نیویارک میں اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے 81ویں اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے سعودی عرب کے وزیر خارجہ شہزادہ فیصل بن فرحان بن عبداللہ نے ہفتے کے روز مملکت کا موقف پیش کیا۔ یہ خطاب ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب عالمی سطح پر کثیرالجہتی نظام کو تیز اور بے مثال چیلنجز کا سامنا ہے، اور بہت سے خطوں میں بحران اور تنازعات برقرار ہیں۔ کیا عالمی برادری اقوام متحدہ کے چارٹر کے اصولوں پر عمل درآمد کے لیے واقعی تیار ہے؟
جیسا کہ سعودی خبر رساں ادارے ایس پی اے نے 27 ستمبر 2026 کو بیان کیا، وزیر خارجہ نے اجلاس کے آغاز میں جنرل اسمبلی کے 81ویں اجلاس کے صدر منتخب ہونے پر خلیل الرحمان کو مبارکباد دی اور اس اجلاس کی رہنمائی میں کامیابی کی خواہش ظاہر کی۔ انہوں نے 80ویں اجلاس کی صدر اینالینا بیربوک کی کوششوں پر بھی شکریہ ادا کیا۔
وزیر خارجہ نے اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل انتونیو گوتریس کے مسلسل کردار کو بھی سراہا اور اقوام متحدہ کے مقاصد کی خدمت کے لیے ان کی کوششوں پر گہرا شکریہ اور قدردانی کا اظہار کیا۔ کیا بین الاقوامی اداروں کی اصلاح کے بغیر دنیا کے موجودہ بحرانوں کا حل ممکن ہے؟
خطاب میں وزیر خارجہ نے کہا کہ یہ اجلاس ایسے وقت میں منعقد ہو رہا ہے جب دنیا اور کثیرالجہتی نظام تیز اور بے مثال چیلنجز کا سامنا کر رہے ہیں۔ انہوں نے زور دیا کہ جب دنیا کے کئی حصوں میں بحران اور تنازعات جاری ہیں تو اقوام متحدہ کے چارٹر کے اصولوں کی پاسداری، بین الاقوامی قانون کا احترام، اور امن و سلامتی کے قیام اور پائیدار ترقی کے حصول میں بین الاقوامی اداروں کی تاثیر کو مضبوط بنانے کی ضرورت بڑھتی جا رہی ہے۔
انہوں نے کہا کہ بحران وسائل یا مواقع کی کمی سے کم اور بین الاقوامی برادری کے متفقہ اصولوں سے وابستگی کی کمی سے زیادہ پیدا ہوتے ہیں۔ یہ بات سعودی عرب کے اس موقف کی عکاسی کرتی ہے کہ عالمی مسائل کا حل مشترکہ عزم اور بین الاقوامی قانون کی پاسداری میں مضمر ہے۔ کیا وسائل کی فراوانی کے باوجود اصولوں سے انحراف عالمی بحرانوں کی اصل وجہ نہیں؟
وزیر خارجہ نے واضح کیا کہ سعودی عرب اور خطے کے ممالک کو ایران کے کھلے حملوں کا نشانہ بنایا گیا ہے، جن کا رخ ان کی سلامتی کے وسائل، قومی اثاثوں اور شہری و اقتصادی تنصیبات پر تھا۔ انہوں نے کہا کہ سعودی عرب اپنی سلامتی، خودمختاری، شہریوں، رہائشیوں اور قومی اثاثوں کے تحفظ کے اپنے مکمل حق کا اعادہ کرتا ہے اور بین الاقوامی برادری سے مطالبہ کرتا ہے کہ وہ اس سلسلے میں اپنی ذمہ داری ادا کرے۔ کیا بین الاقوامی برادری خودمختاری کے تحفظ کے لیے اپنی ذمہ داریاں پوری کر رہی ہے؟
یہ خطاب سعودی عرب کی خارجہ پالیسی کے تسلسل کا حصہ ہے، جس میں مملکت ہمیشہ سے بین الاقوامی قانون اور اقوام متحدہ کے چارٹر کے اصولوں کی پاسداری پر زور دیتی آئی ہے۔ خطے میں سلامتی کے چیلنجز کے تناظر میں سعودی عرب کا موقف یہ رہا ہے کہ خودمختاری اور قومی اثاثوں کا تحفظ ہر ریاست کا بنیادی حق ہے اور اس پر کوئی سمجھوتہ نہیں کیا جا سکتا۔
اجلاس کے شرکاء میں جنرل اسمبلی کے صدر، اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل اور مختلف ممالک کے مندوبین شامل تھے۔ وزیر خارجہ نے اپنے خطاب میں عالمی نظام کے ادارہ جاتی پہلوؤں پر بھی روشنی ڈالی اور بین الاقوامی اداروں کی تاثیر بڑھانے کی ضرورت پر زور دیا۔ کیا کثیرالجہتی نظام موجودہ عالمی چیلنجز کا سامنا کرنے کے قابل ہے؟
سعودی عرب کی جانب سے اقوام متحدہ کے پلیٹ فارم سے یہ موقف پیش کرنا اس بات کا غماز ہے کہ مملکت عالمی سطح پر امن و سلامتی اور پائیدار ترقی کے اہداف کے حصول کے لیے کوشاں ہے۔ وزیر خارجہ نے اپنے خطاب میں اس امر پر زور دیا کہ بین الاقوامی برادری کو مشترکہ اصولوں پر عمل درآمد کے لیے اپنے عزم کا اعادہ کرنا ہوگا۔
خطاب میں ایران کے حملوں کا ذکر ایک اہم نکتہ ہے، جس میں وزیر خارجہ نے کہا کہ ان حملوں کا نشانہ سلامتی کے وسائل، قومی اثاثے اور شہری و اقتصادی تنصیبات تھیں۔ انہوں نے سعودی عرب کے حق خودمختاری کے تحفظ کا اعادہ کرتے ہوئے بین الاقوامی برادری سے مطالبہ کیا کہ وہ اس معاملے پر اپنی ذمہ داریوں کا ادراک کرے۔ کیا خطے میں سلامتی کے قیام کے لیے اجتماعی اقدامات کی ضرورت نہیں؟
اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کا 81واں اجلاس نیویارک میں منعقد ہو رہا ہے، جہاں دنیا بھر کے رہنما اپنے موقف پیش کر رہے ہیں۔ سعودی عرب کی شرکت اس عزم کا اظہار ہے کہ مملکت عالمی مسائل کے حل میں فعال کردار ادا کرتی رہے گی۔ وزیر خارجہ نے اپنے خطاب کے آغاز میں اللہ کے نام سے آغاز کیا اور شرکاء کو سلام پیش کیا۔
خطاب کے متن میں وزیر خارجہ نے جنرل اسمبلی کے صدر اور سیکرٹری جنرل کا ذکر کرتے ہوئے ان کے کردار کو تسلیم کیا۔ انہوں نے 80ویں اجلاس کی صدر کی کوششوں پر شکریہ ادا کیا، جو اس بات کی عکاسی کرتی ہے کہ سعودی عرب بین الاقوامی اداروں کے تسلسل اور ان کی قیادت کا احترام کرتا ہے۔ کیا بین الاقوامی اداروں کی قیادت میں تسلسل عالمی تعاون کو مضبوط بناتا ہے؟
وزیر خارجہ نے اس بات پر زور دیا کہ بحران وسائل کی کمی کا نتیجہ نہیں بلکہ بین الاقوامی برادری کے متفقہ اصولوں سے وابستگی کی کمی کا نتیجہ ہیں۔ یہ نقطہ نظر سعودی عرب کی اس پالیسی کی عکاسی کرتا ہے کہ عالمی مسائل کا حل مشترکہ عزم اور بین الاقوامی قانون کی پاسداری میں ہے۔
سعودی عرب کا موقف یہ رہا ہے کہ اقوام متحدہ کے چارٹر کے اصولوں کی پاسداری اور بین الاقوامی قانون کا احترام عالمی امن و سلامتی کی بنیاد ہے۔ وزیر خارجہ نے اپنے خطاب میں ان اصولوں کی اہمیت کو اجاگر کیا اور بین الاقوامی اداروں کی تاثیر بڑھانے کی ضرورت پر زور دیا۔ کیا بین الاقوامی قانون کی پاسداری کے بغیر پائیدار امن ممکن ہے؟
خطے کے ممالک کو درپیش چیلنجز کے تناظر میں سعودی عرب کا موقف یہ ہے کہ خودمختاری اور سلامتی کا تحفظ اولین ترجیح ہے۔ وزیر خارجہ نے ایران کے حملوں کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ ان حملوں کا رخ سلامتی کے وسائل، قومی اثاثوں اور شہری و اقتصادی تنصیبات پر تھا، اور سعودی عرب اپنے تحفظ کے حق کا اعادہ کرتا ہے۔
اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے 81ویں اجلاس میں سعودی عرب کی شرکت اس بات کا مظاہرہ ہے کہ مملکت عالمی سطح پر مکالمے اور تعاون کے ذریعے مسائل کے حل کی حامی ہے۔ وزیر خارجہ نے اپنے خطاب میں بین الاقوامی برادری سے مطالبہ کیا کہ وہ مشترکہ اصولوں پر عمل درآمد کے لیے اپنی ذمہ داریاں ادا کرے۔ کیا عالمی مکالمے کے بغیر تنازعات کا حل تلاش کیا جا سکتا ہے؟
وزیر خارجہ کے خطاب میں پائیدار ترقی کے حصول کا ذکر بھی شامل تھا، جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ سعودی عرب امن و سلامتی کے ساتھ ساتھ ترقی کے اہداف کو بھی اہمیت دیتا ہے۔ بین الاقوامی اداروں کی تاثیر کو مضبوط بنانا ان اہداف کے حصول کے لیے ضروری قرار دیا گیا۔
سعودی عرب کی خارجہ پالیسی میں اقوام متحدہ کے پلیٹ فارم کا استعمال ہمیشہ سے اہم رہا ہے، جہاں مملکت اپنے موقف کو عالمی سطح پر پیش کرتی ہے۔ وزیر خارجہ کی یہ تقریر اسی روایت کا تسلسل ہے، جس میں مملکت نے بین الاقوامی قانون اور اقوام متحدہ کے چارٹر کے اصولوں کی پاسداری پر زور دیا۔
خطاب میں وزیر خارجہ نے جنرل اسمبلی کے صدر خلیل الرحمان کو مبارکباد دی اور 80ویں اجلاس کی صدر اینالینا بیربوک کی کوششوں پر شکریہ ادا کیا۔ انہوں نے سیکرٹری جنرل انتونیو گوتریس کے کردار کو بھی سراہا، جو اقوام متحدہ کے مقاصد کی خدمت کے لیے ان کی کوششوں کا اعتراف ہے۔
وزیر خارجہ نے کہا کہ دنیا اور کثیرالجہتی نظام تیز اور بے مثال چیلنجز کا سامنا کر رہے ہیں، اور بحران و تنازعات کے تسلسل کے پیش نظر اقوام متحدہ کے چارٹر کے اصولوں کی پاسداری، بین الاقوامی قانون کے احترام اور بین الاقوامی اداروں کی تاثیر کو مضبوط بنانے کی ضرورت بڑھ رہی ہے۔
سعودی عرب اور خطے کے ممالک پر ایران کے حملوں کا ذکر کرتے ہوئے وزیر خارجہ نے کہا کہ یہ حملے سلامتی کے وسائل، قومی اثاثوں اور شہری و اقتصادی تنصیبات کو نشانہ بناتے رہے ہیں۔ انہوں نے سعودی عرب کے حق خودمختاری کے تحفظ کا اعادہ کیا اور بین الاقوامی برادری سے مطالبہ کیا کہ وہ اس معاملے پر اپنی ذمہ داری ادا کرے۔
رپورٹ میں خطاب کے مکمل متن کا کچھ حصہ شامل ہے، جبکہ کچھ حصہ مختصر کیا گیا ہے۔ ایس پی اے کے مطابق وزیر خارجہ نے ہفتے کے روز یہ خطاب پیش کیا، جس میں انہوں نے عالمی نظام کے چیلنجز، بین الاقوامی قانون کی پاسداری اور خطے کی سلامتی کے امور پر مملکت کا موقف واضح کیا۔
اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے 81ویں اجلاس میں سعودی عرب کی نمائندگی کس نے کی؟ سعودی خبر رساں ادارے ایس پی اے کے مطابق وزیر خارجہ شہزادہ فیصل بن فرحان بن عبداللہ نے نیویارک میں اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے 81ویں اجلاس میں مملکت کا خطاب پیش کیا۔ یہ خطاب ہفتے کے روز دیا گیا۔ خطاب کے متن میں وزیر خارجہ نے اجلاس کے شرکاء کو مخاطب کیا اور مملکت کا موقف واضح کیا۔
وزیر خارجہ نے اقوام متحدہ کے چارٹر کے بارے میں کیا کہا؟ وزیر خارجہ نے کہا کہ دنیا اور کثیرالجہتی نظام تیز اور بے مثال چیلنجز کا سامنا کر رہے ہیں، اور بحران و تنازعات کے تسلسل کے پیش نظر اقوام متحدہ کے چارٹر کے اصولوں کی پاسداری، بین الاقوامی قانون کے احترام اور بین الاقوامی اداروں کی تاثیر کو مضبوط بنانے کی ضرورت بڑھ رہی ہے۔ انہوں نے امن و سلامتی کے قیام اور پائیدار ترقی کے حصول کا بھی ذکر کیا۔
خطاب میں ایران کے حوالے سے کیا موقف پیش کیا گیا؟ وزیر خارجہ نے کہا کہ سعودی عرب اور خطے کے ممالک کو ایران کے کھلے حملوں کا نشانہ بنایا گیا، جن کا رخ سلامتی کے وسائل، قومی اثاثوں اور شہری و اقتصادی تنصیبات پر تھا۔ انہوں نے سعودی عرب کے حق خودمختاری، شہریوں، رہائشیوں اور قومی اثاثوں کے تحفظ کا اعادہ کیا اور بین الاقوامی برادری سے مطالبہ کیا کہ وہ اپنی ذمہ داری ادا کرے۔
وزیر خارجہ نے بحرانوں کی وجہ کیا بتائی؟ وزیر خارجہ نے کہا کہ بحران وسائل یا مواقع کی کمی سے کم اور بین الاقوامی برادری کے متفقہ اصولوں سے وابستگی کی کمی سے زیادہ پیدا ہوتے ہیں۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ بین الاقوامی برادری کو مشترکہ اصولوں پر عمل درآمد کے لیے اپنے عزم کا اعادہ کرنا ہوگا۔ یہ نقطہ نظر سعودی عرب کی خارجہ پالیسی کی عکاسی کرتا ہے۔
وزیر خارجہ نے جنرل اسمبلی کے عہدیداروں کا ذکر کیسے کیا؟ وزیر خارجہ نے جنرل اسمبلی کے 81ویں اجلاس کے صدر منتخب ہونے پر خلیل الرحمان کو مبارکباد دی اور اس اجلاس کی رہنمائی میں کامیابی کی خواہش ظاہر کی۔ انہوں نے 80ویں اجلاس کی صدر اینالینا بیربوک کی کوششوں پر شکریہ ادا کیا اور اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل انتونیو گوتریس کے مسلسل کردار کو بھی سراہا۔
یہ خطاب کب اور کہاں پیش کیا گیا؟ ایس پی اے کے مطابق یہ خطاب نیویارک میں اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے 81ویں اجلاس میں ہفتے کے روز پیش کیا گیا۔ رپورٹ کی تاریخ 27 ستمبر 2026 ہے۔ خطاب کے متن میں وزیر خارجہ نے اجلاس کے شرکاء کو مخاطب کیا اور مملکت کا موقف پیش کیا۔





