نمایاں ہیں، جن میں پینے کے پانی کا معیار، توانائی کی کارکردگی، جراثیم کشی اور وسائل کی بحالی شامل ہیں۔
کیا یہ ایوارڈز سعودی واٹر اتھارٹی کے لیے نئے دروازے کھولیں گے؟ ایس پی اے کی رپورٹ کے مطابق یہ ایوارڈز بین الاقوامی سطح پر اس اثر کا اعتراف ہیں جو تحقیق اور جدت میں سرمایہ کاری کا معیار زندگی کو بہتر بنانے اور پانی کے شعبے کی پائیداری کو بڑھانے پر پڑتا ہے۔ اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ سعودی واٹر اتھارٹی کی حکمت عملی صرف مقامی ضروریات تک محدود نہیں بلکہ عالمی سطح پر بھی تسلیم کی جا رہی ہے۔
رپورٹ میں یہ تفصیل نہیں دی گئی کہ ان ایوارڈز کی تقریب میں کون کون موجود تھا، ایوارڈز کی مجموعی تعداد میں سعودی واٹر اتھارٹی کا حصہ کتنا تھا، یا ان منصوبوں کی لاگت اور تکمیل کی تاریخوں کے بارے میں کوئی معلومات فراہم نہیں کی گئیں۔ ایس پی اے نے یہ بھی نہیں بتایا کہ ان منصوبوں کو کب مکمل طور پر نافذ کیا جائے گا یا ان کے تجارتی پیمانے پر پھیلاؤ کا کیا منصوبہ ہے۔
سعودی واٹر اتھارٹی کو کون سے ایوارڈز ملے؟ سعودی واٹر اتھارٹی کو کوالالمپور میں چوتھے ایشین واٹر ایوارڈز اور ایشین پاور ایوارڈز 2026 میں پانچ بین الاقوامی ایوارڈز ملے۔ ان میں “انوویشن آف دی ایئر”، “واٹر ٹیکنالوجی ایکسیلینس ایوارڈ (ریسرچ اینڈ ڈیولپمنٹ)” اور سرکلر اکانومی میں قیادت کا ایوارڈ شامل ہیں۔ ایوارڈز WTIIRA، SWIC اور واٹر اویسس کے منصوبوں کو دیے گئے۔
میگنیشیم افزودگی کا منصوبہ کیا ہے؟ یہ منصوبہ سمندری پانی سے نکالے گئے میگنیشیم سے پینے کے پانی کو مالا مال کرتا ہے اور نینو ٹیکنالوجی پر مبنی نظام استعمال کرتا ہے۔ یہ نظام دنیا بھر میں پہلی بار بڑے پیمانے پر الشعیبہ پروڈکشن سسٹم کے چوتھے مرحلے پر نافذ کیا جا رہا ہے۔ اس کی روزانہ پیداواری صلاحیت 400,000 کیوبک میٹر ہے اور یہ 1.3 ملین سے زیادہ افراد کو پانی فراہم کرتا ہے۔
توانائی کی کھپت میں کمی کا منصوبہ کیا ہے؟ یہ منصوبہ ڈی سیلینیشن برائن سے پانی کی جراثیم کشی کے لیے سوڈیم ہائپوکلورائٹ اور اعلیٰ خالص ہائیڈروجن ایک ہی تکنیکی نظام کے اندر پیدا کرتا ہے۔ یہ نظام روایتی نظاموں کے مقابلے میں توانائی کی کھپت میں 25 فیصد کمی کرتا ہے۔ اسے “واٹر ٹیکنالوجی ایکسیلینس ایوارڈ (ریسرچ اینڈ ڈیولپمنٹ)” ملا۔
روبیڈیم کلورائیڈ نکالنے کا منصوبہ کیا حاصل کرتا ہے؟ یہ ڈی سیلینیشن کے فضلے سے روبیڈیم کلورائیڈ نکالنے کا پائلٹ منصوبہ ہے جو جدید علیحدگی اور فلٹریشن ٹیکنالوجیز استعمال کرتا ہے۔ یہ منصوبہ 89.02 فیصد کی بحالی کی شرح اور 99.984 فیصد تک کی خالصیت کی سطح حاصل کرتا ہے۔ اسے سرکلر اکانومی میں قیادت کا ایوارڈ ملا۔
یہ ایوارڈز کہاں دیے گئے؟ یہ ایوارڈز ملائیشیا کے شہر کوالالمپور میں چوتھے ایشین واٹر ایوارڈز اور ایشین پاور ایوارڈز 2026 میں دیے گئے۔ ایس پی اے نے 18 اکتوبر 2026 کو یہ خبر جاری کی۔ ایوارڈز سعودی واٹر اتھارٹی کے واٹر ٹیکنالوجیز انوویشن انسٹیٹیوٹ اینڈ ریسرچ ایڈوانسمنٹ، سعودی واٹر انوویشن سینٹر اور واٹر اویسس کے منصوبوں کو ملے۔
ان ایوارڈز کی اہمیت کیا ہے؟ ایس پی اے کے مطابق یہ ایوارڈز سعودی واٹر اتھارٹی کی ان کوششوں کا عکس ہیں جن کے تحت تحقیقی اختراعات کو عملی تکنیکی حل میں بدلا جاتا ہے۔ یہ اس بات کا بین الاقوامی اعتراف بھی ہیں کہ تحقیق اور جدت میں سرمایہ کاری معیار زندگی کو بہتر بنانے اور پانی کے شعبے کی پائیداری کو بڑھانے میں کردار ادا کرتی ہے۔