برلن میں منعقدہ انوٹرانس 2026 میں سعودی عرب ریلوے (SAR) نے اپنی شرکت کا اختتام 10 نئی مسافر ٹرینوں، 33 مال بردار لوکوموٹیوز اور 782 مال بردار ویگنوں پر مشتمل معاہدوں اور مالیاتی معاہدوں پر دستخط کے ساتھ کیا، جن کے ساتھ نظاموں کی جدید کاری اور دیکھ بھال سے متعلق معاہدے بھی شامل ہیں۔
جیسا کہ سعودی خبر رساں ادارے ایس پی اے نے 26 ستمبر 2026 کو بیان کیا، یہ معاہدے نقل و حمل ٹیکنالوجی کی بین الاقوامی تجارتی نمائش انوٹرانس 2026 میں کیے گئے، جہاں ایس اے آر نے اپنی شرکت کا اختتام کیا۔
مسافر خدمات کے لیے، ایس اے آر نے سوئس ایکسپورٹ رسک انشورنس (SERV) اور بینکوں کے ایک گروپ کے ساتھ مالیاتی معاہدے پر دستخط کیے، جن میں KfW IPEX-Bank، Commerzbank اور UBS Switzerland شامل ہیں، تاکہ سوئس مینوفیکچرر Stadler سے 10 نئی مسافر ٹرینیں خریدی جا سکیں، کیونکہ کمپنی تیزی سے بڑھتی ہوئی طلب کو پورا کرنے کے لیے اپنا بیڑا بڑھا رہی ہے۔
مال بردار شعبے میں، ایس اے آر نے امریکہ کی Progress Rail کے ساتھ 33 نئی مال بردار لوکوموٹیوز کے لیے معاہدے پر اور امریکہ ہی کی Greenbrier کے ساتھ 782 نئی مال بردار ویگنوں کی تیاری اور فراہمی کے لیے معاہدے پر دستخط کیے، تاکہ زیادہ طلب کو پورا کیا جا سکے اور متعلقہ سپلائی چینز کی معاونت کی جا سکے۔ اس نے فرانس کی Alstom Transport کے ساتھ تکنیکی معاونت اور دیکھ بھال کی خدمات کے لیے بھی معاہدے پر دستخط کیے۔
ان معاہدوں کی سرپرستی وزیر نقل و حمل و لاجسٹک خدمات اور ایس اے آر بورڈ آف ڈائریکٹرز کے چیئرمین صالح الجاسر نے کی، جو مسافر اور مال بردار بیڑوں، نظاموں اور بنیادی ڈھانچے کی جدید کاری، اور تکنیکی معاونت و دیکھ بھال پر محیط تھے۔
مزید معاہدے، اتفاق رائے اور مفاہمت کی یادداشتیں جاپان کی Hitachi Rail اور ترکی کی AstraG سمیت کمپنیوں کے ساتھ بھی کی گئیں۔
ایس اے آر کے سی ای او بشار المالک نے Estenad اور Shenyang اور Knorr-Bremse کے درمیان دو مفاہمت کی یادداشتوں پر دستخط کی نگرانی کی، جن کا مقصد ٹیکنالوجی اور علم کی منتقلی اور مملکت میں بریکنگ سسٹم کے اجزاء اور اسپیئر پارٹس کی تیاری اور دیکھ بھال کو مقامی بنانا ہے۔
ایس اے آر کی قیادت نے میلے کے موقع پر بڑی عالمی ریلوے کمپنیوں کے ایگزیکٹوز کے ساتھ ملاقاتیں بھی کیں تاکہ مستقبل کے تعاون پر بات چیت کی جا سکے اور صنعت کی تازہ ترین ٹیکنالوجیز کا جائزہ لیا جا سکے۔
یہ معاہدے ایسے وقت میں کیے گئے ہیں جب سعودی عرب اپنے نقل و حمل اور لاجسٹکس کے شعبے کو وسعت دے رہا ہے، اور ریلوے کو مسافروں اور مال بردار دونوں قسم کی نقل و حرکت کے لیے ایک اہم ستون کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔ مسافر ٹرینوں کی خریداری کا مقصد بڑھتی ہوئی طلب کو پورا کرنا ہے، جبکہ مال بردار لوکوموٹیوز اور ویگنوں کی فراہمی کا تعلق زیادہ طلب اور متعلقہ سپلائی چینز کی معاونت سے جوڑا گیا ہے۔
کیا یہ معاہدے سعودی عرب کے ریلوے نیٹ ورک کی صلاحیت میں نمایاں اضافہ کریں گے؟ مسافر ٹرینوں کی تعداد 10 رکھنے کا فیصلہ کس طلب کے تخمینے پر مبنی ہے؟ 33 لوکوموٹیوز اور 782 ویگنیں مال بردار شعبے کی کون سی ضروریات پوری کریں گی؟ سوئس، امریکی، فرانسیسی، جاپانی اور ترکی کمپنیوں کے ساتھ بیک وقت معاہدے کرنے کا کیا مطلب ہے؟ کیا ٹیکنالوجی کی منتقلی اور مقامی تیاری کا ہدف بریکنگ سسٹم کے اجزاء تک محدود رہے گا یا آگے بڑھے گا؟ ان معاہدوں کی مالیاتی ساخت میں سوئس ایکسپورٹ رسک انشورنس اور بینکوں کے گروپ کا کردار کیا ہے؟
مسافر خدمات کے لیے مالیاتی معاہدے میں سوئس ایکسپورٹ رسک انشورنس (SERV) اور بینکوں کے ایک گروپ کی شمولیت اس بات کی نشاندہی کرتی ہے کہ خریداری کے لیے بین الاقوامی مالیاتی تعاون حاصل کیا گیا ہے۔ اس گروپ میں KfW IPEX-Bank، Commerzbank اور UBS Switzerland شامل ہیں۔ ٹرینیں سوئس مینوفیکچرر Stadler سے خریدی جائیں گی۔ ایس اے آر کے مطابق یہ اقدام کمپنی کے بیڑے کی توسیع کا حصہ ہے تاکہ تیزی سے بڑھتی ہوئی طلب کو پورا کیا جا سکے۔
مال بردار شعبے میں دو الگ معاہدے کیے گئے۔ ایک امریکہ کی Progress Rail کے ساتھ 33 نئی مال بردار لوکوموٹیوز کے لیے، اور دوسرا امریکہ کی Greenbrier کے ساتھ 782 نئی مال بردار ویگنوں کی تیاری اور فراہمی کے لیے۔ ایس اے آر نے کہا کہ یہ زیادہ طلب کو پورا کرنے اور متعلقہ سپلائی چینز کی معاونت کے لیے ہیں۔ اس کے علاوہ فرانس کی Alstom Transport کے ساتھ تکنیکی معاونت اور دیکھ بھال کی خدمات کا معاہدہ بھی کیا گیا۔
ان معاہدوں کی سرپرستی وزیر نقل و حمل و لاجسٹک خدمات اور ایس اے آر بورڈ آف ڈائریکٹرز کے چیئرمین صالح الجاسر نے کی۔ ایس پی اے کے مطابق یہ معاہدے مسافر اور مال بردار بیڑوں، نظاموں اور بنیادی ڈھانچے کی جدید کاری، اور تکنیکی معاونت و دیکھ بھال پر محیط تھے۔
مزید معاہدوں، اتفاق رائے اور مفاہمت کی یادداشتوں میں جاپان کی Hitachi Rail اور ترکی کی AstraG سمیت کمپنیاں شامل تھیں۔ ایس اے آر کے سی ای او بشار المالک نے Estenad اور Shenyang اور Knorr-Bremse کے درمیان دو مفاہمت کی یادداشتوں پر دستخط کی نگرانی کی۔ ان یادداشتوں کا مقصد ٹیکنالوجی اور علم کی منتقلی اور مملکت میں بریکنگ سسٹم کے اجزاء اور اسپیئر پارٹس کی تیاری اور دیکھ بھال کو مقامی بنانا بتایا گیا۔
ایس اے آر کی قیادت نے میلے کے موقع پر بڑی عالمی ریلوے کمپنیوں کے ایگزیکٹوز کے ساتھ ملاقاتیں بھی کیں تاکہ مستقبل کے تعاون پر بات چیت کی جا سکے اور صنعت کی تازہ ترین ٹیکنالوجیز کا جائزہ لیا جا سکے۔
انوٹرانس 2026 برلن میں نقل و حمل ٹیکنالوجی کی بین الاقوامی تجارتی نمائش تھی، جہاں ایس اے آر نے اپنی شرکت کا اختتام ان معاہدوں کے ساتھ کیا۔ ایس پی اے کی رپورٹ کے مطابق ایس اے آر نے اپنی شرکت کے دوران یہ معاہدے اور مالیاتی معاہدے کیے، جن میں مسافر ٹرینیں، مال بردار لوکوموٹیوز، مال بردار ویگنیں، نظاموں کی جدید کاری اور دیکھ بھال شامل ہیں۔
رپورٹ میں یہ واضح نہیں کیا گیا کہ ان معاہدوں کی مجموعی مالیت کتنی ہے، نہ ہی ٹرینوں، لوکوموٹیوز یا ویگنوں کی فراہمی اور تکمیل کی کوئی تاریخ دی گئی ہے۔ ایس پی اے نے یہ بھی نہیں بتایا کہ نئی مسافر ٹرینیں کون سے راستوں پر چلیں گی یا مال بردار ویگنوں کی صلاحیت کیا ہوگی۔ مفاہمت کی یادداشتوں کے تحت مقامی تیاری کے دائرہ کار، سرمایہ کاری یا شیڈول کی تفصیلات بھی رپورٹ میں شامل نہیں ہیں۔
ایس اے آر نے مسافر ٹرینوں کے لیے کون سے معاہدے کیے؟ ایس اے آر نے سوئس ایکسپورٹ رسک انشورنس (SERV) اور بینکوں کے ایک گروپ کے ساتھ مالیاتی معاہدے پر دستخط کیے، جن میں KfW IPEX-Bank، Commerzbank اور UBS Switzerland شامل ہیں، تاکہ سوئس مینوفیکچرر Stadler سے 10 نئی مسافر ٹرینیں خریدی جا سکیں۔ ایس پی اے کے مطابق یہ کمپنی کے بیڑے کی توسیع کا حصہ ہے تاکہ تیزی سے بڑھتی ہوئی طلب کو پورا کیا جا سکے۔ رپورٹ میں ٹرینوں کی مالیت یا راستوں کی تفصیل نہیں دی گئی۔
مال بردار شعبے میں کون سے معاہدے ہوئے؟ ایس اے آر نے امریکہ کی Progress Rail کے ساتھ 33 نئی مال بردار لوکوموٹیوز کے لیے معاہدے پر دستخط کیے اور امریکہ کی Greenbrier کے ساتھ 782 نئی مال بردار ویگنوں کی تیاری اور فراہمی کا معاہدہ کیا۔ ایس پی اے کے مطابق یہ زیادہ طلب کو پورا کرنے اور متعلقہ سپلائی چینز کی معاونت کے لیے ہیں۔ اس کے علاوہ فرانس کی Alstom Transport کے ساتھ تکنیکی معاونت اور دیکھ بھال کی خدمات کا معاہدہ بھی کیا گیا۔
ان معاہدوں کی سرپرستی کس نے کی؟ ایس پی اے کے مطابق ان معاہدوں کی سرپرستی وزیر نقل و حمل و لاجسٹک خدمات اور ایس اے آر بورڈ آف ڈائریکٹرز کے چیئرمین صالح الجاسر نے کی۔ یہ معاہدے مسافر اور مال بردار بیڑوں، نظاموں اور بنیادی ڈھانچے کی جدید کاری، اور تکنیکی معاونت و دیکھ بھال پر محیط تھے۔ ایس اے آر کے سی ای او بشار المالک نے بھی مفاہمت کی یادداشتوں پر دستخط کی نگرانی کی۔
مفاہمت کی یادداشتوں کا مقصد کیا تھا؟ ایس اے آر کے سی ای او بشار المالک نے Estenad اور Shenyang اور Knorr-Bremse کے درمیان دو مفاہمت کی یادداشتوں پر دستخط کی نگرانی کی۔ ایس پی اے کے مطابق ان کا مقصد ٹیکنالوجی اور علم کی منتقلی اور مملکت میں بریکنگ سسٹم کے اجزاء اور اسپیئر پارٹس کی تیاری اور دیکھ بھال کو مقامی بنانا ہے۔ رپورٹ میں مقامی تیاری کے دائرہ کار یا سرمایہ کاری کی تفصیل نہیں دی گئی۔
مزید کون سی کمپنیوں کے ساتھ معاہدے ہوئے؟ ایس پی اے کے مطابق مزید معاہدے، اتفاق رائے اور مفاہمت کی یادداشتیں جاپان کی Hitachi Rail اور ترکی کی AstraG سمیت کمپنیوں کے ساتھ کی گئیں۔ ایس اے آر کی قیادت نے میلے کے موقع پر بڑی عالمی ریلوے کمپنیوں کے ایگزیکٹوز کے ساتھ ملاقاتیں بھی کیں تاکہ مستقبل کے تعاون پر بات چیت کی جا سکے اور صنعت کی تازہ ترین ٹیکنالوجیز کا جائزہ لیا جا سکے۔
رپورٹ میں کیا تفصیلات نہیں دی گئیں؟ ایس پی اے کی رپورٹ میں ان معاہدوں کی مجموعی مالیت نہیں بتائی گئی، نہ ہی ٹرینوں، لوکوموٹیوز یا ویگنوں کی فراہمی اور تکمیل کی کوئی تاریخ دی گئی ہے۔ یہ بھی واضح نہیں کہ نئی مسافر ٹرینیں کون سے راستوں پر چلیں گی یا مال بردار ویگنوں کی صلاحیت کیا ہوگی۔ مفاہمت کی یادداشتوں کے تحت مقامی تیاری کے دائرہ کار، سرمایہ کاری یا شیڈول کی تفصیلات بھی شامل نہیں ہیں۔





