Sunday, November 8, 2026
سعودی خبریں

جی سی سی کے سیکرٹری جنرل نے پانی کی سلامتی کو خلیجی استحکام کی اسٹریٹجک ترجیح قرار دیا

جی سی سی کے سیکرٹری جنرل نے پانی کی سلامتی کو خلیجی استحکام کی اسٹریٹجک ترجیح قرار دیا

نیویارک میں اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے 81ویں اجلاس کے موقع پر، خلیج تعاون کونسل کے سیکرٹری جنرل جاسم البدیوی نے پانی کی سلامتی کو رکن ممالک کے لیے ایک اسٹریٹجک ترجیح قرار دیا ہے، اور کہا ہے کہ یہ انسانی سلامتی، معاشی خوشحالی، غذائی سلامتی اور توانائی کی سلامتی سے براہ راست جڑی ہوئی ہے اور خلیجی استحکام کا بنیادی ستون ہے۔

جیسا کہ سعودی خبر رساں ادارے ایس پی اے نے 25 ستمبر 2026 کو بیان کیا، یہ بات انہوں نے متحدہ عرب امارات کے مستقل مشن کی جانب سے نیویارک میں اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے 81ویں اجلاس کے موقع پر منعقدہ ایک پینل میں کہی، جس کا عنوان تھا ”پانی بطور اسٹریٹجک تقاضا: عالمی چیلنجوں سے اجتماعی اقدام تک“۔

البدیوی نے اس امر پر زور دیا کہ خطے میں پانی کی طویل قلت نے خلیج تعاون کونسل کے ممالک کو جدت، سرمایہ کاری اور وسیع مہارت کے قیام کی طرف راغب کیا ہے۔ انہوں نے ڈی سیلینیشن، گندے پانی کی ری سائیکلنگ، طلب کے انتظام اور جدید ٹیکنالوجیز کا ذکر کیا، اور کہا کہ اس دوران پانی، توانائی، خوراک اور موسمیاتی تبدیلی کے باہمی ربط کو مضبوط کیا گیا ہے۔

کیا خلیجی خطے کے لیے پانی کی قلت محض ایک جغرافیائی حقیقت ہے، یا یہ ایک ایسا چیلنج ہے جس نے خطے کو جدت کی راہ پر ڈال دیا ہے؟ البدیوی کا موقف اس سوال کا جواب دیتا ہے کہ قلت کو کمزوری کے بجائے صلاحیت میں کیسے بدلا جا سکتا ہے۔

انہوں نے واضح کیا کہ صرف ٹیکنالوجی پانی کی سلامتی کی ضمانت نہیں دے سکتی۔ اس تناظر میں انہوں نے خلیج تعاون کونسل کے جاری مشترکہ اقدامات کا ذکر کیا، جن میں ایک علاقائی واٹر گرڈ انٹرکنکشن کے قیام کا منصوبہ شامل ہے۔ اس منصوبے کا مقصد سپلائی کی سلامتی، علاقائی تیاری اور بحرانوں کے دوران ہنگامی ردعمل کی صلاحیتوں کو مضبوط بنانا ہے۔

کیا ایک مربوط علاقائی واٹر گرڈ خلیجی ممالک کو مشترکہ بحرانوں کا سامنا کرنے کے قابل بنا سکتا ہے؟ یہ سوال اس وقت مزید اہم ہو جاتا ہے جب خطے کے ممالک اپنی معیشتوں اور آبادیوں کے لیے پانی کی مسلسل بڑھتی ہوئی طلب کا سامنا کر رہے ہیں۔

البدیوی نے مصنوعی ذہانت، سمارٹ واٹر مینجمنٹ سسٹمز اور قابل تجدید توانائی کو بروئے کار لانے کی ضرورت پر بھی زور دیا۔ انہوں نے کہا کہ اس کے ساتھ ساتھ ایسے باہمی تعاون پر مبنی فنانسنگ ماڈلز کی ضرورت ہے جو حکومتوں، ترقیاتی اداروں اور نجی شعبے کو آپس میں جوڑیں، تاکہ قابل توسیع بنیادی ڈھانچے کے منصوبے تیار کیے جا سکیں۔

کیا حکومتوں، ترقیاتی اداروں اور نجی شعبے کا مشترکہ فنانسنگ ماڈل پانی کے شعبے میں سرمایہ کاری کی راہیں کھول سکتا ہے؟ البدیوی کی تجویز اس بات کی نشاندہی کرتی ہے کہ پانی کی سلامتی کا مسئلہ صرف انجینئرنگ کا نہیں بلکہ مالیاتی اور ادارہ جاتی تعاون کا بھی ہے۔

انہوں نے اپنی بات کا اختتام ایک اہم موقع کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کیا۔ ان کے مطابق، متحدہ عرب امارات اور سینیگال کی مشترکہ میزبانی میں ابوظہبی میں دسمبر 2026 میں ہونے والی اقوام متحدہ کی واٹر کانفرنس کثیرالجہتی پانی کی شراکت داریوں اور ٹھوس سرمایہ کاری کو آگے بڑھانے کے لیے ایک اہم پلیٹ فارم ثابت ہوگی۔

کیا دسمبر 2026 کی اقوام متحدہ واٹر کانفرنس پانی کے بحران کے حل کے لیے ٹھوس سرمایہ کاری کا باعث بنے گی؟ یہ سوال اس وقت بھی اہم ہے جب عالمی سطح پر پانی کے وسائل پر دباؤ بڑھتا جا رہا ہے اور خطے کے ممالک اپنے تجربات اور ٹیکنالوجی کو عالمی سطح پر پیش کرنے کے خواہاں ہیں۔

البدیوی نے پانی کی سلامتی کو انسانی سلامتی سے جوڑتے ہوئے کہا کہ یہ معاشی خوشحالی، غذائی سلامتی اور توانائی کی سلامتی سے بھی جڑی ہوئی ہے۔ یہ ربط اس بات کی عکاسی کرتا ہے کہ خلیجی ممالک پانی کو محض ایک سہولت کے طور پر نہیں بلکہ قومی اور علاقائی سلامتی کے ایک لازمی جزو کے طور پر دیکھتے ہیں۔

کیا پانی کی سلامتی کو انسانی سلامتی، غذائی سلامتی اور توانائی کی سلامتی سے الگ کر کے دیکھا جا سکتا ہے؟ البدیوی کا موقف واضح ہے کہ ان شعبوں کو ایک دوسرے سے جدا نہیں کیا جا سکتا، اور اسی لیے خلیج تعاون کونسل کے ممالک پانی، توانائی، خوراک اور موسمیاتی تبدیلی کے باہمی ربط کو مضبوط بنانے پر کام کر رہے ہیں۔

انہوں نے خطے میں پانی کی قلت کو ایک طویل المدتی حقیقت قرار دیا جس نے خلیجی ممالک کو ڈی سیلینیشن، گندے پانی کی ری سائیکلنگ، طلب کے انتظام اور جدید ٹیکنالوجیز میں وسیع مہارت حاصل کرنے پر مجبور کیا۔ یہ مہارت اب خطے کی ایک اہم صلاحیت بن چکی ہے، جسے خلیج تعاون کونسل کے ممالک مشترکہ مفاد کے لیے بروئے کار لانے پر غور کر رہے ہیں۔

کیا خلیجی ممالک کی ڈی سیلینیشن اور ری سائیکلنگ کی مہارت کو علاقائی سطح پر مشترکہ منصوبوں میں بدلا جا سکتا ہے؟ علاقائی واٹر گرڈ انٹرکنکشن کا منصوبہ اسی سمت میں ایک عملی قدم ہے، جس کا مقصد سپلائی کی سلامتی کو بہتر بنانا اور بحرانوں کے دوران تیاری اور ہنگامی ردعمل کو مضبوط کرنا ہے۔

البدیوی نے یہ بھی واضح کیا کہ ٹیکنالوجی اکیلی پانی کی سلامتی کی ضمانت نہیں دے سکتی۔ یہ بیان اس بات کی طرف اشارہ کرتا ہے کہ ادارہ جاتی تعاون، مالیاتی ماڈلز اور علاقائی شراکت داریاں ٹیکنالوجی کے ساتھ ساتھ ضروری ہیں۔ انہوں نے مصنوعی ذہانت اور سمارٹ واٹر مینجمنٹ سسٹمز کے استعمال پر زور دیا، جو پانی کے وسائل کی نگرانی، تقسیم اور بہتر استعمال میں مددگار ثابت ہو سکتے ہیں۔

کیا مصنوعی ذہانت اور سمارٹ واٹر مینجمنٹ سسٹمز پانی کے ضیاع کو کم کرنے میں فیصلہ کن کردار ادا کر سکتے ہیں؟ یہ سوال اس وقت مزید اہم ہو جاتا ہے جب خطے کے ممالک اپنے محدود پانی کے وسائل کو زیادہ سے زیادہ موثر بنانے کی کوشش کر رہے ہیں۔

انہوں نے قابل تجدید توانائی کے استعمال پر بھی زور دیا، جو پانی کی سلامتی اور توانائی کی سلامتی کے باہمی ربط کو ظاہر کرتا ہے۔ ڈی سیلینیشن اور پانی کی صفائی کے عمل میں توانائی کی کھپت ایک اہم عنصر ہے، اور قابل تجدید توانائی کے استعمال سے اس کھپت کو کم کیا جا سکتا ہے۔

کیا قابل تجدید توانائی پانی کی پیداوار کے اخراجات اور ماحولیاتی اثرات کو کم کرنے میں مدد دے سکتی ہے؟ خلیج تعاون کونسل کے ممالک اس سمت میں سرمایہ کاری کر رہے ہیں، اور البدیوی کا موقف اس بات کی تصدیق کرتا ہے کہ پانی اور توانائی کے شعبوں کو الگ الگ نہیں دیکھا جا سکتا۔

البدیوی نے باہمی تعاون پر مبنی فنانسنگ ماڈلز کی ضرورت پر زور دیا جو حکومتوں، ترقیاتی اداروں اور نجی شعبے کو آپس میں جوڑیں۔ ان کے مطابق، اس طرح کے ماڈلز قابل توسیع بنیادی ڈھانچے کے منصوبوں کی تیاری میں مددگار ثابت ہو سکتے ہیں، جن کی خطے کو پانی کی بڑھتی ہوئی طلب کو پورا کرنے کے لیے ضرورت ہے۔

کیا نجی شعبے کی شمولیت کے بغیر پانی کے شعبے میں بڑے پیمانے پر بنیادی ڈھانچے کے منصوبے ممکن ہیں؟ البدیوی کی تجویز اس بات کی نشاندہی کرتی ہے کہ حکومتی سرمایہ کاری اکیلی کافی نہیں، اور ترقیاتی اداروں اور نجی شعبے کی شراکت داری اس شعبے میں اہم کردار ادا کر سکتی ہے۔

انہوں نے اپنی بات کا اختتام متحدہ عرب امارات اور سینیگال کی مشترکہ میزبانی میں ابوظہبی میں دسمبر 2026 میں ہونے والی اقوام متحدہ کی واٹر کانفرنس کا ذکر کرتے ہوئے کیا۔ ان کے مطابق، یہ کانفرنس کثیرالجہتی پانی کی شراکت داریوں اور ٹھوس سرمایہ کاری کو آگے بڑھانے کے لیے ایک اہم پلیٹ فارم ہوگی۔

کیا ابوظہبی میں ہونے والی یہ کانفرنس عالمی سطح پر پانی کے بحران کے حل کے لیے نئے وعدوں اور عملی اقدامات کا آغاز کر سکے گی؟ یہ سوال اس وقت بھی اہم ہے جب دنیا بھر میں پانی کی کمی کے چیلنجز شدت اختیار کر رہے ہیں اور بین الاقوامی تعاون کی ضرورت بڑھتی جا رہی ہے۔

ایس پی اے کی رپورٹ میں اس بات کا ذکر نہیں کیا گیا کہ علاقائی واٹر گرڈ انٹرکنکشن کے منصوبے کی موجودہ صورتحال کیا ہے، اس پر کتنی رقم خرچ ہوگی، یا اس کی تکمیل کی کوئی تاریخ مقرر کی گئی ہے۔ رپورٹ میں پینل میں شریک دیگر افراد کے نام یا ان کے بیانات بھی شامل نہیں ہیں، اور نہ ہی اس بات کی تفصیل دی گئی ہے کہ خلیج تعاون کونسل کے ممالک نے پانی کی سلامتی کے لیے کون سے مخصوص مشترکہ اقدامات کیے ہیں۔

جی سی سی کے سیکرٹری جنرل نے پانی کی سلامتی کے بارے میں کیا کہا؟ جاسم البدیوی نے کہا کہ پانی کی سلامتی خلیج تعاون کونسل کے رکن ممالک کے لیے ایک اسٹریٹجک ترجیح ہے، جو انسانی سلامتی، معاشی خوشحالی، غذائی سلامتی اور توانائی کی سلامتی سے براہ راست جڑی ہوئی ہے اور خلیجی استحکام کا بنیادی ستون ہے۔ یہ بات انہوں نے نیویارک میں اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے 81ویں اجلاس کے موقع پر ایک پینل میں کہی۔ ایس پی اے نے یہ بیان 25 ستمبر 2026 کو جاری کیا۔

یہ پینل کس نے اور کہاں منعقد کیا؟ یہ پینل متحدہ عرب امارات کے مستقل مشن نے نیویارک میں اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے 81ویں اجلاس کے موقع پر منعقد کیا۔ پینل کا عنوان ”پانی بطور اسٹریٹجک تقاضا: عالمی چیلنجوں سے اجتماعی اقدام تک“ تھا۔ ایس پی اے کے مطابق، البدیوی نے اس پینل میں خطے میں پانی کی قلت اور خلیجی ممالک کی مہارت پر روشنی ڈالی۔

علاقائی واٹر گرڈ انٹرکنکشن کا منصوبہ کیا ہے؟ البدیوی نے خلیج تعاون کونسل کے جاری مشترکہ اقدامات کا ذکر کیا، جن میں ایک علاقائی واٹر گرڈ انٹرکنکشن کے قیام کا منصوبہ شامل ہے۔ اس منصوبے کا مقصد سپلائی کی سلامتی، علاقائی تیاری اور بحرانوں کے دوران ہنگامی ردعمل کی صلاحیتوں کو مضبوط بنانا ہے۔ ایس پی اے کی رپورٹ میں اس منصوبے کی لاگت، موجودہ صورتحال یا تکمیل کی تاریخ کے بارے میں کوئی تفصیل نہیں دی گئی۔

البدیوی نے ٹیکنالوجی کے بارے میں کیا موقف اپنایا؟ انہوں نے واضح کیا کہ صرف ٹیکنالوجی پانی کی سلامتی کی ضمانت نہیں دے سکتی۔ انہوں نے مصنوعی ذہانت، سمارٹ واٹر مینجمنٹ سسٹمز اور قابل تجدید توانائی کو بروئے کار لانے کی ضرورت پر زور دیا۔ اس کے ساتھ ساتھ انہوں نے ایسے باہمی تعاون پر مبنی فنانسنگ ماڈلز کی ضرورت پر بھی زور دیا جو حکومتوں، ترقیاتی اداروں اور نجی شعبے کو آپس میں جوڑیں۔

دسمبر 2026 کی اقوام متحدہ واٹر کانفرنس کہاں ہوگی؟ البدیوی کے مطابق، اقوام متحدہ کی واٹر کانفرنس متحدہ عرب امارات اور سینیگال کی مشترکہ میزبانی میں ابوظہبی میں دسمبر 2026 میں ہوگی۔ انہوں نے اسے کثیرالجہتی پانی کی شراکت داریوں اور ٹھوس سرمایہ کاری کو آگے بڑھانے کے لیے ایک اہم پلیٹ فارم قرار دیا۔ ایس پی اے کی رپورٹ میں کانفرنس کے ایجنڈے یا شرکاء کی مزید تفصیلات نہیں دی گئیں۔

خلیجی ممالک نے پانی کی قلت کے جواب میں کیا کیا ہے؟ البدیوی نے کہا کہ خطے میں پانی کی طویل قلت نے خلیج تعاون کونسل کے ممالک کو جدت، سرمایہ کاری اور وسیع مہارت کے قیام کی طرف راغب کیا ہے۔ انہوں نے ڈی سیلینیشن، گندے پانی کی ری سائیکلنگ، طلب کے انتظام اور جدید ٹیکنالوجیز کا ذکر کیا۔ اس دوران پانی، توانائی، خوراک اور موسمیاتی تبدیلی کے باہمی ربط کو بھی مضبوط کیا گیا ہے۔