Monday, October 26, 2026
سائنس

نجران یونیورسٹی جنیوا ایجادات نمائش 2025 میں دو پیٹنٹ پیش کر رہی ہے

نجران یونیورسٹی جنیوا ایجادات نمائش 2025 میں دو پیٹنٹ پیش کر رہی ہے

نجران یونیورسٹی جنیوا بین الاقوامی ایجادات نمائش 2025 کے پچاسویں ایڈیشن میں شرکت کر رہی ہے، جو سوئٹزرلینڈ کے شہر جنیوا میں 9 سے 13 اپریل تک جاری ہے، اور وہاں اپنی کئی ایجادات اور اختراعات پیش کر رہی ہے۔

جیسا کہ سعودی خبر رساں ادارے ایس پی اے نے 11 اپریل 2025 کو بیان کیا، یونیورسٹی نے اس موقع پر دو پیٹنٹ جمع کروائے ہیں۔ پہلا پیٹنٹ ایک اختراعی نینو کیٹالسٹ ڈیزائن سے متعلق ہے جو کھجور کی گٹھلیوں سے مقامی طور پر حاصل ہونے والے بائیو کاربن کو استعمال کرتا ہے، جسے سونے کے نینو پارٹیکلز اور زنک آکسائیڈ سے بہتر بنایا گیا ہے، اور یہ صنعتی گندے پانی کی صفائی کے لیے استعمال ہوگا۔

دوسرا پیٹنٹ ایک محفوظ سمیولیٹر سے متعلق ہے جو گاما شعاعیں خارج کرنے والے تابکار ذرائع کی نشاندہی اور ان کی آلودگی کو کم کرنے کے لیے ڈیزائن کیا گیا ہے، تاکہ تابکار ڈی کنٹیمینیشن کے عمل کے دوران تربیت حاصل کرنے والوں کو تابکاری کی نمائش سے تحفظ فراہم کیا جا سکے۔

کیا عالمی سطح پر ہونے والی اس طرح کی نمائشوں میں سعودی یونیورسٹیوں کی شرکت ملکی تحقیق کو نئی سمت دینے کا ذریعہ بن سکتی ہے؟ یہ سوال اس لیے اہم ہے کہ نجران یونیورسٹی کی جانب سے پیش کردہ دونوں پیٹنٹ ایسے شعبوں سے جڑے ہیں جو براہ راست ماحولیاتی تحفظ اور صنعتی عمل سے وابستہ ہیں۔

پہلے پیٹنٹ میں کھجور کی گٹھلیوں سے حاصل ہونے والے بائیو کاربن کا استعمال اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ مقامی طور پر دستیاب زرعی باقیات کو صنعتی گندے پانی کی صفائی جیسے بڑے مسئلے کے حل کے لیے کیسے بروئے کار لایا جا سکتا ہے۔ سونے کے نینو پارٹیکلز اور زنک آکسائیڈ کے ساتھ اس بائیو کاربن کو بہتر بنانے کا عمل اس ڈیزائن کو ایک نینو کیٹالسٹ کی شکل دیتا ہے، جس کا مقصد صنعتی گندے پانی میں موجود آلودگیوں کو کم کرنا ہے۔

کیا کھجور کی گٹھلیوں جیسے مقامی وسائل پر مبنی یہ تحقیق سعودی عرب میں صنعتی پانی کے علاج کے شعبے میں خود انحصاری کی راہ ہموار کر سکتی ہے؟ ایس پی اے کی رپورٹ کے مطابق یہ نینو کیٹالسٹ ڈیزائن خاص طور پر صنعتی گندے پانی کی صفائی کے لیے تیار کیا گیا ہے، اور اس میں استعمال ہونے والا بائیو کاربن مقامی ذرائع سے حاصل کیا گیا ہے۔

دوسرا پیٹنٹ تابکاری کے شعبے سے جڑا ایک محفوظ سمیولیٹر ہے۔ اس سمیولیٹر کا مقصد گاما شعاعیں خارج کرنے والے تابکار ذرائع کی نشاندہی کرنا اور ان کی آلودگی کو کم کرنا ہے۔ اس کی خاص بات یہ ہے کہ یہ تربیت حاصل کرنے والوں کو تابکار ڈی کنٹیمینیشن کے عمل کے دوران تابکاری کی نمائش سے بچاتا ہے۔ یعنی تربیتی عمل کے دوران حقیقی تابکار مادے کے بجائے ایک محفوظ متبادل ماحول فراہم کیا جاتا ہے، جس سے تربیت کاروں کی حفاظت یقینی بنتی ہے۔

کیا تابکاری کے شعبے میں تربیت کے دوران حفاظت کو یقینی بنانے والا یہ سمیولیٹر تربیتی اداروں میں حقیقی تابکار ذرائع کے استعمال کے خطرات کو کم کرنے میں مددگار ثابت ہوگا؟ یہ پہلو اس لیے بھی قابل توجہ ہے کہ تابکار ڈی کنٹیمینیشن کے عمل میں تربیت حاصل کرنے والوں کی حفاظت ایک بنیادی تقاضا ہے، اور اس سمیولیٹر کا ڈیزائن اسی ضرورت کو مدنظر رکھتے ہوئے تیار کیا گیا ہے۔

جنیوا بین الاقوامی ایجادات نمائش کا پچاسواں ایڈیشن 9 سے 13 اپریل 2025 تک جنیوا، سوئٹزرلینڈ میں منعقد ہو رہا ہے۔ اس نمائش میں دنیا بھر سے ایجادات اور اختراعات پیش کی جاتی ہیں، اور نجران یونیورسٹی اس ایڈیشن میں اپنی کئی ایجادات اور اختراعات کی نمائش کر رہی ہے۔ یونیورسٹی کی شرکت کا مقصد اپنے تحقیقی کام کو بین الاقوامی سطح پر پیش کرنا ہے۔

ایس پی اے کے مطابق نجران یونیورسٹی نے اس نمائش میں شرکت کے دوران دو پیٹنٹ جمع کروائے ہیں۔ ان پیٹنٹ میں سے ایک نینو کیٹالسٹ ڈیزائن سے متعلق ہے اور دوسرا محفوظ سمیولیٹر سے متعلق ہے۔ دونوں پیٹنٹ یونیورسٹی کی جانب سے جمع کروائے گئے ہیں، اور یہی دو پیٹنٹ رپورٹ میں بیان کیے گئے ہیں۔

کیا بین الاقوامی ایجادات کی نمائشوں میں سعودی یونیورسٹیوں کی مسلسل شرکت ملکی اختراعی صلاحیت کو عالمی سطح پر متعارف کرانے کا مؤثر ذریعہ بن رہی ہے؟ اس نمائش کا پچاسواں ایڈیشن اس لحاظ سے بھی اہمیت رکھتا ہے کہ یہ ایک طویل عرصے سے جاری بین الاقوامی فورم ہے، جہاں مختلف ممالک کے ادارے اپنی تحقیقی کاوشیں پیش کرتے ہیں۔

نجران یونیورسٹی کی جانب سے پیش کردہ پہلا پیٹنٹ صنعتی گندے پانی کے علاج کے شعبے سے جڑا ہے۔ اس ڈیزائن میں کھجور کی گٹھلیوں سے حاصل ہونے والے بائیو کاربن کو بنیاد بنایا گیا ہے، جسے سونے کے نینو پارٹیکلز اور زنک آکسائیڈ کے ذریعے بہتر کیا گیا ہے۔ یہ اجزاء مل کر ایک ایسا نینو کیٹالسٹ تشکیل دیتے ہیں جو صنعتی گندے پانی میں موجود آلودگیوں کے خاتمے میں معاون ثابت ہو سکتا ہے۔

کیا مقامی زرعی باقیات کو اعلیٰ ٹیکنالوجی کے ساتھ جوڑنے کا یہ ماڈل دیگر صنعتی شعبوں میں بھی اپنایا جا سکتا ہے؟ کھجور کی گٹھلیاں سعودی عرب میں کھجور کی پیداوار کے ساتھ وابستہ ایک عام باقیات ہیں، اور انہیں بائیو کاربن کے ذریعے ایک تحقیقی حل کا حصہ بنانا اس بات کا اشارہ ہے کہ مقامی مواد کو کس طرح سائنسی تحقیق میں بروئے کار لایا جا سکتا ہے۔

دوسرا پیٹنٹ تابکاری کے شعبے میں تربیت کے دوران حفاظت کے پہلو کو اجاگر کرتا ہے۔ گاما شعاعیں خارج کرنے والے تابکار ذرائع کی نشاندہی اور ان کی آلودگی کو کم کرنا ایک ایسا عمل ہے جس میں احتیاط بنیادی شرط ہے۔ اس سمیولیٹر کا ڈیزائن تربیت حاصل کرنے والوں کو تابکار ڈی کنٹیمینیشن کے عمل کے دوران تابکاری کی نمائش سے بچانے کے لیے تیار کیا گیا ہے۔

کیا تربیتی مقامات پر حقیقی تابکار ذرائع کے استعمال کے بجائے محفوظ سمیولیٹرز کا رجحان آئندہ برسوں میں بڑھے گا؟ اس سوال کی اہمیت اس لیے بھی ہے کہ تابکاری سے جڑے کاموں میں تربیت کے دوران حفاظتی انتظامات کو نظر انداز نہیں کیا جا سکتا، اور اسی ضرورت کو مدنظر رکھتے ہوئے یہ سمیولیٹر تیار کیا گیا ہے۔

ایس پی اے کی رپورٹ کے مطابق نجران یونیورسٹی جنیوا بین الاقوامی ایجادات نمائش 2025 میں کئی ایجادات اور اختراعات پیش کر رہی ہے، جبکہ اس نے دو پیٹنٹ جمع کروائے ہیں۔ رپورٹ میں ان ایجادات کی تفصیلات میں نینو کیٹالسٹ ڈیزائن اور محفوظ سمیولیٹر کا ذکر کیا گیا ہے۔

کیا اس طرح کی بین الاقوامی نمائشوں میں شرکت یونیورسٹیوں کے تحقیقی کام کو صنعتی شراکت داری کی طرف لے جانے میں معاون ثابت ہوتی ہے؟ نمائش کا انعقاد جنیوا میں 9 سے 13 اپریل 2025 تک ہو رہا ہے، اور اس میں شرکت کرنے والے ادارے اپنی اختراعی کاوشیں پیش کرتے ہیں۔

رپورٹ میں یہ نہیں بتایا گیا کہ نجران یونیورسٹی کے ان دونوں پیٹنٹ کو کس مرحلے پر پیش کیا گیا، نہ ہی یہ کہ نمائش میں ان کے ساتھ کوئی اور تفصیل شیئر کی گئی۔ ایس پی اے کی رپورٹ میں پیٹنٹ کی رجسٹریشن، منظوری یا تجارتی استعمال سے متعلق کوئی معلومات فراہم نہیں کی گئیں۔ اسی طرح یہ بھی واضح نہیں کیا گیا کہ ان ایجادات پر کس عرصے سے کام ہو رہا ہے یا ان کے نتائج کا دائرہ کیا ہوگا۔

کیا ان پیٹنٹ کی تفصیلات کا مکمل اعلان آنے والے وقت میں کیا جائے گا؟ فی الحال دستیاب رپورٹ کے مطابق نجران یونیورسٹی نے جنیوا بین الاقوامی ایجادات نمائش 2025 میں شرکت کی ہے اور دو پیٹنٹ جمع کروائے ہیں، جن میں سے ایک نینو کیٹالسٹ ڈیزائن اور دوسرا محفوظ سمیولیٹر سے متعلق ہے۔

یہ نمائش 9 سے 13 اپریل 2025 تک جاری رہے گی، اور اس کا انعقاد سوئٹزرلینڈ کے شہر جنیوا میں ہو رہا ہے۔ نجران یونیورسٹی کی شرکت اس ایڈیشن میں اس کی تحقیقی اور اختراعی سرگرمیوں کی عکاسی کرتی ہے، جہاں وہ اپنی کئی ایجادات اور اختراعات پیش کر رہی ہے۔

کیا سعودی یونیورسٹیوں کی بین الاقوامی نمائشوں میں شرکت سے ملکی اختراعی ماحول کو تقویت ملے گی؟ اس کا جواب وقت کے ساتھ سامنے آئے گا، تاہم ایس پی اے کی رپورٹ کے مطابق نجران یونیورسٹی نے اس نمائش میں دو پیٹنٹ جمع کروائے ہیں، اور یہ دونوں پیٹنٹ ماحولیاتی تحفظ اور تابکاری سے تحفظ جیسے شعبوں سے جڑے ہوئے ہیں۔

نجران یونیورسٹی کس بین الاقوامی نمائش میں شرکت کر رہی ہے؟ نجران یونیورسٹی جنیوا بین الاقوامی ایجادات نمائش 2025 کے پچاسویں ایڈیشن میں شرکت کر رہی ہے، جو سوئٹزرلینڈ کے شہر جنیوا میں 9 سے 13 اپریل 2025 تک منعقد ہو رہی ہے۔ ایس پی اے کے مطابق یونیورسٹی وہاں اپنی کئی ایجادات اور اختراعات پیش کر رہی ہے اور اس نے دو پیٹنٹ جمع کروائے ہیں۔

پہلا پیٹنٹ کس چیز سے متعلق ہے؟ پہلا پیٹنٹ ایک اختراعی نینو کیٹالسٹ ڈیزائن سے متعلق ہے جو کھجور کی گٹھلیوں سے مقامی طور پر حاصل ہونے والے بائیو کاربن کو استعمال کرتا ہے۔ اس بائیو کاربن کو سونے کے نینو پارٹیکلز اور زنک آکسائیڈ سے بہتر بنایا گیا ہے، اور یہ ڈیزائن صنعتی گندے پانی کی صفائی کے لیے تیار کیا گیا ہے۔

دوسرا پیٹنٹ کیا ہے؟ دوسرا پیٹنٹ ایک محفوظ سمیولیٹر سے متعلق ہے جو گاما شعاعیں خارج کرنے والے تابکار ذرائع کی نشاندہی اور ان کی آلودگی کو کم کرنے کے لیے ڈیزائن کیا گیا ہے۔ اس کا مقصد تربیت حاصل کرنے والوں کو تابکار ڈی کنٹیمینیشن کے عمل کے دوران تابکاری کی نمائش سے تحفظ فراہم کرنا ہے۔

نمائش کب اور کہاں ہو رہی ہے؟ جنیوا بین الاقوامی ایجادات نمائش 2025 کا انعقاد سوئٹزرلینڈ کے شہر جنیوا میں 9 سے 13 اپریل 2025 تک ہو رہا ہے۔ یہ نمائش کا پچاسواں ایڈیشن ہے، اور ایس پی اے کے مطابق نجران یونیورسٹی اس میں اپنی کئی ایجادات اور اختراعات پیش کر رہی ہے۔

رپورٹ میں کون سی معلومات شامل نہیں ہیں؟ ایس پی اے کی رپورٹ میں یہ نہیں بتایا گیا کہ پیٹنٹ کی رجسٹریشن، منظوری یا تجارتی استعمال سے متعلق کیا صورتحال ہے۔ اسی طرح ان ایجادات پر کام کی مدت، نتائج کا دائرہ یا نمائش میں پیش کی گئی دیگر تفصیلات بھی رپورٹ کا حصہ نہیں ہیں۔