مکہ مکرمہ میں مسجد الحرام کے امام شیخ عبدالرحمن السدیس نے جمعۃ المبارک کے خطبے میں کہا ہے کہ سوشل میڈیا اور مصنوعی ذہانت اللہ کی نعمتیں ہیں جن پر شکر اور ذمہ دارانہ عمل لازم ہے، اور ان کے ساتھ جڑی اخلاقی جوابدہی کو نظر انداز نہیں کیا جا سکتا۔
جیسا کہ سعودی خبر رساں ادارے ایس پی اے نے 9 اکتوبر 2026 کو بیان کیا، خطبے میں شیخ السدیس نے مصنوعی ذہانت کے غلط استعمال کے خلاف خبردار کیا اور اس بات پر زور دیا کہ جو کچھ آن لائن شائع اور گردش کیا جاتا ہے اس میں احتیاط ضروری ہے۔
انہوں نے کہا کہ مصنوعی ذہانت کو جعل سازی، من گھڑت میڈیا کی تیاری، کسی اور کی شناخت کا استعمال، دھوکہ دہی اور افواہ پھیلانے کے ہتھیار کے طور پر استعمال کرنا قابل مذمت ہے۔ کیا ٹیکنالوجی کے اس تیز رفتار دور میں ہم میں سے ہر ایک یہ سوچتا ہے کہ اس کے ہاتھوں سے آگے بڑھنے والا مواد کس کے وقار کو مجروح کر سکتا ہے؟
شیخ السدیس نے کہا کہ معلومات کو آگے بھیجنے سے پہلے مکمل تصدیق کی جانی چاہیے، پرائیویسی اور ذاتی عزت کا تحفظ یقینی بنایا جانا چاہیے، اور سائبر جرائم کے خلاف مضبوط موقف اختیار کیا جانا چاہیے۔ انہوں نے سماجی انتشار پھیلانے کی کوششوں کی بھی مذمت کی۔
کیا ہم یہ سمجھتے ہیں کہ ایک غیر تصدیق شدہ پوسٹ کسی فرد، خاندان یا پورے معاشرے میں کتنی تیزی سے نقصان پہنچا سکتی ہے؟ امامِ حرم کے مطابق ذمہ داری صرف مواد بنانے والوں پر نہیں بلکہ اسے شیئر کرنے والوں پر بھی عائد ہوتی ہے۔
خطبے میں انہوں نے مکہ مکرمہ اور مدینہ منورہ کو نشانہ بنانے والے حوثی ملیشیا کے دہشت گردانہ حملوں کی بھی مذمت کی اور انہیں اسلامی قانون اور بین الاقوامی کنونشنز کی واضح خلاف ورزی قرار دیا۔ انہوں نے کہا کہ حرمین شریفین کی سلامتی اور حرمت ایک حتمی سرخ لکیر ہے جسے عبور نہیں کیا جا سکتا۔
کیا کوئی بھی طاقت ان مقدس مقامات کی حرمت کو چیلنج کرنے کا تصور کر سکتی ہے جہاں دنیا بھر سے لاکھوں مسلمان ہر سال عبادت کے لیے آتے ہیں؟ امامِ حرم نے اس موقف کو اسلامی قانون اور عالمی معاہدوں دونوں کی روشنی میں بیان کیا۔
انہوں نے کہا کہ حرمین شریفین کی حفاظت کے لیے کوئی کوتاہی برداشت نہیں کی جائے گی اور یہ کہ ان مقامات کی حرمت پر کوئی سمجھوتہ ممکن نہیں۔ کیا یہ واضح پیغام ان عناصر کے لیے کافی سبق ہے جو مقدس مقامات کو اپنے سیاسی مقاصد کے لیے استعمال کرنے کی کوشش کرتے ہیں؟
جمعۃ المبارک کا خطبہ مسجد الحرام میں ادا کیا گیا جہاں دنیا بھر سے آنے والے زائرین موجود تھے۔ ایس پی اے کے مطابق خطبے کا وقت مقامی وقت کے مطابق 14:48 اور جی ایم ٹی کے مطابق 11:48 تھا۔
شیخ السدیس کا یہ خطبہ ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب مصنوعی ذہانت کے ذریعے تیار کردہ جعلی مواد اور افواہوں کا مسئلہ عالمی سطح پر بحث کا موضوع ہے۔ کیا معاشرے اس بات کے لیے تیار ہیں کہ کوئی بھی شخص چند سیکنڈ میں کسی کی آواز یا تصویر بنا کر اس کی عزت کو نقصان پہنچا سکتا ہے؟
انہوں نے کہا کہ مصنوعی ذہانت اور سوشل میڈیا کے مثبت پہلوؤں کو تسلیم کرنا چاہیے لیکن ان کے استعمال میں اخلاقی حدود کا خیال رکھنا بھی اتنا ہی ضروری ہے۔ ان کے مطابق یہ نعمتیں شکر کی متقاضی ہیں اور شکر کا تقاضا یہ ہے کہ انہیں اللہ کی رضا کے مطابق استعمال کیا جائے۔
کیا ہم اپنی روزمرہ آن لائن سرگرمیوں میں اس اصول کو یاد رکھتے ہیں کہ ہر پوسٹ، ہر تبصرہ اور ہر شیئر کے پیچھے ایک جوابدہی ہے؟ امامِ حرم نے اس بات پر زور دیا کہ معلومات کی تصدیق کے بغیر آگے بڑھانا معاشرتی نقصان کا باعث بن سکتا ہے۔
انہوں نے سائبر جرائم کے خلاف مضبوط موقف اختیار کرنے کی ضرورت پر بھی زور دیا اور کہا کہ سماجی انتشار پھیلانے کی کوششوں کو روکنا ضروری ہے۔ کیا ڈیجیٹل دنیا میں قانون اور اخلاقیات کا اطلاق روایتی دنیا کی طرح سنجیدگی سے ہو رہا ہے؟
خطبے کے ایک اور اہم حصے میں انہوں نے حوثی ملیشیا کے حملوں کو اسلامی قانون اور بین الاقوامی کنونشنز کی کھلی خلاف ورزی قرار دیا۔ انہوں نے کہا کہ مکہ مکرمہ اور مدینہ منورہ کی طرف نشانہ بنانا کسی بھی صورت میں جائز نہیں اور اس کی کوئی توجیہ قبول نہیں کی جا سکتی۔
کیا بین الاقوامی برادری ان حملوں کے خلاف اپنی ذمہ داری پوری کر رہی ہے جس کا تقاضا بین الاقوامی کنونشنز کرتے ہیں؟ امامِ حرم نے اس بات پر زور دیا کہ حرمین شریفین کی سلامتی ایک ایسی سرخ لکیر ہے جس پر کوئی سمجھوتہ نہیں ہو سکتا۔
انہوں نے کہا کہ ان مقدس مقامات کی حرمت کا تحفظ ہر مسلمان کی ذمہ داری ہے اور اس کے خلاف کوئی بھی اقدام اسلامی اصولوں کے منافی ہے۔ کیا دنیا کے مختلف حصوں میں رہنے والے مسلمان اس پیغام کو اپنی اجتماعی ذمہ داری کے طور پر سمجھتے ہیں؟
ایس پی اے کی رپورٹ کے مطابق خطبے میں مصنوعی ذہانت کے اخلاقی استعمال، معلومات کی تصدیق، پرائیویسی کے تحفظ اور سائبر جرائم کے خلاف موقف جیسے موضوعات شامل تھے، جبکہ حوثی حملوں کی مذمت اور حرمین شریفین کی سلامتی کو سرخ لکیر قرار دینا بھی خطبے کا حصہ تھا۔
رپورٹ میں اس بات کا ذکر نہیں کیا گیا کہ خطبے میں کسی مخصوص واقعے، تاریخ یا مقام کا حوالہ دیا گیا یا نہیں، نہ ہی کسی مخصوص قانونی اقدام یا پالیسی کا اعلان کیا گیا۔ ایس پی اے نے خطبے کے شرکاء کی تعداد یا دیگر تفصیلات بھی فراہم نہیں کیں۔
امامِ حرم نے مصنوعی ذہانت کے بارے میں کیا کہا؟ شیخ عبدالرحمن السدیس نے کہا کہ سوشل میڈیا اور مصنوعی ذہانت اللہ کی نعمتیں ہیں جن پر شکر اور ذمہ دارانہ عمل لازم ہے۔ انہوں نے خبردار کیا کہ انہیں جعل سازی، من گھڑت میڈیا، شناخت کے غلط استعمال، دھوکہ دہی اور افواہ پھیلانے کے لیے استعمال نہ کیا جائے۔ ایس پی اے کے مطابق انہوں نے معلومات کی تصدیق اور پرائیویسی کے تحفظ پر بھی زور دیا۔
خطبے میں حوثی حملوں کے بارے میں کیا موقف اپنایا گیا؟ امامِ حرم نے مکہ مکرمہ اور مدینہ منورہ کو نشانہ بنانے والے حوثی ملیشیا کے دہشت گردانہ حملوں کی مذمت کی اور انہیں اسلامی قانون اور بین الاقوامی کنونشنز کی واضح خلاف ورزی قرار دیا۔ انہوں نے کہا کہ حرمین شریفین کی سلامتی اور حرمت ایک حتمی سرخ لکیر ہے جسے عبور نہیں کیا جا سکتا۔ ایس پی اے نے حملوں کی تاریخ یا تفصیلات نہیں دیں۔
خطبے میں سائبر جرائم اور سماجی انتشار کے بارے میں کیا کہا گیا؟ شیخ السدیس نے سائبر جرائم کے خلاف مضبوط موقف اختیار کرنے اور سماجی انتشار پھیلانے کی کوششوں کی مذمت کی۔ انہوں نے کہا کہ معلومات کو آگے بھیجنے سے پہلے مکمل تصدیق کی جانی چاہیے اور ذاتی عزت و پرائیویسی کا تحفظ یقینی بنایا جانا چاہیے۔ ایس پی اے کے مطابق انہوں نے انٹرنیٹ پر شائع اور گردش ہونے والے مواد میں احتیاط کی ضرورت پر زور دیا۔
یہ خطبہ کب اور کہاں دیا گیا؟ ایس پی اے کے مطابق یہ خطبہ 9 اکتوبر 2026 کو مسجد الحرام، مکہ مکرمہ میں جمعۃ المبارک کے موقع پر دیا گیا۔ رپورٹ کے مطابق خطبے کا وقت مقامی وقت کے مطابق 14:48 اور جی ایم ٹی کے مطابق 11:48 تھا۔ خطبہ مسجد الحرام میں ادا کیا گیا جہاں دنیا بھر سے آنے والے زائرین موجود تھے۔
کیا خطبے میں کسی قانونی یا پالیسی اقدام کا اعلان کیا گیا؟ ایس پی اے کی رپورٹ کے مطابق خطبے میں کسی مخصوص قانونی اقدام، پالیسی یا فیصلے کا اعلان نہیں کیا گیا۔ خطبے میں مصنوعی ذہانت کے اخلاقی استعمال، معلومات کی تصدیق، پرائیویسی کے تحفظ، سائبر جرائم کے خلاف موقف، حوثی حملوں کی مذمت اور حرمین شریفین کی سلامتی کو سرخ لکیر قرار دینے جیسے موضوعات شامل تھے۔ رپورٹ میں مزید تفصیلات فراہم نہیں کی گئیں۔
حرمین شریفین کی سلامتی کو سرخ لکیر قرار دینے کا کیا مطلب ہے؟ امامِ حرم نے کہا کہ حرمین شریفین کی سلامتی اور حرمت ایک حتمی سرخ لکیر ہے جسے عبور نہیں کیا جا سکتا اور اس پر کوئی سمجھوتہ ممکن نہیں۔ انہوں نے اس موقف کو اسلامی قانون اور بین الاقوامی کنونشنز کی روشنی میں بیان کیا۔ ایس پی اے کے مطابق انہوں نے مکہ مکرمہ اور مدینہ منورہ کو نشانہ بنانے والے حملوں کو ان دونوں کی کھلی خلاف ورزی قرار دیا۔