ریاض کے بین الاقوامی کنونشن اینڈ ایگزیبیشن سینٹر میں مشرق وسطیٰ پولٹری ایکسپو کے پانچویں ایڈیشن کا آغاز ہوا، جہاں افتتاحی تقریب کے دوران 2.574 بلین ریال سے زائد مالیت کے 27 معاہدوں پر دستخط کیے گئے۔ یہ معاہدے پولٹری شعبے کی ترقی، پیداواری کارکردگی میں بہتری، سپلائی چینز کی مضبوطی اور سرمایہ کاری شراکت داریوں کی توسیع کے مقاصد رکھتے ہیں، جو سعودی عرب میں غذائی تحفظ کو مزید سہارا دیتے ہیں۔
جیسا کہ سعودی خبر رساں ادارے ایس پی اے نے بیان کیا، ماحولیات، پانی اور زراعت کے وزیر عبدالرحمٰن الفضلی نے اتوار کے روز اس نمائش کا افتتاح کیا۔ نمائش میں حکومتی ادارے، نجی شعبے کے نمائندے، سرمایہ کار اور صنعت کے ماہرین ایک ساتھ موجود ہیں۔ اس میں 45 ممالک کی 400 سے زائد کمپنیاں اور نمائش کنندگان بھی شرکت کر رہے ہیں۔
کیا یہ اعداد و شمار خود بتاتے ہیں کہ سعودی پولٹری مارکیٹ کس رفتار سے عالمی توجہ حاصل کر رہی ہے؟ افتتاحی تقریب میں وزیر موصوف نے معاہدوں پر دستخط کی رسم کی نگرانی کی۔ ان معاہدوں کا دائرہ پولٹری شعبے کی ترقی سے لے کر پیداواری کارکردگی، سپلائی چینز اور سرمایہ کاری شراکت داریوں تک پھیلا ہوا ہے۔
وزیر نے نمائش کے پویلینز کے دورے کے دوران پولٹری فارمنگ اور پیداوار، فیڈ مینوفیکچرنگ، جانوروں کی صحت، پروسیسنگ اور پیکجنگ میں استعمال ہونے والی جدید ترین ٹیکنالوجیز اور حل کا جائزہ لیا۔ انہیں ان حلول کے کردار کے بارے میں بریفنگ دی گئی کہ یہ مصنوعات کے معیار اور کارکردگی کو کس طرح بہتر بناتے ہیں۔
کیا جدید ٹیکنالوجی کے بغیر پولٹری شعبے میں خود کفالت ممکن ہے؟ ماحولیات، پانی اور زراعت کی وزارت اس نمائش میں اپنی شرکت کے ذریعے پولٹری شعبے کی ترقی، پروڈیوسرز اور سرمایہ کاروں کو بااختیار بنانے اور جدید ٹیکنالوجیز اور پائیدار طریقوں کو اپنانے کی حوصلہ افزائی کے لیے اپنے اہم اقدامات پیش کر رہی ہے۔ وزارت اس شعبے کی ترقی میں معاون خدمات اور پروگراموں کو بھی اجاگر کر رہی ہے۔
یہ نمائش ایک بین الاقوامی پلیٹ فارم کے طور پر کام کرتی ہے جو سرمایہ کاروں، پروڈیوسرز، سپلائرز، صنعت کے ماہرین اور عالمی کمپنیوں کو ایک چھت کے نیچے جمع کرتی ہے۔ یہ انہیں سعودی اور علاقائی منڈیوں سے جوڑتی ہے اور شرکا کو پولٹری شعبے کی پیش رفت اور ضروریات کا اندازہ لگانے، سرمایہ کاری اور تجارتی مواقع تلاش کرنے اور شراکت داریاں قائم کرنے کا موقع فراہم کرتی ہے۔
کیا علاقائی اور عالمی کمپنیوں کا یہ اجتماع سعودی پولٹری مصنوعات کی برآمدات کے نئے دروازے کھول سکتا ہے؟ نمائش کا انعقاد ریاض کے بین الاقوامی کنونشن اینڈ ایگزیبیشن سینٹر میں ہوا، جو دارالحکومت میں بڑے تجارتی اور صنعتی اجتماعات کا مرکز رہا ہے۔ پانچواں ایڈیشن ہونے کے ناطے یہ تقریب گزشتہ برسوں کے تسلسل کو آگے بڑھاتی ہے۔
وزیر کی موجودگی میں دستخط ہونے والے 27 معاہدوں کی مالیت 2.574 بلین ریال سے زیادہ بتائی گئی۔ یہ رقم پولٹری شعبے میں سرمایہ کاری کے حجم اور نجی شعبے کی دلچسپی کا اشارہ دیتی ہے۔ معاہدوں کے اہداف میں پیداواری کارکردگی میں بہتری اور سپلائی چینز کی مضبوطی شامل ہے، جو غذائی تحفظ کے قومی مقصد سے جڑتے ہیں۔
کیا سپلائی چینز کی مضبوطی کے بغیر غذائی تحفظ کا ہدف حاصل ہو سکتا ہے؟ وزارت کی شرکت صرف نمائش تک محدود نہیں بلکہ اس کے پروگراموں اور خدمات کی نمائش بھی شامل ہے جو پولٹری شعبے کی ترقی میں معاون ہیں۔ اس سے پروڈیوسرز اور سرمایہ کاروں کو بااختیار بنانے اور جدید طریقوں کو اپنانے کی ترغیب دی جا رہی ہے۔
45 ممالک کی 400 سے زائد کمپنیوں کی شرکت اس بات کی عکاسی کرتی ہے کہ سعودی پولٹری شعبہ بین الاقوامی سطح پر کس قدر توجہ کا مرکز ہے۔ غیر ملکی کمپنیوں کی موجودگی مقامی مارکیٹ کو عالمی ٹیکنالوجی اور تجربے سے جوڑتی ہے۔ شرکا کے لیے یہ موقع سرمایہ کاری اور تجارتی مواقع کے ساتھ شراکت داریوں کی تشکیل کا بھی ہے۔
کیا بین الاقوامی کمپنیوں کی یہ دلچسپی مقامی پروڈیوسرز کے لیے مسابقت بڑھائے گی یا تعاون کے نئے راستے کھولے گی؟ نمائش کے پویلینز میں فیڈ مینوفیکچرنگ، جانوروں کی صحت، پروسیسنگ اور پیکجنگ جیسے شعبوں کی ٹیکنالوجیز نمایاں رہیں۔ وزیر نے ان حلول کے معیار اور کارکردگی پر اثرات کے بارے میں بریفنگ حاصل کی۔
یہ نمائش ایک بین الاقوامی پلیٹ فارم ہے جو سرمایہ کاروں، پروڈیوسرز، سپلائرز، صنعت کے ماہرین اور عالمی کمپنیوں کو ایک جگہ جمع کرتا ہے۔ اس کا مقصد انہیں سعودی اور علاقائی منڈیوں سے جوڑنا ہے۔ شرکا پولٹری شعبے کی پیش رفت اور ضروریات کا اندازہ لگا سکتے ہیں اور سرمایہ کاری و تجارتی مواقع تلاش کر سکتے ہیں۔
کیا اس طرح کے پلیٹ فارم طویل مدتی شراکت داریوں کی بنیاد بن سکتے ہیں؟ وزارت ماحولیات، پانی اور زراعت اپنی شرکت کے ذریعے پولٹری شعبے کی ترقی کے لیے اپنے اہم اقدامات پیش کر رہی ہے۔ ان اقدامات کا رخ پروڈیوسرز اور سرمایہ کاروں کو بااختیار بنانا اور جدید ٹیکنالوجیز و پائیدار طریقوں کو اپنانا ہے۔ وزارت ایسی خدمات اور پروگرام بھی اجاگر کر رہی ہے جو شعبے کی ترقی میں معاون ہیں۔
افتتاحی تقریب میں وزیر نے معاہدوں پر دستخط کی نگرانی کے ساتھ نمائش کے پویلینز کا دورہ بھی کیا۔ انہیں پولٹری فارمنگ اور پیداوار، فیڈ مینوفیکچرنگ، جانوروں کی صحت، پروسیسنگ اور پیکجنگ کے جدید حل پیش کیے گئے۔ ان حلول کے مصنوعات کے معیار اور کارکردگی پر اثرات پر بریفنگ دی گئی۔
کیا پیداواری کارکردگی میں بہتری کسانوں کی آمدنی پر بھی مثبت اثر ڈالے گی؟ نمائش کا انعقاد ریاض کے بین الاقوامی کنونشن اینڈ ایگزیبیشن سینٹر میں ہوا اور اس کا افتتاح اتوار کے روز ہوا۔ ایس پی اے کے مطابق یہ پانچواں ایڈیشن ہے، جس میں حکومتی ادارے، نجی شعبے کے نمائندے، سرمایہ کار اور صنعت کے ماہرین شریک ہیں۔
27 معاہدوں کی مالیت 2.574 بلین ریال سے زیادہ ہے اور ان کا مقصد پولٹری شعبے کی ترقی، پیداواری کارکردگی میں بہتری، سپلائی چینز کی مضبوطی اور سرمایہ کاری شراکت داریوں کی توسیع ہے۔ یہ سب غذائی تحفظ کے سعودی ہدف کو سہارا دیتے ہیں۔
کیا غذائی تحفظ کے لیے پولٹری شعبے کی خود کفالت ایک کلیدی ستون ہے؟ نمائش میں 45 ممالک کی 400 سے زائد کمپنیاں اور نمائش کنندگان شرکت کر رہے ہیں۔ یہ شرکت اس تقریب کو علاقائی اور بین الاقوامی سطح پر ایک اہم اجتماع بناتی ہے۔ شرکا کے لیے یہ موقع ہے کہ وہ سعودی اور علاقائی منڈیوں کی ضروریات کو سمجھیں۔
وزارت کی جانب سے پولٹری شعبے کی ترقی کے لیے اپنے اہم اقدامات کی نمائش کی جا رہی ہے۔ اس کے ساتھ پروڈیوسرز اور سرمایہ کاروں کو بااختیار بنانے اور جدید ٹیکنالوجیز و پائیدار طریقوں کو اپنانے کی حوصلہ افزائی بھی شامل ہے۔ وزارت ایسی خدمات اور پروگرام بھی پیش کر رہی ہے جو شعبے کی ترقی میں معاون ہیں۔
کیا پائیدار طریقوں کو اپنانا پولٹری شعبے کی طویل مدتی مسابقت کے لیے ناگزیر ہے؟ نمائش ایک بین الاقوامی پلیٹ فارم کے طور پر سرمایہ کاروں، پروڈیوسرز، سپلائرز، صنعت کے ماہرین اور عالمی کمپنیوں کو ایک چھت کے نیچے جمع کرتی ہے۔ یہ انہیں سعودی اور علاقائی منڈیوں سے جوڑتی ہے اور پولٹری شعبے کی پیش رفت و ضروریات کا اندازہ لگانے کا موقع دیتی ہے۔ شرکا سرمایہ کاری اور تجارتی مواقع تلاش کر سکتے ہیں اور شراکت داریاں قائم کر سکتے ہیں۔
ایس پی اے کی رپورٹ میں معاہدوں کی تفصیلی فہرست، ان کے فریقین، رقم کی تقسیم، نمائش کے دورانیے یا شرکا کی مکمل فہرست نہیں دی گئی۔ رپورٹ میں یہ بھی نہیں بتایا گیا کہ معاہدوں کے تحت کون سے منصوبے کب مکمل ہوں گے۔
پولٹری ایکسپو کا افتتاح کس نے کیا اور کہاں ہوا؟ ماحولیات، پانی اور زراعت کے وزیر عبدالرحمٰن الفضلی نے اتوار کے روز ریاض کے بین الاقوامی کنونشن اینڈ ایگزیبیشن سینٹر میں مشرق وسطیٰ پولٹری ایکسپو کے پانچویں ایڈیشن کا افتتاح کیا۔ ایس پی اے کے مطابق نمائش میں حکومتی ادارے، نجی شعبے کے نمائندے، سرمایہ کار اور صنعت کے ماہرین شریک ہیں۔
افتتاحی تقریب میں کتنے معاہدے ہوئے اور ان کی مالیت کیا تھی؟ وزیر نے افتتاحی تقریب میں 2.574 بلین ریال سے زائد مالیت کے 27 معاہدوں پر دستخط کی نگرانی کی۔ ان معاہدوں کا مقصد پولٹری شعبے کی ترقی، پیداواری کارکردگی میں بہتری، سپلائی چینز کی مضبوطی اور سرمایہ کاری شراکت داریوں کی توسیع ہے، جو غذائی تحفظ کو سہارا دیتے ہیں۔
نمائش میں کتنی کمپنیاں اور کتنے ممالک شریک ہیں؟ ایس پی اے کے مطابق نمائش میں 45 ممالک کی 400 سے زائد کمپنیاں اور نمائش کنندگان شرکت کر رہے ہیں۔ یہ شرکت اس تقریب کو علاقائی اور بین الاقوامی سطح پر ایک اہم اجتماع بناتی ہے اور شرکا کو سعودی و علاقائی منڈیوں سے جوڑنے کا موقع فراہم کرتی ہے۔
وزیر نے پویلینز کے دورے میں کیا دیکھا؟ وزیر نے پویلینز کے دورے کے دوران پولٹری فارمنگ اور پیداوار، فیڈ مینوفیکچرنگ، جانوروں کی صحت، پروسیسنگ اور پیکجنگ کی جدید ٹیکنالوجیز اور حل کا جائزہ لیا۔ انہیں بریفنگ دی گئی کہ یہ حل مصنوعات کے معیار اور کارکردگی کو کس طرح بہتر بناتے ہیں۔
وزارت اس نمائش میں کیا پیش کر رہی ہے؟ ماحولیات، پانی اور زراعت کی وزارت پولٹری شعبے کی ترقی، پروڈیوسرز اور سرمایہ کاروں کو بااختیار بنانے اور جدید ٹیکنالوجیز و پائیدار طریقوں کو اپنانے کی حوصلہ افزائی کے لیے اپنے اہم اقدامات پیش کر رہی ہے۔ وزارت ایسی خدمات اور پروگرام بھی اجاگر کر رہی ہے جو شعبے کی ترقی میں معاون ہیں۔
نمائش کا بین الاقوامی پلیٹ فارم ہونے کا کیا مطلب ہے؟ نمائش سرمایہ کاروں، پروڈیوسرز، سپلائرز، صنعت کے ماہرین اور عالمی کمپنیوں کو ایک چھت کے نیچے جمع کرتی ہے اور انہیں سعودی و علاقائی منڈیوں سے جوڑتی ہے۔ شرکا پولٹری شعبے کی پیش رفت و ضروریات کا اندازہ لگا سکتے ہیں، سرمایہ کاری و تجارتی مواقع تلاش کر سکتے ہیں اور شراکت داریاں قائم کر سکتے ہیں۔





