وزارت اسلامی امور، دعوہ اور رہنمائی نے آئیوری کوسٹ میں رمضان المبارک 1446 ہجری کے دوران روزہ داروں کے لیے روزانہ افطار کے کھانے کا اہتمام جاری رکھا ہوا ہے، جو خادم حرمین شریفین کے افطار پروگرام کے تحت کیا جا رہا ہے۔
جیسا کہ سعودی خبر رساں ادارے ایس پی اے نے بیان کیا، آئیوری کوسٹ میں وزارت کی نمائندگی مذہبی اتاشی کے دفتر کے ذریعے ہو رہی ہے، اور یہ سلسلہ رمضان کے اختتام تک جاری رہے گا۔
پیر کے روز دارالحکومت ابیجان کی مسجد الرضوان میں افطار کا کھانا منعقد ہوا، جس سے تقریباً 300 افراد مستفید ہوئے۔ یہ ایک دن کا اہتمام تھا، لیکن اس کی گونج اس سے کہیں بڑی ہے۔ کیا ایک مسجد میں ایک افطار کی دسترخوان واقعی کوئی بڑی بات ہے؟ شاید نہیں، اگر اسے الگ تھلگ دیکھا جائے۔ لیکن جب یہی دسترخوان روزانہ، درجنوں مساجد میں، اور ملک کے مختلف شہروں میں بچھایا جائے، تو تصویر بدل جاتی ہے۔
ایس پی اے کے مطابق آئیوری کوسٹ میں افطار پروگرام رمضان کے اختتام تک ملک بھر کی متعدد مساجد میں جاری رہے گا۔ ان مساجد میں مسجد السلام، مسجد عثمان بن عفان، مسجد دار الحدیث، مسجد اسحاق بیکائیکو، مسجد عمر بن الخطاب، بواکے کی جامع مسجد، کورہوگو کی جامع مسجد، مسجد اسلامی علوم، اور اگبوویل کی مسجد اہل السنہ شامل ہیں۔
یہ فہرست خود بتاتی ہے کہ معاملہ کسی ایک شہر یا کسی ایک محلے تک محدود نہیں۔ ابیجان کے علاوہ بواکے، کورہوگو اور اگبوویل جیسے شہروں کا نام آنا ظاہر کرتا ہے کہ پروگرام کو ملک کے مختلف حصوں تک پھیلایا گیا ہے۔ کیا رمضان میں ایک گرم کھانے کی پلیٹ صرف پیٹ بھرنے کا معاملہ ہے؟ ظاہر ہے نہیں۔ یہ ان لوگوں کے لیے ہے جو دن بھر روزہ رکھنے کے بعد شام کو اپنے آپ کو تنہا محسوس نہ کریں۔
ایس پی اے کی رپورٹ کے مطابق پروگرام کے اختتام تک تقریباً 3,000 افراد کے مستفید ہونے کی توقع ہے۔ ایک مسجد میں 300 افراد، اور پورے ملک میں 3,000 افراد۔ یہ اعداد و شمار اپنی جگہ اہم ہیں، لیکن سوال یہ ہے کہ ان کے پیچھے کون کھڑا ہے؟ وزارت اسلامی امور، دعوہ اور رہنمائی، اور اس کا مذہبی اتاشی دفتر، جو آئیوری کوسٹ میں اس کام کی نگرانی کر رہا ہے۔
خادم حرمین شریفین کے افطار پروگرام کا نام خود بتاتا ہے کہ یہ کس سلسلے کا حصہ ہے۔ یہ کوئی نیا یا عارضی اقدام نہیں، بلکہ ایک ایسا پروگرام ہے جو رمضان کے مہینے میں مختلف ممالک میں چلتا ہے۔ آئیوری کوسٹ اس فہرست میں ایک نام ہے، اور اس سال یہاں کا اہتمام ابیجان سے شروع ہو کر دیگر شہروں تک پھیلا ہوا ہے۔
کیا افطار کے کھانے صرف مذہبی فریضہ ہیں؟ یا ان میں سماجی ہم آہنگی کا پہلو بھی شامل ہے؟ جب ایک ہی دسترخوان پر مختلف لوگ بیٹھتے ہیں، تو وہ صرف کھانا نہیں کھاتے، وہ ایک دوسرے کو دیکھتے ہیں، ایک دوسرے سے بات کرتے ہیں۔ رمضان کا مہینہ اپنی طبعی ساخت میں ہی اجتماعیت کا مہینہ ہے، اور افطار کا اہتمام اس اجتماعیت کو عملی شکل دیتا ہے۔
مسجد الرضوان کا انتخاب بھی بے معنی نہیں۔ دارالحکومت ابیجان میں واقع یہ مسجد پیر کے روز اس پروگرام کا مرکز بنی۔ تقریباً 300 افراد نے وہاں افطار کیا۔ یہ تعداد نہ بہت بڑی ہے اور نہ بہت چھوٹی۔ لیکن اگر اسی تعداد کو رمضان کے تیس دنوں سے ضرب دیا جائے، تو ایک مسجد کے اندر ہی ہزاروں کھانے بنتے ہیں۔ اور پھر اگر مساجد کی فہرست کو سامنے رکھا جائے، تو تصویر مزید واضح ہو جاتی ہے۔
ایس پی اے کی رپورٹ میں یہ نہیں بتایا گیا کہ ہر مسجد میں کتنے افراد شریک ہوتے ہیں، نہ یہ کہ کھانے کا انتظام کس طرح ہوتا ہے، اور نہ یہ کہ اس پروگرام پر کتنی رقم خرچ ہوتی ہے۔ جو معلومات دی گئی ہیں، وہ یہ ہیں: ایک مسجد میں تقریباً 300 افراد، پورے پروگرام میں تقریباً 3,000 افراد، اور مساجد کی ایک متعین فہرست۔
کیا یہ اعداد و شمار کافی ہیں؟ شاید نہیں۔ لیکن یہ اتنا ضرور بتاتے ہیں کہ پروگرام کا دائرہ کتنا وسیع ہے۔ نو مساجد کا نام لینا، اور ان میں سے کچھ کو جامع مسجد کہنا، ظاہر کرتا ہے کہ ان مقامات پر بڑی تعداد میں نمازی آتے ہیں۔ بواکے اور کورہوگو کی جامع مساجد کا ذکر خاص طور پر اس بات کی طرف اشارہ کرتا ہے کہ پروگرام صرف دارالحکومت تک محدود نہیں۔
اگبوویل کی مسجد اہل السنہ کا نام بھی فہرست میں شامل ہے۔ اگبوویل ابیجان سے الگ ایک شہر ہے، اور وہاں اس مسجد کا ذکر بتاتا ہے کہ پروگرام کی رسائی ملک کے مختلف علاقوں تک ہے۔ اسی طرح مسجد اسلامی علوم کا نام بھی فہرست میں آتا ہے، جو تعلیمی اور مذہبی سرگرمیوں کے لیے جانا جاتا ہے۔
کیا رمضان میں افطار کا اہتمام صرف کھانا کھلانے تک محدود ہوتا ہے؟ عام تجربہ یہ بتاتا ہے کہ نہیں۔ افطار کے بعد مغرب کی نماز، پھر تراویح، اور پھر لوگوں کا آپس میں ملنا جلنا۔ یہ سب ایک ہی سلسلے کے حصے ہیں۔ وزارت اسلامی امور، دعوہ اور رہنمائی کا کام صرف کھانا فراہم کرنا نہیں، بلکہ دعوہ اور رہنمائی بھی ہے۔ اور افطار کا موقع اس کام کے لیے ایک قدرتی پلیٹ فارم مہیا کرتا ہے۔
آئیوری کوسٹ میں مذہبی اتاشی کا دفتر اس پروگرام کو چلا رہا ہے۔ یہ دفتر وزارت کی نمائندگی کرتا ہے، اور اس کی ذمہ داری صرف رمضان تک محدود نہیں۔ لیکن رمضان میں اس کی سرگرمیوں کا دائرہ بڑھ جاتا ہے، کیونکہ روزہ داروں کی تعداد زیادہ ہوتی ہے اور ضرورت بھی۔
ایس پی اے کی رپورٹ کے مطابق افطار کا یہ سلسلہ روزانہ جاری ہے۔ روزانہ کا مطلب ہے کہ ہر دن کسی نہ کسی مسجد میں دسترخوان بچھتا ہے۔ پیر کے روز یہ مسجد الرضوان میں تھا۔ اگلے دن کسی اور مسجد میں ہوگا۔ اور یہ سلسلہ رمضان کے آخری دن تک چلے گا۔
کیا اس پروگرام کا کوئی باقاعدہ شیڈول ہے؟ رپورٹ میں مساجد کے نام تو دیے گئے ہیں، لیکن یہ نہیں بتایا گیا کہ کس دن کس مسجد میں افطار ہوگا۔ نہ یہ بتایا گیا کہ کون سی مسجد کتنی بار اس پروگرام کا حصہ بنے گی۔ یہ معلومات رپورٹ میں شامل نہیں۔
اسی طرح یہ بھی نہیں بتایا گیا کہ افطار کے کھانے میں کیا کچھ پیش کیا جاتا ہے۔ عام طور پر افطار میں کھجور، پانی، اور مقامی کھانے شامل ہوتے ہیں، لیکن رپورٹ میں اس کی تفصیل نہیں۔ نہ یہ بتایا گیا کہ کھانا کہاں تیار ہوتا ہے، اور نہ یہ کہ اس کی تقسیم کا نظام کیا ہے۔
کیا یہ تفصیلات اہم ہیں؟ کسی خبر کے لیے نہیں، لیکن کسی پروگرام کی مکمل تصویر کے لیے ضرور۔ ایس پی اے کی رپورٹ ایک خبر ہے، اور خبر اپنی حد تک معلومات دیتی ہے۔ جو نہیں دیا، وہ نہیں دیا۔
تقریباً 3,000 افراد کا تخمینہ ایک اندازہ ہے۔ یہ نہیں کہا گیا کہ یہ تعداد کیسے نکالی گئی۔ نہ یہ کہ ہر مسجد میں کتنے لوگ آتے ہیں، اور نہ یہ کہ کچھ مساجد میں زیادہ اور کچھ میں کم۔ لیکن ایک بات واضح ہے: اگر ایک مسجد میں 300 افراد آتے ہیں، اور نو مساجد ہیں، تو 3,000 کا ہندسہ بالکل قریب قریب بیٹھتا ہے۔
کیا رمضان کے آخری عشرے میں تعداد بڑھ جاتی ہے؟ عام طور پر ایسا ہوتا ہے، کیونکہ اعتکاف اور دیگر عبادات کی وجہ سے مساجد میں رش بڑھ جاتا ہے۔ لیکن رپورٹ میں اس بارے میں کچھ نہیں کہا گیا۔
وزارت اسلامی امور، دعوہ اور رہنمائی کا یہ پروگرام خادم حرمین شریفین کے افطار پروگرام کا حصہ ہے۔ یہ نام خود ایک سلسلہ ہے، جو سعودی عرب کی طرف سے مختلف ممالک میں رمضان کے دوران چلایا جاتا ہے۔ آئیوری کوسٹ اس سلسلے کی ایک کڑی ہے، اور اس سال یہاں کا اہتمام ابیجان، بواکے، کورہوگو اور اگبوویل جیسے شہروں تک پھیلا ہوا ہے۔
کیا اس طرح کے پروگراموں کا کوئی طویل مدتی اثر ہوتا ہے؟ یہ سوال اس لیے اہم ہے کہ افطار کا اہتمام صرف رمضان کے مہینے تک محدود ہوتا ہے۔ لیکن اس کے اثرات اس سے آگے جا سکتے ہیں۔ لوگ ان مساجد کو یاد رکھتے ہیں جہاں انہیں عزت اور خیر سگالی ملی۔
ایس پی اے کی رپورٹ میں یہ نہیں بتایا گیا کہ اس پروگرام کا آغاز کب ہوا، نہ یہ کہ کتنے سالوں سے یہ آئیوری کوسٹ میں چل رہا ہے۔ صرف یہ کہا گیا کہ یہ رمضان 1446 ہجری کے دوران جاری ہے۔
مسجد الرضوان میں پیر کے روز ہونے والے افطار کا ذکر خاص طور پر کیا گیا ہے۔ یہ اس بات کی طرف اشارہ ہے کہ رپورٹ کسی ایک دن کی سرگرمی کو نمایاں کر رہی ہے، جبکہ ساتھ ہی یہ بھی بتا رہی ہے کہ یہ سلسلہ روزانہ جاری ہے۔
کیا ایک دن کی خبر پورے پروگرام کی عکاسی کر سکتی ہے؟ نہیں، لیکن یہ ایک جھلک ضرور دیتی ہے۔ اور اسی جھلک سے اندازہ ہوتا ہے کہ پورا پروگرام کتنا وسیع ہوگا۔
آئیوری کوسٹ میں مسلمانوں کی تعداد کافی ہے، اور رمضان کے دوران مساجد میں رش بڑھ جاتا ہے۔ ایسے میں افطار کا اہتمام ایک عملی ضرورت بھی ہے اور ایک مذہبی روایت بھی۔ وزارت اسلامی امور، دعوہ اور رہنمائی کا یہ پروگرام اسی ضرورت کو پورا کرنے کی کوشش ہے۔
ایس پی اے کی رپورٹ کے مطابق پروگرام میں شامل مساجد کی فہرست میں مسجد السلام، مسجد عثمان بن عفان، مسجد دار الحدیث، مسجد اسحاق بیکائیکو، مسجد عمر بن الخطاب، بواکے کی جامع مسجد، کورہوگو کی جامع مسجد، مسجد اسلامی علوم، اور اگبوویل کی مسجد اہل السنہ شامل ہیں۔ یہ نو مساجد ہیں، جو ملک کے مختلف حصوں میں واقع ہیں۔
کیا ان مساجد کے ناموں سے کوئی خاص بات سمجھ آتی ہے؟ کچھ نام صحابہ کرام سے منسوب ہیں، جیسے مسجد عثمان بن عفان اور مسجد عمر بن الخطاب۔ کچھ نام علمی اور دعوتی پہلو کی طرف اشارہ کرتے ہیں، جیسے مسجد دار الحدیث اور مسجد اسلامی علوم۔ یہ نام بتاتے ہیں کہ یہ مساجد اپنی مقامی برادریوں میں کس طرح کی شناخت رکھتی ہیں۔
بواکے اور کورہوگو کی جامع مساجد کا ذکر خاص طور پر اس لیے بھی اہم ہے کہ یہ شہر ابیجان سے دور ہیں۔ اس کا مطلب ہے کہ پروگرام کی رسائی صرف دارالحکومت تک محدود نہیں، بلکہ ملک کے دیگر بڑے شہروں تک بھی ہے۔
اگبوویل کی مسجد اہل السنہ کا نام بھی اسی بات کی تصدیق کرتا ہے۔ اگبوویل ایک الگ شہر ہے، اور وہاں اس مسجد میں افطار کا اہتمام بتاتا ہے کہ پروگرام کو مقامی سطح پر منظم کیا گیا ہے۔
کیا اس پروگرام میں خواتین بھی شریک ہوتی ہیں؟ رپورٹ میں اس بارے میں کچھ نہیں کہا گیا۔ نہ یہ بتایا گیا کہ شرکاء کی صنفی تقسیم کیا ہے، اور نہ یہ کہ کھانے کی تیاری میں کون شامل ہے۔
ایس پی اے کی رپورٹ میں یہ بھی نہیں بتایا گیا کہ اس پروگرام کے لیے فنڈز کہاں سے آتے ہیں، اور نہ یہ کہ اس کی نگرانی کا نظام کیا ہے۔ جو دیا گیا، وہ یہ ہے: وزارت اسلامی امور، دعوہ اور رہنمائی، اس کا مذہبی اتاشی دفتر، مساجد کی فہرست، اور مستفید ہونے والوں کی تعداد کا تخمینہ۔
تقریباً 300 افراد نے پیر کے روز مسجد الرضوان میں افطار کیا۔ یہ ایک دن کا، ایک مسجد کا، ایک شہر کا معاملہ ہے۔ لیکن جب اسے پورے پروگرام کے تناظر میں دیکھا جائے، تو یہ ایک بڑی تصویر کا ایک چھوٹا سا حصہ ہے۔
کیا رمضان میں افطار کے اہتمام کی کوئی سماجی قیمت ہے؟ یقیناً ہے۔ جب لوگ ایک ساتھ بیٹھتے ہیں، تو وہ ایک دوسرے کے قریب آتے ہیں۔ یہ قربت صرف رمضان تک محدود نہیں رہتی، بلکہ اس کے بعد بھی برقرار رہ سکتی ہے۔
وزارت اسلامی امور، دعوہ اور رہنمائی کا یہ پروگرام اسی سماجی قربت کو فروغ دینے کا ایک ذریعہ ہے۔ اور آئیوری کوسٹ میں اس کا دائرہ کار بتاتا ہے کہ یہ کوشش کتنی وسیع ہے۔
ایس پی اے کی رپورٹ کے مطابق پروگرام رمضان کے اختتام تک جاری رہے گا۔ اس کا مطلب ہے کہ یہ سلسلہ کئی ہفتوں تک چلے گا، اور ہر دن کسی نہ کسی مسجد میں افطار کا اہتمام ہوگا۔
کیا اس دوران کوئی اور سرگرمیاں بھی ہوں گی؟ رپورٹ میں اس بارے میں کچھ نہیں بتایا گیا۔ صرف افطار کے کھانے کا ذکر ہے، اور مساجد کی فہرست۔
آخر میں، یہ کہا جا سکتا ہے کہ ایس پی اے کی رپورٹ میں جو معلومات دی گئی ہیں، وہ محدود ہیں لیکن واضح ہیں۔ ایک مسجد میں تقریباً 300 افراد، پورے پروگرام میں تقریباً 3,000 افراد، اور نو مساجد کے نام۔ جو نہیں بتایا گیا، وہ یہ کہ کھانے کی تفصیل، شیڈول، فنڈز، اور شرکاء کی مکمل تعداد۔
یہ رپورٹ ایک خبر ہے، اور خبر اپنی حد تک سچی ہے۔ باقی تفصیلات کا انتظار رہے گا۔
آئیوری کوسٹ میں افطار پروگرام کون چلا رہا ہے؟ وزارت اسلامی امور، دعوہ اور رہنمائی آئیوری کوسٹ میں اپنے مذہبی اتاشی کے دفتر کے ذریعے یہ پروگرام چلا رہی ہے۔ یہ خادم حرمین شریفین کے افطار پروگرام کا حصہ ہے، جو رمضان 1446 ہجری کے دوران روزانہ جاری ہے۔ ایس پی اے کے مطابق پیر کے روز ابیجان کی مسجد الرضوان میں افطار کا اہتمام ہوا، جس سے تقریباً 300 افراد مستفید ہوئے۔
افطار پروگرام کن مساجد میں جاری رہے گا؟ ایس پی اے کے مطابق پروگرام رمضان کے اختتام تک ملک بھر کی متعدد مساجد میں جاری رہے گا۔ ان میں مسجد السلام، مسجد عثمان بن عفان، مسجد دار الحدیث، مسجد اسحاق بیکائیکو، مسجد عمر بن الخطاب، بواکے کی جامع مسجد، کورہوگو کی جامع مسجد، مسجد اسلامی علوم، اور اگبوویل کی مسجد اہل السنہ شامل ہیں۔ یہ مساجد مختلف شہروں میں واقع ہیں۔
پروگرام سے کتنے افراد مستفید ہوں گے؟ ایس پی اے کی رپورٹ کے مطابق پروگرام کے اختتام تک تقریباً 3,000 افراد کے مستفید ہونے کی توقع ہے۔ پیر کے روز مسجد الرضوان میں تقریباً 300 افراد نے افطار کیا۔ یہ اعداد و شمار بتاتے ہیں کہ پروگرام کا دائرہ کافی وسیع ہے، حالانکہ رپورٹ میں ہر مسجد کے شرکاء کی الگ تعداد نہیں دی گئی۔
کیا رپورٹ میں کھانے یا شیڈول کی تفصیل دی گئی ہے؟ نہیں، ایس پی اے کی رپورٹ میں افطار کے کھانے کی تفصیل، روزانہ کے شیڈول، یا یہ کہ کس دن کس مسجد میں افطار ہوگا، کے بارے میں کچھ نہیں بتایا گیا۔ نہ ہی یہ بتایا گیا کہ کھانا کہاں تیار ہوتا ہے یا اس کی تقسیم کا نظام کیا ہے۔ رپورٹ میں صرف مساجد کے نام، ایک دن کی سرگرمی، اور مستفید ہونے والوں کی تخمینی تعداد دی گئی ہے۔