Wednesday, October 14, 2026
معیشت

ڈبلیو پی سی انرجی کانگریس میں مصنوعی ذہانت اور توانائی کے باہمی تعاون پر پینل بحث

ڈبلیو پی سی انرجی کانگریس میں مصنوعی ذہانت اور توانائی کے باہمی تعاون پر پینل بحث

ریاض میں 25ویں ڈبلیو پی سی انرجی کانگریس کے دوران «انرجی اینڈ اے آئی ایز کو-ان ایبلرز» کے عنوان سے ایک پینل سیشن منعقد ہوا، جس میں توانائی کے شعبے میں مصنوعی ذہانت کی شراکت اور دونوں شعبوں کے باہمی انحصار پر تبادلہ خیال کیا گیا۔

جیسا کہ سعودی خبر رساں ادارے ایس پی اے نے 13 اکتوبر 2026 کو بیان کیا، پینل نے اس بات کا جائزہ لیا کہ مصنوعی ذہانت کی ٹیکنالوجیز فیصلہ سازی اور آپریشنز کو بہتر بنانے اور توانائی کے شعبے میں کارکردگی بڑھانے میں کس طرح مدد کرتی ہیں۔

مقررین نے اشارہ کیا کہ سعودی وژن 2030 کے تحت توانائی اور بجلی کے نظام کی ترقی کا مقصد طلب کو پورا کرنا اور سرمایہ کاری کو راغب کرنا ہے۔ اس میں مصنوعی ذہانت کے ڈیٹا سینٹرز میں سرمایہ کاری شامل ہے، جنہیں قابل اعتماد اور مسابقتی قیمت والی بجلی درکار ہوتی ہے۔ یہ کوششیں مختلف شعبوں کی ضروریات کا پیشگی اندازہ لگانے اور انہیں سرمایہ کاروں سے جوڑنے پر مشتمل ہیں۔

کیا آپ نے کبھی غور کیا ہے کہ ڈیٹا سینٹرز کی بجلی کی طلب کو مسابقتی قیمتوں پر پورا کرنا کتنا پیچیدہ عمل ہے؟

مقررین نے بنیادی ڈھانچے، ڈیٹا، ٹیکنالوجیز اور انسانی مہارت کے انضمام کی اہمیت پر زور دیا۔ انہوں نے سعودی عرب کے اثاثوں سے فائدہ اٹھا کر حل تیار کرنے اور انہیں عالمی منڈیوں تک پہنچانے کی ضرورت پر بھی روشنی ڈالی۔

پینل میں بتایا گیا کہ مصنوعی ذہانت کی ایپلیکیشنز لوڈ اور طلب کی پیش گوئی کی درستگی کو بہتر بنانے اور گرڈ کی خرابیوں کا بروقت پتہ لگانے میں کردار ادا کرتی ہیں۔ یہ ایپلیکیشنز بہتر منصوبہ بندی اور تیز ردعمل کی سہولت دیتی ہیں۔

کیا آپ جانتے ہیں کہ گرڈ کی خرابیوں کا بروقت پتہ لگانے سے کتنی بڑی بچت ممکن ہے؟

مقررین نے سمارٹ میٹر ڈیٹا کے استعمال پر بھی بات کی، جس سے کھپت کو ٹریک کیا جا سکتا ہے، بلوں کی پیش گوئی کی جا سکتی ہے، یہ دکھایا جا سکتا ہے کہ کھپت مختلف آلات میں کیسے تقسیم ہوتی ہے، اور صارفین کو غیر معمولی استعمال سے آگاہ کیا جا سکتا ہے۔

کیا آپ کے گھر کے بل میں یہ جاننا مددگار ہوگا کہ کون سا آلہ سب سے زیادہ بجلی استعمال کر رہا ہے؟

پینل میں تیل اور گیس کی تلاش اور وسائل کی ترقی میں مصنوعی ذہانت کے استعمال کا بھی جائزہ لیا گیا، خاص طور پر ڈرلنگ آپریشنز میں۔ اس میں حقیقی وقت میں ڈیٹا کا تجزیہ اور انجینئرنگ ماڈلنگ کو ارضیاتی معلومات کے ساتھ جوڑنا شامل ہے۔

یہ ٹیکنالوجیز فیصلہ سازی کو تیز کرتی ہیں، درستگی بڑھاتی ہیں، منصوبہ بندی اور عمل درآمد کے درمیان وقت کو کم کرتی ہیں، حفاظت کو بہتر بناتی ہیں، اور خطرے کی تشخیص اور سرمایہ کاری کے فیصلوں میں معاونت کرتی ہیں۔

کیا آپ نے سوچا ہے کہ ڈرلنگ کے فیصلوں میں حقیقی وقت کا ڈیٹا کتنی بڑی تبدیلی لا سکتا ہے؟

مقررین نے اس بات پر زور دیا کہ توانائی اور مصنوعی ذہانت ایک دوسرے کے لیے سہولت کار ہیں، اور دونوں شعبوں کے باہمی تعاون کے بغیر ترقی ممکن نہیں۔

کیا آپ جانتے ہیں کہ سعودی عرب کے اثاثے عالمی منڈیوں کے لیے حل تیار کرنے میں کیسے کردار ادا کر سکتے ہیں؟

پینل میں یہ بھی بتایا گیا کہ وژن 2030 کے تحت توانائی اور بجلی کے نظام کی ترقی مختلف شعبوں کی ضروریات کا پیشگی اندازہ لگانے اور انہیں سرمایہ کاروں سے جوڑنے پر زور دیتی ہے۔

کیا آپ نے کبھی غور کیا ہے کہ سرمایہ کاروں کو مختلف شعبوں کی ضروریات سے جوڑنے میں کتنی محنت درکار ہوتی ہے؟

ایس پی اے کی رپورٹ کے مطابق، پینل نے مصنوعی ذہانت کے استعمال سے بجلی کے نظام میں کارکردگی بڑھانے، فیصلہ سازی کو بہتر بنانے اور آپریشنز کو ہموار کرنے کے پہلوؤں پر تفصیل سے بات کی۔

مقررین نے سمارٹ میٹر ڈیٹا کے ذریعے صارفین کو غیر معمولی استعمال سے آگاہ کرنے کے فائدے پر بھی زور دیا، جس سے توانائی کے ضیاع کو کم کیا جا سکتا ہے۔

کیا آپ جانتے ہیں کہ غیر معمولی استعمال کی بروقت اطلاع سے کتنی توانائی بچائی جا سکتی ہے؟

پینل میں تیل اور گیس کی تلاش کے شعبے میں مصنوعی ذہانت کے استعمال پر بھی روشنی ڈالی گئی، جہاں انجینئرنگ ماڈلنگ اور ارضیاتی معلومات کے انضمام سے فیصلہ سازی تیز ہوتی ہے۔

کیا آپ نے کبھی سوچا ہے کہ ارضیاتی معلومات اور انجینئرنگ ماڈلنگ کا امتزاج کتنا طاقتور ثابت ہو سکتا ہے؟

مقررین کے مطابق، یہ ٹیکنالوجیز منصوبہ بندی اور عمل درآمد کے درمیان وقت کو کم کرتی ہیں، حفاظت کو بہتر بناتی ہیں اور خطرے کی تشخیص میں معاونت کرتی ہیں۔

ایس پی اے کی رپورٹ میں پینل کے شرکاء کے نام، عہدے یا مزید تفصیلات نہیں دی گئیں۔

پینل سیشن کا عنوان کیا تھا اور یہ کہاں منعقد ہوا؟ پینل سیشن کا عنوان «انرجی اینڈ اے آئی ایز کو-ان ایبلرز» تھا اور یہ ریاض میں 25ویں ڈبلیو پی سی انرجی کانگریس کے دوران منعقد ہوا۔ ایس پی اے کے مطابق، اس سیشن میں توانائی کے شعبے میں مصنوعی ذہانت کی شراکت اور دونوں شعبوں کے باہمی انحصار پر تبادلہ خیال کیا گیا۔

سعودی وژن 2030 کے تحت توانائی کے نظام کی ترقی کا کیا مقصد بتایا گیا؟ مقررین نے بتایا کہ سعودی وژن 2030 کے تحت توانائی اور بجلی کے نظام کی ترقی کا مقصد طلب کو پورا کرنا اور سرمایہ کاری کو راغب کرنا ہے۔ اس میں مصنوعی ذہانت کے ڈیٹا سینٹرز میں سرمایہ کاری شامل ہے، جنہیں قابل اعتماد اور مسابقتی قیمت والی بجلی درکار ہوتی ہے۔

مصنوعی ذہانت کی ایپلیکیشنز لوڈ اور طلب کی پیش گوئی میں کیسے مدد کرتی ہیں؟ پینل میں بتایا گیا کہ مصنوعی ذہانت کی ایپلیکیشنز لوڈ اور طلب کی پیش گوئی کی درستگی کو بہتر بنانے اور گرڈ کی خرابیوں کا بروقت پتہ لگانے میں کردار ادا کرتی ہیں۔ یہ ایپلیکیشنز بہتر منصوبہ بندی اور تیز ردعمل کی سہولت دیتی ہیں، جس سے توانائی کے نظام کی کارکردگی بڑھتی ہے۔

سمارٹ میٹر ڈیٹا کے کیا فوائد بتائے گئے؟ مقررین نے کہا کہ سمارٹ میٹر ڈیٹا سے کھپت کو ٹریک کیا جا سکتا ہے، بلوں کی پیش گوئی کی جا سکتی ہے، یہ دکھایا جا سکتا ہے کہ کھپت مختلف آلات میں کیسے تقسیم ہوتی ہے، اور صارفین کو غیر معمولی استعمال سے آگاہ کیا جا سکتا ہے۔

تیل اور گیس کی تلاش میں مصنوعی ذہانت کا استعمال کیسے ہوتا ہے؟ پینل میں بتایا گیا کہ تیل اور گیس کی تلاش اور وسائل کی ترقی، خاص طور پر ڈرلنگ آپریشنز میں، مصنوعی ذہانت کا استعمال حقیقی وقت میں ڈیٹا کے تجزیے اور انجینئرنگ ماڈلنگ کو ارضیاتی معلومات کے ساتھ جوڑنے پر مشتمل ہے۔ یہ ٹیکنالوجیز فیصلہ سازی تیز کرتی ہیں، درستگی بڑھاتی ہیں، منصوبہ بندی اور عمل درآمد کے درمیان وقت کم کرتی ہیں، حفاظت بہتر بناتی ہیں اور خطرے کی تشخیص میں معاونت کرتی ہیں۔

پینل میں بنیادی ڈھانچے اور انسانی مہارت کے بارے میں کیا کہا گیا؟ مقررین نے بنیادی ڈھانچے، ڈیٹا، ٹیکنالوجیز اور انسانی مہارت کے انضمام کی اہمیت پر زور دیا۔ انہوں نے سعودی عرب کے اثاثوں سے فائدہ اٹھا کر حل تیار کرنے اور انہیں عالمی منڈیوں تک پہنچانے کی ضرورت پر بھی روشنی ڈالی۔