Tuesday, October 27, 2026
ثقافت

کنگ فیصل سینٹر نے عرب دنیا میں ثقافتوں کے ترجمے کے لیے سیمینارز کا انعقاد کیا

کنگ فیصل سینٹر نے عرب دنیا میں ثقافتوں کے ترجمے کے لیے سیمینارز کا انعقاد کیا

ریاض میں کنگ فیصل سینٹر فار ریسرچ اینڈ اسلامک اسٹڈیز (KFCRIS) کے تحت UNESCO Chair in Translating Cultures نے ‘Translating Cultures in the Arab World: New Histories and Geographies’ کے سلسلے میں دوسرا سیمینار منعقد کیا، جسے لٹریچر، پبلشنگ اینڈ ٹرانسلیشن کمیشن کی حمایت حاصل ہے۔

جیسا کہ سعودی خبر رساں ادارے ایس پی اے نے 7 اکتوبر 2026 کو بیان کیا، یہ تقریب Routledge کی جانب سے حال ہی میں شائع ہونے والی کتاب کے حوالے سے لانچنگ ایونٹس کے سلسلے کا حصہ ہے۔ کیا ترجمہ محض الفاظ کی تبدیلی ہے یا یہ تہذیری رابطوں کا ایک وسیع ذریعہ ہے؟

اس دوسرے سیمینار نے 21 ستمبر کو منعقد ہونے والے پہلے سیمینار کے مکالمے کو آگے بڑھایا، جس میں فلولوجی، ناقابل ترجمہ الفاظ، لسانی تنوع اور زبان کے انصاف جیسے تصورات پر بحث کی گئی تھی۔ اس بار توجہ تصوراتی سوالات سے ہٹ کر عرب اور بحیرہ روم کی دنیا میں ترجمے کے ثقافتی راستوں کی نشاندہی پر مرکوز رہی۔ کیا ہم تاریخ کے ان لمحات کو دوبارہ دیکھ سکتے ہیں جہاں ترجمے نے علم کی گردش اور فکری تبادلے میں کلیدی کردار ادا کیا؟

سیمینار کا مقصد ترجمے کی تاریخ اور نظریات پر عرب دنیا کے نقطہ نظر سے نظر ثانی کرنا تھا، تاکہ اسے علم اور ثقافتی تبادلے کے ایک پیداواری مرکز کے طور پر پیش کیا جا سکے۔ کیا عرب دنیا کی علمی تاریخ کو ترجمے کے نئے تناظر میں دیکھنا ضروری نہیں ہے؟

تقریب کا آغاز UNESCO Chair in Translating Cultures کے ریسرچ اسسٹنٹ عمر الدلیمی کے ریمارکس سے ہوا، جبکہ یونیورسٹی آف گلاسگو میں فرینچ اور کمپیریٹو لٹریچر کے مارشل پروفیسر مائیکل سیروٹنسکی نے نظامت کی۔ کیا عالمی ماہرین کا ایک جگہ جمع ہونا علمی مکالمے کو نئی جہتیں نہیں دیتا؟

شرکاء میں محمد پنجم یونیورسٹی کے فیکلٹی آف لیٹرز اینڈ ہیومن سائنسز سے مراکشی مفکر پروفیسر عبدالسلام بن عبد العالی، میساچوسٹس انسٹی ٹیوٹ آف ٹیکنالوجی (MIT) میں رائٹنگ، ریٹورک اور پروفیشنل کمیونیکیشن کے ڈائریکٹر ڈاکٹر اینڈریاس کاراتسولس، یونیورسٹی آف سالامانکا میں ٹرانسلیشن اینڈ انٹیرپریٹنگ اسٹڈیز کے پروفیسر اوویڈی کاربونیل کورٹیس، اور آسٹریلین نیشنل یونیورسٹی میں سیاست اور بین الاقوامی تعلقات کے لیکچرار اور KFCRIS کے ریسرچ فیلو ڈاکٹر محمد السديري شامل تھے۔

پروگرام کے دوران ‘Philosophy and Translation in the Arab World’ کے عنوان سے پریزنٹیشن پیش کی گئی۔ کیا فلسفے اور ترجمے کا باہمی تعلق عربی زبان کی وسعتوں کو سمجھنے میں مددگار ثابت ہو سکتا ہے؟

اس علمی نشست نے اس بات پر زور دیا کہ ترجمہ صرف ایک تکنیکی عمل نہیں بلکہ ایک ثقافتی پل ہے جو مختلف جغرافیائی حدود کو جوڑتا ہے۔ کیا مستقبل کے ترجمے کے نظریات عرب دنیا کے تجربات سے متاثر ہوں گے؟

رپورٹ میں سیمینار کے تفصیلی نتائج یا کسی خاص قرارداد کا ذکر نہیں کیا گیا۔

سیمینار کا بنیادی مقصد کیا تھا؟ اس سیمینار کا مقصد ‘Translating Cultures in the Arab World: New Histories and Geographies’ کتاب کے حوالے سے بحث کرنا تھا۔ اس میں عرب اور بحیرہ روم کی دنیا میں ترجمے کے ثقافتی راستوں اور علم کی گردش میں ترجمے کے کردار کا جائزہ لیا گیا۔

پہلے اور دوسرے سیمینار کے موضوعات میں کیا فرق تھا؟ پہلا سیمینار 21 ستمبر کو ہوا جس میں فلولوجی، لسانی تنوع اور زبان کے انصاف جیسے تصوراتی سوالات پر بات ہوئی۔ دوسرا سیمینار ان تصورات سے آگے بڑھ کر ترجمے کی تاریخ اور عرب دنیا کو علم کے پیداواری مرکز کے طور پر دیکھنے پر مرکوز تھا۔

اس تقریب میں کن عالمی اداروں اور ماہرین نے شرکت کی؟ تقریب میں MIT کے ڈاکٹر اینڈریاس کاراتسولس، یونیورسٹی آف گلاسگو کے پروفیسر مائیکل سیروٹنسکی، یونیورسٹی آف سالامانکا کے پروفیسر اوویڈی کاربونیل کورٹیس اور محمد پنجم یونیورسٹی کے پروفیسر عبدالسلام بن عبد العالی نے شرکت کی۔