ریاض میں قائم یونیسکو چیئر ان ٹرانسلیٹنگ کلچرز نے اعلان کیا ہے کہ روٹلیج نے 11 اگست 2026 کو اس کی مرتب کردہ کتاب ”Translating Cultures in the Arab World: New Histories and Geographies“ شائع کر دی ہے۔ یہ چیئر کنگ فیصل سینٹر فار ریسرچ اینڈ اسلامک اسٹڈیز (KFCRIS) میں قائم ہے اور اسے لٹریچر، پبلشنگ اینڈ ٹرانسلیشن کمیشن کی معاونت حاصل ہے۔
جیسا کہ سعودی خبر رساں ادارے ایس پی اے نے 29 ستمبر 2026 کو بیان کیا، کتاب یہ جائزہ لیتی ہے کہ ”translating cultures“ کی تعریف وسیع معنوں میں اور عرب دنیا اور عربی زبان کے ساتھ اس کے تعلق کے حوالے سے کیسے کی جاتی ہے۔ اس جائزے کی بنیاد پر کتاب عرب دنیا کو ترجمے کی تاریخ اور عمل کے مرکزی مقام کے طور پر دوبارہ پیش کرتی ہے۔
یونیورسٹی آف گلاسگو میں فرنچ اینڈ کمپریٹو لٹریچر کے مارشل پروفیسر اور سینٹر فار کمپریٹو لٹریچر اینڈ ٹرانسلیشن کے ڈائریکٹر مائیکل سائروٹنسکی نے اس کتاب کو ”ٹرانسلیشن اسٹڈیز کے شعبے کی ایک بڑی ری میپنگ“ قرار دیا ہے۔ کیا یہی وہ پیمانہ ہے جس پر کسی بھی علمی تصنیف کی اہمیت جانچی جانی چاہیے؟
کتاب اس بنیاد پر عرب دنیا کی علمی روایت سے مکالمہ کرتی ہے تاکہ ترجمے کی تاریخ اور اس کی تحریکوں کو نئے سرے سے تصور کیا جا سکے۔ یونیورسٹی آف سالامانکا میں ٹرانسلیشن اسٹڈیز کی پروفیسر افریقہ ویدال کلارامونٹے کے مطابق اس کا نقطہ آغاز مشرق وسطیٰ اور عربی زبان ہے، جس سے مغربی مرکزیت اور اینگلو نارمیٹو تحقیقی زاویے سے آگے بڑھا جاتا ہے۔ کیا ترجمے کی تاریخ کو عربی زبان سے شروع کرنا اس شعبے کے بنیادی مفروضوں کو بدل سکتا ہے؟
کتاب کے مرتبین میں یونیسکو چیئر کی ڈائریکٹر ڈاکٹر منیرہ الغدیر شامل ہیں، جن کے ساتھ ٹی سی ایل کے ارکان یونیورسٹی آف کیمبرج میں فرنچ کے ڈریپرز پروفیسر چارلس فورسڈک اور ایم آئی ٹی میں اسوسی ایٹ ڈائریکٹر آف رائٹنگ، ریٹورک اینڈ پروفیشنل کمیونیکیشن ڈاکٹر اینڈریاس کراتسولس ہیں۔ کیا بین الاقوامی اداروں کے ساتھ یہ اشتراک سعودی علمی منصوبوں کو عالمی سطح پر مضبوط کرتا ہے؟
یہ کتاب سعودی اور بین الاقوامی محققین کو ایک جگہ جمع کرتی ہے تاکہ یونیسکو چیئر کے 2024 کے موضوع ”Rethinking Translating Cultures and Its Conceptual Framework“ کو آگے بڑھایا جا سکے۔ اس موضوع کا مقصد ترجمے کے تصور اور اس کے نظریاتی ڈھانچے پر دوبارہ غور کرنا ہے۔ کیا ترجمے کے تصور کو نئے سرے سے سوچے بغیر عرب دنیا کی علمی روایت کو منصفانہ طور پر پیش کیا جا سکتا ہے؟
کتاب کی اشاعت کا اعلان ستمبر 2026 میں ہوا جبکہ اشاعت کی تاریخ 11 اگست 2026 ہے۔ یہ تسلسل بتاتا ہے کہ علمی منصوبے طویل تیاری کے بعد منظر عام پر آتے ہیں۔ کیا اشاعت کے بعد اس کتاب کے علمی اثرات کا جائزہ لینے کے لیے کوئی باقاعدہ طریقہ کار موجود ہے؟
کتاب کا مرکزی استدلال یہ ہے کہ ترجمے کی تاریخ کو صرف مغربی زاویے سے نہ دیکھا جائے بلکہ مشرق وسطیٰ اور عربی زبان کو اس کی تشکیل میں بنیادی کردار دیا جائے۔ اس نقطہ نظر سے ترجمے کی روایتی جغرافیائی تقسیم پر سوال اٹھتا ہے۔ کیا ترجمے کی جغرافیہ کو از سر نو لکھنا ممکن ہے؟
یونیسکو چیئر ان ٹرانسلیٹنگ کلچرز کنگ فیصل سینٹر فار ریسرچ اینڈ اسلامک اسٹڈیز میں قائم ہے، اور اسے لٹریچر، پبلشنگ اینڈ ٹرانسلیشن کمیشن کی معاونت حاصل ہے۔ یہ ادارہ جاتی سہارا اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ سعودی عرب میں ترجمے اور ثقافت کے تعلق پر تحقیق کو باقاعدہ تعاون میسر ہے۔ کیا ادارہ جاتی معاونت طویل المدتی علمی منصوبوں کی ضمانت ہے؟
کتاب کا مکمل متن یہ دعویٰ کرتا ہے کہ یہ ایک زیادہ جامع نظریاتی نمونہ تشکیل دینے کی طرف پیش رفت کرتی ہے جو اکیسویں صدی کے تقاضوں سے ہم آہنگ ہو۔ اس نمونے کی تشکیل میں عرب دنیا کی علمی شراکت کو مرکزی حیثیت دی گئی ہے۔ کیا اکیسویں صدی کے ترجمے کے نظریے کو عرب دنیا کی شراکت کے بغیر مکمل تصور کیا جا سکتا ہے؟
اس کتاب کے ذریعے سعودی اور بین الاقوامی محققین کے درمیان علمی تبادلے کا ایک نمونہ سامنے آتا ہے، جس میں کیمبرج، ایم آئی ٹی اور گلاسگو جیسے اداروں کے اسکالرز شامل ہیں۔ اس اشتراک سے ترجمے کے شعبے میں تقابلی اور بین الثقافتی تحقیق کو فروغ ملنے کی توقع ہے۔ کیا اس طرح کے اشتراک سے عرب دنیا کی علمی آواز زیادہ بلند ہوتی ہے؟
روٹلیج کا نام اشاعت کے میدان میں بین الاقوامی سطح پر جانا جاتا ہے، اور اس نے یہ کتاب 11 اگست 2026 کو شائع کی۔ اشاعت کے اس فیصلے سے کتاب کو عالمی علمی حلقوں تک پہنچنے کا موقع ملتا ہے۔ کیا بین الاقوامی ناشر کے ذریعے اشاعت علمی اعتبار کا معیار ہے؟
کتاب کے عنوان میں ”نئی تاریخیں اور نئی جغرافیے“ شامل ہیں، جو اس بات کی طرف اشارہ کرتے ہیں کہ مصنفین ترجمے کی روایتی تاریخ نگاری اور جغرافیائی فریم ورک دونوں پر نظرثانی کر رہے ہیں۔ یہ دونوں پہلو ایک دوسرے سے جڑے ہوئے ہیں۔ کیا تاریخ اور جغرافیے کو الگ الگ دیکھا جا سکتا ہے؟
یونیسکو چیئر کا 2024 کا موضوع ”Rethinking Translating Cultures and Its Conceptual Framework“ اس کتاب کی فکری بنیاد فراہم کرتا ہے۔ اس موضوع کے تحت ترجمے کے تصوراتی ڈھانچے پر دوبارہ غور کیا جا رہا ہے۔ کیا تصوراتی ڈھانچے پر نظرثانی کے بغیر عملی ترجمہ بہتر ہو سکتا ہے؟
کتاب میں عرب دنیا کو ترجمے کی تاریخ اور عمل کا مرکزی مقام قرار دیا گیا ہے، جبکہ عربی زبان کو اس عمل کی بنیاد کے طور پر دیکھا گیا ہے۔ یہ زاویہ روایتی مغربی مرکزیت کے برعکس ہے۔ کیا عربی زبان کے بغیر ترجمے کی عالمی تاریخ مکمل ہو سکتی ہے؟
ڈاکٹر منیرہ الغدیر کی قیادت میں یہ منصوبہ یونیسکو چیئر کے دائرہ کار میں تیار ہوا، جس میں چارلس فورسڈک اور ڈاکٹر اینڈریاس کراتسولس بطور مرتبین شامل ہیں۔ یہ ٹیم سعودی اور بین الاقوامی اداروں کے درمیان پل کا کردار ادا کرتی ہے۔ کیا مرتبین کی ٹیم کی متنوع ترکیب کتاب کے نقطہ نظر کو وسیع کرتی ہے؟
پروفیسر افریقہ ویدال کلارامونٹے کے بیان کے مطابق کتاب مغربی مرکزیت اور اینگلو نارمیٹو تحقیقی زاویے سے آگے بڑھنے کی کوشش کرتی ہے، اور ترجمے کی تاریخ کو مشرق وسطیٰ اور عربی زبان سے شروع کرتی ہے۔ یہ بیان کتاب کے بنیادی مقصد کی وضاحت کرتا ہے۔ کیا تحقیقی زاویے کی تبدیلی نتائج کو بھی بدل دیتی ہے؟
مائیکل سائروٹنسکی نے کتاب کو ٹرانسلیشن اسٹڈیز کے شعبے کی ”بڑی ری میپنگ“ کہا ہے۔ یہ بیان کتاب کی علمی اہمیت کو اجاگر کرتا ہے۔ کیا کسی شعبے کی ری میپنگ کے لیے ایک ہی جلد کافی ہوتی ہے؟
کتاب کی اشاعت کا اعلان ریاض سے ہوا، جہاں یونیسکو چیئر کنگ فیصل سینٹر فار ریسرچ اینڈ اسلامک اسٹڈیز میں قائم ہے۔ یہ مقام سعودی عرب میں علمی تحقیق کے ادارہ جاتی مرکز کی نشاندہی کرتا ہے۔ کیا ریاض علمی ترجمے کے منصوبوں کا مرکز بنتا جا رہا ہے؟
اس کتاب میں سعودی اور بین الاقوامی محققین کو ایک ساتھ لایا گیا ہے، جس سے یونیسکو چیئر کے 2024 کے موضوع کو آگے بڑھانے میں مدد ملتی ہے۔ اس تعاون کا مقصد ترجمے کے تصوراتی فریم ورک پر دوبارہ غور کرنا ہے۔ کیا علمی تعاون کے بغیر نظریاتی پیش رفت ممکن ہے؟
رپورٹ میں کتاب کے صفحات کی تعداد، اس کی قیمت، یا اس کے ابواب کی تفصیلی فہرست نہیں دی گئی۔ اسی طرح یہ بھی نہیں بتایا گیا کہ کتاب کتنے زبانوں میں دستیاب ہوگی یا اس کا ترجمہ ہوگا۔ کیا علمی کتاب کی رسائی کے لیے یہ تفصیلات اہم نہیں ہیں؟
یونیسکو چیئر ان ٹرانسلیٹنگ کلچرز کا یہ منصوبہ ترجمے کے میدان میں عرب دنیا کی شراکت کو نمایاں کرتا ہے، اور اسے لٹریچر، پبلشنگ اینڈ ٹرانسلیشن کمیشن کی معاونت حاصل ہے۔ اس معاونت سے ثقافتی ترجمے کے موضوع کو ادارہ جاتی تقویت ملتی ہے۔ کیا ثقافتی ترجمہ آج کے عالمی ماحول میں زیادہ ضروری ہو گیا ہے؟
کتاب کا عنوان ”Translating Cultures in the Arab World: New Histories and Geographies“ ہے، اور یہ روٹلیج نے 11 اگست 2026 کو شائع کی۔ اس کے مرتبین میں ڈاکٹر منیرہ الغدیر، چارلس فورسڈک اور ڈاکٹر اینڈریاس کراتسولس شامل ہیں۔ کیا عنوان ہی کتاب کے علمی منصوبے کی مکمل تصویر پیش کرتا ہے؟
اس کتاب کے ذریعے ترجمے کے شعبے میں ایک زیادہ جامع نظریاتی نمونے کی طرف پیش رفت کا دعویٰ کیا گیا ہے جو اکیسویں صدی کے لیے موزوں ہو۔ اس دعوے کی جانچ آنے والے علمی جائزوں سے ہوگی۔ کیا نظریاتی دعووں کی تصدیق عملی تحقیق سے ہوتی ہے؟
رپورٹ کے مطابق کتاب عرب دنیا کو ترجمے کی تاریخ اور عمل کے مرکزی مقام کے طور پر دوبارہ پیش کرتی ہے، اور عربی زبان کو اس عمل کی بنیاد قرار دیتی ہے۔ یہ نقطہ نظر شعبے کے روایتی فریم ورک سے ہٹ کر ہے۔ کیا اس سے ترجمے کی تعلیم کے نصاب پر بھی اثر پڑے گا؟
یونیسکو چیئر کے 2024 کے موضوع کے تحت ترجمے کے تصور اور اس کے فریم ورک پر دوبارہ غور کیا جا رہا ہے، اور یہ کتاب اسی سلسلے کی کڑی ہے۔ اس تسلسل سے ظاہر ہوتا ہے کہ یہ ایک طویل المدتی علمی منصوبہ ہے۔ کیا طویل المدتی منصوبے ہی علمی میدان میں تبدیلی لا سکتے ہیں؟
کتاب میں سعودی اور بین الاقوامی محققین کی شراکت کو یکجا کیا گیا ہے، جس سے مختلف علمی روایات کا ملاپ ہوتا ہے۔ یہ ملاپ ترجمے کے شعبے میں تقابلی تحقیق کے لیے فائدہ مند ہو سکتا ہے۔ کیا مختلف علمی روایات کا ملاپ نئے سوالات پیدا کرتا ہے؟
رپورٹ میں یہ نہیں بتایا گیا کہ کتاب کا اجرا کہاں ہوا، کون سی تقریب منعقد ہوئی، یا اس پر کسی قسم کا تعارفی پروگرام ہوا۔ اس طرح کی تفصیلات کے بغیر کتاب کی رسائی کا اندازہ لگانا مشکل ہے۔ کیا اشاعتی خبروں میں اجرا کی تفصیل ضروری ہوتی ہے؟
یونیسکو چیئر ان ٹرانسلیٹنگ کلچرز کنگ فیصل سینٹر فار ریسرچ اینڈ اسلامک اسٹڈیز میں قائم ہے، اور اس کا یہ منصوبہ لٹریچر، پبلشنگ اینڈ ٹرانسلیشن کمیشن کی معاونت سے مکمل ہوا۔ یہ دونوں ادارے سعودی عرب میں علمی اور ثقافتی تحقیق کے میدان میں سرگرم ہیں۔ کیا اداروں کا تعاون علمی منصوبوں کی کوالٹی بلند کرتا ہے؟
کتاب کے مرتبین میں کیمبرج، ایم آئی ٹی اور یونیسکو چیئر سے وابستہ اسکالرز شامل ہیں، جبکہ اس کی تعریف گلاسگو اور سالامانکا کے پروفیسرز نے کی ہے۔ یہ بین الاقوامی پذیرائی کتاب کی علمی اہمیت کو ظاہر کرتی ہے۔ کیا بین الاقوامی پذیرائی مقامی علمی کام کی قدر بڑھاتی ہے؟
رپورٹ کے مطابق کتاب ترجمے کے شعبے میں مغربی مرکزیت اور اینگلو نارمیٹو زاویے سے آگے بڑھنے کی کوشش کرتی ہے، اور مشرق وسطیٰ اور عربی زبان کو نقطہ آغاز بناتی ہے۔ یہ نقطہ نظر شعبے میں تنوع کی طرف اشارہ کرتا ہے۔ کیا تنوع سے نظریاتی گہرائی بڑھتی ہے؟
اس کتاب کی اشاعت 11 اگست 2026 کو ہوئی اور اس کا اعلان 29 ستمبر 2026 کو سعودی خبر رساں ادارے ایس پی اے کے ذریعے سامنے آیا۔ اس وقفے سے ظاہر ہوتا ہے کہ علمی اشاعتوں کی خبر رساں اداروں تک رسائی میں وقت لگتا ہے۔ کیا علمی خبروں کی تشہیر کے لیے بہتر ذرائع کی ضرورت ہے؟
کتاب کا دعویٰ ہے کہ یہ اکیسویں صدی کے لیے ایک زیادہ جامع نظریاتی نمونہ تشکیل دینے کی طرف پیش رفت کرتی ہے، جس میں عرب دنیا کی علمی شراکت شامل ہے۔ اس نمونے کی عملی افادیت کا فیصلہ آنے والی تحقیق کرے گی۔ کیا نظریاتی نمونے کی کامیابی کا پیمانہ اس کا اطلاق ہے؟
رپورٹ میں کتاب کے ابواب، مصنفین کی مکمل فہرست، یا اس کے علمی مباحث کی تفصیل نہیں دی گئی۔ اسی طرح یہ بھی واضح نہیں کہ کتاب کس سلسلے کا حصہ ہے یا اس کے ساتھ کوئی ڈیٹا بیس منسلک ہے۔ کیا علمی کتاب کی مکمل تصویر کے لیے یہ تفصیلات ضروری نہیں؟
یونیسکو چیئر کا یہ منصوبہ سعودی عرب میں ترجمے اور ثقافت کے موضوع پر ادارہ جاتی تحقیق کی ایک مثال ہے، جسے قومی کمیشن کی معاونت حاصل ہے۔ اس سے ملک میں علمی اشاعت کے فروغ کا اشارہ ملتا ہے۔ کیا قومی معاونت علمی اشاعت کے معیار کو بہتر بناتی ہے؟
کتاب کا مرکزی نکتہ یہ ہے کہ ترجمے کی تاریخ کو عرب دنیا اور عربی زبان سے شروع کر کے دیکھا جائے، جس سے مغربی مرکزیت سے آگے بڑھا جا سکے۔ یہ نقطہ نظر شعبے میں جغرافیائی توازن کی کوشش ہے۔ کیا جغرافیائی توازن علمی انصاف کی طرف ایک قدم ہے؟
رپورٹ کے مطابق کتاب سعودی اور بین الاقوامی محققین کو یکجا کرتی ہے تاکہ یونیسکو چیئر کے 2024 کے موضوع کو آگے بڑھایا جا سکے۔ اس تعاون سے ترجمے کے تصوراتی فریم ورک پر نئے سرے سے غور کیا جا رہا ہے۔ کیا تصوراتی فریم ورک کی تبدیلی طویل عمل ہے؟
کتاب کی تعریف میں مائیکل سائروٹنسکی کا بیان شامل ہے جو اسے ٹرانسلیشن اسٹڈیز کی ”بڑی ری میپنگ“ کہتا ہے، جبکہ افریقہ ویدال کلارامونٹے کے مطابق یہ مغربی مرکزیت سے آگے بڑھنے کی کوشش کرتی ہے۔ یہ دونوں بیانات کتاب کے علمی مقام کو واضح کرتے ہیں۔ کیا ایک ہی کتاب پر دو مختلف علمی آوازیں اس کی گہرائی کو ظاہر کرتی ہیں؟
رپورٹ میں کتاب کی اشاعت کے سلسلے میں روٹلیج کے کردار کا ذکر ہے، مگر اس بات کی تفصیل نہیں کہ کتاب کس سیریز میں شائع ہوئی یا اس کی تقسیم کا نظام کیا ہے۔ اس کمی سے کتاب کی رسائی کا اندازہ لگانا مشکل ہو جاتا ہے۔ کیا اشاعتی خبروں میں تقسیم کی تفصیل اہم نہیں؟
یونیسکو چیئر ان ٹرانسلیٹنگ کلچرز کا یہ منصوبہ ریاض میں قائم کنگ فیصل سینٹر فار ریسرچ اینڈ اسلامک اسٹڈیز سے وابستہ ہے، اور اسے لٹریچر، پبلشنگ اینڈ ٹرانسلیشن کمیشن کی معاونت حاصل ہے۔ اس ادارہ جاتی وابستگی سے منصوبے کو تسلسل ملتا ہے۔ کیا ادارہ جاتی تسلسل علمی معیار کی ضمانت ہے؟
کتاب کا عنوان اور اس کا موضوع بتاتا ہے کہ یہ ترجمے کی نئی تاریخیں اور نئی جغرافیے پیش کرنے کی کوشش کرتی ہے، جس میں عرب دنیا مرکزی حیثیت رکھتی ہے۔ یہ نقطہ نظر شعبے کے روایتی بیانیے سے مختلف ہے۔ کیا روایتی بیانیے کو چیلنج کرنا علمی ترقی کی شرط ہے؟
رپورٹ کے مطابق کتاب 11 اگست 2026 کو شائع ہوئی اور اس کا اعلان ستمبر 2026 میں ہوا، جس میں یونیسکو چیئر، کنگ فیصل سینٹر اور لٹریچر، پبلشنگ اینڈ ٹرانسلیشن کمیشن کا کردار نمایاں ہے۔ ان اداروں کی شراکت سعودی علمی منظر نامے کی عکاسی کرتی ہے۔ کیا یہ شراکت بین الاقوامی سطح پر سعودی تحقیق کی نمائندگی کرتی ہے؟
رپورٹ میں کتاب کے علمی اثرات، اس کے استقبال، یا اس پر ہونے والے مباحث کا کوئی ذکر نہیں، اور نہ ہی اس کے ترجمے یا دوسری زبانوں میں اشاعت کی کوئی تفصیل دی گئی ہے۔ ان تفصیلات کے بغیر کتاب کے طویل المدتی اثرات کا اندازہ لگانا قبل از وقت ہوگا۔ کیا علمی کتاب کے اثرات کا جائزہ فوری طور پر ممکن ہے؟
کتاب کا نام اور ناشر کون ہے؟ کتاب کا نام ”Translating Cultures in the Arab World: New Histories and Geographies“ ہے اور اسے روٹلیج نے 11 اگست 2026 کو شائع کیا۔ یہ یونیسکو چیئر ان ٹرانسلیٹنگ کلچرز کی مرتب کردہ جلد ہے، جو کنگ فیصل سینٹر فار ریسرچ اینڈ اسلامک اسٹڈیز میں قائم ہے اور اسے لٹریچر، پبلشنگ اینڈ ٹرانسلیشن کمیشن کی معاونت حاصل ہے۔ اعلان 29 ستمبر 2026 کو سعودی خبر رساں ادارے ایس پی اے کے ذریعے سامنے آیا۔
کتاب کے مرتبین کون ہیں؟ کتاب کی مرتبین میں یونیسکو چیئر کی ڈائریکٹر ڈاکٹر منیرہ الغدیر شامل ہیں، جن کے ساتھ ٹی سی ایل کے ارکان یونیورسٹی آف کیمبرج میں فرنچ کے ڈریپرز پروفیسر چارلس فورسڈک اور ایم آئی ٹی میں اسوسی ایٹ ڈائریکٹر آف رائٹنگ، ریٹورک اینڈ پروفیشنل کمیونیکیشن ڈاکٹر اینڈریاس کراتسولس ہیں۔ رپورٹ کے مطابق یہ ٹیم سعودی اور بین الاقوامی محققین کو ایک جگہ جمع کرتی ہے۔
کتاب کا بنیادی علمی نقطہ نظر کیا ہے؟ کتاب ”translating cultures“ کی تعریف کا جائزہ لیتی ہے اور عرب دنیا کو ترجمے کی تاریخ اور عمل کے مرکزی مقام کے طور پر دوبارہ پیش کرتی ہے۔ یونیورسٹی آف سالامانکا کی پروفیسر افریقہ ویدال کلارامونٹے کے مطابق یہ ترجمے کی تاریخ کو مشرق وسطیٰ اور عربی زبان سے شروع کرتی ہے تاکہ مغربی مرکزیت اور اینگلو نارمیٹو زاویے سے آگے بڑھا جا سکے۔
کتاب کو کس نے سراہا اور کیسے؟ یونیورسٹی آف گلاسگو میں فرنچ اینڈ کمپریٹو لٹریچر کے مارشل پروفیسر اور سینٹر فار کمپریٹو لٹریچر اینڈ ٹرانسلیشن کے ڈائریکٹر مائیکل سائروٹنسکی نے اسے ٹرانسلیشن اسٹڈیز کے شعبے کی ”بڑی ری میپنگ“ قرار دیا۔ اس کے علاوہ یونیورسٹی آف سالامانکا کی پروفیسر افریقہ ویدال کلارامونٹے نے کہا کہ یہ ترجمے کی تاریخ کو مشرق وسطیٰ اور عربی زبان سے شروع کر کے مغربی مرکزیت سے آگے بڑھنے کی کوشش کرتی ہے۔
کتاب کس موضوع سے جڑی ہے؟ کتاب یونیسکو چیئر کے 2024 کے موضوع ”Rethinking Translating Cultures and Its Conceptual Framework“ کو آگے بڑھاتی ہے، جس کا مقصد ترجمے کے تصور اور اس کے نظریاتی ڈھانچے پر دوبارہ غور کرنا ہے۔ رپورٹ کے مطابق کتاب اکیسویں صدی کے لیے ایک زیادہ جامع نظریاتی نمونہ تشکیل دینے کی طرف پیش رفت کرتی ہے۔
رپورٹ میں کون سی تفصیلات نہیں دی گئیں؟ رپورٹ میں کتاب کے صفحات کی تعداد، قیمت، ابواب کی فہرست، اجرا کی تقریب، یا اس کے ترجمے اور تقسیم کے نظام کا ذکر نہیں۔ اسی طرح یہ بھی واضح نہیں کہ کتاب کس سلسلے کا حصہ ہے۔ ان تفصیلات کے بغیر کتاب کی رسائی اور طویل المدتی اثرات کا اندازہ لگانا مشکل ہے۔





