Monday, November 2, 2026
سعودی خبریں

سعودی وزارت میڈیا اور گوگل کے درمیان شراکت داری کو آگے بڑھانے پر بات چیت

سعودی وزارت میڈیا اور گوگل کے درمیان شراکت داری کو آگے بڑھانے پر بات چیت

نائب وزیر میڈیا عبداللہ المغلوت نے منگل کے روز گوگل کے مینجنگ ڈائریکٹر برائے مشرق وسطیٰ اور شمالی افریقہ انتھونی نکاچے سے ملاقات کی، جس میں وزارت میڈیا اور گوگل کے درمیان اسٹریٹجک شراکت داری کو فروغ دینے اور سعودی عرب کے میڈیا شعبے کی معاونت کے لیے تعاون کو وسعت دینے پر تبادلہ خیال کیا گیا۔

جیسا کہ سعودی خبر رساں ادارے ایس پی اے نے 29 ستمبر 2026 کو بیان کیا، یہ ملاقات ریاض میں وزیر میڈیا سلمان الدوسری کی ہدایت پر منعقد ہوئی، جس میں شعبے کی تکنیکی اور مسابقتی صلاحیتوں کو مضبوط بنانے اور سعودی وژن 2030 کے اہداف کو آگے بڑھانے کے طریقوں پر بھی بات کی گئی۔

ملاقات میں مصنوعی ذہانت، ڈیجیٹل مہارتوں کی ترقی، اور میڈیا اداروں اور مواد تخلیق کرنے والوں کو بااختیار بنانے سے متعلق متعدد مشترکہ اقدامات کا احاطہ کیا گیا۔ کیا سعودی میڈیا شعبہ ان تبدیلیوں کے لیے تیار ہے جو مصنوعی ذہانت اپنے ساتھ لا رہی ہے؟

خاندانوں، خاص طور پر بچوں کی ڈیجیٹل حفاظت کو بڑھانا ایک اہم نکتہ تھا، کیونکہ یہ دونوں فریقوں کے لیے ایک مشترکہ ترجیح ہے۔ دونوں فریقوں نے بچوں، والدین اور اساتذہ کو ضروری مہارتوں اور وسائل سے لیس کرنے کے عملی اقدامات کی نشاندہی کی تاکہ وہ ڈیجیٹل دنیا میں محفوظ اور ذمہ دارانہ طریقے سے گزر سکیں۔ کیا ڈیجیٹل دنیا میں بچوں کی حفاظت صرف ٹیکنالوجی کمپنیوں کی ذمہ داری ہے یا اس میں والدین اور اسکولوں کا کردار بھی اتنا ہی اہم ہے؟

بات چیت میں میڈیا اداروں کی جانب سے مصنوعی ذہانت کی ٹیکنالوجیز کو اپنانے کو تیز کرنے، قومی پیشہ ور افراد کی مہارتوں کو بڑھانے، اور مواد تخلیق کرنے والوں اور سعودی ٹیلنٹ کی معاونت کے لیے خصوصی پروگرام تیار کرنے پر بھی تبادلہ خیال کیا گیا۔ انہوں نے میڈیا انوویشن کے اقدامات شروع کرنے اور نیوز رومز اور میڈیا اداروں میں ابھرتی ہوئی ٹیکنالوجیز کے عملی استعمال کے کیسز تیار کرنے کی بھی کھوج کی۔

نائب وزیر نے کہا کہ سعودی عرب میڈیا اور ٹیکنالوجی کے شعبوں میں تیز رفتار تبدیلیوں کو ایک ایسے نئے، زیادہ مسابقتی اور بااثر میڈیا انڈسٹری کی تعمیر کے موقع کے طور پر دیکھتا ہے۔ انہوں نے اس بات کی تصدیق کی کہ عالمی ٹیکنالوجی کمپنیوں کے ساتھ شراکت داریاں علم کی منتقلی، قومی صلاحیت کی تعمیر، اور تیز تر جدت کے لیے کلیدی عوامل ہیں، جبکہ اس شعبے میں ترقی اور سرمایہ کاری کے نئے راستے بھی پیدا کرتی ہیں۔

المغلوت نے کہا: “ہمارا مقصد میڈیا کے مستقبل کے ساتھ قدم ملانا نہیں ہے، بلکہ یہ ہے کہ سعودی عرب ان بازاروں میں سے ایک ہو جو اسے تشکیل دینے میں مدد کریں۔” انہوں نے ملک کے قومی ٹیلنٹ، بڑھتی ہوئی مارکیٹ، اور جدید ڈیجیٹل انفراسٹرکچر کو اجاگر کیا۔

یہ ملاقات ایسے وقت میں ہوئی ہے جب سعودی عرب اپنے میڈیا شعبے کو جدید خطوط پر استوار کرنے کے لیے مسلسل کوشاں ہے۔ وزارت میڈیا کی جانب سے عالمی ٹیکنالوجی کمپنیوں کے ساتھ شراکت داری کو فروغ دینے کی یہ کوشش سعودی وژن 2030 کے تحت میڈیا کے شعبے کو ایک متحرک، مسابقتی اور ٹیکنالوجی سے ہم آہنگ صنعت میں تبدیل کرنے کے وسیع تر منصوبے کا حصہ ہے۔ کیا سعودی عرب کی میڈیا انڈسٹری عالمی سطح پر اپنا مقام بنانے میں کامیاب ہو سکے گی؟

ملاقات میں زیر بحث آنے والے موضوعات میں مصنوعی ذہانت کا استعمال، ڈیجیٹل مہارتوں کی ترقی، اور میڈیا اداروں اور مواد تخلیق کرنے والوں کو بااختیار بنانا شامل تھا۔ یہ پہلو سعودی عرب کے میڈیا شعبے کی ترقی کے لیے انتہائی اہمیت کے حامل ہیں، کیونکہ ٹیکنالوجی کی تیز رفتار ترقی میڈیا کے روایتی طریقوں کو یکسر بدل رہی ہے۔ کیا روایتی میڈیا ادارے مصنوعی ذہانت کے دور میں اپنی اہمیت برقرار رکھ پائیں گے؟

خاندانوں، خاص طور پر بچوں کی ڈیجیٹل حفاظت کو ایک اہم ترجیح قرار دیا گیا۔ دونوں فریقوں نے اس بات پر زور دیا کہ بچوں، والدین اور اساتذہ کو ڈیجیٹل دنیا میں محفوظ اور ذمہ دارانہ طریقے سے گزرنے کے لیے ضروری مہارتوں اور وسائل سے لیس کرنا وقت کی اہم ضرورت ہے۔ اس حوالے سے عملی اقدامات کی نشاندہی کی گئی۔ کیا ڈیجیٹل حفاظت کے لیے صرف تکنیکی حل کافی ہیں یا شعور و آگاہی کو بھی فروغ دینا ضروری ہے؟

بات چیت میں میڈیا اداروں کی جانب سے مصنوعی ذہانت کی ٹیکنالوجیز کو اپنانے کو تیز کرنے کے لیے خصوصی پروگرام تیار کرنے پر بھی غور کیا گیا۔ اس کا مقصد قومی پیشہ ور افراد کی مہارتوں کو بڑھانا اور مواد تخلیق کرنے والوں اور سعودی ٹیلنٹ کی معاونت کرنا ہے۔ اس کے علاوہ میڈیا انوویشن کے اقدامات شروع کرنے اور نیوز رومز اور میڈیا اداروں میں ابھرتی ہوئی ٹیکنالوجیز کے عملی استعمال کے کیسز تیار کرنے کی بھی کھوج کی گئی۔ کیا سعودی نیوز رومز مصنوعی ذہانت کو اپنانے کے لیے تیار ہیں؟

نائب وزیر میڈیا نے اس موقع پر کہا کہ سعودی عرب میڈیا اور ٹیکنالوجی کے شعبوں میں تیز رفتار تبدیلیوں کو ایک ایسے نئے، زیادہ مسابقتی اور بااثر میڈیا انڈسٹری کی تعمیر کے موقع کے طور پر دیکھتا ہے۔ انہوں نے اس بات کی تصدیق کی کہ عالمی ٹیکنالوجی کمپنیوں کے ساتھ شراکت داریاں علم کی منتقلی، قومی صلاحیت کی تعمیر، اور تیز تر جدت کے لیے کلیدی عوامل ہیں، جبکہ اس شعبے میں ترقی اور سرمایہ کاری کے نئے راستے بھی پیدا کرتی ہیں۔

المغلوت نے مزید کہا: “ہمارا مقصد میڈیا کے مستقبل کے ساتھ قدم ملانا نہیں ہے، بلکہ یہ ہے کہ سعودی عرب ان بازاروں میں سے ایک ہو جو اسے تشکیل دینے میں مدد کریں۔” انہوں نے ملک کے قومی ٹیلنٹ، بڑھتی ہوئی مارکیٹ، اور جدید ڈیجیٹل انفراسٹرکچر کو اجاگر کیا۔ کیا سعودی عرب کے پاس موجود ٹیلنٹ اور ڈیجیٹل انفراسٹرکچر اسے میڈیا کے مستقبل کی تشکیل میں کلیدی کردار ادا کرنے کے قابل بناتا ہے؟

یہ ملاقات وزیر میڈیا سلمان الدوسری کی ہدایت پر منعقد ہوئی، جس میں شعبے کی تکنیکی اور مسابقتی صلاحیتوں کو مضبوط بنانے اور سعودی وژن 2030 کے اہداف کو آگے بڑھانے کے طریقوں پر بھی بات کی گئی۔ اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ سعودی قیادت میڈیا کے شعبے کو جدید بنانے اور اسے عالمی معیار پر لانے کے لیے کس قدر سنجیدہ ہے۔ کیا وزارت میڈیا کی یہ کوششیں سعودی عرب کے میڈیا منظر نامے کو تبدیل کرنے میں کامیاب ہوں گی؟

ملاقات میں وزارت میڈیا اور گوگل کے درمیان اسٹریٹجک شراکت داری کو فروغ دینے اور سعودی عرب کے میڈیا شعبے کی معاونت کے لیے تعاون کو وسعت دینے پر تبادلہ خیال کیا گیا۔ اس شراکت داری کا مقصد میڈیا کے شعبے کی تکنیکی اور مسابقتی صلاحیتوں کو مضبوط بنانا اور سعودی وژن 2030 کے اہداف کو آگے بڑھانا ہے۔ کیا عالمی ٹیکنالوجی کمپنیوں کے ساتھ اس طرح کی شراکت داریاں سعودی میڈیا کے لیے طویل مدتی فوائد فراہم کریں گی؟

رپورٹ میں ملاقات کے دوران طے پانے والے کسی بھی حتمی معاہدے، منصوبوں کی تکمیل کی تاریخوں، یا مالی تفصیلات کا ذکر نہیں کیا گیا۔ ایس پی اے کی رپورٹ میں شراکت داری کے دائرہ کار، مجوزہ اقدامات کی لاگت، یا ان کے نفاذ کے لیے مقرر کردہ وقت کی کوئی تفصیل فراہم نہیں کی گئی۔

ملاقات میں کن اہم موضوعات پر بات ہوئی؟ ملاقات میں وزارت میڈیا اور گوگل کے درمیان اسٹریٹجک شراکت داری کو فروغ دینے اور سعودی عرب کے میڈیا شعبے کی معاونت کے لیے تعاون کو وسعت دینے پر تبادلہ خیال کیا گیا۔ اس کے علاوہ شعبے کی تکنیکی اور مسابقتی صلاحیتوں کو مضبوط بنانے اور سعودی وژن 2030 کے اہداف کو آگے بڑھانے کے طریقوں پر بھی بات کی گئی۔ ملاقات میں مصنوعی ذہانت، ڈیجیٹل مہارتوں کی ترقی، اور میڈیا اداروں اور مواد تخلیق کرنے والوں کو بااختیار بنانے سے متعلق مشترکہ اقدامات کا بھی احاطہ کیا گیا۔

بچوں کی ڈیجیٹل حفاظت کے حوالے سے کیا اقدامات تجویز کیے گئے؟ ملاقات میں خاندانوں، خاص طور پر بچوں کی ڈیجیٹل حفاظت کو بڑھانا ایک اہم نکتہ تھا، کیونکہ یہ دونوں فریقوں کے لیے ایک مشترکہ ترجیح ہے۔ دونوں فریقوں نے بچوں، والدین اور اساتذہ کو ضروری مہارتوں اور وسائل سے لیس کرنے کے عملی اقدامات کی نشاندہی کی تاکہ وہ ڈیجیٹل دنیا میں محفوظ اور ذمہ دارانہ طریقے سے گزر سکیں۔ اس حوالے سے عملی اقدامات پر اتفاق کیا گیا۔

نائب وزیر میڈیا نے میڈیا کے مستقبل کے بارے میں کیا کہا؟ نائب وزیر میڈیا عبداللہ المغلوت نے کہا کہ سعودی عرب میڈیا اور ٹیکنالوجی کے شعبوں میں تیز رفتار تبدیلیوں کو ایک ایسے نئے، زیادہ مسابقتی اور بااثر میڈیا انڈسٹری کی تعمیر کے موقع کے طور پر دیکھتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہمارا مقصد میڈیا کے مستقبل کے ساتھ قدم ملانا نہیں ہے، بلکہ یہ ہے کہ سعودی عرب ان بازاروں میں سے ایک ہو جو اسے تشکیل دینے میں مدد کریں۔

اس ملاقات کا سعودی وژن 2030 سے کیا تعلق ہے؟ ملاقات وزیر میڈیا سلمان الدوسری کی ہدایت پر منعقد ہوئی، جس میں شعبے کی تکنیکی اور مسابقتی صلاحیتوں کو مضبوط بنانے اور سعودی وژن 2030 کے اہداف کو آگے بڑھانے کے طریقوں پر بات کی گئی۔ اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ سعودی قیادت میڈیا کے شعبے کو جدید بنانے اور اسے عالمی معیار پر لانے کے لیے کس قدر سنجیدہ ہے۔ یہ شراکت داری وژن 2030 کے تحت میڈیا کے شعبے کی ترقی کا حصہ ہے۔

کیا ملاقات میں کوئی حتمی معاہدہ یا ٹائم لائن طے ہوئی؟ رپورٹ میں ملاقات کے دوران طے پانے والے کسی بھی حتمی معاہدے، منصوبوں کی تکمیل کی تاریخوں، یا مالی تفصیلات کا ذکر نہیں کیا گیا۔ ایس پی اے کی رپورٹ میں شراکت داری کے دائرہ کار، مجوزہ اقدامات کی لاگت، یا ان کے نفاذ کے لیے مقرر کردہ وقت کی کوئی تفصیل فراہم نہیں کی گئی۔ ملاقات میں صرف عملی اقدامات کی نشاندہی اور تعاون کو وسعت دینے پر بات کی گئی۔

ملاقات میں کن مشترکہ اقدامات پر غور کیا گیا؟ ملاقات میں مصنوعی ذہانت، ڈیجیٹل مہارتوں کی ترقی، اور میڈیا اداروں اور مواد تخلیق کرنے والوں کو بااختیار بنانے سے متعلق متعدد مشترکہ اقدامات کا احاطہ کیا گیا۔ بات چیت میں میڈیا اداروں کی جانب سے مصنوعی ذہانت کی ٹیکنالوجیز کو اپنانے کو تیز کرنے، قومی پیشہ ور افراد کی مہارتوں کو بڑھانے، اور مواد تخلیق کرنے والوں اور سعودی ٹیلنٹ کی معاونت کے لیے خصوصی پروگرام تیار کرنے پر بھی غور کیا گیا۔