Wednesday, November 4, 2026
سعودی خبریں

سعودی عرب نے مسجد اقصیٰ پر اسرائیلی اشتعال انگیزی اور الحاق کے بیانات کی شدید مذمت کی

سعودی عرب نے مسجد اقصیٰ پر اسرائیلی اشتعال انگیزی اور الحاق کے بیانات کی شدید مذمت کی

ریاض میں سعودی وزارت خارجہ نے پیر کے روز مسجد اقصیٰ کے حوالے سے اسرائیلی قبضہ حکام اور انتہا پسند آباد کاروں کے مسلسل اشتعال انگیز اقدامات کی شدید مذمت کی ہے، جن میں قبضہ فورسز کی حفاظت میں مسجد کی حرمت اور اس کی مذہبی و تاریخی حیثیت کی خلاف ورزیاں شامل ہیں۔

جیسا کہ سعودی خبر رساں ادارے ایس پی اے نے 28 ستمبر 2026 کو بیان کیا، وزارت خارجہ نے ایک بیان میں بین الاقوامی قانون کی ان خلاف ورزیوں کو مسترد کیا اور کہا کہ یہ دنیا بھر کے مسلمانوں کے جذبات کو مشتعل کرتی ہیں۔

بیان میں الحاق سے متعلق اسرائیلی بیانات کا ذکر کرتے ہوئے وزارت خارجہ نے کہا کہ مملکت جنوبی لبنان کے علاقوں اور غزہ کی پٹی میں ‘پیلی لائن’ تک پھیلے علاقوں کے الحاق سے متعلق اسرائیلی بیانات کی مذمت کرتی ہے۔

وزارت نے اپنے بیان میں مزید کہا کہ سعودی عرب کسی بھی اسرائیلی توسیع پسندانہ کوشش کو مسترد کرتا ہے اور فلسطینی عوام کے اس حق پر زور دیتا ہے کہ وہ 1967 کی سرحدوں پر مشرقی بیت المقدس کو دارالحکومت بنا کر اپنی آزاد ریاست قائم کریں۔

یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب مسجد اقصیٰ کی حرمت اور اس کی مذہبی و تاریخی حیثیت کے حوالے سے خلاف ورزیوں کا سلسلہ جاری ہے، جن کا ذکر وزارت خارجہ نے اپنے بیان میں کیا۔ کیا مسجد اقصیٰ کی حرمت کی یہ خلاف ورزیاں بین الاقوامی برادری کی توجہ کا مرکز بن پائیں گی؟

وزارت خارجہ کے مطابق یہ اقدامات بین الاقوامی قانون کی خلاف ورزی ہیں اور یہ دنیا بھر کے مسلمانوں کے جذبات کو مشتعل کرتے ہیں۔ بیان میں اس پہلو پر زور دیا گیا کہ مملکت ان خلاف ورزیوں کو مسترد کرتی ہے۔ کیا بین الاقوامی قانون کی اس واضح خلاف ورزی پر عالمی سطح پر کوئی ٹھوس اقدام سامنے آئے گا؟

سعودی بیان میں اسرائیلی قبضہ حکام اور انتہا پسند آباد کاروں کے ان اقدامات کا ذکر کیا گیا جو قبضہ فورسز کی حفاظت میں مسجد اقصیٰ کے احاطے میں کیے گئے۔ وزارت خارجہ نے ان اقدامات کو مسلسل اشتعال انگیز practices قرار دیا۔ کیا قبضہ فورسز کی حفاظت میں کیے جانے والے یہ اقدامات مزید کشیدگی کا باعث بنیں گے؟

بیان کا ایک اہم حصہ اسرائیلی بیانات پر مرکوز تھا جن میں جنوبی لبنان کے علاقوں اور غزہ کی پٹی میں ‘پیلی لائن’ تک پھیلے علاقوں کے الحاق کا ذکر تھا۔ وزارت خارجہ نے ان بیانات کو واضح طور پر مسترد کیا اور انہیں اسرائیلی توسیع پسندانہ کوشش قرار دیا۔ کیا الحاق کے یہ بیانات خطے میں امن کے امکانات کو مزید کمزور کریں گے؟

وزارت خارجہ نے اپنے بیان میں فلسطینی عوام کے حق کا اعادہ کیا کہ وہ 1967 کی سرحدوں پر مشرقی بیت المقدس کو دارالحکومت بنا کر اپنی آزاد ریاست قائم کریں۔ یہ موقف سعودی عرب کی مستقل پالیسی کا حصہ ہے جس کا اظہار وزارت خارجہ کے اس بیان میں بھی کیا گیا۔ کیا فلسطینی عوام کے اس حق کے حوالے سے بین الاقوامی اتفاق رائے کو تقویت ملے گی؟

سعودی خبر رساں ادارے ایس پی اے کے مطابق یہ بیان ریاض سے پیر کے روز جاری کیا گیا۔ بیان میں مسجد اقصیٰ کی حرمت، اس کی مذہبی حیثیت اور اس کی تاریخی حیثیت کی خلاف ورزیوں کا ذکر کیا گیا، اور ان سب کو بین الاقوامی قانون کی خلاف ورزی قرار دیا گیا۔ کیا مسجد اقصیٰ کی تاریخی اور مذہبی حیثیت کے تحفظ کے لیے کوئی عملی ضمانتیں دی جائیں گی؟

وزارت خارجہ نے اپنے بیان میں دنیا بھر کے مسلمانوں کے جذبات کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ یہ خلاف ورزیاں ان کے جذبات کو مشتعل کرتی ہیں۔ یہ اشارہ اس وسیع تشویش کی طرف ہے جو مسجد اقصیٰ کے حوالے سے مسلم دنیا میں پائی جاتی ہے۔ کیا مسلم ممالک کی مشترکہ آواز اس معاملے پر مزید بلند ہوگی؟

بیان میں اسرائیلی توسیع پسندانہ کوششوں کو مسترد کرنے کا واضح پیغام دیا گیا۔ وزارت خارجہ کے مطابق مملکت کسی بھی ایسی کوشش کو قبول نہیں کرتی جو فلسطینی علاقوں یا جنوبی لبنان کے علاقوں کے الحاق کی طرف لے جائے۔ کیا توسیع پسندانہ بیانات کے خلاف کوئی مربوط سفارتی محاذ تشکیل پا سکے گا؟

سعودی عرب کا یہ بیان ایسے وقت میں آیا ہے جب مسجد اقصیٰ کے حوالے سے خلاف ورزیوں کی اطلاعات سامنے آ رہی ہیں اور الحاق سے متعلق بیانات بھی زیر بحث ہیں۔ وزارت خارجہ نے ان دونوں پہلوؤں کو اپنے بیان میں یکجا طور پر اجاگر کیا۔ کیا ان مسائل کو ایک ہی فریم ورک میں دیکھا جانا چاہیے؟

وزارت خارجہ نے اپنے بیان میں بین الاقوامی قانون کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ یہ خلاف ورزیاں اس قانون کے منافی ہیں۔ یہ موقف اس اصول پر مبنی ہے کہ یکطرفہ اقدامات اور زبردستی کی تبدیلیاں قبول نہیں کی جا سکتیں۔ کیا بین الاقوامی ادارے ان خلاف ورزیوں کے حوالے سے اپنا کردار ادا کریں گے؟

بیان میں فلسطینی عوام کے حق خودارادیت کا ذکر 1967 کی سرحدوں اور مشرقی بیت المقدس کے دارالحکومت کے تناظر میں کیا گیا۔ یہ وہی موقف ہے جو سعودی عرب نے بین الاقوامی فورمز پر بار بار دہرایا ہے۔ کیا اس موقف کو عملی شکل دینے کے لیے کوئی نیا اقدام اٹھایا جائے گا؟

سعودی خبر رساں ادارے ایس پی اے کے مطابق وزارت خارجہ کے بیان میں مسجد اقصیٰ کی حرمت کی خلاف ورزیوں کو قبضہ فورسز کی حفاظت میں کیے جانے والے اقدامات کے طور پر بیان کیا گیا۔ بیان میں انتہا پسند آباد کاروں کا بھی ذکر کیا گیا۔ کیا ان اقدامات کے ذمہ داروں کے خلاف کوئی کارروائی عمل میں آئے گی؟

وزارت خارجہ نے اپنے بیان میں کہا کہ مملکت ان خلاف ورزیوں کو مسترد کرتی ہے اور بین الاقوامی قانون کی پاسداری پر زور دیتی ہے۔ یہ بیان سعودی عرب کی خارجہ پالیسی کے تسلسل کو ظاہر کرتا ہے۔ کیا اس بیان کے بعد سفارتی سطح پر کوئی مزید قدم اٹھایا جائے گا؟

بیان میں جنوبی لبنان کے علاقوں کے الحاق کے حوالے سے اسرائیلی بیانات کا ذکر بھی شامل تھا، جسے وزارت خارجہ نے مسترد کیا۔ اس کے ساتھ غزہ کی پٹی میں ‘پیلی لائن’ تک پھیلے علاقوں کا ذکر بھی کیا گیا۔ کیا ان علاقوں کی حیثیت کے حوالے سے کوئی بین الاقوامی وضاحت سامنے آئے گی؟

سعودی عرب نے اپنے بیان میں فلسطینی عوام کے حق کی حمایت کا اعادہ کیا اور مشرقی بیت المقدس کو دارالحکومت قرار دینے کے موقف کو دہرایا۔ وزارت خارجہ کے مطابق یہ حق 1967 کی سرحدوں کے تناظر میں ہے۔ کیا اس موقف کو عرب اور اسلامی ممالک کی مکمل حمایت حاصل رہے گی؟

وزارت خارجہ کے بیان میں دنیا بھر کے مسلمانوں کے جذبات کو مشتعل کرنے والے عوامل کا ذکر کیا گیا، جن میں مسجد اقصیٰ کی حرمت اور اس کی مذہبی و تاریخی حیثیت کی خلاف ورزیاں شامل ہیں۔ یہ بیان مسلم دنیا کی مشترکہ تشویش کی عکاسی کرتا ہے۔ کیا اس تشویش کو ایک متحد سیاسی موقف میں ڈھالا جا سکے گا؟

سعودی خبر رساں ادارے ایس پی اے کے مطابق یہ بیان پیر کے روز جاری ہوا اور اس میں مملکت کے واضح موقف کا اظہار کیا گیا۔ بیان میں نہ صرف مسجد اقصیٰ کے حوالے سے خلاف ورزیوں بلکہ الحاق کے بیانات کی بھی مذمت شامل تھی۔ کیا اس بیان کے بعد خطے میں کشیدگی میں کمی کا کوئی امکان ہے؟

وزارت خارجہ نے اپنے بیان میں اسرائیلی توسیع پسندانہ کوششوں کے مسترد ہونے کا اعادہ کیا اور فلسطینی عوام کے حق خودارادیت پر زور دیا۔ یہ بیان سعودی عرب کے مستقل موقف کا تسلسل ہے۔ کیا بین الاقوامی برادری اس موقف کے ساتھ کھڑی ہوگی؟

رپورٹ میں اس بات کا ذکر نہیں کیا گیا کہ ان خلاف ورزیوں کے حوالے سے کوئی مخصوص وقت یا تاریخ دی گئی ہو، نہ ہی کسی مخصوص کارروائی کا اعلان کیا گیا۔ بیان میں صرف وزارت خارجہ کے موقف کا اظہار کیا گیا۔ کیا اس بیان کے بعد کوئی اضافی تفصیل سامنے آئے گی؟

سعودی عرب کا یہ بیان مسجد اقصیٰ اور فلسطینی مسئلے کے حوالے سے مملکت کی مستقل پالیسی کی عکاسی کرتا ہے، جس میں بین الاقوامی قانون کی پاسداری اور فلسطینی عوام کے حقوق کی حمایت شامل ہے۔ وزارت خارجہ نے ان پہلوؤں کو اپنے بیان میں واضح کیا۔ کیا اس پالیسی کو مزید تقویت دینے کے لیے کوئی نیا سفارتی اقدام سامنے آئے گا؟

سعودی وزارت خارجہ نے کس واقعے کی مذمت کی ہے؟ وزارت خارجہ نے مسجد اقصیٰ کے حوالے سے اسرائیلی قبضہ حکام اور انتہا پسند آباد کاروں کے مسلسل اشتعال انگیز اقدامات کی شدید مذمت کی، جن میں قبضہ فورسز کی حفاظت میں مسجد کی حرمت اور اس کی مذہبی و تاریخی حیثیت کی خلاف ورزیاں شامل ہیں۔ بیان میں کہا گیا کہ یہ بین الاقوامی قانون کی خلاف ورزیاں ہیں جو دنیا بھر کے مسلمانوں کے جذبات کو مشتعل کرتی ہیں۔

الحاق کے حوالے سے سعودی موقف کیا ہے؟ وزارت خارجہ نے جنوبی لبنان کے علاقوں اور غزہ کی پٹی میں ‘پیلی لائن’ تک پھیلے علاقوں کے الحاق سے متعلق اسرائیلی بیانات کی مذمت کی۔ بیان میں کہا گیا کہ مملکت کسی بھی اسرائیلی توسیع پسندانہ کوشش کو مسترد کرتا ہے اور فلسطینی عوام کے حق کا اعادہ کرتا ہے کہ وہ 1967 کی سرحدوں پر مشرقی بیت المقدس کو دارالحکومت بنا کر اپنی آزاد ریاست قائم کریں۔

یہ بیان کب اور کہاں جاری کیا گیا؟ سعودی خبر رساں ادارے ایس پی اے کے مطابق یہ بیان ریاض سے پیر کے روز جاری کیا گیا۔ بیان میں مسجد اقصیٰ کی حرمت، اس کی مذہبی حیثیت اور تاریخی حیثیت کی خلاف ورزیوں کا ذکر کیا گیا اور انہیں بین الاقوامی قانون کی خلاف ورزی قرار دیا گیا۔ رپورٹ میں مزید کسی کارروائی یا شیڈول کا ذکر نہیں کیا گیا۔

بیان میں فلسطینی عوام کے حق کا ذکر کیسے کیا گیا؟ وزارت خارجہ نے اپنے بیان میں فلسطینی عوام کے حق کا اعادہ کیا کہ وہ 1967 کی سرحدوں پر مشرقی بیت المقدس کو دارالحکومت بنا کر اپنی آزاد ریاست قائم کریں۔ بیان میں اسرائیلی توسیع پسندانہ کوششوں کو مسترد کیا گیا۔ یہ موقف سعودی عرب کی مستقل پالیسی کا حصہ ہے جو بین الاقوامی فورمز پر دہرایا جاتا رہا ہے۔