دوحہ میں منعقدہ مشرق وسطیٰ کے ڈائریکٹرز جنرل آف سول ایوی ایشن کے آٹھویں اجلاس (DGCA-MID/8) میں سعودی عرب نے جنرل اتھارٹی آف سول ایوی ایشن (GACA) کی نمائندگی سے شرکت کی، جہاں جی اے سی اے کے صدر عبدالعزیز الدویلیج نے علاقائی چیلنجز کے تناظر میں ہوا بازی کے شعبے کے تسلسل کو یقینی بنانے کے لیے مضبوط تعاون کی ضرورت پر زور دیا۔
جیسا کہ سعودی خبر رساں ادارے ایس پی اے نے 27 اکتوبر 2026 کو بیان کیا، یہ اجلاس قطر کے شہر دوحہ میں 26 سے 28 اکتوبر تک جاری رہا، جس میں سول ایوی ایشن اتھارٹیز کے حکام اور بین الاقوامی و علاقائی تنظیموں کے نمائندوں نے شرکت کی۔ اجلاس میں ہوابازی کے شعبے کو درپیش چیلنجز اور علاقائی تعاون کو مضبوط بنانے کے طریقوں پر غور کیا گیا۔
عبدالعزیز الدویلیج نے اپنے خطاب میں کہا کہ خطے کے ممالک کے درمیان رابطہ کاری اور تعاون کو بڑھانا، آپریشنل معلومات کا تبادلہ، اور ہنگامی تیاری اور کاروباری تسلسل کے منصوبوں کو مضبوط بنانا ضروری ہے تاکہ ہوائی ٹریفک کی حفاظت کو یقینی بنایا جا سکے اور سول ایوی ایشن کے شعبے کی لچک اور بحرانوں کا جواب دینے کی صلاحیت کو بہتر بنایا جا سکے۔ کیا خطے کے ممالک کے بغیر مشترکہ آپریشنل معلومات کے ہوابازی کا تسلسل ممکن ہے؟
انہوں نے سعودی وژن 2030 کے تحت نیشنل ٹرانسپورٹ اینڈ لاجسٹکس اسٹریٹجی کے حصے کے طور پر ایوی ایشن پروگرام کے اہداف کے حصول کی جانب مملکت کی مسلسل پیش رفت پر روشنی ڈالی۔ انہوں نے بتایا کہ سعودی ہوائی اڈوں نے 2025 میں 140 ملین سے زیادہ مسافروں کو سنبھالا، جبکہ مملکت کا فضائی رابطہ نیٹ ورک 176 بین الاقوامی مقامات تک پھیل گیا۔ کیا 176 بین الاقوامی مقامات تک پھیلے اس نیٹ ورک کے ساتھ مملکت کی فضائی رابطہ کاری خطے میں کس مقام پر کھڑی ہے؟
جی اے سی اے کے صدر نے اشارہ کیا کہ حالیہ علاقائی پیش رفت نے سول ایوی ایشن کے شعبے، فضائی نقل و حمل کے آپریشنز، مسافروں کی طلب اور ایئر لائنز کی صلاحیت کو متاثر کیا ہے۔ انٹرنیشنل ایئر ٹرانسپورٹ ایسوسی ایشن (IATA) کے اعداد و شمار کا حوالہ دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ مشرق وسطیٰ میں مسافروں کی آمدورفت جنوری سے اگست 2026 کے دوران گزشتہ سال کی اسی مدت کے مقابلے میں تقریباً 20 فیصد کم ہوئی۔ یہ کمی کس حد تک علاقائی ہوابازی کے شعبے کے لیے ایک انتباہ ہے؟
عبدالعزیز الدویلیج نے وضاحت کی کہ مملکت نے غیر معمولی حالات کا جواب منظور شدہ ہنگامی منصوبوں کو فعال کر کے، اپنے نقل و حمل کے ذرائع کے تنوع اور انضمام سے فائدہ اٹھا کر، اور مسافروں کے لیے متبادل راستے اور متعدد سفری اختیارات فراہم کر کے دیا۔ کیا متبادل راستوں اور متعدد سفری اختیارات کی فراہمی مسافروں کے اعتماد کو بحال کرنے کے لیے کافی ہے؟
انہوں نے شام اور لیبیا کو انٹرنیشنل سول ایوی ایشن آرگنائزیشن میں شامل ہونے پر مبارکباد بھی دی۔ یہ پیش رفت علاقائی ہوابازی کے تعاون کے دائرے کو کیسے وسعت دے گی؟
اجلاس میں ہوابازی کے شعبے کو درپیش چیلنجز اور علاقائی تعاون کو مضبوط بنانے کے طریقوں پر تبادلہ خیال کیا گیا، جس میں سول ایوی ایشن اتھارٹیز کے حکام اور بین الاقوامی و علاقائی تنظیموں کے نمائندے شریک تھے۔ کیا ایسے پلیٹ فارمز پر ہونے والے تبادلے عملی پالیسیوں میں تبدیل ہو پاتے ہیں؟
سعودی عرب کی جانب سے جی اے سی اے کی اس شرکت کو وژن 2030 کے تحت نیشنل ٹرانسپورٹ اینڈ لاجسٹکس اسٹریٹجی کے اہداف کے ساتھ جوڑ کر دیکھا جا رہا ہے، جس میں ایوی ایشن پروگرام کے اہداف شامل ہیں۔ 2025 میں 140 ملین سے زائد مسافروں کی آمدورفت اور 176 بین الاقوامی مقامات تک پھیلے نیٹ ورک کو ان اہداف کے تناظر میں کیسے سمجھا جائے؟
علاقائی پیش رفت کے اثرات پر بات کرتے ہوئے جی اے سی اے کے صدر نے IATA کے اعداد و شمار کا حوالہ دیا، جن کے مطابق مشرق وسطیٰ میں مسافروں کی آمدورفت جنوری سے اگست 2026 کے دوران گزشتہ سال کی اسی مدت کے مقابلے میں تقریباً 20 فیصد کم رہی۔ یہ اعداد و شمار ایئر لائنز کی صلاحیت اور مسافروں کی طلب پر پڑنے والے دباؤ کی کیا تصویر پیش کرتے ہیں؟
مملکت کے ردعمل میں منظور شدہ ہنگامی منصوبوں کی فعال کاری، نقل و حمل کے ذرائع کے تنوع اور انضمام سے استفادہ، اور مسافروں کے لیے متبادل راستوں اور متعدد سفری اختیارات کی فراہمی شامل تھی۔ کیا ہنگامی منصوبوں کی فعال کاری ہی طویل مدتی لچک کی ضمانت ہے؟
اجلاس کے ایجنڈے میں ہوابازی کے شعبے کو درپیش چیلنجز اور علاقائی تعاون کو مضبوط بنانے کے طریقے شامل تھے، اور اس میں بین الاقوامی و علاقائی تنظیموں کے نمائندوں کی شرکت نے اس پلیٹ فارم کی اہمیت کو اجاگر کیا۔ کیا بین الاقوامی تنظیموں کی شرکت سے فیصلہ سازی میں کوئی نمایاں فرق پڑتا ہے؟
جی اے سی اے کے صدر نے شام اور لیبیا کو انٹرنیشنل سول ایوی ایشن آرگنائزیشن میں شمولیت پر مبارکباد دی، جو علاقائی ہوابازی کے منظرنامے میں ایک اور پیش رفت ہے۔ اس شمولیت کے بعد علاقائی تعاون کے فریم ورک میں کیا تبدیلیاں متوقع ہیں؟
سعودی عرب کی نمائندگی جی اے سی اے کے ذریعے اس اجلاس میں ہوئی، جہاں مملکت کے ایوی ایشن پروگرام کی پیش رفت، ہوائی اڈوں کی مسافروں کی گنجائش، اور فضائی رابطہ نیٹ ورک کے پھیلاؤ پر بات کی گئی۔ 140 ملین سے زائد مسافروں اور 176 بین الاقوامی مقامات کے اعداد و شمار مملکت کی فضائی نقل و حمل کی پوزیشن کو کس طرح بیان کرتے ہیں؟
علاقائی چیلنجز کے تناظر میں جی اے سی اے کے صدر کا پیغام واضح تھا: رابطہ کاری، آپریشنل معلومات کا تبادلہ، اور ہنگامی تیاری و کاروباری تسلسل کے منصوبوں کی مضبوطی ہوائی ٹریفک کی حفاظت اور سول ایوی ایشن کی لچک کے لیے بنیادی شرائط ہیں۔ کیا خطے کے ممالک ان شرائط کو پورا کرنے کے لیے تیار ہیں؟
اجلاس دوحہ میں 26 سے 28 اکتوبر تک جاری رہا، اور اس میں سول ایوی ایشن اتھارٹیز کے حکام کے ساتھ بین الاقوامی و علاقائی تنظیموں کے نمائندے بھی موجود تھے۔ کیا اس طرح کے اجلاسوں کے بعد عملی اقدامات کی نگرانی کا کوئی طریقہ کار موجود ہے؟
جی اے سی اے کے صدر نے مملکت کی جانب سے غیر معمولی حالات کے جواب میں اپنایا گیا طریقہ کار بیان کیا، جس میں منظور شدہ ہنگامی منصوبوں کی فعال کاری اور نقل و حمل کے ذرائع کے تنوع سے استفادہ شامل تھا۔ کیا نقل و حمل کے ذرائع کا انضمام ہوابازی کے شعبے کے دباؤ کو کم کرنے میں معاون ثابت ہو سکتا ہے؟
انہوں نے IATA کے اعداد و شمار کا حوالہ دیتے ہوئے مشرق وسطیٰ میں جنوری سے اگست 2026 کے دوران مسافروں کی آمدورفت میں تقریباً 20 فیصد کمی کا ذکر کیا، جو علاقائی ہوابازی کے شعبے پر پڑنے والے اثرات کی عکاسی کرتی ہے۔ یہ کمی کس حد تک ایئر لائنز کے آپریشنل فیصلوں کو متاثر کرے گی؟
سعودی ہوائی اڈوں نے 2025 میں 140 ملین سے زائد مسافروں کو سنبھالا، جبکہ مملکت کا فضائی رابطہ نیٹ ورک 176 بین الاقوامی مقامات تک پھیل گیا، جو ایوی ایشن پروگرام کے اہداف کی جانب پیش رفت کو ظاہر کرتا ہے۔ ان اہداف کے حصول کے لیے کن عوامل کی نگرانی ضروری ہے؟
رپورٹ میں اجلاس کے دوران اٹھائے گئے چیلنجز کی تفصیل، ہنگامی منصوبوں کے اجزاء، یا متبادل راستوں کی نوعیت کے بارے میں مزید معلومات شامل نہیں ہیں، اور نہ ہی شام اور لیبیا کی شمولیت کے بعد کے اثرات پر کوئی تفصیل دی گئی ہے۔ کیا ایسے اجلاسوں کے نتائج کی مکمل تصویر کے لیے مزید شفافیت درکار ہے؟
دوحہ میں کون سا اجلاس ہوا اور اس میں کون شریک ہوا؟ مشرق وسطیٰ کے ڈائریکٹرز جنرل آف سول ایوی ایشن کا آٹھواں اجلاس (DGCA-MID/8) قطر کے شہر دوحہ میں 26 سے 28 اکتوبر 2026 تک منعقد ہوا۔ اس میں سول ایوی ایشن اتھارٹیز کے حکام اور بین الاقوامی و علاقائی تنظیموں کے نمائندے شریک تھے۔ سعودی عرب کی نمائندگی جنرل اتھارٹی آف سول ایوی ایشن (GACA) نے کی، اور جی اے سی اے کے صدر عبدالعزیز الدویلیج نے خطاب کیا۔ اجلاس میں ہوابازی کے شعبے کو درپیش چیلنجز اور علاقائی تعاون کو مضبوط بنانے کے طریقوں پر غور کیا گیا۔
جی اے سی اے کے صدر نے تعاون کے حوالے سے کیا کہا؟ عبدالعزیز الدویلیج نے خطے کے ممالک کے درمیان رابطہ کاری اور تعاون بڑھانے، آپریشنل معلومات کے تبادلے، اور ہنگامی تیاری و کاروباری تسلسل کے منصوبوں کو مضبوط بنانے کی اہمیت پر زور دیا۔ ان کا کہنا تھا کہ اس سے ہوائی ٹریفک کی حفاظت یقینی بنے گی اور سول ایوی ایشن کے شعبے کی لچک اور بحرانوں کا جواب دینے کی صلاحیت بہتر ہوگی۔ یہ بات انہوں نے دوحہ میں منعقدہ اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہی۔
سعودی ہوابازی کے شعبے کی کارکردگی کے کیا اعداد و شمار بتائے گئے؟ جی اے سی اے کے صدر نے بتایا کہ سعودی ہوائی اڈوں نے 2025 میں 140 ملین سے زیادہ مسافروں کو سنبھالا، جبکہ مملکت کا فضائی رابطہ نیٹ ورک 176 بین الاقوامی مقامات تک پھیل گیا۔ انہوں نے یہ اعداد و شمار سعودی وژن 2030 کے تحت نیشنل ٹرانسپورٹ اینڈ لاجسٹکس اسٹریٹجی کے حصے کے طور پر ایوی ایشن پروگرام کے اہداف کی جانب مملکت کی مسلسل پیش رفت کے تناظر میں پیش کیے۔
علاقائی پیش رفت کا ہوابازی کے شعبے پر کیا اثر بتایا گیا؟ عبدالعزیز الدویلیج نے کہا کہ حالیہ علاقائی پیش رفت نے سول ایوی ایشن کے شعبے، فضائی نقل و حمل کے آپریشنز، مسافروں کی طلب اور ایئر لائنز کی صلاحیت کو متاثر کیا ہے۔ انٹرنیشنل ایئر ٹرانسپورٹ ایسوسی ایشن (IATA) کے اعداد و شمار کا حوالہ دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ مشرق وسطیٰ میں مسافروں کی آمدورفت جنوری سے اگست 2026 کے دوران گزشتہ سال کی اسی مدت کے مقابلے میں تقریباً 20 فیصد کم ہوئی۔
مملکت نے غیر معمولی حالات کا جواب کیسے دیا؟ جی اے سی اے کے صدر کے مطابق مملکت نے غیر معمولی حالات کا جواب منظور شدہ ہنگامی منصوبوں کو فعال کر کے، اپنے نقل و حمل کے ذرائع کے تنوع اور انضمام سے فائدہ اٹھا کر، اور مسافروں کے لیے متبادل راستے اور متعدد سفری اختیارات فراہم کر کے دیا۔ انہوں نے یہ وضاحت دوحہ میں جاری اجلاس سے خطاب کے دوران کی، جس کا مقصد ہوابازی کے شعبے کے تسلسل کو یقینی بنانا تھا۔
اجلاس میں شام اور لیبیا کے حوالے سے کیا ذکر ہوا؟ جی اے سی اے کے صدر عبدالعزیز الدویلیج نے شام اور لیبیا کو انٹرنیشنل سول ایوی ایشن آرگنائزیشن میں شامل ہونے پر مبارکباد دی۔ یہ ذکر دوحہ میں منعقدہ مشرق وسطیٰ کے ڈائریکٹرز جنرل آف سول ایوی ایشن کے آٹھویں اجلاس کے دوران ہوا، جس میں علاقائی اور بین الاقوامی تنظیموں کے نمائندے بھی شریک تھے۔ رپورٹ میں اس شمولیت کے بعد کے اثرات کی مزید تفصیل نہیں دی گئی۔





