نیویارک میں اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل نے رکن ممالک پر زور دیا ہے کہ وہ بین الاقوامی قانون کے مطابق ایسے اقدامات کریں جن سے بچوں کو ڈیجیٹل ٹیکنالوجی کے ذریعے ہونے والی، اُس سے سہولت پانے والی یا اُس سے بڑھنے والی خلاف ورزیوں سے تحفظ دیا جا سکے۔
جیسا کہ سعودی خبر رساں ادارے ایس پی اے نے 20 اکتوبر 2026 کو بیان کیا، کونسل نے اس بات پر زور دیا کہ ڈیجیٹل پالیسیوں اور اقدامات میں بچوں کے تحفظ، رازداری اور ڈیٹا کے تحفظات کو شامل کیا جائے۔
کونسل کی جانب سے یہ مطالبہ ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب تنازعات والے علاقوں میں بچوں کی ڈیجیٹل رسائی تیزی سے بڑھ رہی ہے اور آن لائن نقصان کے خطرات بھی اسی رفتار سے بڑھ رہے ہیں۔ سوال یہ ہے کہ کیا رکن ممالک اپنے موجودہ بچوں کے تحفظ کے نظام میں ڈیجیٹل تحفظ کو حقیقی معنوں میں شامل کر پائیں گے؟
کونسل نے مطالبہ کیا کہ ریاستیں ڈیجیٹل تحفظ کو بچوں کے تحفظ کے نظاموں میں ضم کریں اور محفوظ رپورٹنگ کے ذرائع فراہم کریں۔ یہ نکتہ خاص طور پر اہم ہے کیونکہ بہت سے بچے خلاف ورزیوں کی اطلاع دینے کے لیے محفوظ راستہ نہ ہونے کے باعث خاموش رہ جاتے ہیں۔ کیا محفوظ رپورٹنگ چینلز کے بغیر کوئی بھی تحفظاتی پالیسی مکمل ہو سکتی ہے؟
ایس پی اے کے مطابق کونسل نے فاصلاتی تعلیم کو وسعت دینے، تنازعات والے علاقوں میں ڈیجیٹل خواندگی کو فروغ دینے، اساتذہ کی تربیت اور بچوں کو نفسیاتی و سماجی مدد فراہم کرنے کی بھی اپیل کی۔ ان مطالبات کا تعلق براہ راست اُن بچوں سے ہے جو تنازعات کے دوران اسکول جانے سے محروم ہو جاتے ہیں اور جن کی تعلیم کا واحد ذریعہ ڈیجیٹل پلیٹ فارم بن جاتے ہیں۔
کونسل نے تنازعات کے حالات میں بچوں کے لیے ڈیجیٹل ٹیکنالوجی کے فوائد اور خطرات سے متعلق بہترین طریقوں اور سیکھے گئے اسباق کو مرتب کرنے کی درخواست بھی کی۔ یہ درخواست اس تسلیم کا اظہار ہے کہ ڈیجیٹل ٹیکنالوجی بیک وقت تعلیم اور رابطے کا ذریعہ بھی ہے اور نقصان اور استحصال کا راستہ بھی۔ کیا فوائد اور خطرات کے اس دوہرے پن کو سمجھے بغیر کوئی مؤثر پالیسی بنائی جا سکتی ہے؟
کونسل نے مزید کہا کہ ریاستیں جوابدہی کو مضبوط کریں، خلاف ورزیوں کی تحقیقات کریں اور ذمہ داروں کو انصاف کے کٹہرے میں لائیں۔ اس مطالبے کا مقصد یہ یقینی بنانا ہے کہ ڈیجیٹل خلاف ورزیاں بغیر سزا نہ رہیں، چاہے وہ کسی بھی سرحد یا پلیٹ فارم سے کی جائیں۔ سوال یہ ہے کہ جب خلاف ورزی کرنے والا کسی دوسرے ملک میں بیٹھا ہو تو انصاف کا راستہ کتنا آسان ہوگا؟
کونسل نے حکومتوں اور نجی شعبے کے درمیان تحقیق اور شراکت داری کی اہمیت پر بھی زور دیا تاکہ نقصان اور استحصال کو روکا جا سکے، اور اس ضمن میں خاص توجہ لڑکیوں کو درپیش خطرات پر مرکوز رکھنے کی بات کی۔ لڑکیوں پر خصوصی توجہ اس بات کی نشاندہی کرتی ہے کہ ڈیجیٹل خطرات سب بچوں کے لیے یکساں نہیں ہوتے۔ کیا صنفی فرق کو نظر انداز کر کے بنائی گئی کوئی بھی حفاظتی حکمت عملی کامیاب ہو سکتی ہے؟
یہ قرارداد اُس وسیع تر بحث کا حصہ ہے جس میں یہ سمجھا جا رہا ہے کہ تنازعات کے دوران ڈیجیٹل ٹیکنالوجی بچوں کی زندگی کا لازمی حصہ بن چکی ہے۔ جہاں ایک طرف یہ ٹیکنالوجی تعلیم، رابطے اور نفسیاتی مدد کا ذریعہ ہے، وہیں دوسری طرف یہ نگرانی، استحصال اور نقصان کا ذریعہ بھی بن سکتی ہے۔ کیا اس دوہرے کردار کو تسلیم کیے بغیر کوئی پالیسی بچوں کا مکمل تحفظ کر سکتی ہے؟
کونسل کی اپیل میں یہ نکتہ بھی شامل ہے کہ ڈیجیٹل تحفظ کو بچوں کے تحفظ کے نظاموں میں ضم کیا جائے، یعنی اسے الگ تھلگ اقدام کے بجائے نظام کا حصہ بنایا جائے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ بچوں کے تحفظ سے منسلک ادارے، اسکول، صحت کے مراکز اور ٹیکنالوجی کمپنیاں سب ایک ہی فریم ورک کے تحت کام کریں۔ کیا الگ الگ اداروں کے الگ الگ نظاموں میں بچہ حقیقی تحفظ پا سکتا ہے؟
فاصلاتی تعلیم کی توسیع کا مطالبہ تنازعات والے علاقوں کے لیے خاص اہمیت رکھتا ہے، جہاں اسکول کی عمارتیں تباہ ہو چکی ہوتی ہیں یا غیر محفوظ ہو جاتی ہیں۔ ایسے حالات میں ڈیجیٹل پلیٹ فارم تعلیم کا واحد ذریعہ بن جاتا ہے، لیکن اسی پلیٹ فارم پر بچوں کو نقصان کا خطرہ بھی ہوتا ہے۔ کیا تعلیم اور تحفظ کو ایک ساتھ یقینی بنایا جا سکتا ہے؟
اساتذہ کی تربیت کا مطالبہ اس بات کی طرف اشارہ کرتا ہے کہ ڈیجیٹل خواندگی صرف بچوں تک محدود نہیں رہنی چاہیے۔ اگر اساتذہ خود ڈیجیٹل خطرات کو نہیں پہچانتے تو وہ بچوں کی رہنمائی کیسے کر سکیں گے؟ یہ سوال تنازعات والے علاقوں میں خاص طور پر اہم ہے جہاں تربیت کے مواقع پہلے ہی محدود ہوتے ہیں۔
نفسیاتی اور سماجی مدد کی فراہمی کا مطالبہ اس حقیقت کا اعتراف ہے کہ ڈیجیٹل نقصان صرف جسمانی یا مادی نہیں ہوتا۔ آن لائن استحصال، دھمکیاں یا نگرانی بچوں کی ذہنی صحت پر گہرے اثرات مرتب کرتی ہیں، اور تنازعات کے حالات میں یہ اثرات مزید شدید ہو جاتے ہیں۔ کیا نفسیاتی مدد کے بغیر ڈیجیٹل تحفظ کا کوئی فریم ورک مکمل ہو سکتا ہے؟
بہترین طریقوں اور سیکھے گئے اسباق کو مرتب کرنے کی درخواست اس بات کی عکاسی کرتی ہے کہ مختلف ممالک اور ادارے اپنے تجربات سے ایک دوسرے کو فائدہ پہنچا سکتے ہیں۔ تنازعات کے حالات ہر جگہ یکساں نہیں ہوتے، اس لیے ایک ہی حل سب جگہ کارگر نہیں ہو سکتا۔ کیا ایک مرکزی فہرست مختلف سیاق و سباق کے لیے کافی رہنمائی فراہم کر سکتی ہے؟
جوابدہی کو مضبوط بنانے اور ذمہ داروں کو انصاف کے کٹہرے میں لانے کا مطالبہ اس بات پر زور دیتا ہے کہ ڈیجیٹل خلاف ورزیوں کو معمولی جرم نہ سمجھا جائے۔ تحقیقات کا مؤثر ہونا اس بات پر منحصر ہے کہ ریاستوں کے پاس ضروری قانونی اور تکنیکی صلاحیت موجود ہو۔ کیا صلاحیت کے بغیر جوابدہی کا مطالبہ صرف اعلان تک محدود نہیں رہ جائے گا؟
حکومتوں اور نجی شعبے کے درمیان شراکت داری کی اہمیت اس لیے بھی اجاگر کی گئی کہ ڈیجیٹل پلیٹ فارمز کی بڑی تعداد نجی کمپنیوں کے پاس ہے۔ اگر پالیسی ساز اور پلیٹ فارم مالکان مل کر کام نہ کریں تو نقصان کو روکنا مشکل ہو جاتا ہے۔ کیا منافع اور تحفظ کے درمیان توازن ممکن ہے؟
لڑکیوں کو درپیش خطرات پر خصوصی توجہ اس بات کی نشاندہی کرتی ہے کہ ڈیجیٹل تشدد اور استحصال کی شکلیں صنفی بنیاد پر مختلف ہو سکتی ہیں۔ اس لیے عمومی حفاظتی اقدامات کافی نہیں ہوتے اور مخصوص خطرات کے لیے مخصوص حل درکار ہوتے ہیں۔ کیا عمومی پالیسیوں میں صنفی پہلو شامل کیے بغیر لڑکیوں کا تحفظ یقینی بنایا جا سکتا ہے؟
ایس پی اے کی رپورٹ میں یہ نہیں بتایا گیا کہ کونسل کے اس مطالبے کے ساتھ کوئی خاص وقت کی حد یا نگرانی کا طریقہ کار منسلک ہے یا نہیں، اور نہ ہی یہ کہ رکن ممالک کو جوابدہ ٹھہرانے کا کوئی طریقہ تجویز کیا گیا ہے۔ یہ تفصیلات رپورٹ کا حصہ نہیں ہیں۔
سلامتی کونسل نے بچوں کے ڈیجیٹل تحفظ کے لیے کیا مطالبہ کیا؟ کونسل نے رکن ممالک پر زور دیا کہ وہ بین الاقوامی قانون کے مطابق ایسے اقدامات کریں جن سے بچوں کو ڈیجیٹل ٹیکنالوجی کے ذریعے ہونے والی، اُس سے سہولت پانے والی یا اُس سے بڑھنے والی خلاف ورزیوں سے تحفظ ملے۔ ایس پی اے کے مطابق کونسل نے کہا کہ ڈیجیٹل پالیسیوں اور اقدامات میں بچوں کے تحفظ، رازداری اور ڈیٹا کے تحفظات شامل کیے جائیں۔
کونسل نے بچوں کے تحفظ کے نظاموں میں کیا شامل کرنے کی بات کی؟ کونسل نے ریاستوں سے کہا کہ وہ ڈیجیٹل تحفظ کو بچوں کے تحفظ کے نظاموں میں ضم کریں اور محفوظ رپورٹنگ کے ذرائع فراہم کریں۔ ایس پی اے کے مطابق اس کا مقصد یہ ہے کہ بچے خلاف ورزیوں کی اطلاع محفوظ طریقے سے دے سکیں اور تحفظ کے اقدامات الگ تھلگ نہ رہیں بلکہ نظام کا حصہ بنیں۔
تعلیم اور تربیت کے حوالے سے کونسل کے مطالبات کیا تھے؟ کونسل نے فاصلاتی تعلیم کو وسعت دینے، تنازعات والے علاقوں میں ڈیجیٹل خواندگی کو فروغ دینے اور اساتذہ کی تربیت کی اپیل کی۔ ایس پی اے کے مطابق کونسل نے بچوں کو نفسیاتی اور سماجی مدد فراہم کرنے کی بھی بات کی، تاکہ تنازعات کے دوران تعلیم اور ذہنی صحت دونوں کا خیال رکھا جا سکے۔
کونسل نے جوابدہی اور انصاف کے بارے میں کیا کہا؟ کونسل نے ریاستوں پر زور دیا کہ وہ جوابدہی کو مضبوط کریں، خلاف ورزیوں کی تحقیقات کریں اور ذمہ داروں کو انصاف کے کٹہرے میں لائیں۔ ایس پی اے کے مطابق یہ مطالبہ اس لیے کیا گیا تاکہ ڈیجیٹل ذرائع سے ہونے والی خلاف ورزیاں بغیر سزا نہ رہیں اور ذمہ داروں کا تعین مؤثر طریقے سے ہو۔
تحقیق اور شراکت داری پر کونسل نے کیوں زور دیا؟ کونسل نے تحقیق اور حکومتوں اور نجی شعبے کے درمیان شراکت داری کی اہمیت پر زور دیا تاکہ نقصان اور استحصال کو روکا جا سکے۔ ایس پی اے کے مطابق اس ضمن میں خاص توجہ لڑکیوں کو درپیش خطرات پر مرکوز رکھنے کی بات کی گئی، کیونکہ ڈیجیٹل خطرات سب بچوں کے لیے یکساں نہیں ہوتے۔
بہترین طریقوں اور اسباق کو مرتب کرنے کی درخواست کا مقصد کیا تھا؟ کونسل نے تنازعات کے حالات میں بچوں کے لیے ڈیجیٹل ٹیکنالوجی کے فوائد اور خطرات سے متعلق بہترین طریقوں اور سیکھے گئے اسباق کو مرتب کرنے کی درخواست کی۔ ایس پی اے کے مطابق یہ درخواست اس تسلیم پر مبنی ہے کہ ڈیجیٹل ٹیکنالوجی بیک وقت تعلیم اور رابطے کا ذریعہ بھی ہے اور نقصان اور استحصال کا راستہ بھی۔