Sunday, October 25, 2026
سعودی خبریں

سعودی فوڈ اینڈ ڈرگ اتھارٹی کے سربراہ کی جرمن ادارے کے صدر سے چلی میں ملاقات

سعودی فوڈ اینڈ ڈرگ اتھارٹی کے سربراہ کی جرمن ادارے کے صدر سے چلی میں ملاقات

سعودی فوڈ اینڈ ڈرگ اتھارٹی (SFDA) کے چیف ایگزیکٹو آفیسر ڈاکٹر ہشام ایس الجدعی نے 10 اپریل 2025 کو سینٹیاگو، چلی میں جرمن فیڈرل انسٹی ٹیوٹ فار رسک اسیسمنٹ (BfR) کے صدر ڈاکٹر اینڈریاس ہینسل سے ملاقات کی۔ یہ ملاقات بین الاقوامی سربراہانِ فوڈ ایجنسیز فورم (IHFAF) کے چھٹے اجلاس کے موقع پر دو طرفہ مصروفیات کے سلسلے میں ہوئی، جو 9 سے 11 اپریل 2025 تک چلی میں منعقد ہوا۔

جیسا کہ سعودی خبر رساں ادارے ایس پی اے نے بیان کیا، ایس ایف ڈی اے کی جانب سے جاری کردہ پریس ریلیز کے مطابق دونوں فریقوں نے نجی شعبے کے ساتھ مضبوط شراکت داری قائم کرنے میں ریگولیٹری اداروں کے اہم کردار پر زور دیا۔ یہ تعاون مصنوعات کے معیار کی ترقی اور بہتری، پیش رفت اور ایک متحد نظام کے اندر آپریشنل کارکردگی کو بڑھانے کے لیے ناگزیر ہے، جس میں مصنوعات کی حفاظت کو اولین ترجیح دی جاتی ہے۔

بات چیت کا مرکز ایک مربوط ریگولیٹری نظام کے قیام کی اہمیت پر تھا، جو قابل اعتماد حوالہ جاتی ڈیٹا، درست معیار کی جانچ اور شفاف ریگولیٹری فریم ورک پر استوار ہو۔ یہ بنیاد ریگولیٹری معلومات پر اعتماد کو فروغ دے گی، فعال خطرے کی تشخیص اور ردعمل کی صلاحیت کو بہتر بنائے گی اور بالآخر مصنوعات کی قابل اعتباری اور خوراک کی حفاظت کو بڑھائے گی۔

کیا خوراک کی حفاظت کے معاملے میں ریگولیٹری اداروں کے درمیان اعتماد کا فقدان صارفین کے لیے سب سے بڑا خطرہ نہیں؟ جب ایک ملک کا ریگولیٹر دوسرے ملک کے ڈیٹا پر بھروسہ کرتا ہے تو اس کے پیچھے کون سے معیارات کارفرما ہونے چاہئیں؟ اور کیا قابل اعتماد حوالہ جاتی ڈیٹا کے بغیر کوئی بھی خطرے کی تشخیص مکمل قرار پا سکتی ہے؟

ایس ایف ڈی اے کے وفد کے حکام نے متعدد ہم منصب ریگولیٹری اداروں کے ساتھ بھی دو طرفہ ملاقاتوں کا سلسلہ جاری رکھا، جن میں برطانیہ کی فوڈ اسٹینڈرڈز ایجنسی (FSA)، چلی کی فوڈ سیفٹی اینڈ کوالٹی ایجنسی (ACHIPIA)، نیوزی لینڈ کی وزارتِ بنیادی صناعت سے وابستہ فوڈ سیفٹی برانچ (NZFS) اور پرتگال کی اکنامک اینڈ فوڈ سیفٹی اتھارٹی (ASAE) شامل ہیں۔ ان ملاقاتوں کا مقصد تعاون کے فریم ورک کو فروغ دینا اور متعلقہ بین الاقوامی تنظیموں کے ساتھ مربوط کام کو بہتر بنانا تھا تاکہ خوراک کے معیار اور حفاظت کے اہداف کو پورا کیا جا سکے۔

یہ سوال اپنی جگہ بناتا ہے کہ کیا بین الاقوامی فورمز پر اس نوعیت کی دو طرفہ ملاقاتیں حقیقی پالیسی تبدیلی کا پیش خیمہ ثابت ہوتی ہیں یا محض سفارتی روایت کا حصہ رہتی ہیں؟ جب چار مختلف براعظموں کے ریگولیٹرز ایک ہی میز پر بیٹھتے ہیں تو کیا ان کے قومی مفادات آپس میں ٹکراتے نہیں؟ اور کیا خوراک کی عالمی تجارت میں ہم آہنگی کے بغیر صارفین کو مکمل تحفظ دیا جا سکتا ہے؟

بین الاقوامی سربراہانِ فوڈ ایجنسیز فورم کا چھٹا اجلاس 9 سے 11 اپریل 2025 تک چلی میں منعقد ہوا، جس کے موقع پر یہ ملاقات ہوئی۔ اس فورم کا مقصد دنیا بھر کے فوڈ ریگولیٹرز کے درمیان مشترکہ مسائل پر تبادلہ خیال اور تعاون کو فروغ دینا ہے۔

ایس ایف ڈی اے کی پریس ریلیز کے مطابق، دونوں فریقوں نے اس بات پر اتفاق کیا کہ ریگولیٹری اداروں اور نجی شعبے کے درمیان شراکت داری مصنوعات کے معیار کو بہتر بنانے، ترقی کو آگے بڑھانے اور ایک متحد نظام میں آپریشنل کارکردگی بڑھانے کے لیے ناگزیر ہے، جہاں مصنوعات کی حفاظت کو مرکزی حیثیت حاصل ہو۔

کیا نجی شعبے کو ریگولیٹری فیصلہ سازی کے عمل میں شامل کرنا شفافیت کو کمزور نہیں کرتا؟ جب کاروباری مفادات اور عوامی صحت ایک ہی میز پر آ جائیں تو ترجیح کس کو ملنی چاہیے؟ اور کیا ایک مربوط ریگولیٹری نظام کے بغیر کوئی بھی شراکت داری پائیدار ہو سکتی ہے؟

بات چیت میں ایک مربوط ریگولیٹری نظام کی اہمیت پر زور دیا گیا، جو تین ستونوں پر کھڑا ہو: قابل اعتماد حوالہ جاتی ڈیٹا، درست معیار کی جانچ، اور شفاف ریگولیٹری فریم ورک۔ ایس ایف ڈی اے کے مطابق یہ بنیاد ریگولیٹری معلومات پر اعتماد کو فروغ دے گی، فعال خطرے کی تشخیص اور ردعمل کی صلاحیت کو بہتر بنائے گی، اور بالآخر مصنوعات کی قابل اعتباری اور خوراک کی حفاظت کو بڑھائے گی۔

یہ نکتہ قابل غور ہے کہ شفاف ریگولیٹری فریم ورک کے بغیر درست جانچ کے نتائج کا کیا فائدہ؟ اگر حوالہ جاتی ڈیٹا ہی قابل اعتماد نہ ہو تو خطرے کی تشخیص کس بنیاد پر کی جائے گی؟ اور کیا صارفین کو یہ جاننے کا حق نہیں کہ ان کی خوراک کی حفاظت کے فیصلے کن اعداد و شمار پر مبنی ہیں؟

ایس ایف ڈی اے کے وفد نے برطانیہ کی فوڈ اسٹینڈرڈز ایجنسی، چلی کی فوڈ سیفٹی اینڈ کوالٹی ایجنسی، نیوزی لینڈ کی فوڈ سیفٹی برانچ اور پرتگال کی اکنامک اینڈ فوڈ سیفٹی اتھارٹی کے حکام کے ساتھ بھی الگ الگ دو طرفہ ملاقاتیں کیں۔ ان ملاقاتوں کا مقصد تعاون کے فریم ورک کو فروغ دینا اور متعلقہ بین الاقوامی تنظیموں کے ساتھ مربوط کام کو بہتر بنانا تھا تاکہ خوراک کے معیار اور حفاظت کے اہداف حاصل ہو سکیں۔

کیا مختلف ممالک کے ریگولیٹری معیارات میں فرق عالمی تجارت کے لیے رکاوٹ نہیں بنتا؟ جب ایک ہی مصنوعات کو چار مختلف ریگولیٹری نظاموں سے گزرنا پڑے تو لاگت کس پر آتی ہے؟ اور کیا ہم آہنگی کے بغیر خوراک کی بین الاقوامی تجارت محفوظ رہ سکتی ہے؟

ایس پی اے کی رپورٹ کے مطابق یہ ملاقات سعودی عرب اور جرمنی کے درمیان دو طرفہ مصروفیات کے سلسلے کا حصہ تھی، جو بین الاقوامی سربراہانِ فوڈ ایجنسیز فورم کے چھٹے اجلاس کے موقع پر ہوئی۔ فورم کا انعقاد 9 سے 11 اپریل 2025 تک چلی میں ہوا، اور اس میں دنیا بھر سے فوڈ ریگولیٹری اداروں کے سربراہان شریک ہوئے۔

ایس ایف ڈی اے کے سربراہ ڈاکٹر ہشام ایس الجدعی کی قیادت میں وفد نے فورم کے موقع پر متعدد ہم منصب اداروں سے ملاقاتیں کیں، جن کا مقصد خوراک کے معیار اور حفاظت کے مشترکہ اہداف کے لیے تعاون کو مضبوط بنانا تھا۔

کیا اس نوعیت کے بین الاقوامی فورمز کے بعد ٹھوس نتائج کی پیمائش ممکن ہے؟ جب ریگولیٹرز ایک دوسرے سے سیکھتے ہیں تو اس کا فائدہ براہ راست صارف تک کیسے پہنچتا ہے؟ اور کیا خوراک کی حفاظت کے معاملے میں قومی خودمختاری اور بین الاقوامی تعاون میں توازن ممکن ہے؟

ایس ایف ڈی اے کی پریس ریلیز میں اس بات پر زور دیا گیا کہ ریگولیٹری اداروں کا کردار نجی شعبے کے ساتھ مضبوط شراکت داری قائم کرنے میں کلیدی ہے، اور یہ تعاون مصنوعات کے معیار کی ترقی، پیش رفت اور آپریشنل کارکردگی کے لیے ضروری ہے۔ ایک متحد نظام میں مصنوعات کی حفاظت کو اولین ترجیح دی جاتی ہے۔

رپورٹ میں اس بات کا ذکر نہیں کیا گیا کہ ان ملاقاتوں میں کوئی مخصوص معاہدہ یا مفاہمت نامہ طے ہوا، نہ ہی کسی ٹائم لائن یا اگلے اجلاس کی تفصیل دی گئی ہے۔ ایس پی اے کی رپورٹ میں شرکاء کے بیانات یا اضافی اعداد و شمار بھی شامل نہیں ہیں۔

ایس ایف ڈی اے کے سربراہ کی جرمن ادارے کے صدر سے ملاقات کہاں اور کب ہوئی؟ یہ ملاقات 10 اپریل 2025 کو سینٹیاگو، چلی میں ہوئی۔ سعودی فوڈ اینڈ ڈرگ اتھارٹی کے چیف ایگزیکٹو آفیسر ڈاکٹر ہشام ایس الجدعی اور جرمن فیڈرل انسٹی ٹیوٹ فار رسک اسیسمنٹ کے صدر ڈاکٹر اینڈریاس ہینسل نے ملاقات کی۔ یہ ملاقات بین الاقوامی سربراہانِ فوڈ ایجنسیز فورم کے چھٹے اجلاس کے موقع پر دو طرفہ مصروفیات کے سلسلے میں ہوئی، جو 9 سے 11 اپریل 2025 تک چلی میں منعقد ہوا۔

ملاقات میں کن امور پر بات چیت ہوئی؟ بات چیت کا مرکز ایک مربوط ریگولیٹری نظام کی اہمیت تھا، جو قابل اعتماد حوالہ جاتی ڈیٹا، درست معیار کی جانچ اور شفاف ریگولیٹری فریم ورک پر استوار ہو۔ ایس ایف ڈی اے کے مطابق یہ بنیاد ریگولیٹری معلومات پر اعتماد کو فروغ دے گی اور فعال خطرے کی تشخیص اور ردعمل کی صلاحیت کو بہتر بنائے گی۔ اس سے مصنوعات کی قابل اعتباری اور خوراک کی حفاظت کو بھی بڑھایا جائے گا۔

دونوں فریقوں نے نجی شعبے کے بارے میں کیا کہا؟ ایس ایف ڈی اے کی پریس ریلیز کے مطابق دونوں فریقوں نے نجی شعبے کے ساتھ مضبوط شراکت داری قائم کرنے میں ریگولیٹری اداروں کے اہم کردار پر زور دیا۔ ان کا کہنا تھا کہ یہ تعاون مصنوعات کے معیار کی ترقی اور بہتری، پیش رفت اور ایک متحد نظام کے اندر آپریشنل کارکردگی کو بڑھانے کے لیے ناگزیر ہے۔ اس نظام میں مصنوعات کی حفاظت کو اولین ترجیح دی جاتی ہے۔

ایس ایف ڈی اے کے وفد نے کن دیگر اداروں سے ملاقاتیں کیں؟ ایس ایف ڈی اے کے وفد کے حکام نے برطانیہ کی فوڈ اسٹینڈرڈز ایجنسی (FSA)، چلی کی فوڈ سیفٹی اینڈ کوالٹی ایجنسی (ACHIPIA)، نیوزی لینڈ کی وزارتِ بنیادی صناعت سے وابستہ فوڈ سیفٹی برانچ (NZFS) اور پرتگال کی اکنامک اینڈ فوڈ سیفٹی اتھارٹی (ASAE) کے ساتھ دو طرفہ ملاقاتیں کیں۔ ان ملاقاتوں کا مقصد تعاون کے فریم ورک کو فروغ دینا اور خوراک کے معیار اور حفاظت کے اہداف کے لیے مربوط کام کو بہتر بنانا تھا۔

بین الاقوامی سربراہانِ فوڈ ایجنسیز فورم کا چھٹا اجلاس کب اور کہاں ہوا؟ بین الاقوامی سربراہانِ فوڈ ایجنسیز فورم (IHFAF) کا چھٹا اجلاس 9 سے 11 اپریل 2025 تک چلی میں منعقد ہوا۔ ایس پی اے کے مطابق ایس ایف ڈی اے کے سربراہ کی جرمن ادارے کے صدر سے ملاقات اسی فورم کے موقع پر دو طرفہ مصروفیات کے سلسلے میں ہوئی۔ فورم کا مقصد دنیا بھر کے فوڈ ریگولیٹرز کے درمیان مشترکہ مسائل پر تبادلہ خیال اور تعاون کو فروغ دینا ہے۔

رپورٹ میں کون سی معلومات شامل نہیں کی گئیں؟ ایس پی اے کی رپورٹ میں اس بات کا ذکر نہیں کیا گیا کہ ان ملاقاتوں میں کوئی مخصوص معاہدہ یا مفاہمت نامہ طے ہوا۔ نہ ہی کسی ٹائم لائن، اگلے اجلاس کی تفصیل یا شرکاء کے بیانات شامل ہیں۔ رپورٹ میں اضافی اعداد و شمار بھی نہیں دیے گئے، اور نہ ہی یہ بتایا گیا کہ ان ملاقاتوں کے کیا ٹھوس نتائج برآمد ہوئے۔