حائل میں مورینگا کے درخت اپنی ماحولیاتی، غذائی اور اقتصادی اہمیت کی وجہ سے مقبول ہو رہے ہیں، کیونکہ یہ سخت آب و ہوا، خشک سالی اور پانی کی کمی کو برداشت کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔
جیسا کہ سعودی خبر رساں ادارے ایس پی اے نے 10 اگست 2026 کو بیان کیا، حائل میں مورینگا کے تعاون کے لیے قائم ایسوسی ایشن کے چیئرمین ڈاکٹر عبدالعزیز العبیدہ نے بتایا کہ ان کی مورینگا کی کاشت کا تجربہ 10 سال سے زیادہ پرانا ہے۔
ان کے 50,000 مربع میٹر کے فارم پر 30,000 سے زیادہ درخت موجود ہیں، جن کی اونچائی 5 سے 14 میٹر کے درمیان ہے اور ان میں Moringa peregrina اور Moringa oleifera سمیت تقریباً 13 اقسام شامل ہیں۔
ڈاکٹر العبیدہ نے بتایا کہ مورینگا میں وٹامنز، معدنیات اور پروٹین موجود ہیں، اور اسے خوراک، کاسمیٹکس اور روایتی ادویات میں استعمال کیا جاتا ہے۔ اس کے بیجوں سے تیل نکالا جاتا ہے، جبکہ پتوں، پھولوں اور سبز پھلیوں کو خشک کر کے غذائی پاؤڈر بنایا جا سکتا ہے۔
رپورٹ کے مطابق خشک علاقوں میں مورینگا کی کاشت اقتصادی مواقع فراہم کرتی ہے، خاص طور پر حائل کے سازگار ماحول میں پتوں والی اقسام زیادہ امید افزا ہیں۔
ڈاکٹر عبدالعزیز العبیدہ کے فارم کی تفصیلات کیا ہیں؟ ڈاکٹر عبدالعزیز العبیدہ کا فارم 50,000 مربع میٹر پر محیط ہے جہاں 30,000 سے زائد درخت لگے ہوئے ہیں۔ ان درختوں کی اونچائی 5 سے 14 میٹر ہے اور ان میں Moringa peregrina اور Moringa oleifera سمیت 13 اقسام شامل ہیں۔
مورینگا کے درخت کی کیا خصوصیات ہیں؟ مورینگا کے درخت سخت آب و ہوا، خشک سالی اور پانی کی کمی کو برداشت کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔ یہ درخت تیزی سے بڑھتے ہیں اور صحرائی و نیم صحرائی ماحول کے لیے موزوں ہیں، جس کی وجہ سے انہیں ماحولیاتی اور اقتصادی اہمیت حاصل ہے۔
مورینگا کا استعمال کن شعبوں میں کیا جاتا ہے؟ مورینگا کو خوراک، کاسمیٹکس اور روایتی ادویات میں استعمال کیا جاتا ہے کیونکہ یہ وٹامنز، معدنیات اور پروٹین سے بھرپور ہے۔ اس کے بیجوں سے تیل حاصل کیا جاتا ہے اور پتوں، پھولوں اور پھلیوں سے غذائی پاؤڈر تیار کیا جاتا ہے۔
حائل میں مورینگا کی کاشت کے کیا فوائد ہیں؟ حائل کے سازگار ماحولیاتی حالات کی وجہ سے یہاں مورینگا کی پتوں والی اقسام کی کاشت زیادہ امید افزا ہے۔ خشک علاقوں میں اس کی کاشت سے نئے اقتصادی مواقع پیدا ہو رہے ہیں، جیسا کہ ڈاکٹر العبیدہ نے اشارہ کیا۔