Monday, November 2, 2026
سعودی خبریں

جی اے سی اے نے اگست 2026 کی شکایات کی کارکردگی رینکنگ جاری کر دی

جی اے سی اے نے اگست 2026 کی شکایات کی کارکردگی رینکنگ جاری کر دی

ریاض میں جنرل اتھارٹی آف سول ایوی ایشن (جی اے سی اے) نے منگل کے روز قومی ایئر لائنز اور ہوائی اڈوں کے لیے ماہانہ شکایات کی کارکردگی کی رینکنگ جاری کی، جو اگست 2026 کے دوران مسافروں کی جانب سے اتھارٹی میں جمع کرائی گئی شکایات کی تعداد پر مبنی ہے۔ قومی ایئر لائنز کے خلاف مسافروں کی کل شکایات 2,402 ریکارڈ کی گئیں۔

جیسا کہ سعودی خبر رساں ادارے ایس پی اے نے 29 ستمبر 2026 کو بیان کیا، سعودیہ نے ایئر لائنز میں سب سے کم شکایات کی شرح ریکارڈ کی، یعنی فی 100,000 مسافروں پر 22 شکایات اور بروقت حل کی شرح 100 فیصد۔ ریاض ایئر دوسرے نمبر پر رہی، جس کی شرح فی 100,000 مسافروں پر 52 شکایات اور حل کی شرح 97 فیصد رہی، جبکہ فلائی ناس تیسرے نمبر پر رہی، جس کی شرح فی 100,000 مسافروں پر 57 شکایات اور حل کی شرح 100 فیصد رہی۔ فلائی اڈیل چوتھے نمبر پر رہی، جس کی شرح فی 100,000 مسافروں پر 108 شکایات اور حل کی شرح 97 فیصد رہی۔

کیا مسافروں کے لیے یہ اعداد و شمار یہ بتاتے ہیں کہ شکایات کا نظام واقعی شفاف ہو رہا ہے؟ رینکنگ کے مطابق اگست میں شکایات کا سب سے بڑا حصہ پرواز سے متعلق مسائل کا تھا، اس کے بعد سامان کی خدمات اور پھر ٹکٹنگ کے مسائل شامل تھے۔ یہ ترتیب بتاتی ہے کہ مسافروں کی سب سے بڑی تشویش پروازوں کی بروقت کارکردگی اور ان سے جڑے معاملات ہیں، جبکہ سامان کی گمشدگی یا تاخیر بھی ایک نمایاں مسئلہ رہا۔

ہوائی اڈوں کی کارکردگی

سالانہ چھ ملین سے زائد مسافروں کی گنجائش رکھنے والے بین الاقوامی ہوائی اڈوں میں کنگ خالد انٹرنیشنل ایئرپورٹ نے سب سے کم شکایات کی شرح ریکارڈ کی، یعنی 11 شکایات، جو فی 100,000 مسافروں پر 0.3 فیصد بنتی ہیں، اور حل کی شرح 100 فیصد رہی۔ کیا یہ ممکن ہے کہ اتنے بڑے ہوائی اڈے پر صرف 11 شکایات مسافروں کے اعتماد کی حقیقی تصویر پیش کریں؟

سالانہ چھ ملین سے کم مسافروں کی گنجائش رکھنے والے بین الاقوامی ہوائی اڈوں میں طائف انٹرنیشنل ایئرپورٹ نے سب سے کم شکایات کی شرح ریکارڈ کی، یعنی ایک شکایت، جو فی 100,000 مسافروں پر ایک شکایت کے برابر ہے، اور حل کی شرح 100 فیصد رہی۔

ملکی ہوائی اڈوں میں وادی الدواسر ایئرپورٹ نے سب سے کم شکایات کی شرح ریکارڈ کی، یعنی ایک شکایت، جو فی 100,000 مسافروں پر سات شکایات کے برابر ہے، اور حل کی شرح 100 فیصد رہی۔ کیا چھوٹے ہوائی اڈوں پر مسافروں کی تعداد کم ہونے کی وجہ سے شکایات کی شرح کا موازنہ بڑے ہوائی اڈوں سے کرنا منصفانہ ہے؟

جی اے سی اے نے کہا کہ اس کی ماہانہ رپورٹ جاری کرنے کا مقصد شفافیت کو بڑھانا اور خدمات کی ترقی اور بہتری کے لیے منصفانہ مقابلے کی حوصلہ افزائی کرنا ہے۔ کیا اس طرح کی عوامی رینکنگ ایئر لائنز اور ہوائی اڈوں کو اپنی خدمات بہتر بنانے پر مجبور کرتی ہے؟

اتھارٹی نے مسافروں کے ساتھ رابطے کو یقینی بنانے کے لیے چوبیس گھنٹے دستیاب متعدد مواصلاتی ذرائع فراہم کیے ہیں، جن میں یونیفائیڈ کال سینٹر 1929، واٹس ایپ 0115253333، اس کے سوشل میڈیا اکاؤنٹس اور ویب سائٹ شامل ہیں۔ کیا مسافروں کو ان چینلز کے بارے میں کافی آگاہی حاصل ہے؟

یہ رینکنگ ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب سعودی عرب کی ہوابازی کی صنعت مسلسل ترقی کے مرحلے سے گزر رہی ہے اور مسافروں کی تعداد میں اضافہ ہو رہا ہے۔ ایسے میں شکایات کی شرح اور ان کے حل کی رفتار کسی بھی ایئر لائن یا ہوائی اڈے کی کارکردگی کا اہم پیمانہ بنتی ہے۔ کیا صرف شکایات کی تعداد دیکھ کر کسی سروس کے معیار کا فیصلہ کرنا درست ہے، یا حل کی شرح بھی اتنی ہی اہم ہے؟

سعودیہ کی جانب سے فی 100,000 مسافروں پر 22 شکایات کی شرح اور 100 فیصد حل کی شرح اسے فہرست میں سرفہرست رکھتی ہے۔ ریاض ایئر، جو نسبتاً نئی ایئر لائن ہے، 52 شکایات فی 100,000 مسافروں کے ساتھ دوسرے نمبر پر رہی اور اس کی حل کی شرح 97 فیصد رہی۔ فلائی ناس نے 57 شکایات فی 100,000 مسافروں کے ساتھ تیسرا مقام حاصل کیا اور 100 فیصد حل کی شرح ریکارڈ کی۔ فلائی اڈیل 108 شکایات فی 100,000 مسافروں کے ساتھ چوتھے نمبر پر رہی اور اس کی حل کی شرح 97 فیصد رہی۔

ان اعداد و شمار میں ایک دلچسپ پہلو یہ ہے کہ فلائی ناس کی شکایات کی شرح ریاض ایئر سے زیادہ ہونے کے باوجود اس کی حل کی شرح 100 فیصد رہی، جبکہ ریاض ایئر کی حل کی شرح 97 فیصد رہی۔ کیا اس کا مطلب یہ ہے کہ شکایات کی تعداد اور ان کے حل کی رفتار دو الگ الگ پیمانے ہیں جنہیں اکٹھا دیکھنا ضروری ہے؟

ہوائی اڈوں کے حوالے سے کنگ خالد انٹرنیشنل ایئرپورٹ کی 0.3 فیصد شکایات کی شرح اس کے بڑے حجم کے تناظر میں نمایاں ہے، کیونکہ یہ ہوائی اڈہ سالانہ چھ ملین سے زائد مسافروں کو سنبھالتا ہے۔ طائف انٹرنیشنل ایئرپورٹ اور وادی الدواسر ایئرپورٹ دونوں نے ایک ایک شکایت کے ساتھ اپنے اپنے زمروں میں پہلا مقام حاصل کیا، اور دونوں کی حل کی شرح 100 فیصد رہی۔

جی اے سی اے کا یہ ماہانہ نظام مسافروں کو یہ موقع فراہم کرتا ہے کہ وہ مختلف ایئر لائنز اور ہوائی اڈوں کی کارکردگی کا موازنہ کر سکیں۔ کیا اس قسم کی رینکنگ طویل مدت میں سعودی ہوابازی کے شعبے میں معیار کو بلند کرنے میں مددگار ثابت ہوگی؟

رپورٹ میں یہ واضح نہیں کیا گیا کہ شکایات کی اقسام کے تحت پرواز، سامان اور ٹکٹنگ کے مسائل کی الگ الگ تعداد کیا رہی، نہ ہی یہ بتایا گیا کہ رینکنگ میں شامل دیگر ایئر لائنز یا ہوائی اڈوں کی کارکردگی کیسی رہی۔ ایس پی اے کی رپورٹ میں ان تفصیلات کا ذکر نہیں کیا گیا۔

اگست 2026 میں قومی ایئر لائنز کے خلاف کل کتنی شکایات موصول ہوئیں؟ جی اے سی اے کے مطابق قومی ایئر لائنز کے خلاف مسافروں کی کل شکایات 2,402 ریکارڈ کی گئیں۔ رینکنگ اگست 2026 کے دوران مسافروں کی جانب سے اتھارٹی میں جمع کرائی گئی شکایات کی تعداد پر مبنی ہے۔ رپورٹ میں یہ نہیں بتایا گیا کہ یہ تعداد پچھلے مہینوں کے مقابلے میں کم ہے یا زیادہ۔

ایئر لائنز کی رینکنگ میں سعودیہ کی کارکردگی کیسی رہی؟ سعودیہ نے ایئر لائنز میں سب سے کم شکایات کی شرح ریکارڈ کی، یعنی فی 100,000 مسافروں پر 22 شکایات، اور اس کی بروقت حل کی شرح 100 فیصد رہی۔ ریاض ایئر 52 شکایات فی 100,000 مسافروں کے ساتھ دوسرے نمبر پر رہی۔ فلائی ناس 57 شکایات کے ساتھ تیسرے اور فلائی اڈیل 108 شکایات کے ساتھ چوتھے نمبر پر رہی۔

اگست میں شکایات کا سب سے بڑا حصہ کس قسم کے مسائل کا تھا؟ رینکنگ کے مطابق اگست میں شکایات کا سب سے بڑا حصہ پرواز سے متعلق مسائل کا تھا۔ اس کے بعد سامان کی خدمات سے جڑے مسائل اور پھر ٹکٹنگ کے مسائل شامل تھے۔ رپورٹ میں ہر قسم کے مسائل کی الگ الگ تعداد یا فیصد فراہم نہیں کی گئی۔

کنگ خالد انٹرنیشنل ایئرپورٹ نے کون سا مقام حاصل کیا؟ سالانہ چھ ملین سے زائد مسافروں کی گنجائش رکھنے والے بین الاقوامی ہوائی اڈوں میں کنگ خالد انٹرنیشنل ایئرپورٹ نے سب سے کم شکایات کی شرح ریکارڈ کی، یعنی 11 شکایات، جو فی 100,000 مسافروں پر 0.3 فیصد بنتی ہیں۔ اس کی حل کی شرح 100 فیصد رہی۔ رپورٹ میں اس ہوائی اڈے کے مسافروں کی کل تعداد نہیں بتائی گئی۔

چھوٹے بین الاقوامی اور ملکی ہوائی اڈوں میں کون سرفہرست رہے؟ سالانہ چھ ملین سے کم مسافروں کی گنجائش رکھنے والے بین الاقوامی ہوائی اڈوں میں طائف انٹرنیشنل ایئرپورٹ نے ایک شکایت کے ساتھ سب سے کم شرح ریکارڈ کی، جو فی 100,000 مسافروں پر ایک شکایت کے برابر ہے۔ ملکی ہوائی اڈوں میں وادی الدواسر ایئرپورٹ نے ایک شکایت کے ساتھ پہلا مقام حاصل کیا، جو فی 100,000 مسافروں پر سات شکایات بنتی ہے۔ دونوں کی حل کی شرح 100 فیصد رہی۔

جی اے سی اے نے مسافروں کے رابطے کے لیے کون سے ذرائع فراہم کیے ہیں؟ جی اے سی اے نے چوبیس گھنٹے دستیاب متعدد مواصلاتی ذرائع فراہم کیے ہیں، جن میں یونیفائیڈ کال سینٹر 1929، واٹس ایپ نمبر 0115253333، اس کے سوشل میڈیا اکاؤنٹس اور ویب سائٹ شامل ہیں۔ اتھارٹی کے مطابق ماہانہ رپورٹ جاری کرنے کا مقصد شفافیت بڑھانا اور منصفانہ مقابلے کی حوصلہ افزائی کرنا ہے۔