سعودی فوڈ اینڈ ڈرگ اتھارٹی (ایس ایف ڈی اے) نے اعلان کیا ہے کہ اس نے متعدد غیر رجسٹرڈ پیپٹائڈ مصنوعات کی نشاندہی کی ہے جو ویب سائٹس اور سوشل میڈیا اکاؤنٹس کے ذریعے پیش کی جا رہی تھیں اور ان کی مارکیٹنگ کی جا رہی تھی، اور یہ سب اتھارٹی سے مطلوبہ لائسنس حاصل کیے بغیر کیا جا رہا تھا۔
جیسا کہ سعودی خبر رساں ادارے ایس پی اے نے 29 ستمبر 2026 کو بیان کیا، یہ کارروائی آن لائن فروخت کے ذرائع سے تجارت کی جانے والی مصنوعات کی نگرانی اور ان کی رجسٹریشن کی حیثیت اور محفوظ تقسیم کی تصدیق کے لیے جاری کوششوں کے ایک حصے کے طور پر کی گئی ہے۔
ایس ایف ڈی اے کے مطابق، یہ مصنوعات غیر رجسٹرڈ اور نامعلوم اصل کی ہیں اور انہوں نے محفوظ نقل و حمل اور ذخیرہ اندوزی کی ضروریات یا منظور شدہ فارماسیوٹیکل سپلائی چین کے معیارات کو پورا نہیں کیا، جس کی وجہ سے ان کی حفاظت، معیار اور ذخیرہ اندوزی و سنبھالنے کے حالات کی تصدیق کرنا ناممکن ہے۔
کیا صارفین کو یہ معلوم ہوتا ہے کہ آن لائن فروخت ہونے والی ہر طبی مصنوعات لازمی طور پر رجسٹرڈ اور منظور شدہ ہوتی ہے؟ اتھارٹی نے نوٹ کیا کہ کچھ ویب سائٹس اور اکاؤنٹس نے گمراہ کن مارکیٹنگ کے دعوے استعمال کیے، جن میں یہ اشارہ دیا گیا کہ یہ مصنوعات آزمائی یا جانچی جا چکی ہیں اور اعلیٰ معیار اور اعتبار کی حامل ہیں، جو صارفین کو ان کی حفاظت یا منظوری کے بارے میں غلط تاثر دے سکتے ہیں۔
ایس ایف ڈی اے نے کہا کہ ویب سائٹس اور اکاؤنٹس کے خلاف کارروائی اس بات کی تصدیق کے بعد کی گئی کہ وہ رجسٹریشن اور قانونی تقسیم کی ضروریات کو پورا کرنے میں ناکام رہے، اس کے علاوہ غیر مجاز پلیٹ فارمز کے ذریعے مصنوعات پیش کرنا اور ان کی مارکیٹنگ کرنا بھی شامل ہے۔ اتھارٹی نے زور دیا کہ اس طرح کی خلاف ورزیوں کے لیے خلاف ورزی کرنے والوں کے خلاف قانونی کارروائی ضروری ہے۔
کیا غیر رجسٹرڈ مصنوعات کی آن لائن مارکیٹنگ صرف ایک تجارتی معاملہ ہے یا یہ عوامی صحت کے لیے براہ راست خطرہ ہے؟ اتھارٹی نے بتایا کہ یہ خلاف ورزیاں فارماسیوٹیکل اور ہربل اسٹیبلشمنٹس اینڈ پریپریشنز کے قانون کے آرٹیکل 34 کے پیراگراف 2 کے تحت آتی ہیں، جو غیر رجسٹرڈ فارماسیوٹیکل مصنوعات کی فروخت، تقسیم یا تجارت کے ارادے سے قبضے کو ممنوع قرار دیتا ہے۔ قانون میں مقرر کردہ سزائیں 5 ملین سعودی ریال تک جرمانہ، پانچ سال تک قید، یا دونوں تک پہنچ سکتی ہیں۔
ایس ایف ڈی اے نے زور دیا کہ غیر رجسٹرڈ مصنوعات یا نامعلوم اصل کی مصنوعات کی گردش صارفین کی صحت اور حفاظت کے لیے خطرات پیدا کر سکتی ہے کیونکہ ان کی حفاظت، معیار اور منظور شدہ تقاضوں اور معیارات کی تعمیل کی تصدیق نہیں کی جا سکتی۔ اتھارٹی نے مزید کہا کہ طبی نگرانی کے بغیر ان کا استعمال صارفین کو خطرات سے دوچار کر سکتا ہے۔
کیا کوئی صارف یہ جان سکتا ہے کہ اس کے استعمال کردہ پیپٹائڈ کی اصل کہاں سے ہے اور اسے کیسے ذخیرہ کیا گیا؟ ایس ایف ڈی اے کی یہ کارروائی ان آن لائن فروخت کے ذرائع کی مسلسل نگرانی کا حصہ ہے جن کے ذریعے طبی اور صحت سے متعلق مصنوعات کی تجارت ہوتی ہے۔ اتھارٹی نے واضح کیا کہ وہ ایسی مصنوعات کی رجسٹریشن کی حیثیت اور محفوظ تقسیم کی تصدیق جاری رکھے گی۔
غیر رجسٹرڈ پیپٹائڈ مصنوعات کی آن لائن مارکیٹنگ کا مسئلہ صرف سعودی عرب تک محدود نہیں بلکہ عالمی سطح پر بھی ایک بڑھتا ہوا چیلنج ہے، جہاں سوشل میڈیا پلیٹ فارمز طبی مصنوعات کی تشہیر کا آسان ذریعہ بن چکے ہیں۔ ایس ایف ڈی اے کا مؤقف ہے کہ منظور شدہ فارماسیوٹیکل سپلائی چین کے معیارات کی عدم موجودگی میں کسی بھی مصنوعات کی حفاظت کی ضمانت نہیں دی جا سکتی۔
کیا صارفین آن لائن اشتہارات کے گمراہ کن دعوؤں کو پہچان سکتے ہیں جو کسی مصنوعات کو آزمودہ اور اعلیٰ معیار قرار دیتے ہیں؟ اتھارٹی کے مطابق، کچھ ویب سائٹس اور اکاؤنٹس ایسے دعوے کر رہے تھے جن سے یہ تاثر ملتا تھا کہ یہ مصنوعات جانچی جا چکی ہیں اور قابل اعتماد ہیں، حالانکہ وہ نہ رجسٹرڈ تھیں اور نہ ہی انہیں مطلوبہ لائسنس حاصل تھے۔
ایس ایف ڈی اے نے اس بات پر بھی زور دیا کہ غیر رجسٹرڈ مصنوعات کی گردش سے صارفین کی صحت اور حفاظت کو لاحق خطرات کی وجہ سے قانونی کارروائی ناگزیر ہے۔ قانون کے تحت سزاؤں کی حد 5 ملین ریال جرمانے اور پانچ سال قید تک ہے، جو اس بات کا اشارہ ہے کہ خلاف ورزی کو کتنی سنجیدگی سے لیا جا رہا ہے۔
کیا آن لائن پلیٹ فارمز کی جانب سے اس طرح کی مصنوعات کی تشہیر کی اجازت دینا بذات خود ایک ذمہ داری کا سوال نہیں؟ اتھارٹی نے کہا کہ کارروائی ان ویب سائٹس اور اکاؤنٹس کے خلاف کی گئی جو رجسٹریشن اور قانونی تقسیم کی ضروریات پوری نہیں کر رہے تھے اور غیر مجاز پلیٹ فارمز کے ذریعے مصنوعات پیش کر رہے تھے۔
ایس ایف ڈی اے کی یہ کوشش اس وسیع تر فریم ورک کا حصہ ہے جس کے تحت آن لائن فروخت کے ذرائع سے تجارت ہونے والی مصنوعات کی نگرانی، ان کی رجسٹریشن کی تصدیق اور محفوظ تقسیم کو یقینی بنایا جاتا ہے۔ اتھارٹی نے یہ بھی واضح کیا کہ غیر رجسٹرڈ یا نامعلوم اصل کی مصنوعات کی حفاظت، معیار اور منظور شدہ تقاضوں کی تعمیل کی تصدیق ممکن نہیں۔
کیا صارفین کو یہ حق حاصل ہے کہ وہ خریداری سے قبل مصنوعات کی رجسٹریشن کی حیثیت خود تصدیق کر سکیں؟ ایس ایف ڈی اے کا مؤقف ہے کہ طبی نگرانی کے بغیر ایسی مصنوعات کا استعمال صارفین کو خطرات سے دوچار کر سکتا ہے، کیونکہ ان کی حفاظت اور معیار کی کوئی ضمانت موجود نہیں ہوتی۔
رپورٹ میں یہ نہیں بتایا گیا کہ کتنے مخصوص ویب سائٹس یا سوشل میڈیا اکاؤنٹس کے خلاف کارروائی کی گئی، نہ ہی یہ کہ کسی خلاف ورزی کرنے والے پر جرمانہ عائد کیا گیا یا کوئی گرفتاری عمل میں آئی۔ ایس پی اے کی رپورٹ میں یہ بھی ذکر نہیں کہ نشاندہی کی گئی مصنوعات کی اقسام کون سی تھیں یا ان کی تعداد کتنی تھی۔
ایس ایف ڈی اے نے کس طرح کی مصنوعات کی نشاندہی کی ہے؟ ایس ایف ڈی اے کے مطابق، یہ غیر رجسٹرڈ پیپٹائڈ مصنوعات ہیں جو ویب سائٹس اور سوشل میڈیا اکاؤنٹس کے ذریعے پیش کی جا رہی تھیں اور ان کی مارکیٹنگ کی جا رہی تھی، بغیر اتھارٹی سے مطلوبہ لائسنس حاصل کیے۔ یہ مصنوعات نامعلوم اصل کی ہیں اور انہوں نے محفوظ نقل و حمل اور ذخیرہ اندوزی کی ضروریات یا منظور شدہ فارماسیوٹیکل سپلائی چین کے معیارات کو پورا نہیں کیا۔
قانون کے تحت کیا سزائیں مقرر ہیں؟ ایس ایف ڈی اے کے مطابق، یہ خلاف ورزیاں فارماسیوٹیکل اور ہربل اسٹیبلشمنٹس اینڈ پریپریشنز کے قانون کے آرٹیکل 34 کے پیراگراف 2 کے تحت آتی ہیں، جو غیر رجسٹرڈ فارماسیوٹیکل مصنوعات کی فروخت، تقسیم یا تجارت کے ارادے سے قبضے کو ممنوع قرار دیتا ہے۔ قانون میں مقرر کردہ سزائیں 5 ملین سعودی ریال تک جرمانہ، پانچ سال تک قید، یا دونوں تک پہنچ سکتی ہیں۔
گمراہ کن مارکیٹنگ کے دعوؤں کا کیا مطلب ہے؟ اتھارٹی نے نوٹ کیا کہ کچھ ویب سائٹس اور اکاؤنٹس نے گمراہ کن مارکیٹنگ کے دعوے استعمال کیے، جن میں یہ اشارہ دیا گیا کہ یہ مصنوعات آزمائی یا جانچی جا چکی ہیں اور اعلیٰ معیار اور اعتبار کی حامل ہیں۔ ایس ایف ڈی اے کے مطابق، اس سے صارفین کو ان کی حفاظت یا منظوری کے بارے میں غلط تاثر مل سکتا ہے، حالانکہ یہ مصنوعات نہ رجسٹرڈ تھیں اور نہ ہی انہیں مطلوبہ لائسنس حاصل تھے۔
غیر رجسٹرڈ مصنوعات کے استعمال سے کیا خطرات ہیں؟ ایس ایف ڈی اے نے زور دیا کہ غیر رجسٹرڈ مصنوعات یا نامعلوم اصل کی مصنوعات کی گردش صارفین کی صحت اور حفاظت کے لیے خطرات پیدا کر سکتی ہے کیونکہ ان کی حفاظت، معیار اور منظور شدہ تقاضوں اور معیارات کی تعمیل کی تصدیق نہیں کی جا سکتی۔ اتھارٹی نے مزید کہا کہ طبی نگرانی کے بغیر ان کا استعمال صارفین کو خطرات سے دوچار کر سکتا ہے۔
ایس ایف ڈی اے کی کارروائی کا دائرہ کیا ہے؟ ایس ایف ڈی اے نے بتایا کہ یہ کارروائی آن لائن فروخت کے ذرائع سے تجارت کی جانے والی مصنوعات کی نگرانی اور ان کی رجسٹریشن کی حیثیت اور محفوظ تقسیم کی تصدیق کے لیے جاری کوششوں کے ایک حصے کے طور پر کی گئی ہے۔ اتھارٹی نے کہا کہ ویب سائٹس اور اکاؤنٹس کے خلاف کارروائی اس بات کی تصدیق کے بعد کی گئی کہ وہ رجسٹریشن اور قانونی تقسیم کی ضروریات پوری نہیں کر رہے تھے۔
رپورٹ میں کون سی تفصیلات شامل نہیں ہیں؟ ایس پی اے کی رپورٹ میں یہ نہیں بتایا گیا کہ کتنے مخصوص ویب سائٹس یا سوشل میڈیا اکاؤنٹس کے خلاف کارروائی کی گئی، نہ ہی یہ کہ کسی خلاف ورزی کرنے والے پر جرمانہ عائد کیا گیا یا کوئی گرفتاری عمل میں آئی۔ رپورٹ میں یہ بھی ذکر نہیں کہ نشاندہی کی گئی مصنوعات کی اقسام کون سی تھیں یا ان کی تعداد کتنی تھی۔





